Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Tajdeed-e-Deen
Tajdeed-e-Deen

اجنبی دین

Urdu · 6 min

حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام شروع ہوا تو وہ اجنبی تھا، دوبارہ وہ ویسا ہی ہو جائے گا جیسا کہ وہ تھا۔ تو مبارکی ہو اجنبیوں کے لیے! بدأ الإسلام غريبًا وسيعود كما بدأ، فطوبى للغرباء. رواہ مسلم۔

ابتدائی زمانے میں اسلام کس طرح لوگوں کے درمیان اجنبی تھا، اس کی مثالیں قرآن و حدیث سے معلوم کی جا سکتی ہیں۔ مثلاً قرآن میں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکے کے مشرکین کے سامنے یہ دعوت پیش کی کہ ایک اللہ کو اپنا الہ بناؤ اور دوسرے الہوں کو چھوڑ دو، تو انہوں نے کہا کہ کیا اس پیغمبر نے کئی الہ کی جگہ ایک الہ کر دیا؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔ سورہ صاد آیت 5: مکے کے مشرکین اللہ کو مانتے تھے، اسی کے ساتھ انہوں نے اپنے بزرگوں کو بھی اونچا درجہ دے رکھا تھا۔

ان کے بت بنا کر وہ ان کو پوجتے تھے۔ پیغمبر اسلام نے جب ایک اللہ کے سوا ہر ایک کی بڑائی کا انکار کیا تو یہ بات انہیں اجنبی اور نامانوس معلوم ہونے لگی۔ اسی طرح ایک مثال یہ ہے کہ اسلام سے پہلے جاہلیت کے زمانے میں عرب کے لوگ میراث میں عورتوں کا کوئی حصہ نہیں سمجھتے تھے۔ جب قرآن میں یہ حکم آیا کہ ایک مرد کا حصہ دو عورتوں کے حصے کے برابر ہے، للذكر مثل حظ الأنثين، تو انہیں اپنے ذہن کے اعتبار سے یہ بات بہت عجیب معلوم ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول! کیا عورت اپنے باپ کے ترکے میں آدھی کی حقدار ہے، حالانکہ وہ نہ گھوڑے کی سواری کرتی ہے اور نہ دشمن سے لڑ سکتی ہے؟ یا رسول اللہ، تعط الجارية نصف ما ترك أبوها، وليست تركب الفرس ولا تقاتل القوم؟ تفسیر ابن کثیر، الجزء الأول، صفحہ 458۔

حدیث کی پیشنگوئی کے مطابق دین آج دوبارہ اسی اجنبی حالت کو پہنچ چکا ہے جیسا کہ وہ پہلے تھا۔ موجودہ مسلمانوں میں آج خالص توحید اجنبی چیز بن چکی ہے۔ وہ صرف اس توحید کو جانتے ہیں جس میں اللہ کی عظمت کے ساتھ ان کے اپنے بڑوں کو بھی شریکِ عظمت کیا گیا ہو۔ وہ صرف اس دین سے مانوس ہیں جس میں ان کے بزرگوں کو بھی اسی طرح تنقید سے بالاتر رکھا گیا ہو جس طرح پیغمبر خدا تنقید سے بالاتر ہیں۔

اسی طرح شریعت کے نام سے وہ صرف اپنی خواہشوں کی شریعت کو جانتے ہیں، جس کو انہوں نے بطور خود اپنے مزاج کے مطابق بنا لیا ہے۔ وہ ایسی شریعت سے واقف نہیں جو ان کے مزاج کے خلاف ہو اور ان کی خواہشوں پر روک لگاتی ہو۔ مثلاً تقریبات کو اسلامی سادگی کے ساتھ ادا کرنا، سنت کے طریقے پر نکاح اور طلاق کا معاملہ کرنا، عورتوں کو ان کا مقررہ حصہ ادا کرنا، مال اور جائیداد کے معاملات میں شرعی احکام پر عمل کرنا وغیرہ۔ اس قسم کی شریعت ان کی نظر میں بالکل اجنبی ہے۔

یہی آج دین کے تمام پہلوؤں کا حال ہے۔ موجودہ مسلمان دین کے نام سے صرف بگڑے ہوئے دین کو جانتے ہیں۔ وہ دین کو اس کی اصلی صورت میں نہیں پہچانتے۔ وہ کلمہ گوئی کو جانتے ہیں مگر وہ معرفتِ ایمانی کو نہیں جانتے۔

وہ دین کے کمّیاتی پہلو سے واقف ہیں مگر وہ دین کے کیفیاتی پہلو سے آشنا نہیں۔ وہ مناظرہ بازی کے ماہر ہیں مگر دعوت اور داعیانہ ذمہ داری کی انہیں خبر نہیں۔ رسول کو سرمایہ فخر سمجھنا انہیں خوب معلوم ہے، مگر رسول کو مرکزِ اتباع اور اسوہ حسنہ سمجھنا انہیں معلوم نہیں۔ ان کے رہنماؤں کو معلوم ہے کہ وہ دوسروں کو اپنے مسائل کا ذمہ دار ٹھہرا کر ان کے خلاف مطالبہ اور احتجاج کی مہم چلائیں، مگر ان کے کسی بھی رہنما کو اس حقیقت کا علم نہیں کہ مسائل ہمیشہ قوم کی داخلی کمزوریوں سے پیدا ہوتے ہیں، نہ کہ دوسروں کی سازش اور ظلم سے۔

ان حالات میں اصلاح و تجدید کا اصل کام یہ ہے کہ جو دین لوگوں کی نظر میں اجنبی بن گیا ہے، اس کو دوبارہ لوگوں کے لیے معروف اور معلوم دین بنا دیا جائے۔ اس کو دوبارہ لوگوں کے لیے معروف اور معلوم دین بنایا جائے۔ لوگوں کے ذہن و فکر کی اصلاح کر کے انہیں اس قابل بنا دیا جائے کہ وہ دین کو اس کی اصل صورت میں دیکھنے لگیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.