تعارف کا مسئلہ ایک مقولہ ہے: "جیسا سماجی تعارف، ویسا سماجی معاملہ"۔ یعنی آدمی اپنے ماحول میں جس طرح اپنے آپ کو متعارف کرے گا، اسی کے مطابق ماحول میں اس سے معاملہ کیا جائے گا۔ یہ ایک ایسا پختہ اصول ہے جس میں شاید کوئی استثنا نہیں۔ ایک بار میں دہلی سے حیدرآباد جا رہا تھا۔
دہلی ایئرپورٹ پر جب میں سیکیورٹی چیک کے لیے اندر داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ دوسرے مسافروں کے بیگ کھول کر دیکھے جا رہے ہیں۔ میرے ساتھ ایک چھوٹا سا بیگ تھا جس میں صرف ایک جوڑا کپڑا تھا اور قرآن کا ایک نسخہ۔ چونکہ میرے خیال کے مطابق میرے بیگ میں کوئی چیکنگ والی چیز نہیں تھی، میری زبان سے نکلا: "کیا اس کو کھولنا ہوگا؟ " میز کے دوسری طرف پولیس کی وردی میں کھڑے ہوئے آدمی نے کسی قدر درشت لہجے میں کہا کہ "کیوں نہیں، why not؟
" میں نے فوراً اپنا بیگ کھول دیا۔ آدمی نے میرے بیگ کو الٹ پلٹ کر دیکھا تو اس میں اسے کوئی قابلِ اعتراض چیز نظر نہیں آئی۔ آخر میں اس نے اس میں رکھی ہوئی کتاب اٹھائی اور پوچھا کہ یہ کیا ہے۔ میں نے کہا کہ قرآن۔
جیسے ہی میری زبان سے قرآن کا لفظ نکلا، آدمی کا موڈ بالکل بدل گیا۔ جو آدمی پہلے سختی اور غیریت کے لہجے میں بول رہا تھا، اب وہ نرمی اور تواضع کے لہجے میں بولنے لگا۔ یہ فرق کیوں پیش آیا؟ اس کی وجہ سادہ طور پر یہ تھی کہ پہلے میں مذکورہ شخص کی نظر میں صرف "صاحبِ بیگ" تھا، مگر بعد کو میں اس کی نظر میں "صاحبِ قرآن" بن گیا۔
جب تک میں اس کی نظر میں صاحبِ بیگ تھا، وہ مجھ کو عام مسافروں کی نظر سے دیکھ رہا تھا۔ لیکن جب اس نے مجھ کو صاحبِ قرآن کے روپ میں دریافت کیا تو اس کی نظر میں میری نوعیت بدل گئی۔ اب وہ مجھ کو ایک اور نظر سے دیکھنے لگا۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا ماحول آپ کے ساتھ اچھا معاملہ کرے، تو ضروری ہے کہ آپ اس کے مطابق اپنی تصویر بنائیں۔
اپنے ماحول کے اندر آپ اپنے کو جس طرح متعارف کریں گے، اسی کے مطابق ماحول بھی آپ کے ساتھ معاملہ کرے گا، نہ اس سے کم اور نہ اس سے زیادہ۔ کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 88۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.