Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Tameer-e-Insaniyat
Tameer-e-Insaniyat

Qanun ki mahdudiat

Urdu · 4 min

قانون کی محدودیت: قانون کوئی بالاتر چیز نہیں، دوسری تمام انسانی چیزوں کی طرح، انسانی خانون بھی ایک محدود چیز ہے۔ ایک حد کے بعد انسانی سماج میں انسانی سماج پر اس کی گرفت ختم ہو جاتی ہے۔ 1975 میں الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک فیصلہ دیا، اس میں اندرا گاندھی کے انتخاب کو نہ صرف رد کیا گیا تھا بلکہ اندرا گاندھی کو 6 سال تک انتخاب میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا تھا۔ مگر اس کے بعد کیا ہوا؟

اندرا گاندھی نے ایمرجنسی کا اعلان کر کے مزید اضافے کے ساتھ دہلی کی حکومت پر قبضہ کر لیا۔ 1986 میں یو پی کی ایک عدالت نے اپنے فیصلے کے تحت بابری مسجد کا بند دروازہ کھلوا دیا تاکہ ہندو آسانی کے ساتھ اس کے اندر پوجا کی رسم ادا کر سکیں۔ بظاہر اس کا مقصد ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان خوشگوار تعلق قائم کرنا تھا، مگر اس کا عملی نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے بعد ایسا طوفان برپا ہوا کہ ہندو مسلم تعلقات آخری حد تک بگڑ گئے اور ہندوستان سیاسی اور اقتصادی تباہی کے کنارے پہنچ گیا۔ شعبانو کیس میں 1985 میں سپریم کورٹ نے ایک فیصلہ دیا، بظاہر اس کا مقصد عورتوں کے ساتھ انصاف کرنا تھا، مگر عملی نتیجہ یہ ہوا کہ راجیو گاندھی گورنمنٹ نے ایک خانون بنا کر سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو کالعدم کر دیا۔

دوسری طرف بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس معاملے کو بھرپور طور پر اپنے سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا، یہاں تک کہ ہندوستانی پارلیمنٹ میں اس کے ممبرز کی تعداد 2 سے بڑھ کر 19 تک پہنچ گئی اور کئی ریاستوں میں اس کی حکومت قائم ہو گئی۔ خانون کی محدودیت اس سے بھی ثابت ہے کہ ہندو کو ڈبل 1955 میں اگرچہ کسی ہندو کے لیے صرف ایک ہی نکاح کی اجازت رکھی گئی ہے، مگر 1961 کی مردم شماری کی رپورٹ کے مطابق ایک سے زیادہ بیوی رکھنے کی شرح ہندوؤں کے اندر مسلمانوں سے زیادہ ہے۔ According to the Indian Census Report of 1961, the percentage of Hindus having more than one wife was more than that of the Muslims. انگریزوں نے ہندوستان میں اپنے 200 سالہ اقتدار کے زمانے میں صرف 500 خانون بنائے۔

ہمارے لیڈروں کو ملک میں 1947 میں اقتدار ملا تو انہوں نے 45 سال کی مدت میں 5000 سے زیادہ خانون بنا ڈالے، مگر اصلاحی قوانین کی کثرت صرف الٹا نتیجہ دینے والی یعنی کاؤنٹر پروڈکٹو ثابت ہوئی۔ اس کے بعد ملک میں جھگڑے بہت بڑھ گئے، کرپشن میں بے پناہ اضافہ ہو گیا، انصاف حاصل کرنا انتہائی دشوار کام بن گیا، عورتوں کی حالت ہمیشہ سے زیادہ خراب ہو گئی۔ یہ حالات سماج سدھار کے لیے نئی تدبیر تلاش کرنے کا تقاضا کرتے ہیں، نہ کہ قوانین میں مزید اضافے کا۔ کتاب تعمیر انسانیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 127۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.