← Tabeer Ki GhalatiTabeer Ki Ghalati
تصورِ دین
Urdu · 122 min
مولانا مودودی کا جو دینی تصور ہے ، اس کو انھوں نے سب سے زیادہ واضح اور مربوط شکل میں اپنی اُس کتاب میں پیش کیا ہے ، جس کا نام ہے — ’’ قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں ‘‘ ۔یہ کتاب اس فکر کے تحت پیدا شدہ لٹریچر میں اس حیثیت سے نہایت اہمیت رکھتی ہے کہ وہ واحد کتاب ہے جس میں علمی طور پر اس فکر کو ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ یہ کتاب اس فکر کی علمی بنیاد ہے ۔ ترجمان القرآن منصب رسالت نمبر ( ستمبر 1961ء) میں اس کتاب کا تعارف ان الفاظ میں دیا گیا ہے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
’’ صحیح معنوں میں فہم قرآن کی کنجی، یہ کتاب پڑھ کر قرآن مجید پڑھیے ، معرفت قرآن کے دروازے کھل جائیں گے ‘‘۔
حقیقت یہ ہے کہ مولانا مودودی کے تصور دین کا جائزہ لینے کے لیے ان کے سارے لٹریچر میں ’’ قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں ‘‘ سب سے زیادہ موزوں اور معتبر کتاب ہے ، اسی لیے اس باب کی بنائے بحث کے طور پر میں نے اسی کو منتخب کیا ہے ۔
اس کتاب میں قرآن کے چار بنیادی الفاظ — الہٰ ، رب ، عبادت ، دین کی تشریح کی گئی ہے اور ثابت کیا گیا ہے کہ انھیں چار الفاظ میں وہ ساری انقلابی دعوت چھپی ہوئی ہے جو زیرِ بحث تعبیر نے پیش کی ہے ۔ مگر ایک عرصہ سے ان الفاظ کا وسیع اور مکمل مفہوم ذہنوں میں نہیں ہے ۔ اس لیے اسلام کا وسیع اور انقلابی تصور لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتا ۔ لکھتے ہیں
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
’’ عرب میں جب قرآن پیش کیا گیا تھا اس وقت ہر شخص جانتا تھا کہ الہٰ کے کیا معنی ہیں اور رب کسے کہتے ہیں ، کیوں کہ یہ دونوں لفظ ان کی بول چال میں پہلے سے مستعمل تھے ، انھیں معلوم تھا کہ ان الفاظ کا اطلاق کس مفہو م پر ہوتا ہے ، اس لیے جب ان سے کہا گیا کہ اللہ ہی اکیلا الہٰ اور رب ہے اور الو ہیت اور ربوبیت میں کسی کا قطعاً کوئی حصہ نہیں تو وہ پوری بات کو پا گئے ۔ انھیں بلاکسی التباس واشتباہ کے معلوم ہو گیا کہ دوسروں کے لیے کس چیز کی نفی کی جارہی ہے اور اللہ کے لیے کس چیز کو خاص کیا جا رہا ہے ۔ جنھوں نے مخالفت کی یہ جان کر کی کہ غیر اللہ کی الوہیت وربویت کے انکار سے کہاں کہاں ضرب پڑتی ہے ، اور جو ایمان لائے وہ یہ سمجھ کر ایمان لائے کہ اس عقیدہ کو قبول کر کے ہمیں کیا چھوڑنا اور کیا اختیار کرنا ہو گا۔ اسی طرح عبادت اور دین کے الفاظ بھی ان کی بولی میں پہلے سے رائج تھے ، ان کو معلوم تھا کہ عبد کسے کہتے ہیں ، عبودیت کس حالت کا نام ہے ، عبادت سے کون سا رویہ مراد ہے ، اور دین کا کیا مفہوم ہے ۔ اس لیے جب ان سے کہا گیا کہ سب کی عبادت چھوڑ کر صرف اللہ کی عبادت کرو، اور ہر دین سے الگ ہو کر اللہ کے دین میں داخل ہو جاؤ تو انھیں قرآن کی دعوت کو سمجھنے میں کوئی غلط فہمی پیش نہ آئی ، وہ سنتے ہی سمجھ گئے کہ یہ تعلیم ہماری زندگی کے نظام میں کس نوعیت کے تغیر کی طالب ہے ۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
لیکن بعد کی صدیوں میں رفتہ رفتہ ان سب الفاظ کے وہ اصلی معنی جو نزول قرآن کے وقت سمجھے جاتے تھے ، بدلتے چلے گئے ، یہاں تک کہ ہر ایک اپنی پوری وسعتوں سے ہٹ کر نہایت محدود بلکہ مبہم مفہومات کے لیے خاص ہو گیا ۔ اس کی ایک وجہ تو خالص عربیت کے ذوق کی کمی تھی اور دوسری وجہ یہ تھی کہ اسلام کی سوسائٹی میں جو لوگ پیدا ہوئے تھے ان کے لیے الہٰ اور رب اور دین اور عبادت کے وہ معانی باقی نہ رہے تھے جو نزول کے وقت غیر مسلم سوسائٹی میں رائج تھے انہی دونوں وجوہ سے دورِ ا خیر کی کتب لغت وتفسیر میں اکثر قرآنی الفاظ کی تشریح اصل معانی لغوی کے بجائے ان معانی سے کی جانے لگی جو بعد کے مسلمان سمجھتے تھے ۔ مثلاً
لفظ الہٰ کو قریب قریب بتوں اور دیوتاؤں کا ہم معنی بنا دیا گیا ، رب کو پالنے اور پوسنے والے یا پروردگا ر کا مترادف ٹھہرا یا گیا ، عبادت کے معنی پوجا اور پرستش کے کیے گئے ۔ دین کو دھرم اور مذہب اور religion کے مقابلے کا لفظ قرار دیا گیا۔
طاغوت کا ترجمہ بت یا شیطان کیا جانے لگا،
نتیجہ یہ ہو اکہ قرآن کا اصل مدعا ہی سمجھنا لوگوں کے لیے مشکل ہو گیا۔
پس یہ حقیقت ہے کہ محض ان چار بنیادی اصطلاحوں کے مفہوم پر پردہ پڑ جانے کی بدولت قرآن کی تین چوتھائی سے زیادہ تعلیم ، بلکہ اس کی حقیقی روح نگاہوں سے مستور ہو گئی ہے ، اور اسلام قبول کرنے کے باوجود لوگوں کے عقائد واعمال میں جو نقائص نظر آرہے ہیں ان کا ایک بڑا سبب یہی ہے ۔ لہٰذا قرآن مجید کی مرکزی تعلیم اور اس کے حقیقی مدعا کو واضح کرنے کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ ان اصطلاحوں کی پوری پوری تشریح کی جائے ‘‘۔
(قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں ، مقدمہ)
اس تمہید کے بعد کتاب میں ان ’’ چاروں اصطلاحوں کا مکمل مفہوم ‘‘ بیان کیا گیا ہے ۔ مگر یہ تمہیدی بقیہ کتاب کی صحت کو مشکوک کر دیتی ہے ۔ کیوں کہ قرآنی آیات کے جس مفہوم کے بارے میں یہ اعتراف کیا گیا ہو کہ دور اول کے بعدوہ موجودہ صدی میں پہلی بار اخذ کیا گیا ہے ، اور درمیان میں امت کا تحریری سرمایہ اس سے ’’ اکثر ‘‘ خالی ہے ، وہ یقینی طور پر اس کے ناقص ہونے کا ثبوت ہے ، نہ کہ اس کے کامل ہونے کا ۔ ’’ بعد کی صدیوں میں ‘‘ لغت اور تفسیر کی جو کتابیں مدون ہوئیں ، ان کی حیثیت یہ نہیں ہے کہ وہ صرف بعد کے لوگوں کی ذہنی کوششیں ہیں، بلکہ اسی کے ساتھ وہ دورِ اول کے خیالات کا ریکارڈ بھی ہے ۔ یہ ایک تسلسل ہے جس کے ذریعہ سے قرن اول قرون آخر کی طرف منتقل ہوا ہے ۔ اب دور اول کے لوگوں نے اگر وہی سمجھا تھا جو آج ایک شخص ان کی طرف منسوب کر رہا ہے ، تو دور اول کے بعد کی نسلیں ، جنھوں نے دور اول کے اقوال وافعال کو محفوظ کرنے کا نہایت شدید اہتمام کیا ہے ، وہ اس اہم ترین بات کو بھی ضرور محفوظ کرتیں جس کے بغیر ’’ قرآن کی تین چوتھائی سے زیادہ تعلیم بلکہ ا س کی حقیقی روح نگاہوں سے مستور ہو گئی ‘‘۔ اگر اس تحریری ریکارڈ میں وہ بات لکھی ہوئی نہیں ملتی جو آج ان کی طرف منسوب کی جا رہی ہے ، تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ان کی بات ہی نہیں ۔ ایسی صورت میں یہ انتساب حقیقتاً کسی خارجی واقعہ کا اظہار نہیں ہے بلکہ وہ اپنی اس اندرونی خلش کو دور کرنے کی ایک تدبیر ہے کہ — ’’اگر قرآنی آیات کا مفہوم وہی ہے جیسے میں سمجھ رہا ہوں تو پچھلے لوگوں نے ان کا یہ مفہوم کیوں نہیں سمجھا ‘‘۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
