← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formulaTameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Shukr sab se badi ibaadat
Urdu · 8 min
شکر سب سے بڑی عبادت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث مختلف کتابوں میں آئی ہے، مثلاً صحیح البخاری حدیث نمبر 6490، صحیح مسلم حدیث نمبر 2963، جامع الترمذی حدیث نمبر 2513، سنن ابن ماجہ حدیث نمبر 4142 وغیرہ۔ مسند احمد حدیث نمبر 10246 کے الفاظ یہ ہیں: «انظروا إلى من أسفل منكم، ولا تنظروا إلى من هو فوقكم، فهو أجدر ألا تصدروا نعمت الله. » قال أبو معاوية عليكم یعنی تم اس کو دیکھو جو تم سے نیچے ہے، اور تم اس کو نہ دیکھو جو تم سے اوپر ہے۔
کیونکہ اس طرح تم اپنے اوپر اللہ کی نعمت کو کم نہیں سمجھو گے۔ اس حدیث کی مزید تشریح ایک اور حدیث سے ہوتی ہے، ایک مرفوع روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «خصلتان من کان تا فيه كتبه الله شاكرا وصابرا. من نظر فی دینہ إلى من هو فوقہ، ونظر فی دنیاہ إلى من هو دونه فحمد الله. كتبه الله شاكرا صابرا، ومن نظر فی دنیاه إلى من هو فوقه فأسف على ما فضله الله عليه.
لن يكتبه الله شاكرا ولا صابرا. » مسند الشامیین للطبرانی حدیث نمبر 505. یعنی دو صفتیں جو کسی کے اندر ہوں تو اللہ اس کو شاکر اور صابر لکھ دیتا ہے۔ جو اپنے دین کے معاملے میں اس کو دیکھے جو اس کے اوپر ہے، اور دنیا کے معاملے میں اس کو دیکھے جو اس سے کم ہے، پھر وہ اللہ کا شکر ادا کرے۔
اللہ اس کو شاکر اور صابر لکھ دیتا ہے۔ اور جو اپنے دنیا کے معاملے میں اس کو دیکھے جو اس سے بڑھ کر ہے، پھر وہ اس پر افسوس کرے۔ جو مادی برتری اللہ نے اس کے مقابل کو دی ہے، تو اللہ اس کو ہرگز شاکر و صابر نہیں لکھے گا۔ شکر سب سے بڑی عبادت ہے۔
کسی بندے سے جو چیز سب سے زیادہ مطلوب ہے، وہ یہ ہے کہ وہ اللہ کو ایک عظیم منعیم کے طور پر دریافت کرے۔ اللہ کی نعمتوں کے احساس سے اس کا سینہ بھرا ہوا ہو، اس کی روح میں شکر کا ابدی چشمہ جاری ہو جائے۔ وہ اللہ کو ایک ایسی ہستی کے طور پر پائے جو اس پر بے پایاں نعمتوں کی بارش کر رہا ہے۔ یہ شعور اتنا زیادہ قوی ہو کہ کسی بھی حال میں اس کا سینہ شکر خداوندی کے احساس سے خالی نہ ہو۔
مگر یہ کوئی آسان بات نہیں۔ اپنے آپ کو شکر کے جذبے سے سرشار رکھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ آدمی کا شعور اس معاملے میں پوری طرح زندہ ہو۔ وہ اس کا مسلسل اہتمام کرے۔ وہ کسی ایسے خیال کو اپنے دل میں جگہ نہ دے جو اس کے جذبہ شکر کو مجروح کرنے والا ہو۔
وہ سب کچھ برداشت کر لے، مگر وہ اپنے جذبہ شکر کا انحطاط یعنی ایروژن کبھی برداشت نہ کرے۔ موجودہ دنیا میں فطری طور پر ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کے درمیان نابرابری قائم رہتی ہے۔ اس بنا پر ہر آدمی یہ محسوس کرتا ہے کہ مادی اعتبار سے کوئی اس سے کم ہے اور کوئی اس سے زیادہ۔ اب اگر آدمی اپنا مقابلہ اس شخص سے کرے جو بظاہر اس سے زیادہ ہے، تو اس کے اندر کمتری کا احساس پیدا ہوگا اور اس کا جذبہ شکر دب کر رہ جائے گا۔
اس لیے آدمی کو ایسا کبھی نہیں کرنا چاہیے کہ وہ اپنا موازنہ یعنی کمپیریزن اس سے کرے جو مادی اعتبار سے بظاہر اس سے زیادہ ہے۔ اس کے بجائے آدمی کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ اپنا موازنہ ان لوگوں سے کرے جو مادی اعتبار سے اس سے کم ہیں۔ اس طرح اس کا جذبہ شکر زندہ رہے گا۔ اس کا دل کبھی نعمت کے احساس سے خالی نہ ہو سکے گا۔
موجودہ دنیا میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ تمام لوگ مادی اعتبار سے یکساں نہیں ہوتے۔ کوئی زیادہ ہوتا ہے اور کوئی کم۔ کوئی پیچھے ہوتا ہے اور کوئی آگے۔ کوئی طاقتور ہوتا ہے اور کوئی کمزور۔
اس قسم کے تمام فرق امتحان کی مصلحت کی بنا پر ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ آدمی مختلف قسم کے حالات سے گزرے، مگر وہ حالات سے متاثر ہوئے بغیر اپنے ایمانی شعور کو زندہ رکھے۔ وہ ناشکری والے حالات سے دوچار ہو، پھر بھی اس کے شکر کے جذبے میں کوئی کمی نہ آئے۔ وہ بے اعترافی کی صورتحال سے گزرے، مگر وہ اپنے اعتراف کی صفت کو نہ کھوئے۔
وہ منفی جذبات پیدا کرنے والے حالات سے دوچار ہو، اس کے باوجود وہ اپنے آپ کو مثبت طرز فکر پر قائم رکھے۔ شکر وہ سب سے قیمتی متاع ہے جس کو انسان اپنے رب کے سامنے پیش کر سکتا ہے۔ ایسی حالت میں عقلمند انسان وہ ہے جو اپنے سینے کو شکر کے احساس سے خالی نہ ہونے دے، حتیٰ کہ انتہائی غیر موافق صورتحال میں بھی۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 49.