فطرت کا نظام، ذوق دہلوی، 1789 تا 1854، اردو زبان کے مشہور شاعر ہیں۔ ان کا ایک شعر یہ ہے: "گل ہائے رنگ رنگ سے ہے، زینت چمن؛ اے ذوق، اس جہاں کو ہے زیب اختلاف سے۔ " یہ فطرت کا خانون ہے۔ آپ کسی باغ میں کھڑے ہوں تو وہاں ہر پودے اور ہر پیڑ کا انداز جدا ہوگا، ہر درخت کا پھول الگ الگ رنگ میں اپنی بہار دکھا رہا ہوگا۔
پورا باغ تنوعات کا ایک مجموعہ نظر آئے گا، حتیٰ کہ چڑیاں بھی الگ الگ آوازوں میں اپنے نغمے سنا رہی ہوں گی۔ وہ کہہ رہی ہوں گی کہ خالق کو ایسا باغ پسند ہے جہاں کوئل کی کوک ہو تو بلبل کے چہچہے بھی ہوں۔ کوئی چڑیا ایک ڈھنگ کی آواز نکالے تو دوسری چڑیا کسی اور ڈھنگ سے فضا میں اپنے گیت بکھیرے۔ ہر چیز تنوع کا ایک نیا نمونہ ہو۔
یہ تنوع اس کائنات کی ہر چیز میں پایا جاتا ہے، اور اسی طرح انسان میں بھی۔ حیاتیات اور نفسیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ہر انسان دوسرے انسان سے مکمل طور پر مختلف ہے، نہ صرف انگوٹھے کے نشانات بلکہ ہر آدمی کے سیل دوسرے آدمی کے سیل سے جدا ہوتے ہیں۔ ایک آدمی کی آنکھ دوسرے آدمی کی آنکھ سے نہیں ملتی۔ یہ اختلاف و تنوع صرف ظاہری حسن کے لیے نہیں ہے، اس کے اندر زبردست حکمت چھپی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اسی تنوع اور اختلاف سے تمام انسانی ترقیاں وابستہ ہیں۔ اسی سے نئی نئی دریافتیں سامنے آتی ہیں، اسی سے افکار کا تصادم ہوتا ہے جو آخر کار فکری ارتقاء کا ذریعہ بنتا ہے۔ اسی سے باہمی چیلنج پیش آتے ہیں جو انسان کی ذہنی بیداری کے لیے ماہ میز کا کام کرتے ہیں۔ کسی مجلس میں تمام شرکاء کی رائے ایک ہو تو اس سے کوئی نیا آئیڈیا برآمد نہیں ہوگا۔
کسی صنعتی نظام میں اگر تمام انجینئر ایک ہی مولڈ میں ڈھلے ہوئے ہوں تو وہ کسی نئی ٹیکنالوجی تک نہیں پہنچ سکتے۔ کسی سماج میں اگر تمام اہل قلم یکساں ذوق کے مالک ہوں تو وہ کوئی تخلیقی ادب ظہور میں نہیں لا سکتے۔ کسی ملک کے سیاست دان اگر سب کے سب ایک ہی سانچے میں ڈھل کر نکلے ہوں تو وہ کوئی بڑا سیاسی کارنامہ نہیں دکھا سکتے۔ تنوع اور اختلاف اس دنیا کا عام خانون ہے۔
وہ زندگی کے ہر شعبے میں خود اپنے زور پر جاری و ساری ہے۔ کوئی انسان اس کو بدلنے پر قادر نہیں۔ حتیٰ کہ اگر کوئی طاقت کے زور پر اس نظام کو بدلے تو فطرت کا طوفان اس مصنوعی نظام کو توڑ کر دوبارہ اس کو تنوع کے اصول پر قائم کر دے گا۔ کتاب "تعمیر انسانیت"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 125۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.