Maulana Wahiduddin Khan
92 min left
0:00

← Tabeer Ki Ghalati
Tabeer Ki Ghalati

اجتماعی تقاضا

Urdu · 92 min

الہٰ اور رب کی بحث میں اوپر جس قسم کے غیر علمی استدلال کا نمونہ آپ نے دیکھا ، اس کی ضرورت مصنف کو صرف اس لیے پیش آئی کہ وہ اسلام کے اجتماعی پہلو کو الٰہ اور رب کی دعوت میں اس کے اصل اورا الدین مفہوم کی حیثیت سے ثابت کرنا چاہتے تھے ۔ اور چونکہ واقعہ میں ایسا نہیں ہے اس لیے انھیں کمزور دلائل کا سہارا لینا پڑا ۔ مگر ایسا نہیں ہے کہ اجتماعی مسائل کا اسلامی عقائد سے کوئی تعلق نہیں ہے ’’ سیاسی الوہیت ‘‘ یا’’ سیاسی ربوبیت ‘‘ اگرچہ الہٰ اور رب کے مفہوم میں براہ راست شامل نہیں ہیں ، اور اس لحاظ سے یہ با معنی ترکیبیں ہیں ، مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ خدا کو خدا ماننے کا یہ بھی ایک تقاضا ہے کہ اسی کو اپنی زندگی کا رہنما اور اپنا مطاع تسلیم کیا جائے۔ جو شخص خدا کو زمین وآسمان کا الٰہ اور رب قرار دے۔ وہ اپنے اس اقرار میں جھوٹا ہے ، اگر وہ عملی زندگی میں خدا سے بغاوت کا رویہ اختیار کرے ۔ خدا کو اپنا معبود اور پروردگا ماننے کا لازمی تقاضا ہے کہ آدمی بالکل اس کے آگے جھک جائے اور اپنے پورے ارادے اور اپنی ساری زندگی کو اس کی مرضی کا تابع کر دے۔ مگر اس بات کو الہٰ اور رب کے اصل مفہوم کی حیثیت سے ثابت کرنا ، اور اس کو اصل مفہوم کا ایک عملی تقاضا قرار دینا۔ دونوں میں بڑا فرق ہے ۔ کسی لفظ کا جو اصل اور براہ راست مفہوم ہو وہ مطلقاً ہر حال میں مطلوب ہوتا ہے اس سے کسی طرح مضر نہیں۔ جب کہ تقاضا کسی واسطہ کی نسبت سے مطلوب ہوتا ہے ۔ اس لیے وہ ہر حال میں لازمی نہیں ہوتا۔ اگر واسطہ موجود ہو تو یقیناًمطلوب ہو گا۔ ورنہ سرے سے آدمی کے اوپر اس کی ذمہ داری ہی نہیں ہو گی ۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اس فرق کو عملی مثال سے زیادہ واضح طورپر سمجھا جا سکتا ہے ۔ جب ایک شخص خدا پر ایمان لائے اور اس کو اپنا الہٰ اور رب قرار دے تو اس پر لازم ہو جائے گا کہ وہ خدا کو فوق الطبیعی معنوں میں واحد الہٰ اور رب سمجھے ۔ اسی پر سارا بھروسہ کرے ، اسی کی بڑائی کا اعتراف کرے ۔ اسی کے احسان مندی کے جذبہ سے سر شار ہو، اور اسی کو اپنے تمام بہترین احساسات کا مرکز بنا لے ۔ اس کے بعد تمدنی اور سیاسی میدان میں اس کے ایمان کا تقاضا اتنا ہی ہو گا جتنا وہ بالفعل تمدن وسیاست سے متعلق ہو ۔ اگر وہ کسی سنسان جزیرِہ میں تنہا ہو تو اس پر اس قسم کی کوئی ذمہ داری نہیں ہو گی ۔ اور اگر آبادی کے اندر ہو تو اس پر اتنی ہی ذمہ داری ہو گی جتنا اپنے حالات کے اعتبار سے وہ شرعاً مکلف ہو ۔ جب کہ الوہیت اور ربوبیت اپنے اصل اور اولین مفہوم میں ہر حال میں اس کے لیے ضروری ہے ، وہ کبھی اس سے ساقط نہیں ہو سکتی۔

اگر آپ اصل اور اس کے تقاضے کے اس فرق کو ملحوظ نہ رکھیں اور اسلام کی ایسی تشریح کریں جس میں تقاضہ کو اصلی کی جگہ رکھ دیا گیا ہو یا اصل ا ور تقاضے کو یکساں حیثیت سے پیش کیا گیا ہو۔ تو قدرتی طور پر دونوں آپ کے ذہن میں اپنے اصل مقام سے ہٹ جائیں گے۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ الوہیت اور ربوبیت کا سیاسی تقاضا آپ کے ذہن میں اپنی واقعی حیثیت سے زیادہ مقام حاصل کر لے گا ۔ اور اس کا اصل اور اولین مفہوم اپنی واقعی حیثیت سے کم تر درجہ پر چلا جائے گا ۔ بلکہ اگر سیاسی فضا یا سیاسی طرز فکر سے شعوری یا غیر شعوری تاثر کی وجہ سے یہ چیز پیدا ہوئی ہو تو عین ممکن ہے کہ ذہن پر بس یہی دوسری چیز چھا جائے اور پہلی چیز اس طرح محض برائے نام رہ جائے جیسے کسی پسندیدہ مصرعہ کو مکمل کرنے کے لیے بعض اوقات ایک بے جان سا لفظی مجموعہ اس کے آگے پیچھے لگا دیا جاتا ہے ۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

—3—

تیسری قرآنی اصطلاح جس پر ا س کتاب میں گفتگو کی گئی ہے وہ عبادت ہے ۔ یہ بحث مندرجہ ذیل الفاظ سے شروع ہوتی ہے 

’’عربی زبا ن میں عبودۃ ، عبودیۃ اور عبدیۃ کے اصل معنی خضوع اور تذلل کے ہیں ۔ یعنی تابع ہو جانا ، رام ہو جانا ‘‘ ۔

اوپر کے اقتباس میں عبادت کا ’’ اصل معنی ‘‘ خضوع اور تذلل بتایا گیا ہے ۔اوریہ بالکل صحیح ہے ۔ مگر ’’ یعنی ‘‘ کے بعد اس اصل معنی کی تشریح کرتے ہوئے ذہن دوسری سمت میں چلا گیا۔ ’’ تابع ہونا ‘‘ خضوع اور تذلل کا اصل مفہوم نہیں، بلکہ وہ اس کا ایک تقاضا اور نتیجہ ہے ۔ خضوع اور تذلل ( انسان کے اعتبار سے ) قلبی جھکاؤ اور اندرونی احساس عجز کا نام ہے ۔ یہی عبادت کی اصل ہے ۔ پرستش یا مراسم عبودیت اسی حقیقت عبادت کے لازمی مظاہرہیں جن کی تعیین خود معبود نے کر دی ہے ۔ جب یہ کیفیت کسی کے اندر پیدا ہو جاتی ہے تو اس کا قدرتی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے معبود کا تابع فرمان بن جاتاہے ۔ وہ اس کی اطاعت کرنے لگتا ہے ۔

حدیث میں آیا ہےالدُّعاءُ‌هُو‌العِبادَةُ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 3527)۔ یعنی، دعا ہی عبادت ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ عبادت تمام کی تمام بس دعا ہی میں منحصرہے۔ دعا کے بعد عابد کو کچھ اور کرنے کی ضرورت نہیں یہ ارشاد نبوت دراصل حقیقتِ عبادت کا اظہار ہے ۔ یعنی عبادت اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے اس کا نام ہے کہ بندہ خدا کی طرف مشتاق ہو، وہ اس کو پکارے ، وہ اس کے سامنے بالکل عاجزو درماندہ کی طرح متوجہ ہو، وہ ہمہ تن اللہ کی طرف مائل ہو گیا ہو ۔یہی عبادت کی روح اور اس کی اصل حقیقت ہے ۔ مگر جس طرح ہر حقیقت کے بہت سے ایسے پہلو ہوتے ہیں جو انسان کی مختلف حیثیات اور دنیا میں اس کے تعلقات وحالات کی نسبت سے پیدا ہوتے ہیں ۔ اسی طرح حقیقت عبادت بھی خارج میں اپنے بہت سے مظاہر رکھتی ہے اور اس اعتبار سے سارا نظامِ اطاعت اس کی فہرست میں آجاتا ہے ۔ خدا کی عبادت کا لازمی تقاضا ہے کہ جن معاملات سے اہلِ ایمان کا سابقہ پیش آئے ، ان میں خدا کی اطاعت کی جائے ۔ خدا سے عبادتی تعلق ، لازمی طور پر اس سے اطاعتی تعلق کی صورت میں ظاہرہوتا ہے ۔ جس عبادت کے ساتھ عملی معاملات میں سر کشی اور بغاوت پائی جائے ، وہ عبادت حقیقۃً عبادت نہیں ۔ علامہ آلوسی کے الفاظ میں

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

’’ولا يَخفى أنَّ تَخصيصَ العِبادةِ بهِ تعالى لا يَتحقَّقُ إلَّا بتَخصيصِ الطَّاعةِ أيضًا بهِ تعالى، ومتى لم تُخصَّ بهِ جلَّ شأنُهُ، لم تُخصَّ العِبادةُ بهِ سبحانهُ‘‘ (تفسیرروح المعانی، جلد 5، صفحہ 276)۔یہ واضح ہے کہ عبادت کو اللہ کے لیے خالص کرنا اس وقت تک متحقق نہیں ہوتا جب تک اطاعت کو بھی اللہ کے لیے خاص نہ کر دیا جائے ، جب تک اطاعت خدا کے لیے خاص نہ کی جائے اس وقت تک گویا عبادت بھی خدا کے لیے خاص نہیں ہوتی ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مگر زیرِ بحث تعبیر کے خانے میں عبادت کا یہ تصور ٹھیک سے بیٹھ نہیں رہا تھا ۔ کیوں کہ یہ تعبیر دین کو اس نظر سے دیکھتی ہے کہ وہ ایک ’’ نظام ‘‘ ہے جس کو زندگی کے تمام شعبوں میں رائج کرنا ہے ۔ جبکہ خضوع اور تذلل کو عبادت کا اصل مفہوم قرار دینا اس کو فرد کا ایک معاملہ قرار دینا ہے ۔ اس اعتبار سے عبادت اصلاً دل کے جھکاؤ اور میلان کا نام ہے۔ نظامی مظاہر اس میں براہِ راست شامل نہیں ہیں بلکہ تقاضے اور حالات کے مطابق وہ اس کاجزؤ بنتے ہیں ۔ اس لیے اس تعبیر کے ذہن میں عبادت کی تصویر بالکل الٹ گئی۔ جو کچھ اصل تھا وہ محض ایک تقاضا بن گیا اور جو اس میں تقاضے کے طور پر شامل ہوا تھا ، وہ اصل قرار پایا۔ لغت سے عبادت کے پانچ معنی نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں 

unverifiedAttribution could not be verified automatically

’’ اس تشریح سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ مادہ عبد کا اساسی مفہوم کسی کی با لا دستی وبرتری تسلیم کر کے اس کے مقابلے میں اپنی آزادی وخود مختاری سے دست بردار ہو جانا سرتابی ومزاحمت چھوڑ دینا اور اس کے لیے رام ہو جانا ہے یہی حقیقت بندگی وغلامی کی ہے ۔ لہٰذا اس لفظ سے اولین تصور جو ایک عرب کے ذہن میں پیدا ہوتا ہے وہ بندگی وغلامی ہی کا تصور ہے ۔ پھر چوں کہ غلام کا اصلی کام اپنے آقا کی اطاعت وفرماں برداری ہے ، اس لیے لازماً اس کے ساتھ ہی اطاعت کا تصورپیدا ہوتا ہے ۔ اور جب کہ ایک غلام اپنے آقا کی بندگی واطاعت میں محض اپنے آپ کو سپر د ہی نہ کر چکا ہو بلکہ اعتقاداً اس کی برتری کا قائل اور اس کی بزرگی کا معترف بھی ہو، اور اس کی مہربانیوں پر شکرو احسان مندی کے جذبہ سے بھی سر شار ہو ، تو وہ اس کی تعظیم وتکریم میں مبالغہ کرتا ہے مختلف طریقوں سے اعتراف نعمت کا اظہار کرتا ہے۔ اور طرح طرح مراسمِ بندگی بجا لاتا ہے ، اسی کا نام پرستش ہے اور یہ تصور عبدیت کے مفہو م میں صرف اس وقت شامل ہوتا ہے جب کہ غلام کا محض سر ہی آقا کے سامنے جھکاہو ا نہ ہو۔ بلکہ اس کادل بھی جھکا ہوا ہو ۔رہے باقی دو تصورات تو وہ دراصل عبدیت کے ضمنی تصورات میں اصلی اور بنیادی نہیں‘‘ ۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

