Maulana Wahiduddin Khan
10 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Asmaaye husna

Urdu · 10 min

اسمائے حسنیٰ۔ اسمائے حسنیٰ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے یہ تمام نام انسان کی نسبت سے خدا کا تعارف ہیں۔ انسان فطری طور پر اپنے سے ایک برتر ہستی کو چاہتا ہے۔ نفسیاتی مطالعے سے یہ ثابت ہوا ہے کہ انسان پیدائشی طور پر ایک متلاشی، یعنی seeker-by-berth، مخلوق ہے۔

انسان اپنے پورے وجود کے اعتبار سے ایک ذاتِ اعلیٰ کا متلاشی ہے، ایک ایسی اعلیٰ اور برتر ذات جو اس کی کمیوں کی تلافی کرے، جو اس کے جذبات اور احساسات کا مرکز و محور بن سکے۔ اسمائے حسنیٰ دراصل اسی سوال کا جواب ہیں۔ اسمائے حسنیٰ کا مطلب ہے صفاتِ حسنیٰ۔ خدا کی یہ صفات جو اسمائے حسنیٰ کے ذریعے بتائی گئی ہیں، وہ علی الاطلاق حیثیت سے خدائے برتر کا تعارف نہیں ہیں، بلکہ وہ انسان کی نسبت سے اس کے مطلوب خدا کا تعارف ہیں۔

چنانچہ جب کوئی انسان ان اسمائے حسنیٰ کو اس کی پوری معنویت کے ساتھ جان لیتا ہے، تو اچانک اس کو دریافت ہوتا ہے کہ وہ جس خدائے برتر کی تلاش میں تھا، اس کا تعارف اس کو اسمائے حسنیٰ کی صورت میں مل گیا۔ مثال کے طور پر، اسمائے حسنیٰ میں سے ایک نام "الغنی" ہے۔ غنی کے لفظی معنی بے نیاز کے ہیں، یعنی وہ ہستی جس کو دوسروں سے کچھ لینے کی ضرورت نہ ہو، لیکن اس کو یہ طاقت ہو کہ وہ دوسروں کی تمام حاجتوں کو پورا کر سکے۔ یہ احساس ہر انسان کے اندر، شعوری یا غیر شعوری طور پر، چھپا ہوا ہے۔

اس کے بعد جب انسان اسمائے حسنیٰ کے ذریعے یہ جانتا ہے کہ خدا کی ایک صفت اس کا غنی ہونا ہے، تو فوراً ہی وہ جان لیتا ہے کہ وہ جس خدا کی تلاش میں تھا، اس کو اس نے یہاں دریافت کر لیا۔ یہی وہ حقیقت ہے جو قرآن کی اس آیت میں بتائی گئی ہے: يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَنْتُمُ الْفُقَرَاءُ إِلَى اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ سورہ نمبر 35، آیت 15۔ یعنی: اے لوگو! تم اللہ کے محتاج ہو، اور اللہ تو بے نیاز ہے، تعریف والا ہے۔

اسی طرح ایک اور جذبہ، جو سارے انسانوں کے اندر شعوری یا غیر شعوری طور پر پایا جاتا ہے، وہ یہ کہ ہر انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ ایک ایسی مخلوق ہے جو رزق کی محتاج ہے۔ رزق سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں جن پر انسانی زندگی کا انحصار ہے۔ انسان ہر لمحہ یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ بہت سی چیزوں کا ضرورت مند ہے: پانی، غذا، ہوا، آکسیجن، اور روشنی وغیرہ۔ یہ تمام چیزیں نہایت متناسب انداز میں اور نہایت وافر طور پر دنیا میں موجود ہیں۔

انسان فطری طور پر یہ جاننا چاہتا ہے کہ وہ کون ہے جو ان تمام ضروری چیزوں کو اس کے لیے مہیا کر رہا ہے، بغیر اس کے کہ وہ انسان سے اس کی کوئی قیمت طلب کر رہا ہو۔ انسان چاہتا ہے کہ وہ اپنے اس محسنِ اعلیٰ کے احسانات کا اعتراف کرے۔ وہ کامل اعتراف اور شکر کے جذبے سے اپنے آپ کو اس کے آگے بچھا دے۔ یہاں اسمائے حسنیٰ میں اس کو رہنمائی ملتی ہے۔

