Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Shukr ki ahmiyat

Urdu · 4 min

شکر کی اہمیت: طاغوت کا لفظی مطلب ہے حد سے تجاوز کرنے والا۔ قرآن میں یہ لفظ شیطان کے لیے آیا ہے، کیونکہ اس نے اللہ رب العالمین سے بغاوت کی۔ شیطان کی سب سے بڑی کوشش یہ ہے کہ وہ انسان کو شکایتی ذہن میں مبتلا کر کے اللہ سے دور کر دے۔ شیطان نے آدم کی تخلیق کے وقت اللہ رب العالمین کو چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا: وَلَا تَجِدُوا أَكْثَرَهُمْ شَاكِرِينَ سورہ نمبر 7 آیت 17۔

یعنی: تو اکثر انسانوں کو اعتراف کرنے والا نہ پائے گا۔ دین کا خلاصہ اللہ سے تعلق ہے۔ اللہ سے تعلق اگر انسان کو دریافت کے درجے میں حاصل ہو، اللہ سے تعلق اگر انسان کو دریافت کے درجے میں حاصل ہوا ہو، تو انسان کے اندر اپنے آپ میں یہ واقع ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے پورے دل و جان کے ساتھ ان انعامات کے منعیم یعنی گیور کا اعتراف کرے۔ اس کے برعکس، جہاں اللہ کا اعتراف یعنی شکر نہ ہو، یقینی طور پر وہاں اللہ سے حقیقی تعلق بھی نہ ہوگا۔

انسان کے اندر اللہ کے شکر کا جذبہ کیسے پیدا ہوتا ہے؟ وہ تدبر و تفکر سے پیدا ہوتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ اس دنیا میں انسان کو اپنے وجود سے لے کر لائف سپورٹ سسٹم تک جو چیزیں ملی ہیں، وہ سب کا سب اللہ کا ایک طرفہ عطیہ ہیں۔ اس دریافت کے بعد انسان کے اندر اپنے منعیم حقیقی کے لیے اعتراف یعنی اکنالجمنٹ کا جذبہ ابھرتا ہے۔

اللہ رب العالمین کے اسی اعتراف کا مذہبی نام شکر ہے۔ تعلق باللہ فقہی یا قانونی حکم کے طور پر کسی کے اندر پیدا نہیں ہوتا، بلکہ وہ دریافت کے نتیجے کے طور پر پیدا ہوتا ہے۔ اگر ایسا ہو کہ بندے کے اندر ڈسکوری کے درجے میں اللہ سے تعلق پیدا ہو، تو اس کے بعد اپنے آپ اس کے نتائج ظاہر ہوں گے۔ اس کی سوچ میں تعلق باللہ کی جھلک دکھائی دے گی۔

تعلق باللہ کا ایک ظاہرہ شکر ہے۔ اور جب اس قسم کا شکر کسی کو حاصل ہو جائے، تو فطری طور پر اس کے اندر غور و فکر کا مزاج پیدا ہوتا ہے۔ یعنی وہ ہمیشہ اللہ رب العالمین کے بارے میں غور و فکر کرتا رہتا ہے۔ یعنی وہ ہمیشہ اللہ رب العالمین کے بارے میں غور و فکر کرتا رہے۔

معرفت اسی غور و فکر کا نتیجہ ہے۔ اسی لیے دین میں تدبر یا غور و فکر کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 32۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.