پودے کی مثال: فطرت کی دنیا میں جو نمونے قائم کیے گئے ہیں، ان میں سے ایک نمونہ پودے کا نمونہ ہے۔ میدان میں ایک پودا اگتا ہے، وہ اپنے نرم تنے پر کھڑا ہوا ہے؛ ہواؤں کے جھونکے اس کے پاس سے گزرتے ہیں، مگر پودا کیا کرتا ہے؟ پودا یہ کرتا ہے کہ پچھم کی طرف سے ہوا آئی تو وہ پورب کی طرف جھک گیا، اور جب ہوا گزر گئی تو وہ دوبارہ اپنے تنے پر کھڑا ہو گیا۔ اس طرح اگر یورپ کی طرف سے ہوا کا جھونکا آیا تو وہ پچھم کی طرف جھک گیا، اور جب ہوا گزر گئی تو دوبارہ وہ پہلے کی طرح کھڑا ہو گیا۔
نرم پودا ایسا نہیں کرتا کہ وہ ہوا کے مقابلے میں اکڑ دکھائے؛ اگر وہ اکڑ دکھانے لگے اور جھکنے سے انکار کر دے تو اس کا نقصان ہوا کو نہیں پہنچے گا، بلکہ خود پودا اپنی اکڑ کا شکار ہو جائے گا۔ ہوا بدستور فضاؤں میں چلتی رہے گی، جبکہ پودا اپنی اکڑ کی بنیاد پر ٹوٹ پھوٹ کر ختم ہو جائے گا۔ یہ پودے کی مثال کی صورت میں فطرت کا ایک سبق ہے جو انسان کو دیا جا رہا ہے۔ اس مثال کے ذریعے انسان کو بتایا جا رہا ہے کہ تم جس دنیا میں ہو، وہاں ہواؤں کے جھونکے ہیں اور طوفانوں کے تھپیڑے؛ اس کے مقابلے میں تم بہت کمزور ہو۔
تمہیں ان جھونکوں اور ان تھپیڑوں کے مقابلے میں نرمی اور موافقت کا طریقہ اختیار کرنا ہوگا۔ تمہاری روش یہ ہونی چاہیے کہ اپنی اصل انسانی حیثیت کو باقی رکھتے ہوئے، وقتی طور پر حالات سے ہم آہنگی کا طریقہ اختیار کرو؛ سختی کے ساتھ نرمی کو بھی اپنی زندگی کا ایک اصول بناؤ۔ ہوا کے مقابلے میں پودے کا جھکنا اس لیے ہوتا ہے کہ وہ اپنی نشونما کے عمل کو برابر جاری رکھے، یہاں تک کہ وہ پورا درخت بن جائے۔ اسی طرح انسان جب نرمی اور ہم آہنگی کا طریقہ اختیار کرتا ہے تو وہ اس لیے ہوتا ہے کہ اس کی زندگی کے سفر میں کوئی ٹھہراؤ نہ آئے؛ اس کا سفر مسلسل جاری رہے، یہاں تک کہ وہ اپنی منزل پر پہنچ جائے۔
کتاب "تعمیر حیات"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 58۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.