دو قسم کے آدمی: ایک آدمی وہ ہے جو کم بولے اور زیادہ کرے، دوسرا آدمی وہ ہے جو زیادہ بولے اور کم کرے۔ پہلی قسم کا آدمی ہی آدمی ہے، دوسری قسم کا انسان آدمی کے بھیس میں غیر آدمی ہے۔ ہندوستان میں ایمرجنسی 1975 تا 77 کے زمانے میں فخر الدین علی احمد، 1905 تا 1977، صدرِ جمہوریہ تھے۔ ان کے پاس یو پی کا ایک مسلمان آیا، اس نے کہا کہ میرے بھائی کو پولیس نے میسہ کے قانون کے تحت گرفتار کر کے جیل میں بند کر دیا ہے، حالانکہ وہ بالکل بے قصور ہے۔
فخر الدین علی احمد نے بھائی کا نام و پتہ لکھ کر مذکورہ مسلمان کو رخصت کر دیا۔ انہوں نے سمجھا کہ فخر الدین صاحب نے ان کی بات پر کوئی توجہ نہیں دی، مگر جب وہ ٹرین سے سفر کر کے اپنے گھر پہنچے تو ان کے بھائی رہا ہو کر گھر واپس آ چکے تھے۔ قصہ یہ تھا کہ مذکورہ مسلمان کو رخصت کرنے کے بعد فخر الدین علی احمد صاحب نے اپنے سیکریٹری سے کہا کہ فلاں ضلعے کے کلیکٹر کو ٹیلی فون کرو اور اس سے کہو کہ اس نام کے ایک صاحب آپ کے یہاں جیل میں ہیں۔ صدر صاحب نے ان کی خیریت پوچھی ہے۔
کلیکٹر نے جب یہ سنا تو وہ ڈر گیا۔ وہ سمجھا کہ جس آدمی کو اس نے جیل میں بند کر رکھا ہے، وہ کوئی اہم شخصیت ہے، اس لیے تو صدر صاحب اس کی خیریت پوچھ رہے ہیں۔ چنانچہ فوراً ان کو جیل سے رہا کر دیا۔ دہلی کے ایک صاحب مجھ سے اکثر کہتے تھے کہ انگریزی اخباروں میں میرے تعلقات ہیں، میں مسلم نوجوانوں کو انگریزی اخبارات میں جگہ دلا سکتا ہوں، مگر مسلمانوں میں شوق ہی نہیں۔
اس کے بعد میری ملاقات ایک مسلم نوجوان سے ہوئی، انہوں نے انگریزی سے ایم اے کیا تھا اور محنتی بھی تھے۔ میں نے ان کو مذکورہ صاحب کے پاس بھیجا۔ انہوں نے نوجوان کو مکتوب الیہ کا نام درج کیے بغیر ایک خط لکھ کر دیا، جس کا مضمون یہ تھا: "میں ان سے براہ راست واقف نہیں، آپ ان کا ٹیسٹ لے لیں اور اپنے ٹیسٹ میں جیسا پائیں اس کے مطابق ان سے معاملہ کریں۔ " یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ نوجوان نے اس خط کو استعمال نہیں کیا۔
زندگی میں کرنے کی اہمیت ہے، نہ کہ بولنے کی۔ کم بولنا اور زیادہ کرنا آدمی کو باقیمت بناتا ہے، اس کے برعکس زیادہ بولنا اور کم کرنا آدمی کو بے قیمت بنا دیتا ہے، بندوں کی نظر میں بھی اور خدا کی نظر میں بھی۔ کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 167۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.