← Tameer-e-InsaniyatTameer-e-Insaniyat
Namuna-e-Insaniyat
Urdu · 6 min
نمونۂ انسانیت: سوامی وِویکانند 1863-1902 نے ایک خط کے جواب میں لکھا تھا کہ "میرا تجربہ ہے کہ اگر کبھی کوئی مذہب انسانی برابری کی منزل تک قابلِ لحاظ حد تک پہنچا ہے تو وہ اسلام اور صرف اسلام ہے؛ اس لیے میرا یہ قطعی خیال ہے کہ عملی اسلام کی مدد کے بغیر ویدانتزم کے نظریات، خواہ وہ کتنے ہی اچھے اور شاندار ہوں، عام انسان کے لیے بالکل بے فائدہ ہیں۔ " ہمارے مادرِ وطن کے لیے دو عظیم نظاموں کا ملاپ—ہندو ازم اور اسلام، ویدانت دماغ اور اسلام جسم—واحد امید ہے۔ میں اپنے ذہن کی آنکھ سے دیکھ رہا ہوں کہ مستقبل کا معیاری ہندوستان انتشار اور افتراق سے نکل کر ویدانت دماغ اور اسلام جسم کے ذریعے کامیاب اور فتح مند ہو رہا ہے۔ My experience is that if ever any religion approached to this equality in an appreciable manner, it is Islam and Islam alone.
Therefore, I am firmly persuaded that without the help of practical Islam, the oris of Vedantism, however fine and wonderful they may be, are entirely valueless to the vast mass of mankind for our own motherland. A junction of the two great systems—Hindustan and Islam—Vedanta brain and Islam body—is the only hope I see in my mind's eye: the future of India rising out of this chaos and strife, glorious and invincible, with Vedanta brain and Islam body. Letters of Swami Vivekananda, 1986, page 379 to 80. महात्मा गांधी, 1869-1948, कांग्रेसी लीडरों को यह मशवरा दिया करते थे कि वह खलीफा अबू बकर और खलीफा उमर की पैरवी करें। We have to follow the example of Abu Bakr and Umar.
गांधी जी ने एक बार अपने अखबार "हरिजन" में लिखा था कि "सादगी कांग्रेसियों ही का इजारा नहीं।" मैं रामचंद्र और कृष्ण का हवाला नहीं देता; मैं रामचंद्र और कृष्ण का हवाला नहीं देता, क्योंकि वह तारीखी शख्सियतें न थीं। मैं मजबूर हूँ कि अबू बकर और उमर के नाम का हवाला दूँ, अगरचे वह बहुत बड़ी सल्तनत के हाकिम थे, मगर उन्होंने फकीरों जैसी जिंदगी गुजारी। Simplicity is not the monopoly of congregations. I am not going to mention the names of Rama and Krishna because they were not historic personalities. I am compelled to mention the names of Abu Bakr and Umar, though they were masters of vast empire, yet they lived the life of paupers. ہریجن، جولائی 27، 1937۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلامی شخصیتوں نے اسلام کی صورت میں جو تاریخ بنائی ہے، وہ ساری انسانیت کے لیے نمونے کی تاریخ ہے۔ اسلام نے ان اوصاف کی اعلیٰ ترین مثالیں قائم کی ہیں، جن کو انسانی اوصاف کہا جاتا ہے۔ فرضی قصے کہانیوں کی صورت میں کوئی بھی شخص ایک کتاب لکھ سکتا ہے، مگر انسانیت کے نمونے کے لیے حقیقی کردار کا حوالہ دینا ہو تو اسلامی شخصیتوں کے سوا کسی اور کا حوالہ نہیں دیا جا سکتا۔ اس اعتبار سے یہ اسلامی شخصیتیں ساری انسانیت کا مشترک اخلاقی ورثہ ہیں۔
وہ تمام انسانوں کے لیے بہترین اخلاقی نمونہ ہیں۔ یہاں ہم اس بات کی وضاحت کے لیے مختلف پہلوؤں سے چند تاریخی مثالیں نقل کریں گے۔ کتاب "تعمیر انسانیت"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 222۔