تفصیلی بحث سے پہلے اس کتاب پر میں عمومی حیثیت سے ایک مختصر تبصرہ کرنا چاہتا ہوں تاکہ غلطی کی وہ مشترک نوعیت واضح ہو سکے جو اصطلاحات اربعہ کی تشریح میں کی گئی ہے ۔ یہ غلطیاں عموماً تین قسم کی ہیں
1۔ اصل ا ور تقاضے کی یکساں فہرست بندی ۔
2۔ تقاضے کو اصل قرار دے کر اس پر دوسری چیزوں کو متفرع کرنا۔
3۔ پھر اسی کو قرآن کی اصل دعوت کی حیثیت سے پیش کرنا۔
اس کتاب کی تشریح کے مطابق قرآن کی یہ دعوت کہ
’’ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا رب اور الہٰ ہے ، اس کے سوا نہ کوئی الہٰ ہے نہ رب ، اور نہ الوہیت اور ربوبیت میں کوئی اس کا شریک ہے ، لہٰذا اسی کو اپنا الہٰ اور رب تسلیم کرو اور اس کے سوا ہر ایک کی الہٰیت وربوبیت سے انکار کر دو ، اس کی عبادت اختیار کرو اور ا سکے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ، اس کے لیے اپنے دین کو خالص کر لو اور ہر دوسرے دین کو رد کردو ‘‘۔
یہ دراصل ایک ایسے نظام کے تحت زندگی گزارنے کی دعوت ہے جس میں عقیدے اور عبادت سے لے کر سیاسی اور تمدنی معاملات تک تمام انفرادی واجتماعی شعبے ایک خاص نقشہ کے مطابق تعمیر کیے گئے ہوں ۔ اور جب قرآن کی دعوت یہ ہے تو آج بھی اس دعوت کے لیے کام کرنے کا طریقہ یہی ہو سکتا ہے کہ ہم زندگی کے اس مفصل نقشہ کو دنیا میں غالب کرنے کی جدوجہد کریں ۔
چاروں الفاظ کا یہ وسیع اور ہمہ گیر مفہوم جس طرح ثابت کیا گیا ہے اس کا طریقہ یہ ہے کہ ہر لفظ کی بحث میں پہلے مختلف مقامات کی متفرق آیتوں کو جمع کر کے دکھا یا گیا ہے کہ قرآن میں یہ لفظ اتنے الگ الگ مفہومات کے لیے استعمال ہوا ہے (الہٰ کا لفظ پانچ معنوں میں ، عبادت تین معنوں میں، دین چار معنوں میں )، اور اس کے بعد یہ نتیجہ نکال لیا گیا ہے کہ یہ لفظ اتنے مختلف مفہومات کا جامع ہے ۔
کسی چیز کے متعدد پہلوؤں کو مختلف شقوں میں تقسیم کر کے بیان کرنا بجائے خود غلط نہیں ہے ۔ مگر حیثیت کے فرق سے کبھی وہ غلط بھی ہو جاتا ہے ۔ مثلاً ایک شخص اگر کہے کہ ’’ انڈا نام ہے تین چیزوں کے مجموعہ کا — زردی سفیدی، باریک جھلی اور چونے کے خول‘‘ تو انڈے کی فنی تشریح کے معنی میں یہ بات بالکل صحیح اور مناسب ہو گی ۔ لیکن اسی کے اعتبار سے اگر انڈے کی غذائی حیثیت مقرر کی جائے، دوسرے لفظوں میں انڈے اور انسان کے درمیان تعلق بتانے کے لیے اسے استعمال کیا جائے تو ایسی صورت میں انڈے کی سہ گانہ تقسیم بالکل غلط ہو گی ۔ کیوں کہ انسان کی غذا ہونے کے اعتبار سے انڈے کی اصل حقیقت اس کی زردی اور سفید ی ہے اور باقی صرف اس کے متعلقات۔
مصنف کے نزدیک مذکورہ تمام معانی کے جمع ہونے سے وہ چیز بنتی ہے جس کو الوہیت ، ربوبیت، عبادت یاد ین کہا گیا ہے ۔ مگر اس طرح مختلف مقامات سے ایک لفظ کے مختلف استعمالات جمع کر کے ان کے مجموعہ سے ایک واحد مفہوم اخذ کرنا اور ان کی بنیاد پر دین کی ایک جامع تصویر بنانا بالکل ایسا ہی ہے جیسے کسی کتاب میں محبت کی کہانی بیان کی گئی ہو ایک جگہ لکھا ہو کہ زید کو بکرسے شدید محبت ہے ۔ دوسری جگہ یہ ہو کہ ایک بار جب دونوں اسٹیشن پر ملے تو زید نے بکر کو گلے سے لگا لیا ۔ تیسری جگہ یہ ذکر ہو کہ بکر ایک مرتبہ زید کی بستی میں آیا تو زید نے اس کو اپنے گھر بلا کر اس کی دعوت کی ۔ اب تینوں اقتباسات ایک پیراگراف میں جمع کر کے ایک شخص اس کتاب کے حوالہ سے کہے کہ محبت نام ہے تین چیزوں کا — ’’گلے ملنا، دعوت کرنا، دل سے چاہنا‘‘ ممکن ہے کسی سطح بیں کو محبت کی یہ تعریف بہت جامع معلوم ہو۔ مگر درحقیقت اس میں ایک شدید غلطی کی گئی ہے ۔ اس میں محبت کی اصل حقیقت اور اس کے تقاضوں کو بالکل برابر کی حیثیت دے کر بیان کر دیا گیا ہے ۔ گویا یہ تینوں باتیں جب ایک شخص اپنے اندر جمع کر لے ، اسی وقت اس کی محبت واقعی محبت قرار پائے گی ۔ حالانکہ یہ بالکل ممکن ہے کہ کسی مثال میں صرف آخری جزء ( دل سے چاہنا ) پایا جائے اور بقیہ دو اجزا نہ تو اس کے اندر موجود ہوں اور نہ ان کو حاصل کرنے کی باقاعدہ کوشش کی گئی ہو ، اس کے باوجود وہ مکمل معنوں میں محبت ہو۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
حقیقت اور تقاضے میں یہ فرق ہے کہ حقیقت اصل چیز کے براہ راست مطالبہ کے طور پر مطلقاً مطلوب ہوتی ہے جب کہ تقاضا اس طرح مطلق طور پر مطلوب نہیں ہوتا ۔ بلکہ کسی اور چیز کے واسطہ سے مطلوب ہوتا ہے اگر واسطہ کی نسبت پائی جائے تو وہ مطلوب ہو گا ورنہ نہیں ۔ مثلاً اگر یہ کہا جائے کہ ’’ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ آدمی سچی گواہی دے ‘‘ تو اس کا مطلب یہ نہیں ہو گا کہ ہر وہ شخص جو مومن ہے وہ کسی نہ کسی طرح یہ صورت نکالے۔ جب کہ اس نے عدالت میں حاضر ہو کر سچی گواہی دی ہو۔ اس کے بغیر اس کا ایمان مکمل ایمان نہیں۔ بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ جب اسے گواہی کے لیے کھڑا کیا جائے تو وہ جھوٹ نہ بولے بلکہ جو بات اسے معلوم ہے اسے سچ سچ بتا دے ۔
