اور ڈائری ساتھ رکھیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفرِ ہجرت کے واقعات میں سے ایک واقعہ وہ ہے جو سراقہ بن مالک بن جوشم سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ واقعہ ابنِ ہشام نے کسی قدر تفصیل کے ساتھ نقل کیا ہے۔ اس واقعے کا خلاصہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکے سے نکل کر مدینے کے لیے روانہ ہو گئے تو قریشِ مکہ نے اعلان کیا کہ جو آدمی آپ کو پکڑ کر لائے گا، اس کو 100 اونٹ انعام دیا جائے گا۔
سراقہ انعام کے شوق میں گھوڑے پر سوار ہو کر آپ کے پیچھے دوڑا، یہاں تک کہ وہ آپ کے قریب پہنچ گیا، مگر عین اس وقت اس کے گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور وہ زمین پر گر پڑا۔ اس واقعے میں سراقہ بددل ہو گیا۔ اس نے اپنے دل میں کہا کہ آپ مجھ سے محفوظ کر دیے گئے ہیں، اور یہ بات بالکل واضح ہے فَعَرَفْتُ حِينَ رَأَيْتُ ذَلِكَ أَنَّهُ قَدْ مُنِعَ مِنِّي وَأَنَّهُ ظَاهِرٌ سیرت ابنِ ہشام۔ اس کے بعد سراقہ نے اپنا ارادہ بدل دیا۔
رسول اللہ اور حضرت ابوبکر کو آواز دے کر اس نے کہا کہ اے لوگو! میں سراقہ بن جوشم ہوں، مجھے اتنی مہلت دو کہ میں تم سے بات کروں۔ خدا کی قسم، میں تم سے کوئی دغا نہیں کروں گا، اور نہ میری جانب سے تمہیں کوئی ایسی بات پہنچے گی جو تم پسند نہ کرو۔ رسول اللہ نے حضرت ابوبکر سے کہا کہ اس سے پوچھو کہ وہ ہم سے کیا چاہتا ہے۔
سراقہ نے پوچھنے پر جواب دیا کہ مجھے آپ ایک تحریر لکھ دیں جو میرے پاس ایک نشانی کے طور پر رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اُكْتُبْ لَهُ يَا أَبَى بَكْرٍ سیرت ابنِ ہشام، جلد 2، صفحہ 103۔ یعنی: اے ابوبکر، اس کو لکھ کر دو۔ اے ابوبکر، اس کو لکھ کر دے دو۔
اور سراقہ کا بیان ہے کہ اس کے بعد ابوبکر نے کسی ہڈی یا کاغذ یا ٹھکری پر ایک تحریر لکھی اور میری طرف اس کو پھینک دیا۔ میں نے اس کو لے لیا اور اس کو اپنے ترکش میں رکھ کر واپس آ گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سفر و حضر میں اپنے ساتھ قلم اور کاغذ رکھنا بھی رسول اللہ کی ایک سنت ہے۔ موجودہ زمانے میں اس کی آسان صورت یہ ہے کہ آدمی ایک پاکٹ ڈائری اور ایک قلم ہمیشہ اپنی جیب میں رکھے، اور روزانہ کی ضروری باتیں اس میں درج کرتا رہے۔
ڈائری کا استعمال ایک نہایت مفید عادت ہے، اور اسی کے ساتھ ایک سنتِ رسول بھی۔ کتاب: تعمیرِ حیات، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 145۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.