کامیابی کا موقع کامیابی کا موقع صرف ایک بار کسی شخص کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔ اس دنیا میں کامیابی کا موقع روزانہ آتا ہے، مگر وہ روزانہ چلا بھی جاتا ہے۔ اور جو موقع ایک بار چلا جائے، وہ دوبارہ کسی کے لیے واپس نہیں آتا۔ کامیابی کا بہت گہرا تعلق مواقع سے ہے۔
جب کوئی بڑا موقع سامنے آتا ہے تو وہ بس تھوڑی دیر ٹھہرتا ہے۔ اس لیے ضروری ہوتا ہے کہ موقع آنے کے وقت آدمی فوراً اس کو پہچانے۔ جو شخص کسی موقع کو شروع میں پہچان لے، وہ اس سے سب سے زیادہ فائدہ حاصل کرے گا۔ اور جو شخص اس کو پہچاننے میں دیر لگا دے، وہ اس سے بڑا فائدہ حاصل کرنے میں ناکام رہے گا۔
جب ایک موقع آپ کے ہاتھ سے نکل جائے تو آپ اپنی اس محرومی کو اس طرح یافت میں بدل سکتے ہیں کہ پورے معاملے پر بے لاگ انداز میں سوچیں۔ اس طرح آپ کے اندر یہ سمجھ پیدا ہوگی کہ دوسری بار جب ایک موقع آئے تو آپ فوراً اس کو پہچان لیں اور پہلے ہی لمحے میں اس کو استعمال کر کے آگے بڑھ جائیں۔ زندگی میں کچھ لمحات فیصلے کے لمحات ہوتے ہیں۔ ان لمحات میں چوک جانا ایک ایسا نقصان ہے جس کی تلافی بعد کو ممکن نہیں ہوتی۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی ان مخصوص لمحات کو پہچان نہیں پاتا۔ وہ غفلت میں ان لمحات کو ضائع کر دیتا ہے۔ بعد کو وہ جاگتا ہے، مگر اب اس کے لیے افسوس کرنے کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ ہر بار جب آپ کے دروازے پر کھٹکھٹانے کی آواز آئے تو فوراً اس پر دھیان دیجئے۔
کیا معلوم کسی بڑی کامیابی کا موقع آپ کے دروازے پر آپ کا انتظار کر رہا ہو۔ آنے والے موقع کا استعمال کیجئے، کیونکہ جو موقع ایک بار آ کر واپس چلا جائے، وہ دوبارہ آپ کے پاس لوٹ کر آنے والا نہیں۔ اکثر لوگوں کی محرومی مواقع کو کھونے کا نام ہوتی ہے۔ وہ دوسروں کے خلاف احتجاج کرتے ہیں، حالانکہ اصل حقیقت یہ ہوتی ہے کہ وہ مواقع کو وقت پر استعمال نہ کر سکے۔
کتاب تعمیر حیات مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 195۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.