Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Apni tameer aap

Urdu · 7 min

اپنی تعمیرات قرآن میں ایک نفسیاتی حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: بل الإنسان على نفسه بصيرة ولو ألقى معاذيره. سورہ نمبر 75 آیت 14 تا 15، یعنی انسان صحیح اور غلط کے معاملے میں اپنے آپ سے خوب باخبر ہے، چاہے وہ کتنے ہی عذرات پیش کرے۔ قرآن کی اس آیت میں ایک نفسیاتی حقیقت ضمیر کا حوالہ دیا گیا ہے، یعنی اس بات کا اندرونی احساس کہ کسی طرز عمل یا سوچ میں کیا غلط ہے اور کیا صحیح۔ یہ نفسیاتی حقیقت ہر انسان کے لیے ایک حجتِ داخلی کی حیثیت رکھتی ہے: انسان بظاہر دوسرے حیوانات کی طرح ایک حیوان ہے، مگر انسان کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے اندر ایک ایسی صفت پائی جاتی ہے جو کسی اور حیوان کے اندر نہیں ہے۔

یہ ضمیر، یعنی conscience، کی صفت ہے۔ خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق انسان کو اس بات کی کامل آزادی دی گئی ہے کہ وہ جس طرح چاہے سوچے اور جس طرح چاہے بولے اور لکھے۔ مگر انسان کے اندر پیدائشی طور پر یہ شعور موجود ہے کہ وہ برائی اور بھلائی میں تمیز کرے۔ انسان کا ضمیر صحیح عمل کی طرف اس کی رہنمائی کرتا ہے۔

یہ فرق بتاتا ہے کہ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ ایک self-made man بنے، اور اس کی صورت یہ ہے کہ وہ اپنی نگرانی خود کرے، وہ اپنے اندر self-correction کا process جاری کرے، وہ تعمیرِ خویش کا نمونہ بن جائے۔ انسان کو اس کے خالق نے mixture of opposites بنایا ہے، یہ انسان کے اوپر اس کے خالق کا احسانِ عظیم ہے۔ خالق یہ چاہتا ہے کہ انسان self-discovery کی سطح پر کھڑا ہو، وہ اپنی غلطی کو خود دریافت کر کے اس کی اصلاح کرتا رہے۔ خدا کی کتاب اور کائنات کی نشانیاں بلاشبہ انسان کے لیے مددگار ہیں۔

اسی کے ساتھ انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے آپ کو خود اپنے عمل سے جنت کے لیے ایک مستحق امیدوار، یعنی deserving candidate، بنائے۔ انسان کے لیے اللہ نے جنت کو مقدر کیا ہے۔ جنت انسان کا habitat ہے۔ جنت وہ جگہ ہے جہاں انسان کی تمام خواہشیں پوری ہوں گی، جہاں انسان کو مکمل معنوں میں fulfillment حاصل ہوگا۔

اس قسم کی جنت بلاشبہ انسان کے لیے خالق کا سب سے بڑا عطیہ ہے۔ انسان کے اوپر خالق کا مزید احسان یہ ہے کہ اس نے یہ فیصلہ کیا کہ انسان کو جنت یہ کہہ کر دی جائے کہ تم کو جنت بطور استحقاق دی جا رہی ہے۔ اگرچہ دینے والا پھر بھی خالق ہوگا۔ خالق کے بغیر انسان اس دنیا میں کوئی بھی چیز حاصل نہیں کر سکتا۔

لیکن یہ خالق کی خصوصی عنایت ہے کہ وہ انسان کو جنت یہ کہہ کر دے کہ تم نے اپنے عمل سے اپنے آپ کو جنت کا مستحق ثابت کیا ہے، اس لیے تم کو جنت دی جا رہی ہے۔ اب تم اس میں ابدی طور پر خوف اور حزن سے محفوظ ہو کر قیام کرو۔ اس سلسلے میں ایک حدیث کا مطالعہ بہت اہم ہے۔ وہ حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ لَمْ تُذْنِبُوا لَذَهَبَ اللَّهُ بِكُمْ وَلَجَاءَ بِقَوْمٍ يُذْنِبُونَ فَيَسْتَغْفِرُونَ اللَّهَ فَيَغْفِرُ لَهُمْ صحیح مسلم، حدیث نمبر 2749۔

یعنی اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ تم کو ہٹا دے گا اور ایسی قوم کو لائے گا جو گناہ کرے، پھر اللہ سے مغفرت طلب کرے تو اللہ انہیں معاف فرما دے گا۔ اس حدیث میں گناہ اور مغفرت کا ذکر ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملے میں زیادہ اہم بات کیا ہے؟ وہ گناہ اور مغفرت کے درمیان جاری ہونے والا نفسیاتی عمل، یعنی psychological process ہے۔

جب انسان کوئی گناہ کرتا ہے تو وہ اس کے ego کا فعل ہوتا ہے۔ مگر عین اسی وقت انسان کی دوسری صفت ضمیر جاگ اٹھتی ہے۔ اس کے اندر شدید ندامت کا عمل جاری ہو جاتا ہے۔ اس طرح انسان کے اندر ایک داخلی struggle جاری ہو جاتا ہے۔

یعنی ego اور ضمیر، یا self اور anti-self کے درمیان داخلی struggle۔ اس داخلی struggle کے ذریعے انسان کے اندر ایک نئی شخصیت emerge کرتی ہے۔ یہ شخصیت احساسِ خطا کے بغیر بن نہیں سکتی۔ تعمیرِ شخصیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 17۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.