Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Tameer-e-Insaniyat
Tameer-e-Insaniyat

Etemad-o-Tawakkul

Urdu · 2 min

اعتماد و توکل۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم مکے میں پیدا ہوئے، آپ نے اپنی ابتدائی تبلیغ کے تقریباً 12 سال اسی شہر میں گزارے۔ اس زمانے میں مکے پر مشرکوں کا غلبہ تھا، انہوں نے آپ کو سخت تکلیفیں پہنچائیں، یہاں تک کہ آپ کو مار ڈالنے کے درپے ہو گئے۔ جب یہ نوبت آ گئی تو آپ مکہ چھوڑ کر مدینہ چلے گئے۔

اس وقت حالات اتنے سخت تھے کہ مکے سے نکل کر سیدھے مدینہ جانا خطرے سے خالی نہ تھا۔ اس لیے آپ جب مکہ چھوڑ کر نکلے تو ابتداً 3 دن تک غارِ ثور میں مقیم رہے، جو ایک دشوار گزار پہاڑ کے اوپر ایک تنگ مقام پر واقع تھا۔ تاہم آپ کے دشمن آپ کو تلاش کرتے ہوئے وہاں بھی پہنچ گئے۔ آپ اپنے رفیق حضرت ابوبکر صدیق کے ساتھ غار میں تھے، اور آپ کے دشمن تلواریں لیے ہوئے غار سے اتنے قریب کھڑے ہوئے تھے کہ آپ ان کے قدموں کو دیکھ سکتے تھے۔

تمام ظاہری قرائن کے مطابق ہلاکت آپ کے بالکل قریب پہنچ چکی تھی۔ حضرت ابوبکر صدیق کو یہ صورتحال دیکھ کر سخت تشویش ہوئی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ وہ تو یہاں بھی آ گئے۔ آپ نے نہایت سکون کے ساتھ جواب دیا: يا أبا بكرٍ، ما ظنك بإثنين الله ثالثهما؟ صحیح مسلم، حدیث نمبر 2381۔

یعنی: "اے ابوبکر! تمہارا ان دو کے بارے میں کیا گمان ہے جن کا تیسرا اللہ ہو؟ " یہ فقرہ بلاشبہ توکل و اعتماد کا انتہائی کامل نمونہ ہے۔ اس واقعے میں انسان توکل کے اس آخری مقام پر نظر آتا ہے جس کے آگے اس اعلیٰ انسانی صفت کا کوئی درجہ نہیں۔

جس کے آگے اس اعلیٰ انسانی صفت کا کوئی درجہ نہیں۔ کتاب "تعمیر انسانیت"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 224۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.