قانونِ فطرت: ولیم پین 1644 میں لندن میں پیدا ہوا، 1718 میں اس کی وفات ہوئی۔ وہ ایک ایسا لیڈر تھا جس نے مذہب اور سیاست دونوں میں حصہ لیا۔ وہ مذہبی رواداری کا زبردست حامی تھا۔ اس کا ایک قول یہ ہے کہ لوگوں کو سمجھنا چاہیے کہ کبھی وہ خود حکومت کریں گے اور کبھی ان کے اوپر حکومت کی جائے گی۔
"Let the people think, they govern, and they will be governed. " ولیم پین نے یہ بات تاریخ کے مطالعے کی بنیاد پر کہی، مگر یہ سادہ طور پر محض تاریخ کی بات نہیں۔ وہ فطرت کا ایک عالمگیر خانون ہے جس کو خود خدا نے اپنے تخلیقی نقشے کے مطابق اس دنیا میں قائم کیا ہے۔ خداوندِ عالم کا مقرر کیا ہوا یہ فطری خانون، قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: وَ تِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ سورہ نمبر 3، آیت 140۔
یعنی: ہم ان ایام کو لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں۔ یہاں "ایام" یا "دن" سے مراد فتح و شکست، اور غلبہ اور مغلوبیت کے دن ہیں۔ اس دنیا میں جس طرح دوسری تمام چیزیں امتحان اور آزمائش کے لیے ہیں، اسی طرح سیاسی اقتدار بھی آزمائش اور امتحان کے لیے ہے۔ چنانچہ وہ باری باری ہر گروہ کو دیا جاتا ہے تاکہ ہر ایک کی جانچ ہو سکے۔
اس دنیا میں حاکمیت کی حالت بھی برائے امتحان ہے، اور محکومیت کی حالت بھی برائے امتحان۔ آدمی کو چاہیے کہ جب اس کو حاکم بنایا جائے تو وہ فخر و ناز کی کیفیت میں مبتلا نہ ہو، اور جب وہ اپنے آپ کو محکومیت کی حالت میں پائے تو وہ منفی نفسیات کا شکار نہ ہو۔ دونوں حالتوں کو وہ خدائی فیصلے کے طور پر لے۔ دونوں حالتوں میں اس کی نگاہ خود اپنی ذمہ داری کی ادائیگی پر ہو، نہ کہ دوسروں کے صحیح یا غلط رویے پر۔
یہ ایک عظیم اصلاحی عقیدہ ہے جو لوگوں کو منفی نوعیت کی سیاسی سرگرمیوں سے بچاتا ہے۔ وہ لوگوں کو اس قابل بناتا ہے کہ اپنی صلاحیتوں کو ضیاع سے بچائیں اور ہمیشہ مفید اور نتیجہ خیز عمل میں مصروف رہیں۔ حکومت کا چھننا خدا کی طرف سے ہے۔ اس کے خلاف احتجاج کرنا خدا کے خلاف احتجاج کرنا ہے۔
اور کون ہے جو خدا کے خلاف احتجاج میں کامیاب ہو؟ کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 43۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.