بہظاہر اس سہ رکنی فہرست میں عبادت کا اصل مفہوم اور اس کا تقاضا دونوں موجود ہیں ۔ مگر اس کی ترتیب بالکل الٹ گئی ہے ، بندگی یا اطاعت جو عبودیت کا خارجی مظہر ہے ، اس کو اس تشریح میں اصل قرار دیا گیا ہے ۔ اور خضوع وپرستش جو عبادت کا اصل ا ور براہِ راست مفہوم ہے، اس کو محض تیسرے تقاضے کی حیثیت سے بیان کیا گیا ہے۔

یہی بات دوسری جگہ ان لفظوں میں ہے 

’’ عبادت کا لفظ عبد سے نکلا ہے ۔ عبد کے معنی بندے اور غلام کے ہیں ۔ اس لیے عبادت کے معنی بندگی اور غلامی کے ہوئے ‘‘۔ (خطبات مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی، لاہور، 2012، صفحہ 104)

other sourceWords of another person or source

عبادت کا لفظ عبد سے نہیں نکلا ہے بلکہ اس کے بر عکس، عبدکا لفظ عبادت سے ماخوذ ہے۔ عبد ( بمعنی بندہ اور غلام ) حقیقت عبادت کا ایک مظہر ہے، نہ کہ یہی اصل عبادت ہے ۔ مگر زیرِ بحث ذہن کو مظہر سے زیادہ دلچسپی تھی اس لیے اس نے عبد کو اصل قرار دے کر اسی کی بنیاد پر عبادت کی تشریح شروع کر دی۔

اس طرح اصل ترتیب بالکل الٹ گئی۔اور صرف ترتیب نہیں الٹی بلکہ جامعیت پیدا کرنے کے باوجود عبادت کی اصل روح اور اس کا تقاضا دونوں غائب ہو گئے ۔ کیوں کہ تقاضا ہمیشہ اصل حقیقت کے جا گزیں ہونے کے بعد اس سے بطور نتیجہ نکلتا ہے ۔ پھر جب اصل ہی اپنی جگہ سے ہٹ جائے تو نتیجہ کہاں سے برآمد ہو گا۔ تقاضے کو اصل کی جگہ رکھنا ایسا ہی ہے جیسے درخت کو الٹا کر کے نصب کیا جائے ۔ظاہر ہے کہ جب شاخیں زمین میں دبا دی جائیں اور جڑ کو اوپر فضا میں کھڑا کر دیا جائے تو دونوں میں سے کوئی ایک بھی باقی نہیں رہے گا ، شاخ بھی زندگی سے محروم ہو جائے گی اور جڑ بھی ۔

کتاب میں مشہور عربی لغت لسان العرب کے حوالے سے ’’ عبادت ‘‘ کے پانچ معنی بتائے گئے ہیں ۔ جن میں سے مصنف کے نزدیک تین ’’ اصلی اور بنیادی ‘‘ ہیں ۔ ( صفحہ 72) مجھے نہیں معلوم کہ یہ تین یا پانچ کی تعداد کیوں کر مقرر کی گئی ہے ۔ کیوں کہ لسان العرب میں اس مادہ کے جو استعمالات بتائے گئے ہیں وہ تو اتنے زیادہ ہیں کہ پانچ کیا شاید پندرہ تک انھیں شمار کیا جا سکتا ہے تاہم مجھے اس سے کوئی بحث نہیں ۔ میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ عبادت کے ’’ تین اصلی اور بنیادی ‘‘ مفہومات کو جس طرح قرآن سے ثابت کیا گیا ہے ، وہ نہایت ناقص استدلال ہے جس میں مختلف قسم کے خلا پائے جاتے ہیں ۔ یہاں میں دو حوالوں کا تجزیہ کروں گا۔

’’ عبادت بمعنی اطاعت ‘‘ کے عنوان سے حسب ذیل آیات نقل کی گئی ہیں  ( صفحہ 74)

احْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَأَزْواجَهُمْ وَما كانُوا يَعْبُدُونَ۔ مِنْ دُونِ اللهِ فَاهْدُوهُمْ إِلى صِراطِ الْجَحِيمِ۔ .....وَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلى بَعْضٍ يَتَساءَلُونَ۔ قالُوا إِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَأْتُونَنا عَنِ الْيَمِينِ۔ قالُوا بَلْ لَمْ تَكُونُوا مُؤْمِنِينَ۔ وَما كانَ لَنا عَلَيْكُمْ مِنْ سُلْطانٍ بَلْ كُنْتُمْ قَوْماً طاغِينَ (37:22-30)۔یعنی، (جب قیامت برپا ہو گی تو اللہ فرمائے گا ) تمام ظالموں اور ان کے ساتھیوں کو اور ان معبود انِ غیر اللہ کو جن کی وہ عبادت کرتے تھے جمع کرو اور انھیں جہنم کا راستہ دکھا ؤ..... پھر وہ آپس میں ایک دوسرے سے ردو کد کرنے لگیں گے۔ عباد ت کرنے والے کہیں گے کہ تم وہی لوگ تو ہو جو خیر کی راہ سے ہمارے پاس آتے تھے۔ ان کے معبود جواب دیں گے کہ اصل میں تم خود ایمان لانے پر تیار نہ تھے۔ ہمارا کوئی زور تم پر نہ تھا تم آپ ہی نافرمان لوگ تھے ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اوپر میں نے آیات کا جو ترجمہ دیا ہے وہ زیرِ بحث کتاب کا ترجمہ ہے، اس کے بعد ان آیات کے نیچے حسب ذیل نوٹ ہے 

’’ اس آیت میں عابدوں اور معبودوں کے درمیان جو سوال وجواب نقل کیا گیا ہے اس پر غور کرنے سے صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ یہاں معبودوں سے مراد بُت اور دیوتا نہیں ہیں جن کی پوجا کی جاتی تھی۔ بلکہ وہ پیشوا اور رہنما ہیں جنھوں نے خیر طلب بن کرانسانوں کو گمراہ کیا۔ جو تقدس کے جامے پہن پہن کر نمودار ہوئے ، جنھوں نے سجا دوں اور تسبیحوں اور جبّوں اور گلیموں سے بند گانِ خدا کو دھوکا دے دے کر اپنا معتقد بنایا جنھوں نے اصلاح اور خیر خواہی کے دعوے کر کر کے شر اور فساد پھیلائے، ایسے لوگوں کی اندھی تقلید اور ان کے احکام کی بے چون وچرا اطاعت کرنے ہی کو یہاں عبادت سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ (صفحات 74-75)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مندرجہ بالا تشریح میں عبادت کو تمدنی اطاعت کے معنی میں لینے کا راز مصنف کی اس غلطی میں چھپا ہوا ہے کہ انھوں نے آیت میں مذکور گفتگو کو عابدوں اور معبودوں کے درمیان گفتگو فرض کر لیا ہے ۔ حالانکہ یہ خود عابدوں ہی کے دو گروہوں کے درمیان ہے، نہ کہ عابدوں اور معبودوں کے درمیان ۔ اپنی اس غلط فہمی کی وجہ سے انھوں نے قَالُوا بَلْ لَمْ تَكُونُوا مُؤْمِنِينَ کا ترجمہ کیا ہے ۔ ’’ ان کے معبود جواب دیں گے کہ..... ‘‘ مگر اس فقرہ میں قَالُوکا مرجع معبود نہیں ہے بلکہ الَّذِينَ ظَلَمُواہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں جن گروہوں کا ذکر ہے وہ صرف دو نہیں ہیں بلکہ تین گروہ ہیں ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ان آیات میں قیامت کا ایک منظر پیش کیا گیا ہے جب کہ تین گروہ ایک جگہ جمع کیے جائیں گے 

1۔ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا — اس سے مراد وقت کے وہ لیڈر یا سر بر آور وہ لوگ ہیں جو خود گمراہ ہوئے اور دوسروں کو گمراہ کیا ۔

2۔ اَزْوَاج — اس سے مراد مذکورہ بالا باطل رہنماؤں کے پیرو اور ان کے ساتھی ہیں (زوج کے اصل معنی قرین کے ہیں ۔ یعنی مصاحب )

3۔ مَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللهِ — اس سے مراد وہ ہیں جن کی خدا کے سوا عبادت کی جاتی تھی، یعنی اصنام۔

ان آیات میں قیامت کا وہ منظر پیش کیا گیا ہے جب تینوں گروہ اکٹھاکیے جائیں گے۔ اس وقت پہلے اور دوسرے گروہ کے درمیان بحث ہو گی ۔ دوسرا گروہ کہے گا کہ تم نے اپنے اثرات سے کام لے کر ہم کو باطل معبودوں کی پرستش میں مبتلا کیا ۔ پہلا گروہ جواب دے گا کہ نہیں بلکہ تم خود اپنی گمراہی کے ذمہ دار ہو۔ اگلی آیتیں اس کو بالکل واضح کر دیتی ہیں۔ جن میں ایک گروہ کی زبان سے کہا گیا ہے۔ ’’ جیسے ہم نے تمہیں گمراہ کیا ویسے ہی ہم بھی گمراہ تھے ‘‘ یعنی ہم خود بھی غیر اللہ کی پرستش میں مبتلا تھے اور تم کو بھی اس میں مبتلا کیا۔ اس کے بعد گروہِ اول، جس کی قائدانہ گمراہی کی وجہ سے قرآن نے اس کو ظالم ، مجرم اور متکبر کہا ہے ، پیغمبر کی دعوت کے مقابلے میں ان کا یہ جواب نقل کیا گیا ہے 

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

أَإِنَّا ‌لَتارِكُوا آلِهَتِنا لِشاعِرٍ مَجْنُونٍ (37:36)۔ یعنی، ان متکبروں کے سامنے جب لا الہ الا اللہ کی دعوت پیش کی جاتی تھی تو وہ کہتے تھے۔ کیا ایک شاعر دیوانے کے لیے ہم اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں گے ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ آیت صریح طورپر ثابت کر رہی ہے کہ محولہ با لا تشریح میں جن کو معبود قرار دیا گیا ہے وہ معبود نہیں تھے بلکہ وہ خود بھی کسی دوسرے الہٰ کو پوجتے تھے ۔

یہی مفہوم تمام مفسرین نے لیا ہے ۔ (ملاحظہ ہو، تفسیر ابن کثیر ، جلد 4 ، صفحات 4-5؛تفسیر روح المعانی جلد 23، صفحات 73-74)

other sourceWords of another person or source

اسی طرح ’’ عبادت بمعنی غلامی واطاعت ‘‘ { FR 8662 }کے لیے حسب ذیل آیت نقل کی گئی ہے 

يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّباتِ مَا رَزَقْناكُمْ وَاشْكُرُوا لِلهِ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ (2:172)۔ یعنی، اے ایمان لانے والو! اگر تم خدا کی عبادت کرتے ہو تو ہم نے جو پاک چیزیں تمہیں بخشی ہیں ۔ انھیں کھاؤ اور خدا کا شکر ادا کرو ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس آیت کی تشریح میں حسب ذیل الفاظ درج ہیں 