یہی وجہ ہے کہ مصنف ایک اصطلاح کو جن مختلف مفہومات کا جامع قرار دیتے ہیں ، بعض مستثنیات کو چھوڑ کر وہ الگ الگ تو نکلتا ہے ، مگر کسی ایک آیت سے اس کا وہ جامع مفہوم ثابت نہیں ہوتا جو مختلف حوالوں کے مجموعہ سے یک جائی طور پر بیان کیا گیا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں ایسا تو ہے کہ مختلف مقامات پر اس طرح کے فقرے لکھے ہوئے موجود ہیں کہ ’’زید کو بکر سے دلی محبت ہے‘‘ ۔ ’’ بکر سے ملاقات ہوئی تو زید نے جوش محبت میں اس کو گلے سے لگا لیا‘‘ ۔ ’’بکر زید کی بستی میں آیا تو اس نے بکر کی پر خلوص دعوت کی‘‘ ۔ مگر ساری کتاب میں ایسا کوئی جملہ نہیں ملتا جس میں یہ لکھا ہو کہ ’’ محبت نام ہے تین چیزوں کا — دل سے محبت کرنا، گلے لگانا ، دعوت کرنا ‘‘۔ جامع مفہوم کو ثابت کرنے کے لیے جو آیتیں نقل کی گئی ہیں ان پر تبصرہ ہر لفظ کی الگ الگ بحث میں آگے آرہا ہے ۔
مگر غلطی یہیں نہیں رکتی ۔ اسی کے ساتھ ایک اور مشترک غلطی ہے جو چاروں بحثوں میں کم وبیش پائی جاتی ہے ۔ اور وہ یہ کہ اصل اور تقاضے کی یکساں فہرست بندی سے جب ذہن کو تسکین نہیں ہوئی تو اس نے پورے معاملہ کو الٹ دیا اور جو چیز تقاضے کے درجے میں مطلوب تھی اسے اصل قرا ر دے کر اصل کو اس کا تابع کر دیا ۔ اس کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے کسی کو دعوت مدارات سے زیادہ دل چسپی ہو تو وہ دعوت کو محبت کے اجزائے سہ گانہ میں سے ایک جزء کی حیثیت دے کر مطمئن نہیں ہو سکتا۔ وہ تو اسی کو سب سے اوپر رکھنا چاہے گا ۔ وہ کہے گا کہ محبت کی اصل حقیقت دعوت کرنا ہے ۔ اب چونکہ دعوت میں ملاقات ہوتی ہے اس لیے دوست کو گلے بھی لگا لیا جاتا ہے ۔ اور جب اس طرح سے دعوت اور معانقہ میں کچھ دن گزر جاتے ہیں تو فطری طور پر دل میں ایک دوسرے کی محبت بھی پیدا ہو جاتی ہے { FR 8658 }۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
اس غلطی کو واضح کرنے کے لیے یہاں میں عبادت کی مثال دوں گا۔ عبادت اصلاً اس مخصوص کیفیت کا نام ہے جو خدا سے بے حد خوف اور اس سے بے حد محبت کے نتیجے میں بندۂ مومن کے دل میں پیدا ہوتی ہے ۔ جب یہ کیفیت کسی کے اندر ابھر آتی ہے تو اس کے لازمی نتیجے کے طور پر وہ خدا کا پرستار ہو جاتا ہے ۔ وہ اس کی مرضیات پر چلنے لگتا ہے ،وہ اپنے تمام معاملات میں اس کا مطیع فرمان بن جاتا ہے ۔ لیکن زیرِ بحث ذہن کو عبادت کی یہ تصویر کچھ زیادہ پسند نہیں آئی ۔ کیوں کہ اس میں اقتدار اعلیٰ کو مان کر اس کی ماتحتی میں ایک نظام اطاعت بنانا اصل مفہوم کا محض ایک خارجی تقاضا قرار پا رہا تھا اس لیے اس نے عبادت کے تصور کو الٹ دیا۔ عبادت کی بحث میں اس لفظ کی لغوی تحقیق کے بعد لکھتے ہیں
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
’’ اس تشریح سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ مادۂ عبد کا اساسی مفہوم کسی کی بالا دستی وبرتری تسلیم کر کے اس کے مقابلے میں اپنی آزادی وخود مختاری سے دست بردار ہو جانا، سرتابی ومزاحمت چھوڑ دینا اور اس کے لیے رام ہو جانا ہے ۔ یہی حقیقت بندگی اور غلامی کی ہے۔ لہٰذا اس لفظ سے اولین تصور جو ایک عرب کے ذہن میں پیدا ہوتا ہے وہ بندگی وغلامی ہی کا تصور ہے ۔ پھر چونکہ غلام کا اصلی کام اپنے آقا کی اطاعت وفرمانبردای ہے اس لیے لازماً اس کے ساتھ ہی اطاعت کا تصور پید ا ہوتا ہے ، اور جب کہ ایک غلام اپنے آقا کی بندگی اور اطاعت میں محض اپنے آپ کو سپرد ہی نہ کر چکا ہو بلکہ اعتقاداً اس کی برتری کاقائل اور اس کی بزرگی کا معترف بھی ہو، اور اس کی مہربانیوں پر شکر واحسان مندی کے جذبے سے بھی سر شارہو ، تو وہ اس کی تعظیم وتکریم میں مبالغہ کرتا ہے ۔ مختلف طریقوں سے اعتراف نعمت کا اظہارکرتا ہے اور طرح طرح سے مراسم بندگی بجا لاتا ہے ، اسی کا نام پرستش ہے اوریہ تصور عبدیت کے مفہوم میں صرف اس وقت شامل ہوتا ہے جبکہ غلام کا محض سر ہی آقا کے سامنے جھکا ہوا نہ ہو بلکہ اس کا دل بھی جھکا ہوا ہو ‘‘۔
(قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں دوسرا ایڈیشن، صفحہ71-72)
اسی طرح اس کتاب میں چاروں اصطلاحوں کا مفہوم الٹ گیا ہے ۔ الہٰ اور رب میں ’’اقتدار‘‘ کے تصور سے اس کے دیگر ’’مفہومات ‘‘ اخذ کیے گئے ہیں ، حالانکہ حقیقۃً احساس احتیاج اور احساس پرورش اس کے دوسرے تمام پہلوؤں کے درمیان وجہ اشتراک ہے۔ عبادت کی بحث میں بالاتری تسلیم کرکے ا س کے مقابلے میں اطاعت اختیار کرنے کو اس کے دیگر ’’اجزاء ‘‘کی اسا س قرار دیا گیا ہے، حالانکہ عبادت کی اصل حقیقت خدا سے عاجزانہ اور مشتاقانہ تعلق ہے ۔ اور اسی سے دوسری تمام چیزیں اس کے تقاضے یا نتیجے کے طورپر پیدا ہوتی ہیں ۔ دین میں ’’ نظام ‘‘ کے تصور کو اس کے دیگر اجزاء کے لیے سبب جامع قرار دیا گیا ہے ۔ حالانکہ اصل حقیقت کے اعتبار سے دین ، اندرونی جھکاؤ اور مغلوبیت کانام ہے اور اسی سے دوسری تمام چیزیں اس میں ظاہر ہوتی ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اصطلاحات اربعہ کی تشریح کا یہ فرق ، محض لفظی ہیر پھیر کا فرق نہیں ہے، بلکہ اس کی وجہ سے دین کی اصل حقیقت مجروح ہو گئی ہے ۔ قرآنی اصطلاحات کا جامع اور مکمل مفہوم متعین کرنے کے باوجود قرآن کی اصل اور اعلیٰ ترین حقیقت اس میں اوجھل ہو گئی۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن کو اختیار کرنے کے بعد ایک مومن کو جب سب سے بڑی چیز اس دنیا میں ملتی ہے، وہ تعلق باللہ ہے ۔ یہی اس دنیا میں اہل ایمان کا سب سے بڑا حاصل ہے ۔ تعلق باللہ سے مراد خدا کو ایک مخصوص ’’ ضابطۂ حیات ‘‘ کی فکری بنیاد کے طور پر ماننا نہیں ہے ۔ بلکہ ا س کا مطلب ایک گہری وابستگی ہے ۔ جو حیاتی سطح پر خدا اور بندے کے درمیان قائم ہوتی ہے ۔ اس سے مراد بندے کی وہ نفسیاتی حالت ہے جب اسے خدا کے ساتھ ’’حبِ شدید ‘‘ پیداہو گیا ہو ( البقرہ،2:165)، جب اسے ’’ سجدۂ قربت ‘‘ والی نمازیں حاصل ہونے لگی ہوں ( العلق،96:19)، جب وہ ’’ خوف وطمع ‘‘ کے ساتھ خدا کو پکارنے لگا ہو ( الاعراف، 7:56)، جب اس پر حضوری کی ایسی کیفیت طاری ہونے لگے جس کو حدیث میں شِبہ رویت سے تعبیر کیا گیا ہے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 50)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مگر اس کتاب میں قرآن کے مطلوب کی جو تصویر بنائی گئی ہے ، اس میں یہ سب سے بڑی چیز جیسے گم ہو گئی۔ وہ اپنی صحیح شکل میں اس کے اندر باقی نہیں رہی۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی آدمی کا فوٹو سامنے کے بجائے پیچھے سے لیا جائے ۔ ظاہر ہے کہ ایسا فوٹو بظاہر آدمی کا پورا فوٹو ہو گا ۔ مگر اس میں اس کا چہرہ دکھائی نہیں دے گا جو کہ انسان کا اصل نمائندہ ہے ۔
اس تشریح کے مطابق الہٰ ، خدا اور بندے کے درمیان ایک ایسے تعلق کا عنوان ہے جس میں آدمی خدا کو ’’ اقتدار اعلیٰ ‘‘ کا مالک سمجھتا ہو ۔ ایک اِس حیثیت سے کہ وہی زمین وآسمان کے اوپر حکومت کر رہا ہے اور دوسرے اِس حیثیت سے کہ وہی سیاسی اور تمدنی زندگی کا مقتدر اعلیٰ ہے۔ اسی طرح ربوبیت پر ایمان کا مطلب یہ ہے کہ ’’ وہی اکیلا خدا تمہارا فوق الفطری رب بھی ہے اور اخلاقی وتمدنی اور سیاسی رب بھی‘‘ (صفحہ 64)۔ عبادت سے جو چیز مقصود ہے وہ یہ کہ عملی زندگی میں خدا کے احکام کی تعمیل کی جائے اور اسی کے آگے مراسم پرستش بجا لائے جائیں ۔ دین سے زندگی کی وہ تفصیلی صورت مراد ہے جو ’’ اعتقادی وفکری ، اخلاقی وتعلیمی ، تمدنی ومعاشرتی اور معاشی وسیاسی ‘‘ حیثیت سے زمین پر بنتی ہے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مجھے تسلیم ہے کہ یہ چیزیں جو اصطلاحات اربعہ کی تشریح میں بیان کی گئی ہیں وہ سب کسی نہ کسی حیثیت سے اس میں شامل ہیں ۔ مگر ان کی مجموعی تصویر جس طرح بنائی گئی ہے وہ ایسی ہے کہ ا صل اور اولین حقیقت اس میں اوجھل ہو گئی۔ یا اگر باقی رہی تو بہت دھندلی شکل میں ۔
مگر آپ جانتے ہیں کہ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جس کی شان یہ ہے کہ
لا يَأْتِيهِ الْباطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلا مِنْ خَلْفِهِ ( 41:42)۔ یعنی کوئی غیر واقعی بات قرآن میں نہ اس کے آگے کی طرف سے آسکتی ہے، نہ اس کے پیچھے کی طرف سے ۔ کوئی ایسی بات جو اس کتاب کے عین مطابق نہ ہو ، وہ کسی طرح اس میں چسپاں نہیں ہو سکتی ۔ ایسی ہر تفسیر کو یہ کتاب اسی طرح اگل دے گی جیسے کوئی نہایت لطیف مزاج رکھنے والا آدمی نا مناسب غذا کو ہضم نہیں کر سکتا اور قے کر کے اسے باہر نکال دیتاہے ۔ چنانچہ اصطلاحات اربعہ کی تشریح میں جو مختلف باتیں کہی گئی ہیں ، اگرچہ ان میں سے اکثر کسی نہ کسی اعتبار سے صحیح ہیں۔ مگر صرف اس بنا پر وہ قرآنی آیات پر چسپاں نہیں ہو سکیں کہ ان باتوں کو جس مخصوص حیثیت سے قرآن کی دعوت ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے ، اس حیثیت سے وہ قرآن کی دعوت نہیں ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے سارے قرآن نے ا س کو ماننے سے انکار کر دیا ہو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مثال کے طور پر اگر آپ کہیں کہ ’’اسلام نے معاشی معاملات کے بارے میں بھی احکام دیے ہیں ‘‘ تو یہ بات ہر طرح اسلام کے ماخذ سے ثابت ہو سکتی ہے ۔ لیکن اگر آپ کا دعویٰ یہ ہو کہ خدا کے رسول اس لیے آئے تھے کہ الٰہی معاشیات کی بنیاد پر ایک مخصوص معاشی ڈھانچہ تعمیر کریں ،تو باوجود یکہ اسلام نے معاشی معاملات کے بارے میں احکام دیے ہیں ، مگر اس مخصوص حیثیت یا دوسرے لفظوں میں مقصد نبوت کے طور پر یہ بات ہر گز ثابت نہ ہوسکے گی ۔ اور قرآن وحدیث اس کو ماننے سے مکمل طور پر انکار کر دیں گے ۔
مثال کے طور پر اس کتاب میں ’’ رب ‘‘ کے پانچ مفہومات میں سے تیسرا مفہوم ’’ اجتماع کا مرکز‘‘ بتایا گیا ہے ( صفحہ 63)۔ یعنی ’’وہ جو مرکزی حیثیت رکھتا ہو، جس پر متفرق اشخاص مجتمع ہوتے ہوں ‘‘ ( صفحہ 29)۔جس کا ’’مرکزی اقتدار مملکت کی تمام رعیت کے لیے اجتماع کی بنیاد ہو‘‘ (صفحہ 40)، جس کی مرکزی شخصیت کسی سر زمین کے تمدن واجتماع کی اساس ہو ‘‘ (صفحہ51)۔ اس مفہوم کے لحاظ سے خدا کا رب ہونا یہ معنی رکھتا ہے کہ
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
’’ اس کی وفاداری وہ قدرتی بنیاد ہے جس پر ہماری اجتماعی زندگی کی عمارت صحیح طورپر قائم ہوتی ہے ۔ اور اس کی مرکزی شخصیت سے وابستگی تمام متفرق افراد اور گروہوں کے درمیان ایک امت کا رشتہ پیدا کرتی ہے ‘‘۔ (صفحہ 68)
یعنی خدا کے رب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہماری سماجی اور تمدنی زندگی کا مرکز ہے اور اسی کے گرد ہماری اجتماعی زندگی کی تعمیر ہوتی ہے ۔ جس طرح ایک جمہوری سوسائٹی میں قوم یا وطن وہ مشترک نقطہ ہے جو کسی علاقہ میں بسنے والے افراد کو باہم جوڑ کر ایک نیشن بناتا ہے۔ اور ان کو اس کے لیے تیار کرتا ہے کہ ان کے درمیان ریاست کا مشترک اجتماعی ادارہ وجود میں آسکے۔ اسی طرح خدا کو ’’رب‘‘ کہنے کا مطلب بھی ، ایک لحاظ سے یہ ہے کہ وہ ہماری اجتماعی تشکیل کی بنیادہے ۔ وہ ہم کو ’’ امت ‘‘ کی شکل میں منظم کرتا ہے ۔
اصولاً مجھے اس سے اختلاف نہیں کہ خدا ئے واحد پر ایمان ہی وہ مشترک تصور ہے جو مسلمانوں کو ایک امت ہونے کا احساس دلاتا ہے اور انھیں ایک مشترک رشتہ میں باندھتا ہے۔ مگر مذکورہ بالا قسم کے اجتماعی اور تمدنی نظریہ کو رب کے ’’ تیسرے مفہوم ‘‘ کی حیثیت سے پیش کرناایک قطعاً غیر قرآنی تصور ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کو ثابت کرنے کے لیے جو حوالے دیے گئے ہیں ، وہ سب کے سب اصل مسئلہ سے بالکل غیر متعلق ہیں ۔ ان میں سے کسی ایک حوالے سے بھی یہ ’’ تیسرا مفہوم ‘‘ ثابت نہیں ہوتا ۔
