Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Tameer-e-Hayat
Tameer-e-Hayat

Ilm ki Ahmiat

Urdu · 7 min

علم کی اہمیت۔ جیفرسن تھامس جیفرسن امریکہ کا تیسرا صدر تھا۔ وہ 1743 میں پیدا ہوا اور 1826 میں اس کی وفات ہوئی۔ وہ 1801 سے لے کر 1809 تک امریکہ کا صدر رہا۔

جیفرسن نہایت قابل آدمی تھا، وہ انگریزی، لاتینی، یونانی، فرانسیسی، اسپینی، اطالوی، اور اینگلو سیکسن زبانیں جانتا تھا۔ مورخین اس کے بارے میں لکھتے ہیں کہ وہ ایک انتہائی غیر معمولی قسم کا صاحبِ علم آدمی تھا۔ He was an extraordinary learned man. Volume 10, page 130.

اس نے اپنی طویل عمر میں فلسفہ اور سائنس سے لے کر مذہب تک تقریباً تمام علوم کا گہرا مطالعہ کیا۔ آخر عمر میں اس نے یہ کوشش کی کہ وہ انجیل کا تجزیہ کرے اور یہ معلوم کرے کہ حضرت مسیح نے واقعتاً کیا کہا تھا، اور بیان کرنے والوں نے ان کے بارے میں کیا بیان کیا۔ He attempted an analysis of the New Testament in order to discover what Jesus really said, as distinguished from what he was reported to have said. جیفرسن نے آخر عمر میں یہ وصیت کی تھی کہ اس کے مرنے کے بعد اس کی قبر پر جو کتبہ لگایا جائے، اس میں یہ نہ لکھا جائے کہ وہ امریکہ کا صدر تھا، بلکہ یہ لکھا جائے کہ وہ ورجینیا یونیورسٹی کا بانی تھا۔

چنانچہ اس کی وصیت کے مطابق اس کی قبر، یعنی مونٹی چیلو پر جو کتبہ لگا ہوا ہے، اس میں یہ الفاظ درج ہیں: "He was buried: Thomas Jefferson, Father of the University of Virginia. " Volume 10, page 131. حقیقت یہ ہے کہ علم سب سے بڑی دولت ہے۔ جو لوگ علم کی اہمیت کو جان لیں، ان کو امریکہ کی صدارت بھی ہیچ معلوم ہوگی۔

علم سب سے بڑی دولت ہے۔ علم ہی وہ واحد چیز ہے جس سے آدمی کبھی نہیں اکتاتا، جس کی حد کبھی کسی کے لیے نہیں آتی۔ علم ہر معاملے میں کارآمد ہے، وہ ہر میدان میں کامیابی کا زینہ ہے۔ علم سے آدمی کو وہ شعور ملتا ہے جس سے وہ دنیا کو جانے، جس سے وہ باتوں کو ان کی گہرائی تک سمجھ سکے۔

علم ایسا سکہ ہے جس سے آپ دنیا کی ہر چیز خرید سکتے ہیں۔ علم ہر قسم کی ترقی کا راز ہے، فرد کے لیے بھی اور قوم کے لیے بھی۔ جس کے پاس علم ہو، اس کے پاس گویا ہر چیز موجود ہے۔ جناب عبدالرحمن انتول، بیرسٹر ایٹلا، اور سابق چیف منسٹر مہاراشٹر، وفات 2014 نے 5 فروری 1987 کی ملاقات میں ایک واقعہ بتایا۔

غالباً 1954 کی بات ہے۔ اس وقت وہ لندن کی کونسل آف لیگل ایجوکیشن میں قانون کے طالب علم تھے۔ ایک لیکچر کے دوران ایک قانونی مسئلے کی وضاحت کرتے ہوئے ان کے انگریز پروفیسر نے انہیں یہ واقعہ سنایا تھا۔ پروفیسر نے بتایا کہ ایک بڑا صنعتی کارخانہ چلتے چلتے اچانک بند ہو گیا۔

کارخانے کے انجینئر اس کو دوبارہ چلانے کی کوشش میں کامیاب نہ ہو سکے۔ آخر ایک بڑے ایکسپرٹ کو بلایا گیا۔ وہ آیا تو اس نے کارخانے کا ایک راؤنڈ لیا۔ اس نے اس کی مشینیں دیکھیں۔

اس کے بعد وہ ایک جگہ رک گیا۔ اس نے کہا کہ ایک ہتھوڑا لے آؤ۔ ہتھوڑا لایا گیا تو اس نے ایک مقام پر ہتھوڑے سے مارا۔ اس کے بعد مشین حرکت میں آ گئی اور کارخانہ چلنے لگا۔

مذکورہ ایکسپرٹ نے واپس جا کر 100 پاؤنڈ کا بل بھیج دیا۔ کارخانے کے مینیجر کو یہ بل بہت زیادہ معلوم ہوا۔ اس نے ایکسپرٹ کے نام اپنے خط میں لکھا کہ آپ نے تو کوئی کام کیا نہیں، یہاں آ کر آپ نے صرف ایک ہتھوڑا مار دیا۔ اس کے لیے 100 پاؤنڈ کا بل ہماری سمجھ میں نہیں آیا۔

براہِ کرم آپ ہمارے نمائندے کو مزید اور زیادہ بہتر تفصیلات عطا فرمائیں۔ Please furnish my client with further and better particulars. اس کے جواب میں مذکورہ ایکسپرٹ نے لکھا کہ میں نے جو بل روانہ کیا تھا وہ بالکل صحیح ہے۔ اصل یہ ہے کہ 99 پاؤنڈ اور 19 شلنگ تو یہ جاننے کے لیے ہیں کہ مشین میں غلطی کیا ہے اور کہاں ہے۔

اور ایک شلنگ ہتھوڑا اٹھا کر مارنے کے لیے 99. 19 to diagnose the disease and 1 shilling to pick up the hammer and to strike at the right spot. اس دنیا میں سب سے زیادہ قیمت علم کی ہے۔ سو میں ایک اگر محنت کی قیمت ہو تو سو میں 99 علم کی قیمت قرار پائے گی۔

کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 268۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.