’’ اس آیت کا موقع ومحل یہ ہے کہ اسلام سے پہلے عرب کے لوگ اپنے مذہبی پیشواؤں کے احکام اور اپنے آباؤ اجداد کے اوہام کی پیروی میں کھانے پینے کی چیزوں کے متعلق طرح طرح کی قیود کی پابندی کرتے تھے ۔ جب ان لوگوں نے اسلام قبول کر لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر تم ہماری عبادت کرتے ہو ، تو ان ساری پابندیوں کوختم کرو اور جو کچھ ہم نے حلال کیا ہے اسے حلال سمجھ کربے تکلف کھاؤ پیو ۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اگر تم اپنے پنڈتوں اور بزرگوں کے نہیں بلکہ ہمارے بندے ہو ،اور اگر تم نے واقعی ان کی اطاعت وفرماں برداری چھوڑ کر ہماری اطاعت وفرماں برداری قبول کی ہے تو اب تمھیں حلت وحرمت اور جوازوعدمِ جواز کے معاملہ میں ان کے بنائے ہوئے ضابطوں کے بجائے ہمارے ضابطہ کی پیروی کرنی ہو گی ۔ لہٰذا یہاں بھی عبادت کا لفظ غلامی اور اطاعت ہی کے معنی میں استعمال ہوا ہے ‘‘۔( صفحہ 73)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس آیت میں ’’ اگر تم خدا کی عبادت کرتے ہو تو —‘‘ کے الفاظ خود بتا رہے ہیں کہ یہاں جس چیز کا مطالبہ کیا جا رہا ہے وہ عبادت کا براہِ راست مفہوم اور اس کا ’’ اصلی اور بنیادی تصور ‘‘ نہیں بلکہ عبادت کا ایک تقاضا ہے ۔ محولہ بالا تشریح کے ابتدائی فقروں میں خود یہ فرق پایا جا رہا ہے ۔ مگر آخر تک پہنچتے پہنچتے بات بدل گئی اور دعوی کر دیا گیا کہ —’’ یہاں عبادت کا لفظ غلامی اور اطاعت کے معنی میں استعمال ہوا ہے ‘‘۔

بحث کے آخر میں وہ آیتیں درج کی گئی ہیں جو مصنف کے نزدیک عبادت کے تینوں مفہومات کی جامع ‘‘ ہیں ۔ یعنی ان میں عبادت کا یہ مکمل تصور پیش کیا گیا ہے کہ ’’ غلامی اطاعت اور پر ستش ‘‘ تینوں معنوں میں خدا کو اپنا معبود بناؤ۔ مگر کسی ایک سے بھی موصوف کا جامع اور مکمل تصور عبادت ثابت نہیں ہوتا ۔ یہاںمیں چند آیتوں پر گفتگو کر وں گا ۔

قُلْ يا أَيُّهَا النَّاسُ إِنْ كُنْتُمْ فِي شَكٍّ مِنْ دِينِي فَلا أَعْبُدُ الَّذِينَ تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللهِ وَلكِنْ أَعْبُدُ اللهَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ(10:104)۔ یعنی، کہو کہ لوگو ! اگر تمہیں ابھی تک معلوم نہیں ہے کہ میرا دین کیا ہے تو تمہیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کے سواجن کی تم عبادت کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرتا بلکہ میں اس اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو تمہاری روحیں قبض کرتا ہے۔ اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ، ایمان لانے والوں میں شامل ہو جاؤں ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس سلسلے میں بیان میں آگے یہ فقرہ ہے  وَلا تَدْعُ مِنْ دُونِ اللهِ مَا لا يَنْفَعُكَ وَلا يَضُرُّكَ(10:106)۔ یعنی، اور اللہ کے علاوہ ان کو نہ پکارو جو تم کو نہ نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں عِبَادَةً مِّن دُونِ اللهِسے مراد وہ عمل ہے جو ان ہستیوں کے تعلق سے ظاہر ہوتا ہے جن کو آدمی نافع وضار سمجھ کر پکارتا ہے۔ یعنی یہاں عبادت سے مراد پر ستش ہے ۔ اور غیر از خدا معبودوں سے مراد بُت۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

’’فَلا أَعْبُدُ الَّذِينَ تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللهِ‘‘ مِنَ الْأَوْثَانِ الَّتِي لَا تَعْقِلُ(تفسير القرطبی، جلد 8، صفحہ 387)۔ یعنی،’’ خدا کے سوا تم جن کی عبادت کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرتا ‘ ‘کا مطلب یہ ہے کہ میں بُتوں کو نہیں پوجتا جو عقل و شعور نہیں رکھتے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایک آیت یہ ہے 

وَلِلهِ غَيْبُ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ وَما رَبُّكَ بِغافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ (11:123)۔ یعنی، آسمانوں اور زمین کی جس قدر حقیقتیں بندوں سے پوشیدہ ہیں۔ ان کا علم اللہ ہی کو ہے اور سارے معاملات اسی کی سرکار میں پیش ہوتے ہیں۔ لہٰذا تو اسی کی عبادت کر اور اسی پر بھروسہ رکھ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس آیت میں فاعبدہ سے پہلے إِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ کا فقرہ ہے اور اس کے بعد وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ ۔ یہ اس بات کا قرینہ ہے کہ یہاں عبادت کا حکم دینے کا مطلب یہ ہے کہ جو اللہ تمام مخلوقات کا کار ساز ہے ، اسی پر بھروسہ کرو اور اسی کو اپنا ملجاو ماویٰ بناؤ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

’’فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ‘‘ أَيِ الْجَأْ إِلَيْهِ وَثِقْ بِهِ ( تفسير القرطبی ، جلد9، صفحہ 117)۔ یعنی، ’’ اسی کی عبادت کر اور اسی پر توکل کر ‘‘ یعنی اس کو اپنا ملجا بنا لے اور اسی پر بھروسہ کر۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایک آیت یہ ہے 

مَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِهِ إِلَاّ أَسْماءً سَمَّيْتُمُوها أَنْتُمْ وَآباؤُكُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ بِها مِنْ سُلْطانٍ إِنِ الْحُكْمُ إِلَاّ لِلهِ أَمَرَ أَلَاّ تَعْبُدُوا إِلَاّ إِيَّاهُ ذلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لا يَعْلَمُونَ(12:40) ۔ یعنی، اللہ کے سوا جن کی تم عبادت کرتے ہو ان کی حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں کہ چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ داد ا نے رکھ لیے ہیں اللہ نے ان کے لیے کوئی دلیل معبود یت نازل نہیں کی۔ اقتدار صرف اللہ کے لیے خاص ہے اس نے حکم دیا ہے کہ خود اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے یہی سیدھا طریقہ ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اللہ کے سوا جن کی تم عبادت کرتے ہو ان کی حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں کہ چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ داد ا نے رکھ لیے ہیں اللہ نے ان کے لیے کوئی دلیل معبود یت نازل نہیں کی ۔ اقتدار صرف اللہ کے لیے خاص ہے اس نے حکم دیا ہے کہ خود اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے یہی سیدھا طریقہ ہے ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس آیت میں اَسْمَاءً سَمَّيْتُمُوْهَآ کا ٹکڑا ظاہر کر رہا ہے کہ اس کو اس قسم کے کسی ’’ جامع ‘‘ مفہوم کا ماخذ نہیں بنایا جا سکتا جو زیرِ بحث کتاب میں پیش کیا گیا ہے ۔ ’’ تمہارے معبود محض کچھ نام ہیں جو تم نے رکھ لیے ہیں ‘‘ یہ وضاحت بتاتی ہے کہ یہاں عبادت سے اس قسم کا کوئی عمل مراد ہے جو ان معبودوں کی نسبت سے ظاہر ہوتا ہے جن کا در حقیقت کوئی وجود نہیں ۔ جو عابدوں کے اپنےمفرو ضے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ ایسا معبود بُت ہے، نہ کہ سیاسی حکمراں ۔ دوسرے لفظوں میں یہاں جس چیز کی تردید کی گئی ہے وہ خدا کے سوا دوسری مفروضہ ہستیوں کو نافع وضار سمجھ کر پکارنا اور ان کی پر ستش کرناہے ۔ اس لیے اس کے بالمقابل جس چیز کا مطالبہ کیا گیا ہے وہ بھی اصلاً یہی ہو سکتا ہے کہ اسی کی پر ستش کرو اور اسی کو نافع وضار سمجھو۔

آیت کا یہی مفہوم مفسرین نے لیا ہے ۔ قرطبی یہ بتاتے ہوئے کہ أَرْبَابٌ مُتَفَرِّقُونَسے مراد ’’ اصنام ‘‘ ہیں ۔ اگلے فقروں کی تشریح ان الفاظ میں کرتے ہیں 

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

’’مَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِهِ إِلَّا أَسْماءً‘‘ بَيَّنَ عَجْزَ الْأَصْنَامِ وَضَعْفَهَا فَقَالَ ’’مَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِهِ‘‘ أَيْ مِنْ دُونِ اللهِ إِلَّا ذَوَاتِ أَسْمَاءٍ لَا مَعَانِيَ لَهَا،’’سَمَّيْتُمُوها‘‘ مِنْ تِلْقَاءِ أَنْفُسِكُمْ. وَقِيلَ عَنَى بِالْأَسْمَاءِ الْمُسَمَّيَاتِ، أَيْ مَا تَعْبُدُونَ إِلَّا أَصْنَامًا لَيْسَ لها من الإلهية شي إِلَّا الِاسْمُ، لِأَ نَّهَا جَمَادَاتٌ (تفسير القرطبی، جلد9، صفحہ 192)۔یعنی، مَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِهِ إِلَّا أَسْماءً کے فقرے سے بتوں کا عجز اور ان کی کمزوری بیان کی فرمایا کہ خدا کے سوا جن کی تم پر ستش کرتے ہو وہ محض کچھ نام ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں۔ تم نے خود سے یہ نام رکھ لیے ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ اسماء سے مراد ان کے مسمی ہیں۔ یعنی تم جن کی پر ستش کرتے ہو وہ محض بت ہیں جن کے اندر الوہیت کا کوئی جزء نہیں۔ کیوں کہ وہ تو محض جمادات ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس سلسلے کی آخری اور غالباً سب سے نمایاں آیت یہ ہے 

فَمَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَاۗءَ رَبِّهٖ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖٓ اَحَدًا (18:110)جو اپنے رب کی ملاقات کا امیدوار ہو ، اسے چاہیے کہ عمل صالح کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس آیت میں آخری فقرے کا ترجمہ کتاب میں یہ کیا گیا ہے ۔ ’’ اور اپنے رب کی عبادت میں کسی اور کی عبادت شریک نہ کرے ‘‘ اور ا س سے یہ مطلب نکال لیا گیا ہے کہ اس میں ’’ قرآن اپنی پوری دعوت پیش کر رہا ہے ‘‘۔ (صفحہ 84) یعنی یہ کہ پر ستش سے لے کر تمدنی اور سیاسی زندگی تک ہر جگہ احکامِ الٰہی کی تعمیل کی جائے ۔

مگر یہ ترجمہ اور یہ مفہوم دونوں صحیح نہیں۔ اس آیت کا یہ ترجمہ نہیں ہے کہ ۔۔۔ ’’ اپنے رب کی عبادت میں کسی اور کی عبادت شریک نہ کرے ۔ بلکہ صحیح ترجمہ یہ ہے کہ ’’اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے۔‘‘ یعنی یہاں بات یہ نہیں کہی جا رہی ہے کہ زندگی کے پورے نظام میں جو مفصل اور مکمل عبادت تمہیں کرنی ہے اس کے حصے بخرے نہ کرو ۔ بلکہ یہ کہا جا رہا ہے کہ خدا کی عبادت جو تم کرو، اس میں کسی اور کو خوش کرنے کا خیال تمھارے دل میں نہیں آنا چاہیے ۔ بلکہ تمہاری عبادت بالکل لوجہ اللہ ہونی چاہیے ۔ آیت کا یہی مفہوم روایات سے اور مفسرین کی تشریح سے ثابت ہے ۔ میں صرف ایک اقتباس نقل کروں گا

unverifiedAttribution could not be verified automatically

وَقَالَ الْمَاوَرْدِيُّ وَقَالَ جَمِيعُ أَهْلِ التَّأْوِيلِ مَعْنَى قَوْلِهِ تَعَالَى ’’وَلا يُشْرِكْ بِعِبادَةِ رَبِّهِ أَحَداً ‘‘ إِنَّهُ لَا يُرَائِي بِعَمَلِهِ أَحَدًا(تفسير القرطبی ، جلد11، صفحہ 70)۔ یعنی، ما وردی اور تمام مفسرین نے کہا ہے کہ  لا يُشْرِكْ بِعِبادَةِ رَبِّهِ أَحَداً کا مطلب یہ ہے کہ وہ دکھانے کے لیے عمل نہ کرے ۔ یعنی اس کے اندر ریاکا جذبہ نہ ہو۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

