Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Tameer-e-Insaniyat
Tameer-e-Insaniyat

Guru Golwalkwer ke khayalaat

Urdu · 6 min

گرو گولوالکر کے خیالات: آر ایس ایس کے سابق سرچارج سرسنچالک گرو گولوالکر نے 20 اگست 1972 کو دہلی میں "دین دیال ریسرچ انسٹی ٹیوٹ" کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قومی اتحاد کے لیے یکساں سول کوڈ کوئی ضروری چیز نہیں۔ ان کی یہ تقریر مدر لینڈ، 21 اگست 1972 میں چھپی تھی، اس کے بعد ہفت روزہ آرگنائزر 26 اگست 1972 میں اس موضوع پر ان کا ایک انٹرویو شائع ہوا۔ یہ رپورٹ انگریزی میں اگلے صفحات میں درج کی جا رہی ہے۔

انہوں نے جو کچھ کہا اس کا خلاصہ یہ تھا: "میں نہیں سمجھتا کہ نیشنلزم کا احساس پیدا کرنے کے لیے ہمیں یکساں سول کوٹ کی ضرورت ہے۔ اس قسم کی قانونی یکسانیت کا قومی اتحاد سے کوئی تعلق نہیں۔ انڈیا ہمیشہ تنوع کا مالک رہا ہے، اس کے باوجود لمبی مدت سے ہم ایک طاقتور اور متحد قوم بنے رہے۔ اتحاد کے لیے ہمیں ہم آہنگی کی ضرورت ہے، نہ کہ یکسانیت کی۔

میرا احساس یہ ہے کہ فطرت زیادہ یکسانیت کو پسند نہیں کرتی۔ ہمارے پاس زندگی کا بہت لمبا تجربہ ہے، اور ہمارا تجربہ یہ ہے کہ تنوع اور اتحاد دونوں ایک ساتھ رہ سکتے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ دستور ہند میں ایک دفعہ یکساں سول کوٹ کے حق میں موجود ہے، مگر ایک چیز محض اس لیے پسندیدہ نہیں ہو جاتی کہ وہ کسی دستور میں لکھی ہوئی ہے۔ بہرحال، ہمارا دستور کچھ بیرونی دستوروں کا ملغوبہ ہے۔

اس کو ہندوستانی تجربات کی روشنی میں نہیں بنایا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مسلمان یکساں سول کوٹ کے مخالف ہیں کیونکہ وہ اپنا علیحدہ تشخص باقی رکھنا چاہتے ہیں، مگر کوئی بھی طبقہ یا فرقہ جو اپنا الگ تشخص چاہتا ہو، اس سے میرا کوئی جھگڑا نہیں، جب تک یہ تشخص حب وطن کے جذبات کو گھٹانے والا نہ ہو۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان برادرانہ احساسات ہوں۔ میرے نزدیک مسلمانوں کو اپنے طریقِ زندگی پر رہنے کا پورا حق ہے، البتہ انہیں ملک سے اور اس کے کلچر سے محبت کرنا چاہیے۔

ہندوؤں کے لیے بھی یکساں سول قانون بنانا غیر ضروری ہے۔ آخر ہزاروں سال سے ہندو اس قسم کے فرق کے باوجود مل جل کر رہ رہے ہیں۔ کسی کو یہ بات فلسفیانہ معلوم ہو سکتی ہے، مگر میں سمجھتا ہوں کہ یکسانیت قوموں کے لیے موت کی نشانی ہے۔ فطرت یکسانیت کو پسند نہیں کرتی۔

میرے نزدیک ہر طریقِ زندگی کی حفاظت کی جانی چاہیے، البتہ ان تمام تنوعات کو قومی اتحاد میں مددگار ہونا چاہیے۔ Don't you think that Muslims are opposing a uniform civil code only because they want to maintain their separate identity? Answer: I have no equivalent with any class, community, or sect wanting to maintain its identify so long as that identify does not detract from its patriotic feeling. I have a feeling that some people want a uniform civil code because they think that the right to marry four wives is causing a disproportionate increase in the Muslim population.

Golwalkar on Uniform Civil Law, on August 20, 1972, Shri Gujarat Guruji Sarangachalak Sarasanchalak, RSS, occasion. He said that a uniform civil code was not necessary for national unity. The Motherland of New Delhi carried the following report on August 21, 1970: کتاب "تعمیر انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 119۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.