چیلنج، نہ کہ انتقام۔ اسپین میں مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ پیش آیا، اس کو عام طور پر "صلیبی جنگوں" کا انتقام بتایا جاتا ہے۔ صلیبی جنگیں 13ویں صدی کے آخر میں ختم ہوئی تھیں۔ مولانا شبلی نعمانی نے پہلی عالمی جنگ 1914 تک ہونے والے اس قسم کے تمام واقعات کی یہی ایک توجیح قرار دیتے ہوئے کہا تھا: "کہاں تک لوگ ہم سے انتقام؟
" فتح ایوبی دکھاؤ گے ہمیں، جنگ صلیبی کا سماں کب تک؟ مسلم دانشوروں میں یہی ذہن اب تک باقی ہے۔ چنانچہ فلسطین سے لے کر بوسنیا تک کے تمام واقعات کو دوبارہ وہ اسی "انتقامی توجیح" کے خانے میں ڈالے ہوئے ہیں، مگر یہ توجیح خران اور قانونِ فطرت دونوں کے خلاف ہے۔ ابن خلدون کا زمانہ عین وہی تھا جبکہ اسپین میں مسلم سلطنت کا زوال ہوا۔
اس نے اپنے مقدمے میں تاریخ اور فطرت کا یہ خانون بتایا کہ ہر سلطنت یا ہر عروج یافتہ قوم آخر کار زوال کا شکار ہوتی ہے۔ ملاحظہ ہو، مقدمہ ابن خلدون کا باب "إن الدولة لها أعمار طبيعية كمال الأشخاص"، صفحہ 170 تا 72۔ اصل یہ ہے کہ اس دنیا کا نظام چیلنج کے اصول پر بنایا گیا ہے۔ اس کو خران میں کہیں: "تِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ"، سورہ نمبر 3، آیت 140۔
ہم ان ایام کو لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں، کہا گیا ہے۔ اور کہیں اس کو "بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ"، سورہ نمبر 2، آیت 36۔ تم ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے، کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہاں ایک قوم کا ابھرنا دوسری قوم کے لیے چیلنج بنتا ہے۔
اس چیلنج سے مغلوب قوم کی صلاحیتیں جاگتی ہیں۔ وہ اٹھ کر غالب قوم کو زیر کرتی ہے۔ اس طرح غالب اور مغلوب کے درمیان مختلف صورتوں میں مسابقت جاری رہتی ہے۔ یہی مسابقت، یا چیلنج، تمام انسانی ترقیوں کا واحد زینہ ہے۔
اس عمل کے دوران کبھی ایک قوم گرتی ہے اور کبھی دوسری قوم۔ تاہم مجموعی اعتبار سے انسانیت کا سفر ترقی کی طرف جاری رہتا ہے۔ مغلوب قوم پیش آمدہ چیلنج کا مقابلہ کر کے دوبارہ غالب آ سکتی ہے، لیکن فریاد اور احتجاج کا طریقہ اس کو خدا کی دنیا میں کہیں پہنچانے والا نہیں۔ انتقامی توجیح صرف نفرت کے جذبات ابھارتی ہے۔
اس کے برعکس، فطرت پر مبنی توجیح آدمی کے اندر یہ جذبہ پیدا کرتی ہے کہ وہ پیش آمدہ چیلنج کا مقابلہ کرے، اور اس طرح اپنی کھوئی ہوئی حیثیت کو دوبارہ مزید اضافے کے ساتھ حاصل کر لے۔ کتاب "تعمیر حیات"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 44۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.