4۔ اس سلسلے کا چوتھا اور آخری لفظ ’’ دین ‘‘ ہے ۔ کتاب میں پہلے کلامِ عرب سے اس کے چار معانی متعین کیے گئے ہیں ۔ اور اس کے بعد ’’ قرآن میں لفظ دین کا استعمال ‘‘ کے عنوان کے تحت حسب ذیل سطریں درج ہیں 

’’ ان تفصیلات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ لفظ دین کی بنیاد میں چار تصورات ہیں ، یا با لفاظ دیگر یہ لفظ عربی ذہن میں چار بنیادی تصورات کی ترجمانی کرتا ہے‘‘۔

1۔ غلبہ وتسلط ، کسی ذی اقتدار کی طرف سے ۔

2۔ اطاعت، تعبد اور بندگی صاحب اقتدار کے آگے جھک جانے والے کی طرف سے۔

3۔ قاعدہ وضابطہ اور طریقہ جس کی پابندی کی جائے ۔

4۔ محاسبہ اور فیصلہ اور جزا وسزا۔

انھیں تصورات میں سے کبھی ایک کے لیے اور کبھی دوسرے کے لیے اہل عرب مختلف طور پر اس لفظ کو استعمال کرتے تھے ۔ مگر چوں کہ ان چاروں امور کے متعلق عرب کے تصورات پوری طرح صاف نہ تھے اور کچھ بہت زیادہ بلند بھی نہ تھے اس لیے اس لفظ کے استعمال میں ابہام پایا جاتا تھا اور یہ کسی باقاعدہ نظامِ فکر کا اصطلاحی لفظ نہ بن سکا۔ قرآن آیا تو اس نے اس لفظ کو اپنے منشاء کے لیے مناسب پا کر بالکل واضح اور متعین مفہومات کے لیے استعمال کیا اور اس کو اپنی مخصوص اصطلاح بنا لیا ۔ قرآنی زبان میں لفظ دین ایک پورے نظام کی نمایندگی کرتا ہے جس کی ترکیب چار اجزاء سے ہوتی ہے ۔

1۔ حاکمیت واقتدارِ اعلیٰ ۔

2۔ حاکمیت کے مقابلے میں تسلیم واطاعت۔

3۔ وہ نظامِ فکر وعمل جو اس حاکمیت کے زیرِ اثر بنے ۔

4۔ مکافات جو اقتدار اعلیٰ کی طرف سے اس نظام کی وفاداری واطاعت یا سر کشی وبغاوت کے صلہ میں دی جائے ۔

قرآن کبھی لفظ دین کا اطلاق معنی اول ودوم پر کرتا ہے ، کبھی معنی سوم پر ، کبھی معنی چہارم پر اور کہیں الدین بول کر یہ پورا نظام اپنے چاروں اجزاءسمیت مرا د لیتا ہے ۔ (صفحات87-88)

اس کے بعد صاحب کتاب ان چاروں معانی کے لیے قرآن کی الگ الگ آیتیں درج کر کے آخر میں ’’ دین ایک جامع اصطلاح ‘‘ کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں 

other sourceWords of another person or source

’’ یہاں تک تو قرآن اس لفظ کو قریب قریب انھیں مفہومات میں استعمال کرتا ہے جن میں یہ اہلِ عرب کی بول چال میں مستعمل تھا ۔ لیکن اس کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ وہ لفظ دین کو ایک جامع اصطلاح کی حیثیت سے استعمال کرتا ہے اوراس سے مراد ایک ایسا نظامِ زندگی لیتا ہے جس میں انسان کسی کا اقتدار اعلیٰ تسلیم کر کے اس کی اطاعت وفرماں برداری قبول کرے ، اس کے حد و د وضوابط اور قوانین کے تحت زندگی بسر کرے ۔ اس کی فرماں برداری پر عزت، ترقی اور انعام کا امیدوار ہو اور اس کی نا فرمانی پر ذلت وخواری اور سزا سے ڈرے ۔ غالباً دنیا کی کسی زبا ن میں کوئی اصطلاح ایسی جامع نہیں ہے جو اس پورے مفہوم پر حاوی ہو۔ موجودہ زمانہ کا لفظ ’’ اسٹیٹ ‘‘ کسی حد تک اس کے قریب پہنچ گیا ہے ، لیکن ابھی اس کو ’’ دین ‘‘ کے پورے معنوی حدود پر حاوی ہونے کے لیے مزید وسعت درکار ہے ‘‘۔ (صفحات 92-93)

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اس اقتباس میں دین کی انتہائی تعبیر زندگی کی ایک جامع اسکیم یا اسٹیٹ کے نظام کے الفاظ میں کہی گئی ہے ۔ اس میں شک نہیں دین ایک اعتبار سے اسٹیٹ اور نظام بھی ہے ۔ مگر دین کا جامع اور مکمل تصور دینے کے لیے جو اسٹیٹ اور نظام کے الفاظ بولے جائیں تو یقیناً دین نہایت ناقص اور نا مکمل ہو کر رہ جاتا ہے ۔ کیوں کہ اسٹیٹ یا نظام ، خواہ کتنا ہی وسیع اور جامع ہو ، وہ بہر حال صرف ایک قانونی ڈھانچہ یا ایک مجموعہ ہدایات ہے جس کا انسان کے جذبات واحساسات سے کوئی حقیقی تعلق نہیں ۔ وہ انسان کے اپنے اندرون سے نہیں اُبلتا۔ بلکہ خارج سے اس کے اوپر مستولی کیا جاتا ہے۔ اس کے بر عکس، دین خدا سے تعلق جوڑنے کا نام ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بندے اور خدا کے درمیان جو تعلق ہونا چاہیے ، وہ اپنی فطری شکل میں قائم ہو گیا ہے ۔ اس کے بعد زندگی میں جو اعمال وافعال ظاہر ہوتے ہیں ، وہ سب گویا اسی تعلق کے خارجی ظہور ہیں جو خدا کی ہدایت اور رہنمائی کے مطابق بندہ اپنی زندگی میں شامل کرتا چلا جاتا ہے ۔ اسٹیٹ اور نظام مجرد ایک ظاہری ڈھانچہ ہے ۔ اس کے برعکس ،دین ایک حقیقت کے اندرونی تمکن کا خارجی ظہور۔ یہی وجہ ہے کہ زندگی میں حقیقی اور پائدار ثمرات صرف دین ہی کے ذریعہ پیدا ہو سکتے ہیں ۔ نظام اور اسٹیٹ کے تصورات صرف ابتدائی جوش دیتے ہیں اور اس کے بعد زندگی اور نظام دونوں الگ الگ ہو جاتے ہیں اور دونوں میں کوئی حقیقی ربط باقی نہیں رہتا۔

یہ صحیح ہے کہ دین کا اظہار ان چیزوں کی شکل میں بھی ہوتا ہے جن کے مجموعے کو اسٹیٹ اور نظام کہا جاتا ہے ۔ مگر خدا کا دین اصلاً نام ہے اس اعلیٰ ترین کیفیت کا جس کا ظہور دعا واخلاص، (المومن، 40:65)اور عبادت وانابت (الزمر، 39:17) کی شکل میں ہوتا ہے ۔ دین دار بننے کے بعد اس دنیامیں آدمیوں کو جو سب سے بڑی نعمت ملتی ہے ، وہ اپنے رب سے اسی قسم کا تعلق ہے ۔ شخصی حیثیت سے ایک مومن کے لیے دین کی اعلیٰ ترین حقیقت یہ ہے کہ بندہ اپنے رب کی طرف حد درجہ مشتاق ہو کر خوف وطمع کے جذبا ت کے ساتھ اس کو پکار رہا ہو، اس نے اپنے تمام احساسات وجذبات کو اس کے لیے خاص کر دیا ہو، وہ بالکل اس کا عابد اور پرستار بن گیا ہو۔ اپنی ساری توجہ اس نے اس کی طرف مائل کر دی ہو ۔ یہی شخصی اعتبار سے دین کی اعلیٰ ترین حقیقت ہے ۔ یہی ایک دین دار کی وہ سب سے بڑی یافت ہے جس کو لے کر اسے اپنے رب کے پاس جانا ہے ۔ جس کو اس کے دین نے یہ چیز دی ، اسی نے دراصل دین کو پایا۔ اور جس کو اس قسم کا تعلق باللہ نہیں ملا۔ وہ سب کچھ پانے کے باوجود ابھی تک دین سے محروم ہے۔ یہی نہیں بلکہ سیاسی دین داری بھی حقیقۃً اسی کی زندگی میں پیدا ہو سکتی ہے جس کے اندر حقیقی دین داری پیدا ہوئی ہو۔ اس اصلی اور حقیقی دین داری میں جو شخص جتنا ناقص ہو گا ، اتنا ہی وہ سیاسی دین داری میں ناقص ثابت ہو گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

جب ہم دیکھتے ہیں کہ دین کی سب سے بڑی حقیقت ، بلکہ اس کا اصل اورمغز، دین کی ’’جامع ‘‘ تصویر بنانے کے باوجود اس میں نظر نہیں آتی تو ہم یہ ماننے پر مجبور ہوتے ہیں کہ دین کی وہی ’’ناقص ‘‘ تصویر صحیح تھی جو صدیوں سے امت اپنے سینے سے لگائے چلی آرہی تھی ۔ دین کی یہ نئی تصویر ، اپنی جامعیت کے باوجود اس کی حقیقی تصویر نہیں ۔ دین کی اس تصویر میں ایک زمینی نتیجے کو پانا دین کا مقصد اصلی قرار پانا ہے ، جب کہ شخصی ذمہ داری کی حیثیت سے ایک ذاتی نتیجے کو پانا دین کا اصل مقصود ہے ۔ یہاں مجھے ایک بزرگ کے الفاظ یاد آتے ہیں جو انھوں نے میرے اسی قسم کے اعتراض کے جواب میں کہے تھے ۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

انھوں نے کہا کہ ہمارے نزدیک امت مسلمہ بحیثیت امت جس چیز کو پا لینا چاہتی ہے ، وہ قطعی طور پر ایک ایسی زندگی کا قیام ہے جس میں دین اللہ کے سوا کسی اور دین یا نظام فکروعمل کی کار فرمائی باقی نہ رہ جائے ‘‘۔ مگر یہ جماعت کا نصب العین ہے ، نہ کہ فرد کا ۔ جہاں تک فرد کی حقیقی غایت مقصود کا تعلق ہے وہ قطعی طور پر صرف اللہ کی رضا اور آخرت کی فلاح کا حصول ہے ۔ اور یہ رضا اور فلاح اسی طرح حاصل ہوتی ہے کہ فرد اپنی ذاتی ذمہ داریوں کو پوری طرح ادا کر دے ۔ اگر اس نے اپنی انفرادی ذمہ داریوں کو ادا کر دیا تو وہ اس حال میں مرا کہ اس کا دینی کام پورا ہوگیا تھا۔ لیکن جماعت یا امت کے نصب العین کا معاملہ اس سے مختلف ہے ۔ اس سلسلے میں نہ تو جدوجہد کا کوئی آخری وقت ہے ۔ نہ اس کا حاصل کر لینا جماعت کی ذمہ داری۔ جب تک امت مسلمہ اس سر زمین پر موجود ہے اس وقت تک اس نصب العین — مکمل اسلامی نظام کے قیام — کے لیے جدوجہد چلتی رہے گی ’’موصوف کے الفاظ میں پہلی چیز افراد کا انفرادی نصب العین ہے ۔ اور دوسری چیز ’’ جماعت کا اجتماعی نصب العین‘‘۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

