← Tameer-e-HayatTameer-e-Hayat
Dusra Mauqa
Urdu · 6 min
دوسرا موقع: ریڈرز ڈائجسٹ۔ فروری 1987 میں ایک مضمون شائع ہوا ہے، اس کا عنوان ہے "Dare to Change Your Life" یعنی "اپنی زندگی کو بدلنے کی جرات کرو"۔ اس مضمون میں کئی ایسے واقعات دیے گئے ہیں جن میں ایک شخص کو ابتداً ناکامی پیش آئی، وہ نقصانات اور مشکلات سے دوچار ہوا، مگر اس نے حوصلہ نہیں کھویا۔ ایک موقع کو کھونے کے باوجود اس کی نظر دوسرے موقع پر لگی رہی۔
یہ تدبیر کارگر ہوئی۔ ایک بار ناکام ہو کر اس نے دوسری بار کامیابی حاصل کر لی۔ مضمون کے آخر میں مضمون نگار نے لکھا ہے کہ زندگی دوسرے مواقع سے بھری ہوئی ہے۔ دوسرے موقع کو استعمال کرنے کے لیے جو کچھ درکار ہے وہ صرف یہ صلاحیت ہے کہ آدمی اس کو پہچانے اور حوصلہ مندانہ طور پر اس پر عمل کرے۔
Life is full of second chances. All we need for a second chance is the ability to recognize it and the courage to act. زندگی سیکنڈ چانس یعنی دوسرے موقع کو استعمال کرنے کا نام ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو فرد کے لیے بھی اتنی ہی صحیح ہے جتنی قوم کے لیے۔
پوری تاریخ اس حقیقت کی تصدیق کرتی ہے۔ دورِ اول میں اسلام کو مکے میں موقع نہ مل سکا۔ اس کے بعد اسلام نے مدینے کے موقع کو استعمال کر کے اپنی تاریخ بنائی۔ مغربی قومیں صلیبی جنگوں میں اپنے لیے موقع نہ پا سکیں تو انہوں نے علمی مواقع کو استعمال کر کے دوبارہ کامیابی کا مقام حاصل کیا، وغیرہ۔
موجودہ دنیا میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی پہلے موقع کو کھو دیتا ہے، کبھی اپنے ناقص تجربے کی وجہ سے اور کبھی دوسروں کی سرکشی کی وجہ سے۔ مگر پہلے موقع کو کھونے کا مطلب ایک موقع کو کھونا ہے، نہ کہ سارے مواقع کو کھونا۔ پہلا موقع کھونے کے بعد اگر آدمی مایوس نہ ہو تو جلد ہی وہ دوسرا موقع پا لے گا جس کو استعمال کر کے وہ دوبارہ اپنی منزل پر پہنچ جائے۔ جن مواقع پر دوسرے لوگ قابض ہو چکے ہیں، ان کو ان سے چھیننے کی کوشش کرنا عقلمندی نہیں۔
عقلمندی یہ ہے کہ جو مواقع ابھی باقی ہیں، ان پر قبضہ حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ ٹائمز آف انڈیا، 13 اپریل 1989، سیکشن 2، صفحہ 4 میں نیویارک کی ڈیڈ لائن کے ساتھ ایک رپورٹ چھپی ہے۔ اس کا عنوان "سپر کمپیوٹر میں امریکہ سے آگے بڑھ جانے کے لیے جاپان کی کوشش" ہے۔ "Japan's Bid to Excel: The US in Supercomputers" ۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سپر کمپیوٹر کے میدان میں امریکہ کا طویل مدت کا غلبہ اب مشتبہ ہو گیا ہے۔ امریکہ کی ایک کارپوریشن کے تجزیہ نگاروں نے امریکہ کی ایک کارپوریشن کے تجزیہ کاروں نے مطالعے کے بعد یہ اعلان کیا ہے کہ جاپان کا بنایا ہوا ایک سپر کمپیوٹر 1990 میں مارکیٹ میں آ جائے گا۔ یہ دنیا کی سب سے زیادہ تیز کام کرنے والی مشین ہوگی۔ جاپانیوں نے اس نئے کمپیوٹر کا نام "ایس ایکس ایکس" رکھا ہے۔
اس کی رفتار اتنی زیادہ ہے کہ وہ ایک سیکنڈ میں سائنٹیفک قسم کے حساب کے 20 ملین آپریشن کر سکتا ہے۔ یہ جاپانی کمپیوٹر امریکہ کے تیز ترین کمپیوٹر سے 25 فیصد زیادہ تیز رفتار ہے۔ اسی کے ساتھ اس کی مزید خصوصیت یہ ہے کہ کامل صحت کارکردگی کے ساتھ نسبتاً وہ کم خرچ بھی ہے۔ اس سپر کمپیوٹر کی اہمیت صرف سائنٹیفک ریسرچ، تیل کی تلاش، اور موسم کی پیشنگوئی جیسی چیزوں ہی تک محدود نہیں ہے، بلکہ وہ نیشنل سیکیورٹی کے لیے بھی بے حد اہم سمجھا جاتا ہے، کیونکہ وہ نیوکلیئر ہتھیاروں کی تیاری میں بہت زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔
نئے جاپانی کمپیوٹر نے دنیا کو ایک نئے صنعتی دور میں پہنچا دیا ہے۔ موجودہ کمپیوٹر، جو کسی زمانے میں جدید سمجھے جاتے تھے، اب وہ روایتی اور تقلیدی بن کر رہ گئے ہیں۔ حتیٰ کہ جاپان کی اس ایجاد نے اس کو خود فوجی میدان میں بھی برتری عطا کر دی ہے۔ امریکہ نے سپر بم بنا کر 1945 میں جاپان کو تباہ کر دیا تھا، مگر وہ جاپان سے یہ امکان نہ چھین سکا کہ وہ سپر کمپیوٹر بنا کر دوبارہ نئی زندگی حاصل کر لے اور صرف 45 سال کے اندر تاریخ کا رخ موڑ دے۔
تخریب خواہ وہ کتنی ہی بڑی ہو، وہ تعمیر نو کے مواقع کو ختم نہیں کرتی، اور تعمیر کی طاقت بہرحال تخریب کی طاقت سے زیادہ ہے۔ کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 241۔