Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Tameer-e-Hayat
Tameer-e-Hayat

Das Aqwaal

Urdu · 4 min

10 اقوال: امریکہ میں چھپی ہوئی ایک کتاب نظر سے گزری، یہ کتاب ایک کامیاب امریکی تاجر کی لکھی ہوئی ہے۔ اس نے یہ کتاب اپنے 20 سالہ تجارتی تجربات کی روشنی میں تیار کی ہے۔ اس خوبصورت کتاب میں ہر صفحے پر 2 تجارتی اصول جلی حرفوں میں درج ہیں۔ مصنف کا کہنا ہے کہ ٹاپ پرفارمرز نے ہمیشہ مثبت عادات، یعنی positive habits، کے ذریعے ترقی کی ہے۔

The Book of Excellence: 236 Habits of Effective Salespeople by Bayard Baggett, first published January 1, 1993. ان مثبت عادتوں کو مصنف نے 236 چھوٹے چھوٹے جملوں میں مرتب کیا ہے۔ کتاب کو پڑھ کر میں نے 10 جملے منتخب کیے ہیں جو کہ حسبِ ذیل ہیں: "A bad attitude cancels all other positive skills. Be as critical of yourself as you are of others.

You are not learning anything when you are talking. Excellence is not optional. Take an active, not passive, role in helping your community. Customers love humility.

Patience is a virtue. Don't give up. There is no replacement for effort. Success does not come easily.

Are you willing to pay the price? Stop, listen, and think before you respond." یعنی ایک برا رویہ تمام دوسری خوبیوں پر پانی پھیر دیتا ہے۔ اپنے بارے میں بھی اتنا ہی تنقیدی بنو جتنا تم دوسروں کے لیے تنقیدی ہو۔ جب تم بولتے ہو تو تم کچھ سیکھ نہیں رہے ہو۔

امتیاز کوئی اختیاری چیز نہیں۔ اپنی کمیونٹی کی مدد کرنے میں فعال کردار ادا کرو۔ گاہک ہمیشہ تواضع کو پسند کرتے ہیں۔ برداشت ایک نیکی ہے، اس کو کبھی نہ چھوڑو۔

کوشش کا کوئی بدل نہیں۔ کامیابی آسانی سے نہیں آتی۔ کیا تم اس کی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہو؟ ٹھہرو، سنو، اور جواب دینے سے پہلے غور کرو۔

یہ اقوال اس فطری حکمت کو بیان کرتے ہیں جن کو اختیار کر کے کوئی شخص دنیا میں اپنی کامیابی کو یقینی بنا سکتا ہے۔ یہ اقوال کامیابی کی کنجی ہیں۔ کتاب: تعمیرِ حیات، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 196.

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.