Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-Hayat
Tameer-e-Hayat

Bada Dil

Urdu · 3 min

بڑا دل بڑے دل والا آدمی ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے، اور چھوٹے دل والا آدمی ہمیشہ ناکام۔ اس دنیا میں کامیابی کسی کو اس کے دل کے پیمانے سے ملتی ہے۔ یہاں کامیابی کا اصول یہ ہے کہ جتنا بڑا دل، اتنی ہی بڑی کامیابی۔ اس دنیا میں کوئی قابلِ ذکر کامیابی حاصل کرنے کے لیے قریبی حالات سے اوپر اٹھ کر سوچنا پڑتا ہے۔

لوگوں کے سلوک سے بلند ہو کر ان کے ساتھ معاملہ کرنا ہوتا ہے۔ لوگوں کو یہ خیال کیے بغیر دیا جاتا ہے کہ انہوں نے ہم کو کیا دیا اور کیا نہیں دیا۔ اس قسم کا کردار بڑے دل کے بغیر ممکن نہیں۔ اس لیے اس دنیا میں بڑے دل کے بغیر کوئی بڑی کامیابی بھی کسی کو ملنے والی نہیں۔

خواہ ایک ملک ہو یا دوسرا ملک، خواہ ایک زمانہ ہو یا دوسرا زمانہ، ہر مقام پر اور ہر جگہ کے لیے یہی ایک اصول ہے۔ اس میں کسی کا کوئی استثنا نہیں۔ جو آدمی چھوٹے دل کا ہو، وہ ذرا ذرا سی بات میں لوگوں کے خلاف شکایت لے کر بیٹھ جاتا ہے۔ وہ ان معمولی باتوں میں الجھ جاتا ہے جو اس قابل ہوتی ہیں کہ ان کو نظر انداز کر دیا جائے۔

ایسا آدمی راستے کے درمیان میں اٹک کر رہ جائے گا۔ وہ آخری منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔ اس کے برعکس، جو آدمی راستے کی چھوٹی چھوٹی باتوں سے نہ الجھے، وہ کامیابی کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھتا ہے۔ وہ اپنی دلجمعی کو ہر حال میں باقی رکھتا ہے۔

وہ کسی بھی تلخ تجربے سے بے حوصلہ نہیں ہوتا۔ ایسے آدمی کے لیے یہی مقدر ہے کہ وہ اپنی منزل پر پہنچ کر رہے۔ وہ پستیوں سے گزر کر آخری بلندی تک پہنچ جائے۔ اس دنیا میں آدمی دل کی طاقت سے جیتتا ہے۔

زندگی کی جدوجہد میں جو آدمی بے دل ہو جائے، وہ اپنی ملی ہوئی صلاحیتوں کو بھی کھو دے گا۔ اور جو آدمی ہر حال میں مثبت رہے، وہ اپنی صلاحیتوں میں مزید اضافہ کر لے گا۔ تمام کامیابیوں کا اصل میدان آدمی کا اپنا دل ہے۔ آپ باہر کی دنیا کو نہ دیکھیے، بلکہ اپنے دل کی دنیا کو دیکھیے۔

اپنے اندر ہی آپ وہ سب کچھ پا سکتے ہیں جس کو آپ پانا چاہتے ہیں۔ کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 180۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.