نصب العین کی اس دوہری تقسیم کے باوجود اصل بات اپنی جگہ باقی رہی ۔ دونوں صورتوں میں نصب العین ایک ہی ہے ۔ دنیا میں مکمل اسلامی نظام کا قیام ۔ فرق صرف یہ ہے کہ فرد اپنی بساط بھر کوشش کر کے اپنی ذمہ داری سے سبک دوش ہو جاتا ہے اور جماعت کی ذمہ داری یہی ہے کہ وہ نسل در نسل اس کو جاری رکھے ۔ تاآنکہ ساری دنیامیں مکمل اسلامی نظام کا قیام عمل میں آجائے ۔

مگر اس تقسیم کا اصل مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں ۔ اس سے جو کچھ ثابت ہوتا ہے وہ صرف یہ ہے کہ فرد اس وقت تک مکلف ہے جب تک وہ دنیا میں موجود ہے، اور جماعت اس وقت تک مکلف ہے جب تک وہ دنیا میں موجود ہے، اس سے یہ کہاں ثابت ہوا کہ ’’ مکمل اسلامی نظام کا قیام ‘‘ وہ اصل مشن ہے جس کو انبیاء لے کر آئے اور جو ہمارے سپرد ہوا ہے ۔

اجتماعی نصب العین کے مندرجہ بالا مخصوص تصور کو ثابت کرنے کے لیے موصوف نے ایک تاریخی نظیر بھی دی ہے ، جو ان کے الفاظ میں حسب ذیل ہے 

other sourceWords of another person or source

’’ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کی تلاش میں آئے تھے ۔ یعنی ان کا مشن یہ تھا کہ بنی اسرائیل پھر سے پوری طرح اسلامی زندگی اختیار کر لیں ۔ لیکن جہاں تک ان کی اپنی راست جدوجہد کا تعلق ہے ، کل بارہ افراد آپ کے ساتھی بن سکے ۔ مگر آپ کے بعد بھی اس دعوت الی الخیر کا سلسلہ جاری رہا ۔ حتیٰ کہ ایک لمبی مدت گزر چکنے پر وہ وقت آسکا جب آپ کے پیروؤں کا بول بالا ہوا ۔ منکرین مغلوب ہو کر رہ گئے، اور وہ بات عالمِ وجود میں آگئی جسے آن جناب وجود میں لانا چاہتے تھے ، یعنی وہ مشن پورا ہو گیا جسے آپ نے شروع کیا تھا ۔ چنانچہ قرآن مجید نے سورہ صف کے آخر میں اس طویل المدت اور کثیر المراحل سر گزشت کو جس انداز میں بیان کیا ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے نزدیک یہ دراصل ایک ہی تحریک اور ایک ہی مشن کی جدوجہد کی تاریخ ہے ۔ حالاں کہ تحریک کا بانی اور مشن کا ا صل علم بردار دنیا سے کب کا جا چکا تھا ‘‘۔ میں عرض کروں گا کہ یہ حوالہ صحیح نہیں ۔ عیسائیوں کی تاریخ سے یہ ثابت نہیں ہوتا اور نہ قرآن وحدیث میں اس کا کہیں ذکر ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کے بعد ان کے پیروؤں نے مذکورہ بالا قسم کی کوئی جدوجہدجاری رکھی اور بالآخر ہمہ گیر اور مکمل اسلامی نظام قائم کیا ۔ سورہ صف کی جس آیت کا حوالہ دیا گیا ہے اس میں بھی ’’ ظاہرین ‘‘ کا لفظ ہے جس کے معنی محض ’’ غلبہ ‘‘ کے ہیں، نہ کہ کسی قسم کا جامع اور مکمل نظام قائم ہونے کے، اور آیت کے الفاظ کے مطابق یہ غلبہ بھی ایک دین کا دوسرے دین پر نہیں تھا بلکہ اعدائے مسیح پر مومنین مسیح کا تھا۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اس آیت کی تاویل کے سلسلے میں قدیم مفسرین سے تین قول نقل کیے گئے ہیں ۔ ایک حجت وبرہان کے ذریعہ غلبہ ۔ دوسرے یہ کہ آخر وقت میں حضرت مسیح علیہ السلام کا ’’ رفع ‘‘ ہوا تو آنجناب کے بارہ ساتھی جو اس وقت آپ کے پاس تھے باہم مختلف الرائے ہو گئے ۔ کوئی کہنے لگا کہ آپ خدا تھے ، کسی نے کہا ، آپ ابن اللہ تھے ، کسی نے کہا نہیں آپ خدا کے بندے اور رسول تھے ۔ اس پر ان ساتھیوں میں جھگڑا ہواا ور تلوار چلنے کی نوبت آگئی ۔ جس میں بالآخر وہ لوگ جیت گئے جنھوں نے صحیح بات کہی تھی ۔ تیسری رائے یہ ہے کہ اس آیت میں جس غلبہ کا ذکر ہے اس سے مراد وہ غلبہ ہے جو آخری رسول کے زمانے میں ہوا ، مگر علامہ آلوسی نے اس کے متعلق لکھا ہے کہ’’وهو خِلافُ الظَّاهِر‘‘ یعنی، یہ تاویل ظاہر الفاط کے مطابق نہیں ہے ۔ (روح المعانی ، ج 28، صفحہ 92)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ذاتی طور پر میرا رجحان یہ ہے کہ یہاں بعض متاخر علما کی رائے زیادہ صحیح ہے جو سورہ صف کی اس آیت میں یہود کے اوپر عیسائیوں کا (بحیثیت قوم ) فی الجملہ غلبہ مراد لیتے ہیں ۔ اس تاویل کے مطابق ٱلَّذِينَ آمَنُوا سے مراد مکمل قسم کے مومن نہیں ہیں، بلکہ حضرت مسیح علیہ السلام کی نبوت کا اقرار کرنے والے (عیسائی ) مراد ہیں، اور یہود کے اوپر عیسائیوں کا غلبہ کسی قسم کے ’’نظام ‘‘ کا قیام نہیں ہے، بلکہ وہ محض ایک عمومی غلبہ ہے، جو یہود کے اوپر ان کے اس جرم کی دنیوی سزا کے طور پر مسلط کیا گیا ہے کہ انھوں نے حضرت مسیح کی نبوت کو نہیں مانا اور اپنے ارادے کی حد تک ، ان کو قتل کرنے کا جرم کیا ۔

’’ دین ‘‘ کے عربی زبان میں کئی معنی آتے ہیں مگر اس کا وہ اصل مفہوم جس کی وجہ سے اسلام کو دین کہا گیا ، وہ پستی اور جھکاؤہے 

الدِّينُ ‌الذُّلُّ (لسان العرب، جلد13، صفحہ 170)۔

دَانَهُ دِينًا، أَيْ أَذَلَّهُ وَاسْتَعْبَدَهُ (الصحاح للجوہری، جلد5، صفحہ 2118)۔

other sourceWords of another person or source

حدیث میں آیا ہے 

الكَيِّسُ‌مَنْ‌دَانَ نَفْسَهُ وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ المَوْتِ(سنن الترمذی،حدیث نمبر 2459)۔ یعنی، عقل مند وہ ہے جو اپنے نفس کو مغلوب کرے اور آخرت کی زندگی کے لیے عمل کرے ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

دین دار بننا اصلاً کوئی سیاسی اور تمدنی واقعہ نہیں بلکہ وہ ایک بالکل ذاتی واقعہ ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک فرد خدا کے آگے اپنے آپ کو جھکا دے ، وہ اپنے نفس کو اس کے لیے زیرِ کر دے ، وہ اپنے تمام احساسات اور جذبات کو مکمل طور پر اس کے حوالے کر دے ۔ انھیں معنوں میں حضرت ابراہیم ؑ مکمل ’’ مسلم ‘‘ تھے، حالاں کہ انھوں نے اپنی زندگی میں کبھی کوئی ہمہ گیر نظام قائم نہیں کیا اور اسی اعتبار سے مکہ میں آخری رسول کے دین دار ہونے کا اعلان کیا گیا تھا حالاں کہ اس وقت تک نہ اسٹیٹ بنا تھا اور نہ اجتماعی احکام اترے تھے 

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قُلِ اللهَ أَعْبُدُ مُخْلِصاً لَهُ دِينِي ۔ فَاعْبُدُوا مَا شِئْتُمْ مِنْ دُونِهِ (39:14-15)۔ یعنی، کہو ، میں تو اللہ ہی کی عبادت کرتا ہوں اس کے لیے اپنے دین کو خاص کرتے ہوئے تم اس کے سوا جس کی چاہے عبادت کرتے رہو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اسی اعتبار سے اقامت صلوٰۃ اور ایتائے زکوٰۃ کو دین قیم کہا گیا ہے (البینۃ، 98:5)۔ حالاں کہ ظاہر ہے کہ یہ کل دین نہیں ہے ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

جب دین داری کی یہ کیفیت کسی کے اندر پیدا ہوتی ہے تو قدرتی طور پر اس کی عملی زندگی بھی اس سے متاثر ہوتی ہے ، اس کو جن معاملات سے سابقہ پیش آتا ہے ان میں وہ دوسرے طریقوں کوچھوڑ کر خدا کے پسند کیے ہوئے طریقے کو اختیار کرلیتا ہے ۔ اس کی خارجی زندگی ، اس کی اندرونی حوالگی کی تصویر بن جاتی ہے ۔ اس کے لیے نا قابل تصور ہو جاتا ہے کہ اپنا اختیار کو کسی ایسے کام میں استعمال کرے جو خدا کی پسند کے خلاف ہو ۔ اس لحاظ سے سیاست اور تمدن سب کچھ دین میں داخل ہے۔

پہلی چیز دین کی اصل حقیقت ہے اور دوسری چیز اس حقیقت کا وہ تقاضا جو حالات کی نسبت سے اہلِ دین پر عائد ہوتا ہے ۔ پہلی چیز لازماً ہر حال میں اور ہر شخص سے مطلوب ہے۔ اس کے بغیر کسی کی دین داری ، دین داری نہیں بنتی ۔ اس لحاظ سے تمام انبیا وصلحا مکمل معنوں میں دین دار تھے۔ مگر دین کے تمدنی اور اجتماعی تقاضے علی الا طلاق مطلوب نہیں ہیں۔ بلکہ حالات کی نسبت سے ان میں فرق ہوتا رہتا ہے ۔ اسی لیے اس دوسرے اعتبار سے مختلف زمانے کے دین داروں میں فرق رہا ہے ۔ کوئی اس کی تعمیل کر سکا اور کسی نے اس کی تعمیل نہیں کی ۔ کسی کے اوپر اس قسم کے احکام اترے اور کسی کو ایسے احکام دیے ہی نہیں گئے ۔

یہی وجہ ہے کہ دین ، اپنی فہرست کے اعتبار سے جن اجزا ء کے مجموعے کا نام ہے ، وہ شریعت میں الگ الگ لکھے ہوئے تو ملتے ہیں ۔ مگر ایسی کوئی آیت نہیں ملتی جس میں علی الاطلاق اس پوری فہرست کی تعمیل کا مطالبہ کیا گیا ہو ، الہٰ ، رب اور عبادت کی بحث میں ’’ جامع مفہوم ‘‘ کی جو آیات پیش کی گئی ہیں ۔ ان کی حقیقت پچھلے صفحات میں آپ ملاحظہ فرما چکے ہیں ۔ اب ان آیتوں پر بھی غور کر لیجیے جو دین کے جامع تصورکو ثابت کرنے کے لیے کتاب میں نقل کی گئی ہیں 

پہلی آیت یہ ہے 

قاتِلُوا الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَلا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللهُ وَرَسُولُهُ وَلا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتابَ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صاغِرُونَ (9:29)۔ یعنی، اہل کتاب میں جو لوگ نہ اللہ کو مانتے ہیں (یعنی اس کو واحد مقتدر اعلیٰ تسلیم نہیں کرتے ) نہ یومِ آخرت (یعنی یوم الحساب اور یوم الجزاء ) کو مانتے ہیں ، نہ ان چیزوں کو حرام مانتے ہیں جنھیں اللہ اور اس کے رسول نے حرام قرار دیا ہے ، اور دین حق کو اپنا دین نہیں بناتے ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ وہ ہاتھ سے جزیہ ادا کریں اور چھوٹے بن کر رہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اوپر میں نے آیت کا جو ترجمہ دیا ہے وہ صاحب کتاب کا ترجمہ ہے ۔ اور اس کے بعد حسب ذیل سطریں درج ہیں 

