Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Tameer-e-Insaniyat
Tameer-e-Insaniyat

Eik Misaal

Urdu · 4 min

ایک مثال: یہاں میں ایک مثال درج کروں گا جس سے اس معاملے کی وضاحت ہوتی ہے۔ یہ مثال انڈونیشیا اور ملیشیا کی ہے۔ میں نے اپنے ایک بیرونی سفر کے دوران انڈونیشیا کے ایک سینئر پروفیسر سے پوچھا کہ انڈونیشیا اور ملیشیا دونوں پڑوسی ملک ہیں، مگر ملیشیا کے مسلمانوں نے موجودہ زمانے میں جو ترقی کی ہے، انڈونیشیا کے مسلمان وہ ترقی نہ کر سکے۔ مذکورہ پروفیسر نے جواب دیا کہ اس کا سبب دونوں کے مختلف حالات میں پایا جاتا ہے۔

ملیشیا میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کا عددی تناسب تقریباً 50-50 کا ہے۔ اس بنا پر وہاں مسلسل چیلنج کی حالت قائم رہتی ہے۔ وہاں کے مسلمان ہر وقت یہ محسوس کرتے ہیں کہ اگر انہوں نے غفلت کی تو فریق ثانی آگے بڑھ جائے گا اور وہ ایک پچھڑا ہوا گروہ بن کر رہ جائیں گے۔ یہ نفسیات ملیشیا کے مسلمانوں کو مسلسل متحرک رکھتی ہے۔

ان کا زیادہ عمل ان کی ترقی کی ضمانت بن گیا ہے۔ انڈونیشیا کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ وہاں کی آبادی میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً 90% ہے۔ اس عددی اکثریت نے وہاں کے مسلمانوں کے اندر تحفظ کا احساس، یعنی sense of security، پیدا کر دیا ہے۔

یہ احساس ان کے لیے جمود کا سبب بن گیا ہے۔ چنانچہ ان کی صلاحیتیں زیادہ بیدار نہ ہو سکیں۔ وہ محنت کش بننے کے بجائے سہولت پسندی کی زندگی کے عادی بن گئے۔ اور جس قوم کا یہ حال ہو جائے، وہ کبھی کوئی بڑی ترقی نہیں کر سکتی۔

برصغیر ہند میں اگر اس اصول کو منطبق کیا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے مسلمان گویا انڈونیشی مسلمانوں کے مانند ہیں، اور انڈیا اور انڈیا کے مسلمان ملیشیائی مسلمانوں کے مانند۔ بلکہ شاید یہ کہنا صحیح ہوگا کہ انڈیا کے مسلمان اس معاملے میں ملیشیا کے مسلمانوں سے بھی زیادہ بہتر پوزیشن میں ہیں، کیونکہ ملیشیائی مسلمانوں کو ایک مساوی گروہ کی طرف سے چیلنج درپیش ہے۔ جبکہ انڈیا کے مسلمانوں کو عددی اعتبار سے ایک برتر گروہ کا سامنا کرتے ہوئے زندگی کا ثبوت دینا ہے۔ اس فرق کی بنا پر یہ کہنا صحیح ہوگا کہ انڈیا کے مسلمانوں میں مقابلے کی سپرٹ جتنی زیادہ بیدار ہوگی، وہ اس سے زیادہ ہوگی جو ملیشیا کے مسلمانوں میں بیدار ہوتی ہے۔

ان حالات کی بنا پر ہندوستانی مسلمان ایک عظیم امکان کے کنارے کھڑے ہوئے ہیں۔ یہ امکان کہ وہ فطرت کے اشارے کو سمجھیں اور اس کو استعمال کر کے نہ صرف ہندوستان کے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک نئے دور کے نقیب بن جائیں۔ کتاب "تعمیر انسانیت"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 254۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.