Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Tameer-e-Hayat
Tameer-e-Hayat

Mahrumi ke Bad Bhi

Urdu · 7 min

محرومی کے بعد بھی، سیموئل بٹلر 19ویں صدی کا مشہور انگریز مصنف ہے، اس نے لکھا ہے کہ زندگی اس فن کا نام ہے کہ ناکافی مقدمات سے کافی نتائج اخذ کیے جائیں۔ Life is the art of drawing sufficient conclusions from insufficient premises. سیموئل بٹلر نے یہ بات فطری تعقل کے تحت کہی ہے، مگر زندگی کے بارے میں شریعت نے جو تصور دیا ہے وہ بھی عین یہی ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اس دنیا میں خدا نے جو نظام بنایا ہے، اس میں مشکل کے ساتھ آسانی لگی ہوئی ہے۔

إن مع العسر يسرا سورہ نمبر 94 آیت 6۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار ایک پہاڑی راستے کو دیکھا جس کا نام لوگوں نے "الضيقة" دشوار رکھ دیا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں، اس کا نام تو "اليسرى" یعنی آسان ہے۔ سیرت ابن ہشام جلد 2 صفحہ 482۔

گویا اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ آدمی عسر میں یسر کو دریافت کرے، اور دشوار گزار راستے کو آسان راستے کے روپ میں دیکھ سکے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اس تعلیم کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ آپ کو سخت ترین مشکلات پیش آئیں، مگر آپ نے حکیمانہ تدبیر سے ان کو اپنے حق میں آسان بنا لیا۔ آپ نے ڈس ایڈوانٹیج کو ایڈوانٹیج میں تبدیل کر لیا۔

ایک مستشرق، مسٹر کلٹ ای ای کلٹ، نے آپ کی اس صفتِ کمال کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انہوں نے مشکلات کا سامنا اس عزم کے ساتھ کیا کہ ناکامی سے کامیابی کو نچوڑیں۔ He faced adversity with the determination to ring success out of failure. A short history of religions, page 334. دنیا میں ایک طرف انسان ہے جو دوسرے انسان کے لیے مشکلات پیدا کرتا ہے، دوسری طرف خدا کا نظام ہے جس نے ہر مشکل کے ساتھ اس کا حل بھی رکھ دیا ہے۔

ایسی حالت میں انسانی مشکلات پر شور کرنا یہ معنی رکھتا ہے کہ آدمی نے انسان کے عمل کو دیکھا مگر وہ خدا کے عمل کو نہ دیکھ سکا۔ کیونکہ اگر وہ خدا کے عمل کو دیکھتا تو شکایت کرنے کے بجائے وہ اس کو استعمال کرنے میں لگ جاتا۔ اس دنیا میں ہر ناکامی کے بعد ایک نئی کامیابی کا امکان آدمی کے لیے باقی رہتا ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ آدمی اس امکان کو استعمال کر کے دوبارہ اپنے آپ کو کامیاب بنائے۔

الرسالہ دسمبر 1988 میں کینیڈا کے کھلاڑی بن جانسن کا قصہ چھپ چکا ہے۔ دوڑ کے عالمی مقابلے میں اس نے اول درجے کی کامیابی حاصل کی، مگر اگلے ہی دن اس کا جیتا ہوا گولڈ میڈل اس سے چھین لیا گیا۔ مزید اس کے بارے میں یہ سخت فیصلہ کیا گیا کہ وہ اگلے 2 سال تک کھیل کے مقابلوں میں حصہ نہ لے سکے گا۔ بن جانسن کے لیے یہ اس کی زندگی کا شدید ترین حادثہ تھا۔

تاہم اس نے ظالم ججوں کے خلاف احتجاج میں وقت ضائع نہیں کیا، اس نے اس طرح اپنی تیاری کا منصوبہ بنایا۔ اٹلی کے ٹیلی ویژن نیٹ ورک نے نومبر 1988 میں بن جانسن کا ایک با تصویر انٹرویو اس کی رہائش گاہ یعنی ٹورنٹو پر لیا، جس کی تفصیل اخبارات میں شائع ہوئی ہے۔ اس کی رہائش گاہ ٹورنٹو پر لیا، جس کی تفصیل اخبارات میں شائع ہوئی ہے۔ ٹائمز آف انڈیا 29 نومبر 1988 کے مطابق 100 میٹر دوڑ کے عالمی چیمپئن بن جانسن نے ٹیلی ویژن کیمرے کے سامنے روتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جان بوجھ کر کھیل کے اصولوں کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی۔

تاہم وہ اپنی تیاری جاری رکھے ہوئے ہیں اور وہ بارسلونا یعنی اسپین میں 1992 میں ہونے والے اولمپک کھیلوں میں واپس آنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا علمی ریکارڈ ٹریک پر 13 سال کی مسلسل محنت کا نتیجہ تھا۔ ان کا علمی ریکارڈ ٹریک پر 13 سال کی مسلسل محنت کا نتیجہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا علمی ریکارڈ ٹریک پر 13 سال کی مسلسل محنت کا نتیجہ تھا۔

بظاہر وہ بہت افسردہ دکھائی دے رہے تھے۔ سول اولمپک کے بعد پیش آنے والے مشکل لمحات کا ذکر کرتے ہوئے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے۔ انٹرویو لینے والے مسٹر گیانی منولی نے کہا کہ شوٹنگ کا کام 5 منٹ تک روک دینا پڑا کیونکہ بن جانسن اپنی سسکیوں پر قابو نہیں پا سکے تھے۔ بن جانسن نے بتایا کہ ٹریک پر واپس آنے کے لیے وہ ہفتے میں 6 دن 4 گھنٹہ روزانہ ٹریننگ حاصل کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میرا کام صرف دوڑنا ہے، بیٹھے رہنے کی بات میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ میری خواہش یہ ہے کہ میں دوبارہ مقابلے میں حصہ لوں۔ انہوں نے کہا کہ میرا سونے کا تمغہ مجھ سے لیا ہے، نہ کہ میری رفتار۔ They have taken away my gold medal, not my speed.

چھیننے والا ہمیشہ آپ کی کوئی چیز چھینتا ہے، نہ کہ خود آپ کو۔ آپ کا وجود اپنی پوری صلاحیتوں کے ساتھ پھر بھی آپ کو حاصل رہتا ہے۔ اس حاصل شدہ متاع کو استعمال کیجیے، اور پھر ہر محرومی کے بعد آپ اپنی ایک نئی تاریخ بنا سکتے ہیں۔ کتاب تعمیر حیات مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 270۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.