’’ اس آیت میں ’’دین حق‘‘ اصطلاحی لفظ ہے جس کے مفہوم کی تشریح واضح اصطلاح جل شانہ نے پہلے تین فقروں میں خود ہی کر دی ہے ۔ ہم نے ترجمہ میں نمبر لگا کر واضح کر دیا ہے کہ لفظِ دین کے چاروں مفہوم ان فقروں میں بیان کیے گئے ہیں اور پھر ان کے مجموعے کو دینِ حق سے تعبیر کیا گیا ہے ‘‘۔ (صفحہ 93)

اس استدلال میں آیت کے جو معانی نکالے گئے ہیں ، میرے علم کی حد تک وہ نہ کسی مفسر نے بیان کیے ہیں اور نہ آیت کے الفاظ اس کے متحمل ہیں ۔ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ کے فقرے سے دین کا ’’ پہلا ‘‘ اور ’’ دوسرا ‘‘ مفہوم نکالنا، یعنی یہ کہ وہ خدا کی ’’حاکمیت واقتدار اعلیٰ ‘‘ نہیں مانتے اور اس ’’حاکمیت کے مقابلے میں تسلیم واطاعت کا رویہ اختیار نہیں کرتے ، ویسا ہی استدلال ہے جیسے کچھ لوگ ایمان باللہ سے ایمان بالریاست کا مفہوم اخذکرتے ہیں ۔ اسی طرح وَلَا يُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ سے دین کا ’’ تیسرا مفہوم ‘‘— (وہ نظام فکرو عمل جو اس حاکمیت کے زیرِ اثر بنے ) ثابت کرنا محض الفاظ کی کھینچ تان ہے، نہ کہ علمی استدلال۔ پھر وَلَا يَدِيْنُوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ میں دینِ حق کا مذکورہ بالا چاروں مفہوماتِ دین کے جامع کی حیثیت سے مذکور ہونا ، ایک ایسا دعویٰ ہے جس کے لیے سرے سے کوئی دلیل نہیں ۔ آیت میں کوئی بھی لفظی قرینہ ایسا نہیں ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہو کہ دین حق یہاں معانی چہار گانہ کے مجموعہ کے لیے استعمال کیا گیا ہے ۔

یہ آیت زیرِ بحث کتاب میں جو مخصوص مفہوم ثابت کرنے کے لیے نقل کی گئی ہے ، وہ تو یقیناً اس سے نہیں نکلتا اور نہ کوئی مفسر اس کا قائل ہے۔ مگر اس سے قطع نظر آیت کی صحیح تاویل کیا ہے، اس میں علما کا اختلاف ہے۔ ایک گروہ يَدِيْنُوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ سے اسلام قبول کرنا مراد لیتا ہے (تفسیر القرطبی،جلد 8،صفحہ 110)۔ لیکن اس تاویل کی صورت میں آیت کے اندر ایک تضاد پیدا ہو رہا ہے ۔ اس کے مطابق اہل کتاب سے جنگ چھیڑنے کی وجہ یہ قرار پاتی ہے کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کو اپنا دین نہیں بناتے ۔ جب جنگ چھیڑنے کی وجہ یہ ہے تو اسی بنیاد پر جنگ کا خاتمہ بھی ہونا چاہیے۔ یعنی یہ جنگ اس وقت رکنی چاہیے جب اہلِ کتاب دینِ حق کو قبول کر لیں یا لڑ کر ہلاک ہو جائیں جب ابتدائے جنگ کی بنیاد یہ ہے تو انتہائے جنگ کی بنیاد بھی قدرتی طور پر اسی کو ہونا چاہیے ۔ مگر آیت کہتی ہے کہ اگر وہ جزیہ دے کر سیاسی اطاعت قبول کر لیں تو جنگ روک دی جائے گی۔ دوسرے لفظوں میں، جنگ جب شروع ہو گی تو اس جرم کی بنا پر شروع ہو گی کہ اہل کتاب دین اسلام کو قبول کیوں نہیں کرتے مگر اس کے بعد صرف اس بنیاد پر روک دی جائے گی کہ انھوں نے جزیہ دینا منظور کر لیا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس لیے آیت کی صحیح تاویل یہ ہے کہ یہاں يَدِيْنُوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ کا فقرہ اہل دین کی سیاسی اطاعت قبول کرنے کے معنی میں آیا ہے ۔ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا يُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗتک ان کے ایمان نہ لانے کا ذکر ہے ۔ اور اس کے بعد وَلَا يَدِيْنُوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ میں سیاسی اطاعت قبول نہ کرنے کا ۔ اہلِ کتاب کے لیے صحیح تو یہ تھا کہ وہ نبی آخر الزماں پر ایمان لاتے جس کی انھیں عرصہ سے بشارت دی جاتی رہی ہے ۔ مگر جب انھوں نے ایسا نہیں کیا تو دوسری متبادل صورت یہ تھی کہ وہ نبی کی سیاسی اطاعت پر راضی ہو جائیں۔

الْوَاجِبَ فِي الْمُشْرِكِينَ الْقِتَالُ أَوِ الْإِسْلَامُ، وَالْوَاجِبُ ‌فِي ‌أَهْلِ ‌الْكِتَابِ الْقِتَالُ أَوِ الْإِسْلَامُ أَوِ الْجِزْيَةُ (تفسير الرازی ، جلد16، صفحہ 25)۔مگر اس دوسری صورت پر بھی وہ آمادہ نہیں ہوئے ۔ اب چوں کہ انھیں اختیار کاحق صرف پہلی صورت کے بارے میں ہے ۔ اور جہاں تک دوسری صورت کا تعلق ہے ۔ وہ لازماً مطلوب ہے اس لیے حکم دیا گیا کہ ان سے جنگ کر کے انھیں اس پر مجبور کرو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

پہلے فقرے میں جس ایمان اور تحریم ما حرم اللہ کا ذکر ہے، اس سے بعض لوگوں نے موسوی شریعت پر ان کے ایمان وعمل کا فقدان مراد لیا ہے اور بعض نے آخری رسول کی شریعت پر ۔ مگر ان دونوں میں کوئی تضاد نہیں ہے ۔ کیوں کہ اگر وہ اپنے دین پر واقعی ایمان رکھنے والے ہوتے تو ان کا ایمان لازماً انھیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ایمان تک پہنچاتا۔ کیوں کہ پچھلے تمام انبیاء نے آپ کی بشارت دی اور اپنی امتوں کو آپ کے اتباع کا حکم دیا۔

لَوْ كَانُوا مُؤْمِنِينَ بِمَا بِأَيْدِيهِمْ ‌إِيمَانًا ‌صَحِيحًا لَقَادَهُمْ ذَلِكَ إِلَى الْإِيمَانِ بِمُحَمَّدٍ، صَلَوَاتُ اللهِ عَلَيْهِ، لِأَنَّ جَمِيعَ الْأَنْبِيَاءِ الْأَقْدَمِينَ بَشَّرُوا بِهِ، وَأَمَرُوا بِاتِّبَاعِهِ (تفسير ابن كثير ، جلد4، صفحہ 132)۔

quoted sourceQuoted from another author or source

تفسیروں میں يَدِيْنُوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ کے بارے میں یہ رائے بھی منقول ہوئی ہے 

وَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ مَعْنَاهُ وَلَا ‌يُطِيعُونَ طَاعَةَ أَهْلِ الْإِسْلَامِ، وَكُلُّ مَنْ كَانَ فِي سُلْطَانِ مَلِكٍ فَهُوَ عَلَى دِينِهِ وَقَدْ دَانَ لَهُ وَخَضَعَ( البحر المحيط فی التفسير ، جلد5، صفحہ400)۔ یعنی، ابو عبیدہ کا قول ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کی اطاعت قبول نہیں کرتے۔ اور جو بھی کسی بادشاہ کے زیرِ اقتدار ہو،تو وہ اس کے دین میں ہے اور اس کے متعلق کہا جائے گا کہ دَانَ لَہ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اسی تاویل کو ابن جریر طبری نے اختیار کیا ہے ۔ لکھتے ہیں 

وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ. يقولُ ولا يُطيعون الله طاعة الحقِّ. يعنى أنهم لا يُطيعون طاعة أهل الإسلامِ، مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ وهم اليهودُ والنصارى.وكلُّ مُطِيعٍ مَلِكًا أو ‌ذا ‌سلطانٍ، فهو دائنٌ له. يقال منه دانَ فلانٌ لفلانٍ، فهو يَدِينُ له دِينًا (تفسير الطبری، جلد، 11، صفحہ 406)۔ یعنی، وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّکا مطلب یہ ہے کہ وہ ٹھیک ٹھیک اللہ کی اطاعت اختیار نہیں کرتے اس سے مراد یہودونصاریٰ ہیں ۔ اور جو بھی کسی بادشاہ یا حاکم کے ماتحت ہو تو وہ اس کے دین میں ہے ۔ عربی زبان میں دَانَ یَدِینُ اس مفہوم کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس تشریح کے مطابق آیت کا مطلب یہ ہواکہ آخری رسول پر ایمان نہ لانے اور خدائی مذہب کی تعلیمات چھوڑنے کے بعد ، ان کے لیے نجات کی صورت یہ تھی کہ وہ دین حق کی سیاسی اطاعت قبول کرلیں مگر اس کے لیے بھی وہ تیار نہیں ہوئے ۔ جہاں تک پہلی چیز کا تعلق ہے ، اس کے لیے تو انھیں مجبور نہیں کیا جا سکتا، مگر آخری چیز کے لیے تو بہر حال انھیں مجبور کیا جائے گا ۔ اور اس وقت تک ان سے جنگ کی جائے گی جب کہ وہ اسلامی ریاست کی سیاسی ماتحتی پر راضی ہو جائیں ۔

اس کے بعد پانچ آیتیں ایک خاص ترتیب سے نقل کر کے ان سے ایک مرتب نتیجہ نکالا گیا ہے میں یہ پورا حصہ بعینہ یہاں نقل کرتا ہوں 

1۔ اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَام (3:19)۔ یعنی،اللہ کے نزدیک دین تو دراصل اسلام ہے ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

2۔ وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلامِ دِيناً فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخاسِرِينَ (3:85)۔ یعنی، اور جو ’’ اسلام ‘‘ کے سوا کوئی اور دین تلاش کرے گا ۔ اس سے وہ دین ہر گز قبول نہ کیا جائے گا ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

3۔ هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْكَرِهَ الْمُشْرِكُونَ(9:33)۔ یعنی، وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو صحیح رہنمائی اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ وہ اس کو تمام دین پر غالب کر دے اگرچہ شرک کرنے والوں کو یہ کتنا ہی نا گوار ہو ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

4۔ وَقاتِلُوهُمْ حَتَّى لا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلهِ (8:39)۔ یعنی، اور تم ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین بالکلیہاللہ کے لیے ہو جائے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

5۔ إِذا جاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ ۔ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْواجاً ۔ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كانَ تَوَّاباً (110:1-3)۔ یعنی، جب اللہ کی نصرت آگئی اور فتح نصیب ہو چکی اور تم نے دیکھ لیا کہ لوگ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہو رہے ہیں تو اپنے رب کی حمدوثنا اور اس کی تسبیح کرو اور اس سے درگزرکی درخواست کرو وہ بڑا معاف کرنے والا ہے ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ان سب آیات میں دین سے پورا نظامِ زندگی اپنے تمام اعتقادی ، نظری ، اخلاقی اور عملی پہلوؤں سمیت مراد ہے ۔

پہلی دو آیتوں میں ارشاد ہوا ہے کہ اللہ کے نزدیک انسان کے لیے صحیح نظام زندگی صرف وہ ہے جو خود اللہ ہی کی اطاعت وبندگی (اسلام ) پر مبنی ہو۔ اس کے سوا کوئی دوسرا نظام جس کی بنیاد کسی دوسرے مفروضہ اقتدار کی اطاعت پر ہو مالکِ کائنات کے ہاں ہر گز مقبول نہیں ہے اور فطرتاً نہیں ہو سکتا،اس لیے کہ انسان جس کا مخلوق ، مملوک اور پروردہ ہے اور جس کے ملک میں رعیت کی حیثیت سے رہتاہے وہ تو کبھی یہ نہیں مان سکتا کہ انسان خود اس کے سوا کسی دوسرے اقتدار کی بندگی واطاعت میں زندگی گزارے اور کسی دوسرے کی ہدایات پر چلنے کا حق رکھتا ہے ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

