مستقبل کو جانیے۔ جان بیٹ 17ویں صدی عیسوی کا ایک برٹش مرچنٹ تھا۔ 1606 کا واقعہ ہے کہ اس نے باہر سے کچھ کشمکش، یعنی کرنٹس، امپورٹ کی۔ ملک میں داخل ہونے کے بعد جب اس کے سامان پر ٹیکس لگایا گیا تو اس نے ٹیکس کی رقم دینے سے انکار کر دیا۔
اس نے کہا کہ یہ ایک شاہی ٹیکس ہے، جس کو کنگ جیمز فرسٹ 1566-1625 نے خود اپنے اختیار سے جاری کیا ہے۔ پارلیمنٹ نے اس کے حق میں قانون نہیں بنایا ہے۔ انگلستان کے حکمران جیمز فرسٹ نے شاہی مالیات کے مسائل کو حل کرنے کے لیے اس قسم کے کچھ ٹیکس نافذ کیے تھے۔ عدالت عدالت زیریں کے جج نے کنگ کے مطلق اختیار، یعنی ابسولیوٹ پاور، کا حوالہ دیتے ہوئے اس ٹیکس کو جائز قرار دے دیا۔
جان بیٹ اس کے بعد عدالت عالیہ میں گیا۔ اس وقت سر ایڈورڈ کوک، 1552-1634، عدالت عالیہ کے چیف جسٹس تھے۔ انہوں نے مقدمے کی سماعت کرنے کے بعد جان بیٹ کے حق میں فیصلہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ بادشاہ کو پارلیمنٹ کی اجازت کے بغیر از خود کوئی ٹیکس عائد کرنے کا اختیار نہیں ہے۔
جسٹس کوک کے اس فیصلے پر بادشاہ بہت برہم ہوا۔ اس نے اپنے شاہی اختیارات سے جسٹس کوک کو عدالتی عہدے سے ڈسمس کر دیا اور اپنے حکم کے تحت شاہی ٹیکس کے قانون کو دوبارہ بحال کر دیا۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، جلد 3، صفحہ 240 تا 241۔ اس واقعے کو اب تقریباً 400 سال گزر چکے ہیں۔
آج صورتحال مکمل طور پر بدل چکی ہے۔ آج برطانیہ میں اور دوسرے ملکوں میں مسلم طور پر مان لیا گیا ہے کہ پارلیمنٹ سب سے بڑا قانونی ادارہ ہے۔ بادشاہ یا کوئی بھی شخصیت اس کے ماتحت ہے، نہ کہ اس کے اوپر۔ موجودہ دنیا میں ہر آدمی کا یہ حال ہے کہ وہ ایسے الفاظ بول رہا ہے جو آئندہ بے حقیقت ہو جانے والے ہیں۔
ہر انسان ایسے عمل میں سرگرم ہے جس کی کوئی قیمت اس کو موت کے بعد کی زندگی میں ملنے والی نہیں۔ کامیاب وہ ہے جس کا قول و عمل آخرت کی دنیا میں باوزن ٹھہرے، اور ناکام وہ ہے جس کا قول و عمل آخرت میں بے وزن ہو جائے۔ کتاب "تعمیر حیات"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 147۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.