← Tameer-e-HayatTameer-e-Hayat
Kamiyabi ka Ticket
Urdu · 7 min
کامیابی کا ٹکٹ: امریکہ میں ایشیائی ملکوں سے آئے ہوئے جو لوگ آباد ہیں، ان کو عام طور پر ایشیائی امریکی، یعنی Asian American، کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ زیادہ تر 1965 کے بعد یہاں آئے۔ امریکہ میں ان کی موجودہ تعداد تقریباً 2% ہے۔ ان میں کچھ یہودی ہیں، کچھ بدھسٹ ہیں، کچھ کنفیوشس، کنفیوشس کو ماننے والے ہیں۔
اور اسی طرح بعض دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے ہیں۔ امریکہ میں اپنے مستقبل کی تعمیر کا مطلب اگر وہ یہ سمجھتے کہ ان کے فرقے کا آدمی صدر کے عہدے پر پہنچ جائے، تو انہیں امریکہ میں اپنے لیے ترقی کا دروازہ بالکل بند نظر آتا۔ کیونکہ صدر کے عہدے کے لیے امریکہ کا پیدائشی شہری، یعنی نیچرل بورن سٹیزن، ہونا ضروری ہے۔ اور ایشیائی لوگ اس تعریف میں نہیں آتے۔
صدارت کو اپنا نشانہ بنانے کی صورت میں ایشیائی مہاجرین یا تو مایوسی کا شکار ہوتے، یا اس بات کی ناکام مہم چلاتے کہ امریکی دستور میں ترمیم کر کے صدارت کی اس شرط کو ختم کیا جائے تاکہ ان کا آدمی بھی صدر کے عہدے کے لیے جائز امیدوار بن کر کھڑا ہو سکے۔ مگر ایشیائی امریکیوں نے اس قسم کی حماقت نہیں کی۔ انہوں نے اپنے واقعی حالات کے اعتبار سے امریکہ کا جائزہ لیا تو انہیں نظر آیا کہ یہاں ان کے جیسے اقلیت کے لیے، اگرچہ صدارتی عہدے تک پہنچنے کے مواقع نہیں ہیں، مگر اعلیٰ تعلیمی عہدوں تک پہنچنے کے مواقع پوری طرح موجود ہیں۔ انہوں نے پایا کہ تعلیم ان کے لیے کامیابی کے ٹکٹ، یعنی ٹکٹ ٹو سکسیس، کی حیثیت رکھتی ہے۔
انہوں نے اپنی ساری طاقت تعلیم کے حصول میں لگا دی۔ چنانچہ انہیں زبردست کامیابی حاصل ہوئی، حتیٰ کہ تعداد میں 2% ہوتے ہوئے وہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں 20% سیٹوں پر قابض ہو گئے۔ یہی دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کا طریقہ ہے۔ اس دنیا میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ کچھ مواقع آدمی کے لیے کھلے ہوئے ہوتے ہیں، اور کچھ مواقع اس کے لیے کھلے ہوئے نہیں ہوتے۔
آدمی کی بہترین عقلمندی یہ ہے کہ وہ کھلے ہوئے مواقع کو استعمال کر کے آگے بڑھنے کی کوشش کرے۔ اگر اس نے بند دروازوں سے سر ٹکرایا تو دروازہ تو نہیں کھلے گا، البتہ اس کا سر ضرور ٹوٹ جائے گا۔ خاص طور پر تعلیم آج کی دنیا میں کامیابی کا ٹکٹ ہے۔ اور اس ٹکٹ کو حاصل کرنے کے مواقع ہر آدمی کے لیے ہر جگہ کھلے ہوئے ہیں۔
یہ اصول جو افراد کی ترقی کا راز ہے، وہی ملکوں اور قوموں کی ترقی کا راز بھی ہے۔ اس سلسلے میں جاپان ایک قابلِ تقلید مثال پیش کرتا ہے۔ جاپان کے بارے میں ایک امریکی مصنف کی ایک کتاب چھپی ہے جس کا نام ہے "جاپان نمبر ایک" کی حیثیت سے۔ ڈھائی سو صفحے کی اس کتاب میں مصنف نے دکھایا ہے کہ جاپان کس طرح دوسری جنگ عظیم میں مکمل شکست سے دوچار ہونے کے بعد دوبارہ اس طرح کھڑا ہو گیا کہ خود اپنے فاتح، یعنی امریکہ کے لیے چیلنج بن گیا۔
مصنف کے الفاظ میں، جاپانی لوگ تبدیلی کے آقا بن گئے، بجائے اس کے کہ وہ اس کا شکار ہو جائیں۔ دوسرے ممالک کو بیرونی اثرات نے برباد کر دیا، مگر جاپان نے اس سے طاقت پا لی۔ Thus, they became the masters of change rather than the victims. Other countries were devastated by foreign influence, but Japan was invigorated.
Ezra F. Vogel: "Japan as Number One" Harvard University Press London, 1979, page 256. مصنف کے نزدیک جاپان کی اس غیر معمولی کامیابی کا راز یہ ہے کہ اس نے فوجی اور سیاسی میدان میں شکست کھانے کے بعد اپنے میدانِ عمل کو بدل دیا، اور اپنی ساری توجہ علم کی راہ میں لگا دی۔ اس کتاب کے تیسرے باب میں مصنف نے بتایا ہے کہ جاپان کی موجودہ کامیابی کا واحد عامل، یعنی سنگل فیکٹر، اگر کسی چیز کو قرار دیا جا سکتا ہے تو وہ صرف ایک ہے، اور وہ ہے جاپانی قوم میں علم، یعنی knowledge کی تلاش کا لامتناہی جذبہ۔
اس سلسلے میں مصنف نے لکھا ہے: "When a foreign visitor comes to Japan, most Japanese almost instinctively think, 'What can I learn from him? '" And the three million Japanese who now travel abroad each year look for little hints of new ideas they might apply at. Page 29. جب باہر کا کوئی آدمی جاپان آتا ہے تو اکثر جاپانی تقریباً جبلی طور پر سوچتے ہیں: "میں اس سے کیا بات سیکھ سکتا ہوں؟
" اور تین ملین جاپانی جو آج کل ہر سال باہر کی دنیا کا سفر کرتے ہیں، وہ جب باہر پہنچتے ہیں تو وہ یہ کوشش کرتے ہیں کہ انہیں کوئی نیا تصور ہاتھ آ جائے جس کو واپس جا کر وہ اپنے ملک میں استعمال کر سکیں۔ کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 243.