Maulana Wahiduddin Khan
9 min left
0:00

← Tameer-e-Insaniyat
Tameer-e-Insaniyat

Bisvin Sadi ka Jayeza

Urdu · 9 min

بیسویں صدی کا جائزہ: بیسویں صدی میں دنیا کے نقشے پر کئی قومیں ابھریں، جنہوں نے عالمِ انسانی کی قیادت کا رول ادا کرنے کی کوشش کی۔ ان میں سے 3 خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں: سوویت یونین، امریکہ، ہندوستان۔ مگر یہ تمام طاقتیں یا تو عملاً ناکام ہو چکی ہیں، یا وہ ناکامی کے کنارے کھڑی ہوئی ہیں۔ 1917 میں روس میں کمیونسٹ انقلاب آیا، اس کے بعد سوویت یونین کی شکل میں اس کا ایک عظیم ایمپائر بن گیا۔

تقریباً 75 سال تک شان و شوکت دکھانے کے بعد، اس کا یہ حال ہوا کہ 1991 میں وہ ریت کے محل کی طرح ٹوٹ کر گر گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ نظام سرتاسر غیر فطری بنیاد پر قائم کیا گیا تھا۔ خدا نے اس دنیا کا نظام مسابقت، یعنی competition، کے اصول پر قائم کیا ہے۔ مگر کمیونسٹ ایمپائر نے اس کو ختم کر کے ریاستی کنٹرول کی مصنوعی بنیاد پر زندگی کا نظام قائم کرنے کی کوشش کی۔

یہ نظام اول دن ہی سے قابلِ عمل نہ تھا۔ کچھ دن تک وہ جبر اور پروپیگنڈے کے زور پر چلتا رہا۔ اس کے بعد وہ خود اپنی داخلی کمزوری کی بنا پر منہدم ہو گیا۔ امریکی نظام تقریباً 200 سال سے بدستور ابھی تک چلا جا رہا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ کے ابتدائی دانشوروں نے اس کو صحیح فکری بنیاد، یعنی مسابقت کے اصول پر قائم کیا۔ تاہم، امریکی نظام میں اول دن سے ایک کمزوری شامل تھی، وہ یہ کہ یہ نظام مذہب اور سیاست کی تفریق کے اصول پر قائم کیا گیا۔ اس قسم کی تفریق اصولی طور پر غلط ہے، مگر وہ کم از کم اقتصادی پہلو سے ایک قابلِ بقا، یعنی sustainable نظام تھا۔ اس لیے وہ ظاہری ڈھانچے کے اعتبار سے چلتا رہا، اور بظاہر اب بھی چلا جا رہا ہے۔

تاہم، گہرا مطالعہ بتاتا ہے کہ امریکی نظام اب آہستہ آہستہ زوال کا شکار ہو رہا ہے۔ اس زوال کا نمایاں مظاہرہ 1998-99 میں موجودہ امریکی صدر بل کلنٹن اور مونیکا لیونسکی کے واقعے کی صورت میں ہوا۔ مونیکا لیونسکی واشنگٹن کے وائٹ ہاؤس کی ایک نوجوان کارکن تھی۔ کلنٹن نے اس سے خفیہ جنسی تعلق قائم کر لیا۔

جب یہ راز افشا ہو گیا تو صدر کلنٹن نے دو اور غلطیاں کیں: ایک، دروغ حلفی یعنی perjury، اور دوسرے، انصاف میں رکاوٹ ڈالنا۔ 13 ماہ تک اسمبلی کی سطح پر کیس چلتا رہا، یہاں تک کہ 12 فروری 1999 کو ممبران کی کثرتِ رائے سے کلنٹن کو بری کر دیا گیا۔ اس کا سبب کیا تھا؟ اس کا سبب یہ تھا کہ امریکی عوام کی تقریباً 75% تعداد صدر کلنٹن کے مواخذہ، یعنی impeachment، کے خلاف تھی۔

امریکی عوام کی رائے یہ تھی کہ صدر کلنٹن نے امریکی اقتصادیات کو بہتر بنایا ہے۔ ایسی حالت میں اگر ان کی ذاتی زندگی غیر اخلاقی ہو تو ہمارے لیے وہ قابلِ لحاظ نہیں۔ امریکی عوام کے اس رجحان کی بنا پر صدر کلنٹن کے خلاف مواخذے کی تحریک ناکام ہو گئی۔ 200 سال پہلے امریکہ نے سیاست کو مذہب سے جدا کیا تھا۔