یہ کل پانچ آیتیں ہیں، جن میں سے پہلی آیت یہ ہے
هُوَ رَبُّكُمْ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ (11:34)۔ یعنی، وہی تمہارا رب ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ سورہ ہود کی آیت ہے اور اس میں جس رجوع الی الرب کا ذکر ہے اس کا تعلق آخرت سے ہے، نہ کہ دنیا ہے ۔ پورا ٹکڑا حسب ذیل ہے
قالُوا يَا نُوحُ قَدْ جادَلْتَنا فَأَكْثَرْتَ جِدالَنَا فَأْتِنَا بِما تَعِدُنَا إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ ۔ قالَ إِنَّما يَأْتِيكُمْ بِهِ اللهُ إِنْ شاءَ وَما أَنْتُمْ بِمُعْجِزِينَ ۔ وَلا يَنْفَعُكُمْ نُصْحِي إِنْ أَرَدْتُ أَنْ أَنْصَحَ لَكُمْ إِنْ كانَ اللهُ يُرِيدُ أَنْ يُغْوِيَكُمْ هُوَ رَبُّكُمْ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ (11:32-34)۔ یعنی، انھوں نے کہا، اے نوح تم ہم سے بہت بحث کر چکے سو اب تم وہ چیز لاؤ جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے رہے ہو۔ انھوں نے جواب دیا اس کو اللہ تعالیٰ ، بشرطیکہ اسے منظورہو ، تمہارے سامنے لائے گا اور تم اسے عاجز نہ کر سکو گے ۔ اور میری خیر خواہی تمہارے کام نہیں آسکتی گو میں کیسی ہی خیر خواہی کرنا چاہوں ، جب کہ اللہ ہی کو تمہارا گمراہ کرنا منظورہو، وہی تمہارا رب ہے اور اسی کے پاس تم کو جانا ہے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے وہ صرف یہ ہے کہ حضرت نوح لمبی مدت تک تبلیغ کا کام کرتے رہے، مگر ان کی قوم نے ان کے پیغام کو نہیں سنا ۔ یہاں تک کہ جب بہت ہو گیا تو قوم نے کہا کہ ہم تو تمہاری بات نہیں مانتے ۔ اب تم نہ ماننے کی صورت میں ہم کو جس عذاب کی دھمکی دے رہے تھے ، اسے لے آؤ ۔ اس کے جواب میں پیغمبر نے فرمایا کہ عذاب دینے کا کام تو خدا کا ہے ۔ ایک وقت آئے گا جب تم سب کے سب اس کی طرف پکڑ کر لے جائے جاؤ گے اور تم مجبور ہو گے کہ جو سزا تمہیں دی جائے اس کو بھگتو ۔ اس بات کا مندرجہ بالا ’’ تمدنی اور اجتماعی ربوبیت ‘‘ سے کیا تعلق ۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
دوسری آیت یہ ہے
ثُمَّ إِلى رَبِّكُمْ مَرْجِعُكُمْ(6:164)۔ یعنی، پھر تمہارا لوٹنا خدا کی طرف ہے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ آیت بھی آخرت سے متعلق ہے ۔ پورا ٹکڑا یہ ہے
إِنْ تَكْفُرُوا فَإِنَّ اللهَ غَنِيٌّ عَنْكُمْ وَلا يَرْضى لِعِبادِهِ الْكُفْرَ وَإِنْ تَشْكُرُوا يَرْضَهُ لَكُمْ وَلا تَزِرُ وازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرى ثُمَّ إِلى رَبِّكُمْ مَرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُمْ بِما كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذاتِ الصُّدُورِ (39:7)۔ یعنی، اگر تم کفر کرو تو اللہ تم سے بے نیاز ہے اور وہ اپنے بندوں کے لیے کفر کو پسند نہیں کرتا ۔ اور اگر تم شکر کرو تو اس کو تمہارے لیے پسند کرتا ہے ۔ اور کوئی کسی کا بوجھ اٹھانے والا نہیں ہے ۔ تم سب کو اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے ۔ اس وقت وہ بتا دے گا جو کچھ تم کر رہے تھے ۔ وہ دلوں تک سے با خبر ہے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ظاہر ہے کہ اس آیت میں جس ’’ مرجعیت ‘‘ کا ذکرہے اس کا تعلق آخرت سے ہے۔ کہا گیا ہے کہ دنیا کی زندگی میں اگر تم شکر گزار بندے ہو گے تو اللہ تعالیٰ تم سے راضی ہو گا اور اگر تم نے کفر کا رویہ اختیار کیا تو کفر کر کے تم کہیں جا نہیں سکتے ۔ تمام لوگوں کو بالآخر خداہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے ۔ وہ تمہارے دلوں تک سے با خبر ہے ۔ اور وہ ہر ایک کو پورا پورا بدلے گا ۔ اس ’’لوٹنے‘‘ اور اپنے عمل سے ’’خبر دار‘‘ کیے جانے کا دنیا کی سماجی تنظیم سے کیا تعلق۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
تیسری آیت یہ ہے
قُلْ يَجْمَعُ بَيْنَنا رَبُّنا (34:26)۔ یعنی، کہوکہ ہم کو ہمارا رب جمع کرے گا ۔
Qur'anQuotes the Qur'an
اس آیت میں بھی جس ’’ اجتماع ‘‘ کا ذکر ہے وہ آخرت کا اجتماع ہے ۔ پورا ٹکڑا حسب ذیل ہے
قُلْ مَنْ يَرْزُقُكُمْ مِنَ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ قُلِ اللهُ وَإِنَّا أَوْ إِيَّاكُمْ لَعَلى هُدىً أَوْ فِي ضَلالٍ مُبِينٍ ۔ قُلْ لا تُسْئَلُونَ عَمَّا أَجْرَمْنا وَلا نُسْئَلُ عَمَّا تَعْمَلُونَ ۔ قُلْ يَجْمَعُ بَيْنَنا رَبُّنا ثُمَّ يَفْتَحُ بَيْنَنا بِالْحَقِّ وَهُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِيمُ (34:24-26)۔ یعنی، پوچھو تم کو آسمان اور زمین سے کون روزی دیتا ہے کہہ دو اللہ ۔ اور ہم یا تم ضرور راہ راست پر ہیں یا صریح گمراہ ہیں ۔ کہہ دو ( اگر ہم مجرم ہوں ) تو ہمارے جرائم کی باز پرس تم سے نہ ہو گی اور نہ تمہارے اعمال کے بارے میں ہم سے پوچھا جائے گا ۔ کہہ دو کہ ہمارا رب ہم کو جمع کرے گا پھر ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دے گا ۔ اور وہ بڑا فیصلہ کرنے والا اور جاننے والا ہے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس آیت میں پیغمبر اپنی قوم سے کہہ رہا ہے کہ ہم تم دونوں حق پر نہیں ہو سکتے ۔ ہم میں سے کوئی ایک یا تو حق پر ہے یا بدترین گمراہی میں ۔ پھر ہر ایک کا عمل اس کے اپنے ساتھ ہے ۔ کوئی شخص دوسرے کے عمل میں حصہ پانے والا نہیں ۔ عنقریب وہ دن آئے گا جب ہم دونوں خدا کے یہاں جمع کیے جائیں گے ۔ اس وقت وہ جو میرے اور تمہارے حال کو بخوبی جانتا ہے ، وہ حق کے مطابق ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دے گا — اس بات کا اجتماعی اور سماجی ربوبیت سے کیا تعلق۔
چوتھی آیت یہ ہے