تیسری آیت میںفرمایا گیا ہے کہ اللہ نے اپنے رسول کو اس صحیح وبر حق نظامِ زندگی، یعنی اسلام کے ساتھ بھیجا ہے اور اس کے مشن کی غایت یہ ہے کہ اس نظام کو تمام دوسرے نظاموں پر غالب کر کے رہے ۔

Qur'anQuotes the Qur'an

چوتھی آیت میں دینِ اسلام کے پیروؤں کو حکم دیا گیا ہے کہ دنیا سے لڑو اور اس وقت تک دم نہ لو جب تک فتنہ یعنی ان نظامات کا وجود دنیا سے مٹ نہ جائے جن کی بنیاد خدا سے بغاوت پر قائم ہے اور پورا نظامِ اطاعت وبندگی اللہ کے لیے خالص نہ ہو جائے ۔

Qur'anQuotes the Qur'an

’’ پانچویں آیت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس موقع پر خطاب کیاگیا ہے جبکہ 23سال کی مسلسل جدوجہد سے عرب میں انقلاب کی تکمیل ہو چکی تھی ، اسلام اپنی پوری تفصیلی صورت میں ایک اعتقادی وفکری ، اخلاقی وتعلیمی ، تمدنی ومعاشرتی اور معاشی وسیاسی نظام کی حیثیت سے عملاً قائم ہو گیا تھا اور عرب کے مختلف گوشوں سے وفد پر وفد آکر اس نظام کے دائرے میں داخل ہونے لگے تھے ، اس طرح جب وہ کام تکمیل کو پہنچ گیا جس پرمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مامور کیاگیا تھا تو آپ سے ارشاد ہوتا ہے کہ اس کارنامے کو اپنا کارنامہ سمجھ کر کہیں فخر نہ کرنے لگنا، نقص سے پاک بے عیب ذات اور کامل ذات صرف تمہارے رب ہی کی ہے۔ لہٰذا اس کا ر عظیم کی انجام دہی پر اس کی تسبیح اور حمدو ثنا کرو اور اس ذات سے درخواست کرو کہ مالک اس 23 سال کے زمانہ خدمت میں اپنے فرائض ادا کرنے میں جو خامیاں اورکوتاہیاں مجھ سے سر زد ہو گئی ہوں انھیں معاف فرما دے‘‘۔ (صفحہ 94-95)

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اوپر کے اقتباس میں اگر یہ بات کہی گئی ہوتی تو ہمیں اس سے اختلاف نہیں تھا کہ دین ، اپنی فہرست احکام کے لحاظ سے ، ان ساری چیزوں کا نام ہے جو زندگی کے مختلف انفرادی واجتماعی معاملات کے لیے رسول نے اپنے پورے دورِ رسالت میں بتائے ہیں ۔ اور اس لحاظ سے دین کا لفظ سارے احکامِ اسلامی کا عنوان ہے ۔ یہ ایک تسلیم شدہ بات ہے جس سے اختلاف کا کوئی سوال نہیں ( حوالہ کے لیے ملاحظہ ہو، تفسیر خازن، جلد 1، صفحہ 278)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مگر یہاں جو بات کہی گئی ہے وہ یہ نہیں ہے ۔ یہاں یہ کہا گیا ہے کہ دین اسٹیٹ کاایک مکمل نظام ہے ۔ اور اسی حیثیت سے وہ ہم سے مطلوب ہے ۔ رسول اسی لیے آتا ہے اور اس کے مشن کی غایت یہی ہے کہ اس پورے نظام کو دوسرے تمام نظاموں پر غالب کر دے ۔ یہی وہ انقلابی کام ہے جو پیغمبر نے اپنے دورِ رسالت میں انجام دیا اور یہی وہ انقلابی کام ہے جواب ہمیں ساری دنیامیں انجام دینا ہے ۔

دین یادینی مشن کے اسی تصور پر ہم کو اعتراض ہے ۔ دوسرے لفظوں میں اسٹیٹ یا نظام قائم کرنے کے پہلو کو اصل دعوت نبوت کے طور پر پیش کرنا اور یہ کہنا کہ انبیا ء اول روز سے اسی دعوے کے ساتھ اپنا کام شروع کرتے تھے، صحیح نہیں ۔ زیرِ بحث کتاب پر ہماری پوری تنقید کا خلاصہ یہی ہے کہ جو چیزیں بعد از ایمان مختلف پہلوئوں سے دین میں شامل ہوتی ہیں ان کو اس کتاب میں اصل دعوت رسالت کی حیثیت سے پیش کر دیا گیا ہے ۔ اور اسی کے متعلق ہمارا کہنا ہے کہ یہ کسی آیت سے ثابت نہیں ہوتا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

پہلی دونوں آیتیں سورہ آل عمران کی ہیں اور دونوں در اصل یہ بتانے کے لیے آئی ہیں کہ اب قیامت تک کے لیے خدا کے یہاں مقبول اور ذریعہ نجات دین صرف ’’اسلام ‘‘ ہے۔ چناچہ پہلے فقرے کے فوراً بعد ارشاد ہوتا ہے 

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتابَ إِلَاّ مِنْ بَعْدِ مَا جاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْياً بَيْنَهُمْ وَمَنْ يَكْفُرْ بِآياتِ اللهِ فَإِنَّ اللهَ سَرِيعُ الْحِسابِ(3:19) ۔ یعنی، اور اہل کتاب نے ( دین اسلا م سے ) جو اختلاف کیا تو ایسی حالت کے بعد کہ ان کو علم پہنچ چکا تھا ۔ محض ایک دوسرے سے بڑھنے کے سبب سے۔

Qur'anQuotes the Qur'an

یعنی وہ دین اسلام کی آخری مقبول اور مستند حیثیت پر جو اعتراض کر رہے ہیں وہ محض ان کی سر کشی ہے ورنہ پچھلے انبیاء کی معرفت جو کچھ انھیں بتایا جا چکا ہے اس کی بنا پر وہ اس کی اس حیثیت کو خوب جانتے ہیں ۔ آیت کا یہی مفہوم مفسرین نے لیا ہے ۔ میں دو حوالے نقل کرتا ہوں 

’’إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللهِ الإِسْلامُ‘‘، يعني أنَّ الدِّينَ المَرْضِيَّ عِندَ اللهِ هو الإسلامُ، كما قال تعالى وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلامَ دِينًا، وفيه ردٌّ على اليَهودِ والنَّصارى، وذلكَ لَمّا ادَّعتِ اليَهودُ أ نَّه لا دِينَ أفضلُ من اليَهوديَّةِ، وادَّعتِ النَّصارى أنَّه لا دِينَ أفضلُ من النَّصرانيَّةِ، رَدَّ اللهُ عليهم ذلكَ، فقال إنَّ الدِّينَ عِندَ اللهِ الإِسلامُ(تفسير الخازن، جلد، 1، صفحہ 234)۔ یعنی، ’’اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللہِ الْاِسْلَامُ‘‘ یعنی اللہ کا پسندیدہ دین صرف اسلام ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہوا ہے وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا اور اس میں یہود و نصاری کی تردید ہے ، یہودیوں کا کہنا تھا کہ یہودیت سب سے افضل دین ہے، نصاریٰ کا کہنا تھا کہ نصرانیت سب سے افضل دین ہے، اللہ تعالیٰ نے کہا  نہیں۔ اللہ کے نزدیک تو دین صرف اسلام ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

2۔ ’’اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللہِ الْاِسْلَامُ‘‘ أي لا دِينَ مَرْضِيَّ عِندَ اللهِ تعالى سِوى الإِسلامِ (روح المعانی، جلد2، صفحہ 103)۔ یعنی، ’’اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللہِ الْاِسْلَامُ‘‘ کا مطلب ہے، اللہ کے نزدیک پسندیدہ دین اسلام کے سوا کوئی اور نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اسی طرح دوسری آیت کا اصل موضوع بھی یہی ہے، کہ خدا کے یہاں مقبول دین کون سا ہے۔ چنانچہ اس فقرے کے فوراًبعد مسلسل کئی آیتوں میں یہی بات بیان کی گئی ہے کہ اسلام کو چھوڑ کر جو شخص کوئی دوسرا دین اختیار کرے گا وہ خدا کی نگاہ میں’’ کافر‘‘ قرار پائے گا اور آخرت میں عذاب کا مستحق ہوگا۔( آل عمران، 3:85-91)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

آیت کا یہی مفہوم مفسرین نے لیا ہے ۔ میں دو حوالےنقل کرتا ہوں

’’وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الإِسْلامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ‘‘، يعني أنَّ الدِّينَ المَقبولَ عندَ اللهِ هو دِينُ الإسلامِ، وأنَّ كُلَّ دِينٍ سِواهُ غيرُ مَقبولٍ عندَهُ (تفسير الخازن، جلد1،صفحہ 266)۔ یعنی، مقبول دین اللہ کے نزدیک صرف اسلام ہے اس کے سوا کوئی دین اس کے یہاں مقبول نہیں ہوگا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

’’وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الإِسْلامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ‘‘ بَيَّنَ تعالى أنَّ مَن تَحَرَّى بَعدَ مَبعَثِهِ صلَّى اللهُ تعالى عليهِ وسلَّم غَيرَ شَريعتِهِ، فهو غَيرُ مَقبولٍ مِنهُ (تفسیرروح المعانی ، جلد، 2، صفحہ 207)۔یعنی، اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ آخری رسول کی بعثت کے بعد جو شخص آپ کی شریعت کے علاوہ کسی اور شریعت کو اختیار کرے گا تو وہ خدا کے یہاں قبول نہیں کی جائے گی ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

گویاان دونوں آیتوں میں جو بات کہی گئی ہے، وہ اصلاً یہ نہیں ہے کہ انسان کے مختلف شعبہ ہائے حیات کے لیے صحیح نظام وہی ہے، جو خدا کے اقتدار کے تحت منظم کیا گیا ہو۔ بلکہ یہاں دیگر مذاہب کے اس دعویٰ کی تردید ہے کہ وہ خدا کے یہاں نجات کا ذریعہ ہیں، اور اعلان کیا گیا ہے کہ اب ہمیشہ کےلیے ذریعۂ نجات صرف وہ دین ہے، جو آخری رسول کی معرفت بھیجا گیا ہے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

تیسری آیت کے سلسلے میں دوسرے مقام پر ہم نے مفصل بحث کی ہے ۔ یہاں صرف ایک پہلوکی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ جس سے اندازہ ہو گا کہ دین کا زیرِ بحث مخصوص تصور اس سے اخذ نہیں کیاجا سکتا۔

اس آیت کے سلسلے میں مصنف کی تفصیلی شرح جو دوسرے مقام پر نقل کی گئی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں وہ پورے نظام دین کے نفاذ کو جس طرح اخذ کر رہے ہیں، وہ یہ ہے کہ ان کے نزدیک لِيُظْهِرَهٗ عَلَي الدِّيْنِ كُلِّهٖ کا مطلب یہ ہے کہ اطاعت کی تمام اقسام پر اس کو غالب کر دے ۔ یعنی اپنے نفس کی اطاعت ، رسم ورواج کی اطاعت ، قانون کی اطاعت ، حکومت کی اطاعت — ان ساری اطاعتوں کو ختم کر کے ان کی جگہ خدائی اطاعت قائم کر دے۔ لیکن غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ اس قسم کی ہمہ گیر اطاعت کو خارجی غلبہ سے کسی کے اوپر طاری نہیں کیا جاسکتا ۔ مثلاً نفس کی اطاعت، کیا فوج اور پولیس کے ذریعہ کسی سے چھڑائی جا سکتی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ’’غلبہ ‘‘کا موضوع صرف کچھ ظاہری اطاعتیں بن سکتی ہیں۔ اطاعت کی ساری اجناس غلبہ کا موضوع نہیں بن سکتیں ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اسی طرح اظہار دین کا واقعہ جس طرح پیش آیا اس سے بھی اس کی تصدیق نہیں ہوتی۔ اس کا تعلق دو گروہوں سے تھا۔ ایک، مشرکین عرب جن سے اما السیف اما الاسلام کا معاملہ کیا گیا، یعنی یا جنگ کرو یا اسلام لاؤ ، اور دوسرے اہل کتاب جن سے جزیہ لے کر انھیں ان کے مذہب پر چھوڑ دیا۔ گویا ایک گروہ کو مذہبی طور پر مغلوب کیا گیا اور دوسرے کو سیاسی طور پر۔ ظاہر ہے کہ دونوں میں سے کسی گروہ کے بارے میں بھی نہیں کہا جا سکتا کہ ان پر دین اس طرح قائم ہوا کہ اندر سے باہر تک ہر لحاظ سے دین کے تمام تقاضے اور اس کا سارا مطلوب ان کے اوپر نافذ کر دیا گیا تھا۔