اب یہ ثابت ہوا کہ امریکی قوم نے مزید آگے بڑھ کر اخلاقی اقدار، یعنی moral values، کو بھی اپنی سیاسی اور قومی زندگی سے الگ کر دیا ہے۔ مزید یہ کہ دوسری علیحدگی اتنے بڑے پیمانے پر ہوئی ہے کہ نہ صرف امریکی عوام بلکہ ساری دنیا کے لوگوں نے اس کو جان لیا۔ بل کلنٹن اور مونیکا لیونسکی کا یہ قصہ ایک ایسے زمانے میں پیش آیا جبکہ دنیا میڈیا اور انٹرنیٹ کے دور میں داخل ہو چکی تھی۔ چنانچہ پورے ایک سال تک یہ معاملہ ہر روز لوگوں کے سامنے آتا رہا۔

دنیا میں بسنے والا تقریباً ہر شخص اس کو جان گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ میں اخلاقی اقدار اور سیاست کے درمیان یہ جدائی خاموش عمل کے طور پر نہیں ہوئی ہے، بلکہ وہ اعلان اور اشتہار کے ساتھ ہوئی ہے۔ یہ برائی امریکی سماج میں اگر خاموش عمل کے طور پر ہوتی تو وہ امریکہ کے لیے کچھ اور زندگی کی ضمانت بن سکتی تھی، جیسا کہ قدیم بادشاہوں کے ساتھ پیش آیا۔ مگر اس کو علن اعلان اختیار کر کے امریکہ نے اپنے زوال کے سفر کو بہت زیادہ تیز کر دیا ہے۔

کوئی بھی نظام اخلاقی صفات سے محروم ہو کر قائم نہیں رہ سکتا، اور امریکہ یقینی طور پر اس تاریخی قانون سے مستثنیٰ نہیں۔ تیسری مثال ہندوستان کی ہے۔ ہندوستان میں تقریباً 100 سال کی جدوجہد کے بعد، 15 اگست 1947 کو آزادی آئی۔ سوامی وویکانند نے کہا تھا کہ آزادی کے بعد ہندوستان world leader بنے گا۔

مگر عملاً کیا ہوا؟ یہ ملک لمبی مدت سے اونچی ذات اور نیچی ذات کے دو طبقوں میں بٹا ہوا تھا۔ حالات سے فائدہ اٹھا کر اونچی ذات والوں نے آزادی کو ہائی جیک کر لیا۔ یہی لوگ آزادی کے بعد سے مسلسل ملک کے اوپر حکومت کر رہے ہیں۔

مگر واقعات بتاتے ہیں کہ وہ ملک کو ایسا نظام دینے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں جو مہاتما گاندھی کے الفاظ میں "ہر آنکھ کے آنسو پوچھنے والا" ہو۔ اس ناکامی کا سبب بالکل واضح ہے: ملک کے اونچے طبقے، یعنی upper caste کے پاس جو ideology ہے، وہ ایک ایسی محدود ideology ہے جو پوری انسانیت کو اپنے دامن میں نہیں لیتی۔ اس ideology میں اونچی ذات والوں کے لیے تو باعزت جگہ ہے، مگر نیچی ذات اور غریب عوام کے لیے اس میں کوئی جگہ نہیں۔ اس ideology کے مطابق ہر آدمی جس حال میں ہے، وہ خود اس کی اپنی ہی پچھلی زندگی کا لازمی اور ناقابلِ تقسیم نتیجہ ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ غریب اور مظلوم ہیں، وہ فطرت کے جبری نظام کے تحت خود اپنے ماضی کے کردار کا نتیجہ بھگت رہے ہیں۔ انہیں زندگی کے آخری لمحے تک اس نتیجے کو بہرحال بھگتنا ہے۔ یہ ideology ملک کے نصف سے زیادہ حصے کو اونچی ذات کے حکمرانوں کی نظر میں ایک ایسا کیس بنا دیتی ہے جس پر رحم کرنا ضروری تو کیا، ممکن بھی نہیں۔ پیدائش کے اس جبری نظریے نے اونچی ذات کے حکمرانوں کو جو ideology دی، وہ ایک محدود ideology تھی۔

اس محدود ideology کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان حکمرانوں کے دل میں وسیع تر انسانیت کے لیے نرم گوشہ پرورش نہ پا سکا۔ ان کے لیے آزادی صرف اس بات کا موقع بن گئی کہ وہ سب کچھ اپنے لیے جمع کر لیں اور دوسروں کے لیے کچھ نہ چھوڑیں۔ کیونکہ دوسرے لوگ اسی لیے پیدا کیے گئے ہیں کہ وہ محروم رہ کر اپنے پچھلے دورِ حیات کی غلطیوں کی سزا پائیں، اور اسی حال میں مر کر وہ اس دنیا سے چلے جائیں۔ کتاب "تعمیرِ انسانیت"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 255۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.