ثُمَّ إِلى رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ (6:38)۔ یعنی، پھر وہ سب اپنے رب کی طرف سمیٹے جائیں گے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس آیت کا بھی تمدنی حشر سے کوئی تعلق نہیں ۔ پوری آیت یہ ہے
وَما مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلا طائِرٍ يَطِيرُ بِجَناحَيْهِ إِلَاّ أُمَمٌ أَمْثالُكُمْ مَا فَرَّطْنا فِي الْكِتابِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ إِلى رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ (6:38)۔ یعنی، اور زمین میں جتنے قسم کے جانور ہیں اور جتنے قسم کے پرند ہیں وہ سب تمہاری ہی طرح کے گروہ ہیں ۔ ہم نے نہیں چھوڑی لکھنے میں کوئی چیز ۔ پھر سب اپنے رب کے پاس جمع کیے جائیں گے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہاں جو بات کہی گئی ہے وہ یہ کہ انسان یا تمام جان داروں کا ایک ’’ حشر ‘‘ ہونے والا ہے۔ اس حشر سے دو چیزیں مراد لی گئی ہیں ۔ بعض مفسرین نے موت مراد لی ہے اور بعض نے قیامت ۔ دونوں صورتوں میں مطلب یہی ہے کہ تمام مخلوقات خدا کی طرف سمیٹی جانے والی ہیں — مگر اس سے جو سمٹاؤ مراد ہے وہ وہی ہے جو موت کے بعد پیش آئے گا ۔ موت سے پہلے کے سمٹاؤ کا یہاں کوئی ذکر نہیں ۔
پانچویں آیت یہ ہے
وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَإِذا هُمْ مِنَ الْأَجْداثِ إِلى رَبِّهِمْ يَنْسِلُونَ (36:51)۔ یعنی، اور جوں ہی صور پھونکا گیا وہ سب اپنی قبروں سے اپنے رب کی طرف نکل پڑیں گے۔
Qur'anQuotes the Qur'an
یہ آیت بھی ظاہر ہے آخرت سے متعلق ہے ۔ اس میں اُس اجتماع کا ذکر ہے جب لوگ دوبارہ زندہ کیے جائیں گے اور اپنی قبروں سے اُٹھ کر خدا کے حضور جمع کیے جائیں گے ۔ میدان حشر کے اس اجتماع سے سماجی زندگی کے لیے مرکز اجتماع کا مفہوم نکالنا ایسا ہی ہے جیسے ’’قرآنی نظام ربوبیت‘‘ کے علم بردار جنت کی زندگی سے متعلق آیتوں (مثلاً طہٰ، 20:118-119) کو پیش کر کے اس سے کھیت اور کارخانوں کی ریاستی ملکیت کا اصول ثابت کرتے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس تمہید کے بعد میں چاروں اصطلاحات کا الگ الگ جائزہ لوں گا۔
1۔ سب سے پہلا لفظ الہٰ ہے۔ (ال ه) کا مادہ عربی زبان میں ایک ایسی کیفیت کے لیے بولا جاتا ہے جس میں حیرت کے ساتھ لپک اور اشتیاق پایا جاتا ہو
أَلِهَ يَأْلَهُ إذا تَحَيَّر (لسان العرب، جلد13، صفحہ467)
other sourceWords of another person or source
ألَهَهُ أجارَهُ، وآمَنَه (القاموس المحیط، صفحہ 1242)
أَلَهَ الفَصيلُ إذا وَلِعَ بأُمِّه (تفسير البيضاوي،جلد1، صفحہ 26)۔ اس لحاظ سے الہٰ وہ ہے جس کے بارے میں حیرت انگیز طور پر اپنے سے مختلف ہونے کا تصور ہو، جس کو آدمی اپنا پناہ دہندہ سمجھے ، جس کی طرف وہ شدت شوق سے لپکتا ہو۔ یہ لفظ دراصل اس گہرے جذبہ کا ترجمان ہے، جو ایک بندۂ مجبور کے دل میں اپنے خالق ومالک کے لیے ہونا چاہیے ۔ ایک عاجز اور مشتاق انسان کے مخصوص جذبات جب کسی ہستی کو اپنا مرکز توجہ بنا لیتے ہیں ، جب وہ اس پر بھروسہ کرنے لگتا ہے اور اسی سے اپنی ساری امیدیں وابستہ کر لیتا ہے تو ایسے شخص کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے فلاں ہستی کو اپنا الہٰ بنا لیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
الوہیت کا یہ تصور لازمی طور پر تقاضا کرتاہے کہ جس کو الہٰ قرار دیا جائے وہ بااقتدار بھی ہو۔ کیوں کہ جو ہستی اقتدار نہ رکھتی ہو وہ حاجت روائی اور پناہ دہندگی کا کام انجام نہیں دے سکتی ۔ قرآن جب بتوں اور ارواح کی الوہیت کا انکار کرتا ہے تو اس کی خاص دلیل یہی ہوتی ہے کہ وہ ان اختیارات کی سر ے سے مالک ہی نہیں جو الہٰ بننے کے لیے درکار ہیں — پہلی بات الہٰ کا اصل مفہوم ہے اور دوسری بات الہٰ کے اصل مفہوم کا تقاضا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
کتاب میں لغوی تحقیق کی حد تک الہٰ کے ا صل مفہوم کو تسلیم کیا گیا ہے ( صفحہ 10)۔ مگر اس کے بعد اس کے مختلف ’’ معانی ‘‘ کی فہرست بندی کرتے ہوئے اصل مفہوم اور اس کے تقاضے کے فرق کو نظر انداز کر کے سب کو اس طرح یکجا کر دیا گیا
’’ پس معلوم ہوا کہ معبود کے لیے الہٰ کا لفظ جن تصورات کی بنا پر بولا گیا وہ یہ ہیں حاجت روائی ، پناہ دہندگی ، سکون بخشی ، بالاتری وبالا دستی ، ان اختیارات اور ان طاقتوں کا مالک ہونا جن کی وجہ سے یہ توقع کی جائے کہ معبود قاضی الحاجات اور پناہ دہندہ ہو سکتا ہے ، اس کی شخصیت کا پر اسرار ہونا یا منظر عام پر نہ ہونا، انسان کا اس کی طرف مشتاق ہونا ‘‘ ۔( صفحہ11)
اس تشریح میں بالا دست اور با اختیار ہونے کا تصور جو درمیان میں شامل کیا گیا ہے وہ حقیقی الہٰ کا تقاضا ہے ، وہ الہٰ کا لغوی مفہوم نہیں ہے ۔ یعنی الہ کے لغوی معنی با اقتدار ہونے کے نہیں ہیں بلکہ الوہیت کی مستحق دراصل وہی ذات ہو سکتی ہے جو اقتدار واختیار رکھتی ہو۔ چونکہ زیرِ بحث ذہن اقتدار کے تصور کو اس قسم کے ’’ تقاضے ‘‘ کے طور پر دیکھناپسند نہیں کر سکتا تھا۔ اس لیے اس نے اصل اور تقاضے کے اس فرق کو نظر انداز کر کے سب کو ایک ہی فہرست میں یکساں حیثیت سے شامل کر دیا۔
مگر اس کی تسکین کے لیے صرف اتنی بات بھی کافی نہیں تھی کہ الہٰ کی فہرستِ معانی میں اقتدار واختیار کا تصور کسی نہ کسی طرح آجائے ۔ اس کی تسکین تو اسی وقت ہو سکتی ہے جب کہ یہی مفہوم اصل اور بنیاد کی حیثیت سے ثابت ہوجائے ۔ چنانچہ آگے چل کر اس نے اس پورے مفہوم کو الٹ دیا ۔ اور اقتدار کو الہٰ کا اصل مفہوم قرار دے کر اس کے تمام تقاضوں کو اس مرکزی مفہوم کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی۔ حالانکہ الہ کا اصل مفہوم اشتیاق او رپناہ دہندگی ہے اور بقیہ تمام مطالب اسی اصل سے جڑتے ہیں ۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے ان سطروں کو پڑھیے جو الہٰ کے مختلف پہلوؤں کی تشریح کرنے کے بعد ’’ الوہیت کے باب میں ملاک امر ‘‘ کے عنوان کے تحت کتاب میں درج ہیں