خدا کے ان ناموں میں سے ایک نام "الرزاق" ہے۔ انسان جب خدا کو رزاق کی حیثیت سے دریافت کرتا ہے، تو اچانک اس کو محسوس ہوتا ہے کہ اس نے اپنی طلب کا جواب پا لیا۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن کی اس آیت میں بیان کیا گیا ہے: إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ سورہ نمبر 51، آیت 58۔ یعنی: بے شک اللہ ہی رزق دینے والا، زور آور، زبردست ہے۔

اسی طرح ہر انسان کی ایک اور ضرورت ہے: موجودہ دنیا، جس میں انسان کو زندگی گزارنا ہے، وہ اس انداز سے بنی ہے کہ کوئی انسان اس کے اندر معیاری انداز میں نہیں رہ سکتا۔ اسی طرح انسان کے اندر بہت سی خواہشیں اور تمنائیں ہیں۔ ان خواہشوں اور تمناؤں کے زیرِ اثر ہر آدمی بار بار غلطیاں کر بیٹھتا ہے۔ ان حالات میں ہر انسان یہ سوچتا ہے کہ کیسے وہ اپنی غلطیوں کے احساس سے اپنے آپ کو بچائے۔

کس طرح ایسا ہو کہ وہ اپنے آپ کو ایک پاکیزہ روح کا درجہ دے سکے۔ یہاں اسمائے حسنیٰ میں وہ اپنے لیے تسکین کا سامان پا لیتا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، خدا کا ایک نام "الغفور" ہے۔ غفور کے تصور میں انسان پوری طرح اپنے لیے ذہنی تسکین کا سامان پا لیتا ہے۔

قرآن کی یہ آیت اس معاملے میں انسان کی رہنما ہے۔ قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَتُوا مِن رَّحْمَتِ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۗ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ سورہ نمبر 39، آیت 53۔ یعنی: کہو کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، تم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔

بے شک اللہ تمام گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔ وہ بڑا بخشنے والا، مہربان ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا تمام رحمتوں کا خزانہ ہے، اور جس کی رحمتیں ہر وقت ابلتی رہتی ہیں۔ دین یہ ہے کہ آدمی اپنے خالق کو اس طرح دریافت کر لے کہ اس کی یاد میں اور اس کی شکر گزاری میں اس کے صبح و شام بسر ہونے لگیں۔

اس قسم کی زندگی ہی تمام خوشیوں اور لذتوں کا خزانہ ہے۔ اسمائے حسنیٰ انسان کو کامل معنوں میں اپنے خالق کی دریافت کا موقع عطا کرتا ہے۔ اس تجربے سے اس کے اندر اپنے رب کا شکر کا بے پناہ جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ اسمائے حسنیٰ کے ذریعے بندہ اپنے آپ کو اللہ کی شکر گزاری کے قابل بناتا ہے، اور یہ صلاحیت پیدا کرتا ہے کہ وہ ان کیفیتوں کو محسوس کر سکے جو اللہ کو اپنے بندوں سے مطلوب ہیں۔

اسمائے حسنیٰ کی اسپرٹ انسان کو اس قابل بناتی ہے کہ اللہ کی شکر گزاری میں اس کا سینہ تڑپے، اور اللہ کے خوف سے اس کے اندر کپکپی پیدا ہو۔ جب آدمی اس نفسیاتی حالت کو پہنچتا ہے، اسی وقت وہ اس قابل بنتا ہے کہ وہ اللہ کی نعمتوں پر ایسا شکر ادا کرے جس میں اس کے دل کی دھڑکنیں شامل ہوں۔ وہ ایسے تقوے کا تجربہ کرے جو اس کے بدن کے رونگٹے کھڑے کر دے۔ وہ اللہ کو ایسے بڑے کی حیثیت سے پائے جس میں اس کا اپنا وجود بالکل چھوٹا ہو گیا ہو۔

تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 29۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.