← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formulaTameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Sabr-o-shukr
Urdu · 8 min
صبر و شکر۔ اکتوبر 1988 میں میرا کابل کے لیے ایک سفر ہوا۔ میں نظام الدین ویسٹ، نئی دہلی، اپنے آفس سے ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہوا تو سڑک کے دونوں طرف سرسبز درختوں کی قطاریں مسلسل چلی جا رہی تھیں۔ اس کو دیکھ کر مجھے شارجہ کا ایک صحرائی منظر یاد آیا۔
1984 کے شارجہ کے سفر میں، الشیخ علی المحویتی یعنی قاضی شارجہ مجھے اپنے رہائشی مکان پر لے گئے تھے، جو شہر سے تقریباً 25 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تھا۔ یہ سفر پورا کا پورا صحرا کے ریتیلے میدان میں طے ہوا تھا۔ دہلی کا سفر سرسبز ماحول میں تھا تو شارجہ کا یہ سفر صحرائی ماحول میں۔ اس دنیا میں درخت اس لیے ہیں کہ آدمی ان کو دیکھ کر شکر کرے، اور صحرا اس لیے ہیں کہ آدمی ان کو دیکھ کر صبر کرنا سیکھے۔
آدمی دونوں قسم کی چیزوں کو دیکھتا ہے، مگر وہ ان سے نہ شکر کا سبق لیتا ہے اور نہ صبر کا۔ مومن انسان کا معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے۔ صحابی رسول صہیب رومی وفات 38 ہجری کی ایک روایت سے سمجھا جا سکتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن کا معاملہ بڑا عجیب ہے۔
اس کا ہر معاملہ اس کے لیے خیر ہے، اور ایسا مومن کے سوا کسی اور کے لیے نہیں۔ اگر اس کو آرام ملتا ہے تو وہ اللہ کی حمد کرتا ہے اور شکر کرتا ہے، پس وہ اس کے لیے خیر بن جاتا ہے۔ اور اگر اس پر مصیبت آتی ہے تو وہ اللہ کی حمد کرتا ہے اور صبر کرتا ہے، پس وہ اس کے لیے خیر بن جاتا ہے۔ عن صُهَيبٍ قال: قال رسولُ الله صلى الله عليه وسلم: "عجبًا لأمرِ المؤمن إنَّ أمرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ، وَلَيْسَ ذَٰلِكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَتْهُ السَّرَّاءُ"۔
وفي روايةٍ لأحمد: "حَمِدَ رَبَّهُ وَشَكَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءٌ"۔ وفي روايةٍ لأحمد: "وَإِنْ أَصَابَتْهُ مُصِيبَةٌ حَمِدَ رَبَّهُ وَصَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ"۔ صحیح مسلم، حدیث نمبر 2999۔ مسند احمد، حدیث نمبر 1487۔
The affair of the believer is truly strange: every situation proves good for him, and this is special to a believer alone. If he finds himself in a pleasant situation, he is thankful to God, and that is good for him. If he is faced with an unpleasant situation, he keeps patience, and again that is good for him. اللہ کی حمد وہی کر سکتا ہے جو منفی نفسیات سے خالی ہو۔
مومن کے ساتھ دو طرفہ خیر کا یہ معاملہ کسی پراسرار سبب سے نہیں ہوتا، وہ مکمل طور پر ایک معلوم سبب کے تحت پیش آتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ مومن اس انسان کا نام ہے جس کو دریافت کی سطح تک خدا کی معرفت حاصل ہوئی ہو۔ ایسے انسان کے اندر ایک ذہنی انقلاب آ جاتا ہے۔ اس کے اندر شعوری بیداری کی صفت پیدا ہو جاتی ہے۔
وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ معاملات اور تجربات کو حقیقت کی نظر سے دیکھے۔ وہ وقتی جذبات سے بلند ہو کر معاملے کی گہرائی کو سمجھ سکے۔ مومن اپنی اس حقیقت شناسی کی بنا پر اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ جس تجربے سے بھی گزرے، وہ اس کو مثبت نتیجے میں تبدیل کر سکے۔ وہ ہر واقعے میں خدا کی کارفرمائی کو دیکھے۔
وہ ذاتی تجربے کو خدا کے تخلیقی نقشے میں رکھ کر دیکھ سکے۔ مومن کی یہی وہ صفات ہیں جو اس کے اندر یہ بامعنی صلاحیت پیدا کر دیتی ہیں کہ اس کو جب خوشی اور راحت کا تجربہ ہو تو وہ سرکش نہ بن جائے۔ وہ اس کو خدا کا عطیہ سمجھ کر خدا کی خدائی کا اعتراف کرے۔ اسی اعترافِ خداوندی کا نام شکر ہے۔
شکر بلاشبہ ایک عظیم عبادت ہے۔ تاہم دنیا کی زندگی میں آدمی کو ہمیشہ خوشگوار تجربے نہیں ہوتے۔ بار بار ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کو ناخوشگوار تجربات سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس وقت مومن کی شعوری بیداری اس کو اس سے بچا لیتی ہے کہ وہ اس پر شکایت یا فریاد کرنے لگے۔
وہ ناخوشگوار تجربے کو خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق سمجھتا ہے۔ وہ ناخوشگوار تجربے کو ایک فطری عمل سمجھ کر اس سے یہ یقین حاصل کرتا ہے کہ یہ ایک وقتی چیز ہے۔ حالات یقیناً بدلیں گے، اور وہ جلد ہی مجھ کو زیادہ بہتر زندگی عطا کریں گے، خواہ آج کی دنیا میں یا آج کے بعد بننے والی دوسری ابدی دنیا میں۔ حقیقت یہ ہے کہ صبر بھی شکر ہی کی ایک صورت ہے۔
ناخوشگوار صورتحال کو رضامندی کے ساتھ قبول کرنا، اور اس کو خدا کی طرف سے آیا ہوا مان کر مثبت ذہن کے تحت اس کا استقبال کرنا، یہی صبر ہے۔ اور یہ صبر ہمیشہ شاکرانہ قلب سے ظاہر ہوتا ہے۔ ناشکری سے بھرا ہوا دل کبھی صبر کا ثبوت نہیں دے سکتا۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 36۔