Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Muharrik-e-shukr

Urdu · 4 min

محرک شکر: تقریباً 13 بلین سال پہلے سولار سسٹم وجود میں آیا۔ اُس وقت زمین کے اوپر صرف گیس تھی، پھر گیس کے ذریعے پانی بنا۔ پانی کا فارمولا H2O ہے، یعنی زمین میں ایسے مالیکیول رکھ دیے گئے جس میں ہائیڈروجن کے 2 ایٹم ہوتے تھے اور آکسیجن کا 1 ایٹم۔ اس طرح زمین کے اوپر پانی وجود میں آیا۔

یہ پانی بڑے پیمانے پر سمندر کی گہرائیوں میں جمع ہو گیا۔ ابتدا میں نیچر نے اس پانی میں حفاظتی مادہ، یعنی پریزرویٹو کے طور پر نمک، یعنی سالٹ شامل کیا۔ یہ نمک، یہ نمک آمیز پانی براہِ راست طور پر انسان کے لیے قابلِ استعمال نہ تھا۔ پھر زمین کے اوپر سورج کی حرارت اور پانی کے تعامل سے حیرت انگیز طور پر بارش کا انتظام ہوا۔

فطری طور پر نمک کا وزن زیادہ تھا اور پانی کا وزن کم۔ چنانچہ جب سمندر کی سطح پر سورج کی حرارت پہنچی تو سمندر کا پانی فطری قانون کے تحت ازالۂ نمک، یعنی ڈی سالینیشن، کے پروسیس سے گزرا۔ یعنی پانی بھاپ بن کر نمک سے الگ ہو گیا۔ نمک سمندر میں رہ گیا، اور پانی بھاپ بن کر فضا میں بلند ہوا۔

وہاں وہ بادل بنا اور آخر کار وہ پانی بارش کی صورت میں دوبارہ زمین پر برسا۔ اُس پانی نے زمین کو سیراب کیا اور چشموں اور دریاؤں کی صورت میں محفوظ ہو گیا۔ فطرت کے نظام کے تحت یہ ایک سائیکل ہے جو مسلسل طور پر جاری ہے۔ پانی کا یہی نظام ہے جس نے زمین کو انسان کے لیے حیات بخش سیارہ بنا کر رکھا ہے۔

اگر یہ نظام نہ ہو تو انسان زمین کے اوپر زندہ سماج نہ بنا سکے۔ زمین پر تہذیب کی تشکیل پانی کے بغیر ناممکن ہو جائے۔ اس پورے عمل پر غور کیا جائے تو اس میں حکمت کے اتنے زیادہ پہلو ہیں جو انسان کے لیے مائنڈ باگلنگ ظاہرہ، یعنی مائنڈ باگلنگ فینامینا، کی حیثیت رکھتے ہیں۔ قدیم زمانے کا انسان ان حقیقتوں سے بے خبر تھا، مگر اب سائنسی مطالعے کے ذریعے یہ حقیقتیں انسان کے علم میں آ گئی ہیں۔

ان حقیقتوں کو جاننا انسان کے لیے عطا خزانے کی حیثیت رکھتا ہے۔ غالباً یہی وہ عظیم حقیقت ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا سورہ نمبر 16 آیت 18۔ یعنی: اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گنو تو تم ان کو گن نہ سکو گے۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 51۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.