چنانچہ مفسرین نے یہاں عمومی غلبہ کا مفہوم مراد لیا ہے ، خواہ دیگر مذاہب پر یا دیگر مذاہب کے افراد پر ۔

other sourceWords of another person or source

’’لِيُظْهِرَهُ‘‘ ليظهر الرسول عليه السلام عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ على ‌أهل ‌الأديان كلهم. أو ليظهر دين الحق على كل دين(تفسير الكشاف، جلد2،صفحہ 265)۔ یعنی، رسول کو تمام اہل مذاہب پر غالب کر ے یا یہ کہ دین حق کو ہر دین پر غالب کرے ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

’’لِيُظْهِرَهُ‘‘ ليعليه ’’عَلَى الدين كُلِّهِ‘‘ على ‌أهل ‌الأديان كلهم أو ليظهر دين الحق على كل دين (مدارک التنزیل للنسفی، جلد1، صفحہ 676)۔یعنی، رسول کو تمام اہل مذاہب پر غالب کر ے یا یہ کہ دین حق کو تمام دینوں پر غالب کرے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

چوتھی آیت کے متعلق تفصیلی گفتگو آگے آرہی ہے جس سے معلوم ہوگا کہ زیرِ بحث تصور کو اس آیت میں صحیح طور پر چسپاں نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس آیت کی تشریح میں مصنف کے یہاں تضاد پیدا ہو گیا اور ان کو دو جگہ دو باتیں کہنی پڑیں ۔ زیرِ بحث کتاب میں چوں کہ مصنف کو دین کا وسیع اور جامع مفہوم ثابت کرنا تھا۔ اس لیے یہاں انھوں نے دعویٰ کر دیا کہ اس آیت میں ’’دین سے پورا نظام زندگی اپنے تمام اعتقادی، نظری، اخلاقی اور عملی پہلوؤں سمیت مراد ہے ۔ ‘‘(صفحه 94) مگر دوسری جگہ اس آیت سے مشن کا انقلابی مفہوم نکالتے ہوئے انھیں یاد آیا کہ اس میں جس دین کا ذکر ہے، اس کو وجود میں لانے کے لیے ’’قتال‘‘کا حکم دیا گیا ہے۔ یعنی لڑکر لوگوں کو دین پر لے آؤ۔ اس لیے اس آیت کو انقلابی مشن کا ماخذ بنانے کا مطلب یہ ہو گا کہ دین کے اعتقادی اور نظریاتی پہلوؤں کو بھی لڑ لڑ کر لوگوں سے منوایا جائے ۔ حالاں کہ ان چیزوں کے متعلق معلوم ہے کہ ہم کو نصیحت اور فہمایش کا حق ہے، نہ کہ جنگ کا۔ اس لیے دوسری جگہ دین ’’ محدود‘‘ مفہوم کا حامل ہو گیا۔ چنانچہ تفہیم القرآن میں اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے انھوں نے اپنا موقف بدل دیا اور وَيَكُونُ ٱلدِّينُ لِلهِ کا مطلب یہ بیان کیا کہ لوگ خواہ ایمان لائیں یا نہ لائیں مگر زمین پر ملکی قانون خدا ہی کا رہے اور اس کے لیے جنگ کی جائے ۔ (تفہیم القرآن، البقرۃ، آیت 193، حاشیہ 205)

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اسی طرح آخری حوالہ (سورہ نصر) پر جو لمبی تقریر کی گئی ہے ، اس کا سورہ کے اصل الفاظ سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ سے وہ غلبہ مراد ہے جو دشمنان اسلام پر خدا کے رسول کو ہوا۔ اور يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا میں اس واقعہ کا ذکر ہے کہ غلبہ حاصل ہونے کے بعد لوگوں نے کثرت سے اسلام قبول کرنا شروع کر دیا۔ ابن عباس کی روایت ہے کہ فتح سے پہلے جب آخری رسول اور قریش کے درمیان شدید کشمکش جاری تھی ۔ عرب کے لوگ کہا کرتے تھے کہ اس کشمکش میں جو جیتے گا وہی حق پر ہے ۔ چنانچہ جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دشمنوں کو زیرِ کر کے ان کے اوپر غالب ہو گئے تو وہاں کے لوگ جوق در جوق اسلام لانے لگے ۔ اور اس طرح اسلام سیاسی اور عددی دونوں حیثیتوں سے طاقتور ہو گیا ۔ دوسرے لفظوں میں اسلام اس حیثیت میں ہو گیاکہ تبلیغ دین کا وہ کام آئندہ مسلسل جاری رہ سکے ۔ جس کو ختم رسالت کے بعد جاری رکھنا اللہ تعالیٰ کو لازمی طور پر مطلوب تھا۔ یہی وجہ ہے کہ خود صاحب وحی علیہ الصلوٰۃ والسلام اور آپ کے دوسرے قریبی ساتھیوں نے جب یہ سورہ سنی تو انھوں نے سمجھا کہ اب آپ کا وقت قریب آگیا ہے ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہاں میں تفسیروں کے چند اقتباس نقل کرتا ہوں جس سے اس تشریح کی وضاحت ہوتی ہے

{إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ} ‌‌النَّصْرُالْإِغَاثَةُ وَالْإِظْهَارُ عَلَى الْعَدُوِّ، وَالْفَتْحُ فَتْحُ الْبِلَادِ، وَالْمَعْنَى نَصْرُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْعَرَبِ أَوْ عَلَى قُرَيْشٍ وَفَتْحُ مَكَّةَ… {وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ}… أَيْإِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ إِيَّاكَ عَلَى مَنْ نَاوَاكَ وَفَتْحُ الْبِلَادِ وَرَأَيْتَ أَهْلَ الْيَمَنِ يَدْخُلُونَ فِي مِلَّةِ الْإِسْلَامِ جَمَاعَاتٍ كَثِيرَةً بَعْدَ مَا كَانُوا يَدْخُلُونَ فِيهِ وَاحِدًا وَاحِدًا وَاثْنَيْنِ اثْنَيْنِ (مدارک التنزیل للنسفی، جلد، 3، صفحہ 688-689)۔ یعنی، نصر کا مطلب ہے دشمن کے مقابلے میں مدد دینا اور فتح کا مطلب شہروں کو فتح کرنا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل عرب یا قریش کے مقابلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کی مدد ملی اور آپ نے مکہ فتح کیا۔ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا کا مطلب یہ ہے کہ جب تمہارے دشمنوں کے مقابلے میں تم کو خدا کی مدد پہنچی اور ملک فتح ہو گیا اور تم نے اہل یمن کو دیکھا کہ وہ دین اسلام میں بڑی بڑی جماعتوں کے ساتھ داخل ہو رہے ہیں۔جب کہ وہ پہلے ایک ایک دو دو کر کے اس میں داخل ہو تے تھے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

يَدْخُلُونَ فِى دِينِ الله أيْ ملةَ الإسلامِ التي لا دينَ يضافُ إليهِ تعالَى غيرُهَا {أَفْوَاجاً} يدخلونَ أيْ يدخلونَ فيهِ جماعاتٍ كثيفةً كأهلِ مكةَ والطائفِ واليمنِ وهوازنَ وسائرِ قبائلِ العربِ وكانُوا قبلَ ذلكَ يدخلونَ فيهِ واحِداً واحِداً واثنينِ اثنينِ ( تفسير أبي السعود ، جلد9، صفحہ 208)۔ یعنی، يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا کا مطلب یہ ہے کہ دین اسلام میں کثیر تعداد میں داخل ہو رہے ہیں ۔ جیسے اہل مکہ ، طائف، یمن ، ہوازن اور تمام قبائل عرب ، جو کہ اس سے پہلے ایک ایک دو دو کی تعداد میں اسلام لاتے تھے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

والمُرادُ بدُخولِ النّاسِ في دِينِهِ تعالى أفواجًا، أي جَماعاتٍ كَثيرة، إسلامُهم من غيرِ قِتالٍ، وقد كانَ ذلك بينَ فَتحِ مَكّةَ ومَوتِهِ عليهِ الصّلاةُ والسّلام، وكانوا قَبلَ الفَتحِ يَدخُلونَ فيهِ واحدًا واحدًا واثنَينِ اثنَينِ.‘‘ ( تفسير روح المعاني، جلد15، صفحہ 492)۔ یعنی، اس سے مراد بغیر لڑائی کے لوگوں کا کثیر تعداد میں اسلام قبول کرنا ہے اور یہ واقعہ فتح مکہ اور آپ کی وفات کے درمیان ہوا۔ فتح سے پہلے لوگ ایک ایک دو دو کر کے اسلام قبول کرتے تھے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

معلوم ہوا کہ اس سورہ میں جس چیز کا ذکر ہے ، وہ صرف مجیئت فتح اور دخول فی دین اللہ ہے ۔ یعنی خدا کی مدد سے فتح پانا اور لوگوں کا کثرت سے اسلام قبول کرنا ۔ اس فتح و نصرت کا پس منظر کیا تھا اس کا یہاں کوئی ذکر نہیں ہے۔ اس لیے ان آیات سے یہ مفہوم نکالنا کہ اس سے پہلے عرب میں دعوت رسالت کا جو کام ہوا وہ ایک مخصوص اسٹیٹ کا نظام قائم کرنے کی جد و جہد تھی اور یہ فتح و نصرت اسی انقلابی جد وجہد کی تکمیل ، یہ ایک مزید بات ہے جس کو الگ سے لاکر یہاں چسپاں کیا گیا ہے ۔ خود ان آیات میں دعوت رسالت کی یہ نوعیت بیان نہیں کی گئی ہے۔ نہ وہ دوسری جگہ کہیں صراحۃًمذکورہے جس کی بنیاد پر یہاں اس کو قیاس کیا جا سکے ۔ ایسی حالت میں اس استدلال کی مثال بالکل ایسی ہےجیسے کوئی شخص دعوتِ رسالت کی نوعیت یہ فرض کر لے کہ وہ عرب قوم کو مذہبی پیشواؤں اور جاگیر داروں کے اقتدار سے نکالنے کی جدو جہد تھی۔ ایسا شخص اپنے اس مخصوص نقطۂ نظر کو ان آیات کے ساتھ جو ڑ کر کہہ سکتا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ عرب کی قومی جد و جہد جو محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں شروع ہوئی تھی، وہ فتح مکہ کے دن اپنی کامیابی تک پہنچ گئی اور اس کے بعد ملک کے وہ تمام لوگ جو سابق نظام کے تحت دبے ہوئے تھے ، وہ جوق در جوق آپ کے جھنڈے کے نیچے جمع ہونے لگے ۔ اگر یہ دوسرااستدلال صحیح نہیں ہے، تو یقیناً پہلا استدلال بھی صحیح نہیں ہو سکتا۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content
unverifiedAttribution could not be verified automaticallyunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyunverifiedAttribution could not be verified automaticallyother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyunverifiedAttribution could not be verified automaticallyother sourceWords of another person or sourceunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itquoted sourceQuoted from another author or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itQur'anQuotes the Qur'anQur'anQuotes the Qur'anunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itQur'anQuotes the Qur'anoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automatically