Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Tameer-e-Insaniyat
Tameer-e-Insaniyat

Tabdil-e-mazhab ka masala

Urdu · 5 min

تبدیلیِ مذہب کا مسئلہ۔ سپریم کورٹ کی ڈویژن بینچ کے سامنے جو پٹیشن تھا، اس کا براہِ راست کوئی تعلق یونیفارم سول کورٹ سے نہیں تھا۔ یہ پٹیشن دراصل چار ہندو خواتین کی طرف سے، عورتوں کی ایک تنظیم "کلیانی" نے دائر کیا تھا۔ اس تنظیم کی پریسیڈنٹ شریمتی سرلا مدگل ہیں۔

ان چار ہندو عورتوں نے کہا تھا کہ ہمارے شوہروں نے اسلام قبول کر کے دوسرا نکاح کر لیا ہے، جبکہ انہوں نے ہمیں طلاق نہیں دی۔ ان کا قبولِ اسلام صرف اس لیے تھا کہ وہ اسلام کے قانونِ نکاح سے فائدہ اٹھا کر اپنے لیے دوسری بیوی حاصل کر سکیں۔ اس لیے عدالت ان کے دوسرے نکاح کو "کلاعدم" قرار دے کر ہماری مدد کرے۔ عدالت نے مذکورہ پٹیشن کو منظور کرتے ہوئے چاروں ہندوؤں کے دوسرے نکاح کو "کلاعدم" قرار دے دیا اور ان کو ان کی پہلی بیوی کی طرف واپس لوٹا دیا۔

یہ فیصلہ دیتے ہوئے جسٹس کلدیپ سنگھ لکھتے ہیں: "جب تک ہم اصل منزل تک نہ پہنچیں—یعنی ہندوستان کے تمام شہریوں کے لیے یونیفارم سول کورٹ—اس وقت تک یہاں ہندو شوہر کے لیے ایک کھلا محرک، یعنی inducement، باقی رہے گا جو کہ دوسری شادی کرنا چاہتا ہو، جبکہ اس کی پہلی بیوی ابھی موجود ہو۔ ایسا ہندو اپنے مسلم ہونے کا اعلان کر کے دوسری شادی کرے گا۔ " چونکہ ہندوؤں کے لیے ایک زوجگی کا قانون ہے، اور مسلم قانون چار شادیوں تک کی اجازت دیتا ہے، کوئی کجرو ہندو شوہر ایسا کر سکتا ہے کہ وہ اسلام قبول کر لے تاکہ ہندو لاء کے ضوابط سے بچ سکے اور دوسری شادی کے باوجود فوجداری قانون کی پکڑ میں نہ آئے۔ صفحہ 5۔

اسی نقطۂ نظر کی حمایت کرتے ہوئے، دی ہندوستان ٹائمز 21 جون 1995 میں لیٹرز کے کالم میں مسٹر چمن لال ورما نے لکھا تھا کہ یکساں سول کورٹ کی ضرورت اس لیے ہے کہ ان لوگوں کو مذہب کے غلط استعمال سے روکا جا سکے جو ایک قانون کی دفعات سے بچنے کے لیے دوسرے قانون کی دفعات کا سہارا لیتے ہیں۔ یہ یونیفارم سول کورٹ از ریکوائرڈ ٹو پریوینٹ مس یوز آف ریلیجن ٹو ایوائڈ دا پروویژنز آف دا لاء ٹو ٹیک ایڈوانٹیج آف دوز آف انادر۔ نیا قانون بنانا کسی بھی درجے میں پچھلے قانون کے غلط استعمال کے خلاف چیک نہیں۔ قانون کے غلط استعمال کا موقع ہر حال میں باقی رہتا ہے۔

ٹیکس ماری کو روکنے کے لیے بے شمار قوانین اور ضوابط بنے ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود ٹیکس ماری کا سلسلہ ہمالیائی سطح پر جاری ہے۔ پھر جب کسی بھی قانون میں اس کے غلط استعمال کو روکنا ممکن نہ ہو سکا، تو سول کورٹ میں کیوں کر ایسا ممکن ہو جائے گا؟ دوسری بات یہ کہ یونیفارم سول قانون کے نفاذ کے بغیر اگر ایسے ہندوؤں کے لیے کوئی قانونی چیک نہیں ہے، تو سپریم کورٹ کے فاضل جج صاحبان کے لیے کیوں کر ایسا ممکن ہوا کہ وہ ایسے غلط ہندوؤں کے لیے سزا کا فیصلہ سنائیں اور ان کے دوسرے نکاح کو باطل، یعنی invalid، قرار دے دیں؟

سپریم کورٹ کے فیصلے کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جج صاحبان نے اپنا مقصد انڈین پینل کورٹ کی دفعہ 494 کے ذریعے حاصل کیا۔ گویا عدالت کی خود اپنی مثال سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہاں بالفعل ایسے مانع قوانین موجود ہیں، اور کجرو ہندو کے لیے یہاں کوئی بے قید محرک پایا نہیں جاتا، حتیٰ کہ موجودہ قوانین کے تحت بھی نہیں۔ پھر ایسے کجرو لوگوں کو کجروی سے روکنے کے لیے کسی نئے سول قانون کی کیا ضرورت؟ The court's own ruling shows that no such inducement is available to an errant Hindu, even under existing law.

You do not need a civil court to deter him. کتاب "تعمیرِ انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 129۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.