← Tajdeed-e-DeenTajdeed-e-Deen
پیغمبر کی مثال
Urdu · 5 min
تجدیدِ دین کا مطلب تجدیدِ سیاست نہیں، اور نہ اس کا مطلب کسی قسم کی عالمی حکومت قائم کرنا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے اتارے ہوئے دین کو دوبارہ اس کی ابتدائی اور اصلی صورت میں بے نقاب کر دینا۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے قرآن کی ایک آیت کا مطالعہ کیجیے: وَلَمَّا جَاءَ عِيسَى بِالْبَيِّنَاتِ قَالَ قَدْ جِئْتُكُمْ بِالْحِكْمَةِ ۖ قَالَ قَدْ جِئْتُكُمْ بِالْحِكْمَةِ وَلِأُبَيِّنَ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِي تَخْتَلِفُونَ فِيهِ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونَ إِنَّ اللَّهَ هُوَ رَبِّي وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ ۚ هَذَا سِرَاطٌ مُسْتَقِيمٌ. الزخرف 63-64: اور جب عیسیٰ کھلی نشانیوں کے ساتھ آئے، انہوں نے کہا کہ میں تمہارے پاس حکمت لے کر آیا ہوں، اور تاکہ میں تم پر بعض باتیں واضح کر دوں جن میں تم اختلاف کر رہے ہو۔
پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو؛ بے شک اللہ ہی میرا رب ہے اور تمہارا رب بھی۔ تو تم اسی کی عبادت کرو، یہی سیدھا راستہ ہے۔ اس آیت میں حکمت سے مراد روحِ دین ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جو دین بنی اسرائیل کو دیا تھا، اس کی روح کو بنی اسرائیل نے کھو دیا تھا۔
وہ اس کے بعض ظواہر اور رسوم سے لپٹے ہوئے تھے، اور اسی کو موسیٰ کا دین سمجھتے تھے۔ حضرت عیسیٰ نے دین کی اصل روح سے بنی اسرائیل کو آگاہ کرنے کی کوشش کی۔ حضرت عیسیٰ کے اس مشن کی ایک جھلک موجودہ محرف انجیل میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ اس اعتبار سے حضرت مسیح گویا دینِ موسوی کے مجدد تھے۔
انہوں نے حضرت موسیٰ کے لائے ہوئے دین کو از سرِ نو زندہ کرنے کی کوشش کی۔ حضرت عیسیٰ کے تجدیدی کام کی اس مثال سے سمجھا جا سکتا ہے کہ تجدید کیا ہے، اور اس کے لیے کس قسم کی جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔ تجدیدِ دین کا کام بنیادی طور پر حکمتِ دین کو زندہ کرنے کا نام ہے۔ دین میں جب بھی بگاڑ آتا ہے، وہ زیادہ تر اسی صورت میں آتا ہے کہ دین کی اصل حقیقت گم ہو جاتی ہے۔
البتہ اس کی کچھ ظاہری شکلیں یا کچھ خارجی مظاہر لوگوں کے درمیان باقی رہتے ہیں۔ ان ظواہر کا باقی رہنا ایسا ہی ہے جیسے کسی انسان کے اندر سے اس کی روح کا نکل جانا، اور اس کے جسم کا باقی رہنا۔ اس قسم کا جسم انسان نہیں ہوتا۔ اسی طرح رسوم و ظواہر کا مجموعہ وہ دین نہیں ہوتا جو اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہو۔
اس وقت تجدیدی کام یہ ہوتا ہے کہ دین کی اصل روح کو دوبارہ زندہ لوگوں کے اندر پیدا کیا جائے، تاکہ مردہ جسم زندہ جسم بن جائے، تاکہ سوکھا درخت شاداب درخت بن جائے، تاکہ بے روح دینداری روح سے بھری ہوئی دینداری کی صورت اختیار کر لے۔ آج مسلمانوں میں ظواہرِ دین کی رونقیں ہیں، مگر ان میں حقیقتِ دین کی حرارت نہیں۔ ان کے یہاں الفاظ کے ہنگامے ہیں، مگر معرفت کی خاموشی نہیں۔ انسان کو دکھائی دینے والی سرگرمیوں کی دھوم ہے، مگر اس عمل کا وجود نہیں جو خدا کی نظر میں اہم ہو، اور جس کو لینے کے لیے خدا کے فرشتے دوڑ پڑیں۔
دین آج ایک ایسا پھل بن چکا ہے جس کا چھلکا ہو، مگر اس کا مغز نہ ہو۔ اب کارِ تجدید کے لیے اٹھنے والوں کی ذمہ داری ہے کہ مسلمانوں کو دوبارہ روحِ دین سے بھر دیں، تاکہ خدا کا پھل وہ پھل بن جائے جس میں حسن بھی ہوتا ہے اور ذائقہ بھی۔ اور اسی کے ساتھ ربانی غذا کا کبھی نہ ختم ہونے والا ابدی ذخیرہ بھی۔