’’ الہٰ کے یہ جتنے مفہومات اوپر بیان ہوئے ہیں ان سب کے درمیان ایک منطقی ربط ہے ۔ جو شخص فوق الطبیعی معنی میں کسی کو حامی ومدد گار،مشکل کشا اور حاجت روا ، دعاؤں کا سننے والا اور نفع یا نقصان پہنچانے والاسمجھتا ہے ، اس کے ایسا سمجھنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کے نزدیک وہ ہستی نظام کائنات میں کسی نہ کسی نوعیت کا اقتدار رکھتی ہے ۔اسی طرح جو شخص کسی سے تقویٰ اور خوف کرتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ اس کی ناراضی میرے لیے نقصان کی اور رضا مندی میرے لیے فائدے کی موجب ہے ، اس کے اس اعتقاد اور اس عمل کی وجہ بھی اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ اپنے ذہن میں اس ہستی کے متعلق ایک طرح کے اقتدار کا تصور رکھتا ہے ، پھر جو شخص خداوند اعلیٰ کے ماننے کے باوجود اس کے سوا دوسروں کی طرف اپنی حاجات کے لیے رجوع کرتا ہے ، اس کے اس فعل کی علت بھی صرف یہی ہے کہ خداوندی کے اقتدار میں وہ ان کو کسی نہ کسی طرح کا حصہ دار سمجھ رہا ہے...پس الوہیت کی اصل روح اقتدار ہے۔(صفحہ 17)
unverifiedAttribution could not be verified automatically
دیکھیے ، یہاں بات بالکل الٹ گئی۔ الوہیت کی اصل روح اشتیاق اور احتیاج کے جذبے کے تحت کسی طرف لپکنا تھا او ر اقتدار کا تصور اس میں اس لحاظ سے شامل ہوا تھا کہ اس قسم کی لپک کسی ایسی ہی ہستی کی طرف صحیح ہے جو با اقتدار ہونے کی وجہ سے فی الواقع اس کی مستحق ہو ۔ مگر مندرجہ بالا تشریح میں بات یہ ہو گئی کہ الوہیت کی اصل روح اقتدار ہے اور بقیہ تمام مفہومات اسی اصل سے اس میں پیدا ہوئے ہیں ۔ یعنی الہٰ کے مختلف متعلقہ مفہومات کے درمیان ’’ منطقی ربط ‘‘ جس بنیاد پر قائم کیا گیا وہ لفظ الہٰ کا اصل مفہوم نہیں تھا ، بلکہ اس کا ایک تقاضا تھا جو اصل مفہوم کی مناسبت سے اس میں پیدا ہوتا ہے ۔
’’ منطقی ربط ‘‘ کی اس بنیاد کے بارے میں مصنف نے قرآن کی ایک درجن سے زیادہ آیتیں بطور شہادت پیش کی ہیں اور اس کے بعد لکھتے ہیں
other sourceWords of another person or source
’’ ان تمام آیات میں اول سے آخر تک ایک ہی مرکزی خیال پایا جاتا ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ الہٰیت اور اقتدار لازم وملزوم ہیں اور اپنی روح ومعنی کے اعتبار سے دونوں ایک ہی چیز ہیں ‘‘۔ (صفحہ 23)
other sourceWords of another person or source
مگر ان تمام آیتوں میں الہٰ کے ساتھ اقتدار واختیار کا ذکر خدا کے الہٰ صحیح ہونے کے لیے بطور دلیل آیا ہے، نہ کہ یہ بتانے کے لیے کہ —’’ الہٰیت واقتدار اپنی روح ومعنی کے اعتبار سے ایک ہیں ‘‘۔ میں صرف ایک آیت نقل کروں گا
يا أَيُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوا نِعْمَتَ اللهِ عَلَيْكُمْ هَلْ مِنْ خالِقٍ غَيْرُ اللهِ يَرْزُقُكُمْ مِنَ السَّماءِ وَالْأَرْضِ لا إِلهَ إِلَاّ هُوَ فَأَنَّى تُؤْفَكُونَ (35:3)۔ یعنی، لوگو ! تمہارے اوپر اللہ کا جو احسان ہے اس کو یاد کرو ، کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق ہے جو تم کو آسمان وزمین میں سے رزق دیتا ہو، اس کے سوا کوئی الہٰ نہیں پھر تم کدھر بھٹکے جارہے ہو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ظاہر ہے کہ اس طرح کی آیتوں میں الہٰ کے ساتھ اقتدار کا ذکر اس حیثیت سے نہیں ہے کہ — ’’الہٰیت اور اقتدار لازم وملزوم ہیں اور اپنی روح ومعنی کے اعتبار سے دونوں ایک ہی چیز ہیں‘‘۔ بلکہ ایسی تمام آیتوں میں اقتدار کا ذکر اللہ رب العزت کے الہٰ حقیقی ہونے کے بارے میں بطور استدلال ہے ۔ یعنی یہ نہیں کہا گیا ہے کہ ’’ الہٰ کے معنی با اقتدار ہونے کے ہیں ۔ اس لیے ایسی ہستی کو الہٰ کے لفظ سے کیوں موسوم کرتے ہو جو اقتدار نہیں رکھتی ‘‘ بلکہ بات یوں ہے کہ — ’’جن توقعات کی بنیاد پر کسی کو الہٰ بنایا جا تا ہے ، وہ توقعات کوئی ایسی ہستی ہی پوری کر سکتی ہے جو عالم اسباب پر اقتدار رکھنے والی ہو۔ اور چونکہ یہ اقتدار سارا کا سارا صرف خدا کے ہاتھ میں ہے ۔ اس لیے حقیقۃً وہی ذات اس کی مستحق ہے کہ اس کو الہٰ قرار دیا جائے ‘‘۔ دوسرے لفظوں میں یہاں بات دراصل احتیاج کی نسبت سے کہی گئی ہے، نہ کہ اقتدار کی نسبت سے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
مگر اب بھی بات نہیں بنی تھی ۔ کیوں کہ زیرِ بحث ذہن کو اولین دل چسپی جس چیز سے ہے وہ سیاسی اقتدار ہے ، جبکہ ’’ منطقی ربط‘‘ کی اس تبدیلی کے باوجود جو بات ثابت ہوئی وہ صرف فوق الفطری اقتدار ہے ، الہٰ سے متعلق جن امور کی وجہ سے اقتدار کے تصور کو اس کے براہ راست مفہوم میں شامل کیا گیا ہے ، وہ سب امور وہ ہیں جن کا قانونی اور سیاسی اقتدار سے کوئی تعلق نہیں ۔ دعا کا سننا، حاجتیں پوری کرنا، مشکلات میں مدد دینا، نفع نقصان پہنچان — یہ سب وہ کام ہیں جن کو انجام دینے کے لیے کائناتی اقتدار کی ضرورت ہے ۔ اس کے لیے وہ طاقت درکار ہے جو عالم اسباب پر حکومت کر رہی ہو ۔ ظاہر ہے کہ یہ اقتدار فوق الطبیعی معنوں میں ہے۔ اور محض فوق الطبیعی اقتدار سے زیرِ بحث انقلابی ذہن کا کام نہیں بن سکتا تھا ۔
اب ذہن نے ایک اور کام کیا۔ اس نے ’’ اقتدار ‘‘ کے لفظی اشتراک سے فائدہ اٹھا کر فوق الفطری اقتدار کے ساتھ سیاسی اور تمدنی اقتدار کا قافیہ بھی اس میں شامل کر دیا۔ یہ بتاتے ہوئے کہ جو شخص فوق الفطری معنی میں کسی کو الہٰ بناتا ہے ، اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ وہ اس کے متعلق اقتدار واختیار کا تصور رکھتا ہے ۔ لکھتے ہیں
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
’’ اور علیٰ ہذا القیاس وہ شخص جو کسی کے حکم کوقانون اور کسی کے امرو نہی کو اپنے لیے واجب الا طاعت قرار دیتا ہے ، وہ بھی اس کو مقتدر اعلیٰ تسلیم کرتا ہے ۔ پس الوہیت کی ا صل روح اقتدار ہے ۔ خواہ وہ اقتدار اس معنی میں سمجھا جائے کہ نظام کائنات پر اس کی فرماں روائی فوق الطبیعی نوعیت کی ہے ، یا وہ اس معنی میں تسلیم کیا جائے کہ دنیوی زندگی میں انسان اس کے تحت امر ہے اور اس کا حکم بذات خود واجب الا طاعت ہے ‘‘ (صفحہ 17)۔
اس استدلال میں قافیہ بندی کے سوا اور کوئی دلیل نہیں ۔ سیاسی اور تمدنی زندگی میں خدا کی اطاعت بے شک عقیدہ الہٰ کا ایک ضروری تقاضا ہے ۔ مگر اس کو الہٰ کا براہ راست معنی قرار دینا اور یہ کہنا کہ اس کا دوسرا برابر کا مفہوم ’’ سیاسی اور تمدنی الوہیت ‘‘ ہے، صحیح نہیں ۔
پھر کیسے اتنے وثوق کے ساتھ الوہیت کے مفہوم ثانی کا دعویٰ کر دیا گیا ، اس کو سمجھنے کے لیے درج ذیل اقتباس پڑھیے
’’ اقتدار اعلیٰ کی وحدانیت کا اقتضا یہ ہے کہ حاکمیت اور فرمانروائی کی جتنی قسمیں ہیں، سب ایک ہی مقتدر اعلیٰ کی ذات میں مرکوز ہوں، اور حاکمیت کا کوئی جزء بھی کسی دوسرے کی طرف منتقل نہ ہو۔ جب خالق وہ ہے اور خلق میں کوئی اس کے ساتھ شریک نہیں ، جب رازق وہ ہے اور رزق رسانی میں کوئی اس کے ساتھ شریک نہیں۔ جب پورے نظام کائنات کا مدبرومنتظم وہ ہے، اور تدبیر وانتظام میں کوئی اس کے ساتھ شریک نہیں تو یقیناً حاکم وآمر اور شارع بھی اسی کو ہونا چاہیے ۔ اور اقتدار کی اس شق میں بھی کسی کے شریک ہونے کی کوئی وجہ نہیں ۔ جس طرح اس کی سلطنت کے دائرے میں اس کے سوا کسی دوسرے کا فریاد رس اور حاجت روا اور پناہ دہندہ ہونا غلط ہے ۔ اسی طرح کسی دوسرے کا مستقل بالذات حاکم اور خود مختار فرمانروا اور آزا د قانون ساز ہونا بھی غلط ہے ۔ تخلیق اور رزق رسانی ، احیاء اور اماتت ، تسخیر شمس وقمر اور تکویر لیل ونہار ، قضاء اور قدر، حکم اور پادشاہی ، امر اور تشریع سب ایک ہی کلی اقتدار وحاکمیت کے مختلف پہلو ہیں ۔ اور یہ اقتدار وحاکمیت ناقابل تقسیم ہے ۔ اگر کوئی شخص اللہ کے حکم کی سند کے بغیر کسی کو واجب الا طاعت سمجھتا ہے تو وہ ایسا ہی شرک کرتا ہے جیسا ایک غیر اللہ سے دعا مانگنے والا شرک کرتا ہے۔ اور اگر کوئی شخص سیاسی معنی میں مالک الملک اور مقتدر اعلیٰ اور حاکم علی الا طلاق ہونے کا د عویٰ کرتا ہے تو اس کا یہ دعویٰ بالکل اسی طرح خدائی کا دعویٰ ہے، جس طرح فوق الطبیعی معنی میں کسی کا یہ کہنا کہ تمہا را ولی وکار ساز اور مدد گار ومحافظ میں ہوں ۔ اسی لیے جہاں خلق اور تقدیر اشیاء اور تدبیر کائنات میں اللہ کے شریک ہونے کا ذکر کیا گیا ہے، وہیں لَهُ الحُكمُ،اور لَهُ المُلكُ، ولم يَكُن لَهُ شَريكٌ في المُلكِ بھی کہا گیا ہے۔ جو اس بات پر صاف دلالت کرتا ہے کہ الوہیت کے مفہوم میں پادشاہی وحکمرانی کا مفہوم بھی شامل ہے ۔ اور توحید الہٰ کے لیے لازم ہے کہ اس مفہوم کے اعتبار سے بھی اللہ کے ساتھ کسی کی شرکت تسلیم کی جائے ‘‘۔ ( صفحہ 24-25)
unverifiedAttribution could not be verified automatically
اس اقتباس کا خلاصہ یہ ہے کہ ’’ اقتدار اور حاکمیت ایک ناقابل تقسیم چیز ہے ۔ اس لیے ضروری ہے کہ کائنات پر جس کا اقتدار ہے ، اسی کا اقتدار انسان کی تمدنی اور سیاسی زندگی پر بھی قائم ہو ‘‘۔ مگر یہ بات ان آیتوں سے نہیں نکلتی جن کا حوالہ دے کر اسے پیش کیا گیا ہے ۔ قرآن میں بیشک یہی بات کہی گئی ہے کہ اقتدار ناقابل تقسیم ہے مثلاً درج ذیل آیت جو اس سلسلے میں کتاب کے اندرنقل کی گئی ہے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
لَوْ كانَ فِيهِما آلِهَةٌ إِلَاّ اللهُ لَفَسَدَتا فَسُبْحانَ اللهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُونَ (21:22)۔ یعنی، اگر زمین وآسمان میں اللہ کے سوا اور بھی الہٰ ہوتے تو نظام عالم درہم برہم ہو جاتا ، پس اللہ عرش کا مالک ان باتوں سے پاک ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مگر اس طرح کی آیتوں میں اقتدار اعلیٰ کے ناقابل تقسیم ہونے کی بات انتظام کائنات یا دوسرے لفظوں میں فوق الطبیعی پہلو سے ہے، نہ کہ ان معنوں میں کہ جو الہٰ کائنات کا مقتدر اعلیٰ ہے۔ اسی کو سیاسی دائرہ میں بھی مقتدر اعلیٰ ہونا چاہیے ۔ یعنی ان آیات میں اس حقیقت واقعہ کا ذکر ہے کہ کائنات کے ہر حصہ اور اس کے ہر جزء پر ایک ہی اللہ کا اقتدار قائم ہے ، اس میں یہ بات نہیں کہی گئی ہے کہ جس خدا کی حاکمیت عالم تکوینی میں قائم ہے ، اسی کی حاکمیت عالم تشریعی میں بھی قائم ہو۔ یہ الگ بات ہے کہ انسان کے لیے صحیح رویہ یہی ہے کہ وہ اپنی سیاسی اور قانونی زندگی میں بھی خدا ہی کو اپنا حاکم بنائے ۔ مگر اس آیت میں اس کا کوئی ذکر نہیں ۔
اس استدلال کی دوسری خاص بنیاد جو اقتباس کے آخری حصہ سے معلوم ہوتی ہے، وہ یہ ہے کہ الہٰ سے متعلق آیتوں میں بعض مقامات پر لہ الحکم ، لہ الملک اور ولم یکن لہ شریک فی الملک کے الفاظ بھی آئے ہیں ۔ مگر ان الفاظ کا یہ مفہوم خود آیات کے اندر موجود نہیں ہے، بلکہ اصل الفاظ کے لغوی معنی کے ساتھ اپنے خود ساختہ تصور کو شامل کر کے نکال لیا گیا ہے ۔ کیوںکہ ان الفاظ کے لغوی معنی اگرچہ حکم اور اقتدار ہی کے ہیں ۔ مگر جن آیتوں میں یہ الفاظ آئے ہیں ، وہاں ان کا مطلب سیاسی اور تمدنی اقتدار نہیں ہے ، بلکہ وہی فوق الفطری اقتدار ہے، جس کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے۔
اس سلسلے میں کتاب میں تین آیتیں نقل کی گئی ہیں ، پہلی آیت سورہ قصص کی ہے جس میں لہ الحکم کا لفظ آیا ہے،اور اس کا ترجمہ کتاب میں ’’صاحب حکم واقتدار‘‘کیا گیا ہے (صفحہ19)۔ اس آیت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے پورا متعلقہ ٹکڑا نقل کر دیا جائے ۔ سورہ قصص کی ساتویں رکوع میں یہ بتاتے ہوئے کہ قیامت میں جب تمام انسان حاضر کیے جائیں گے تو وہ لوگ جنھوں نے خدا کا شریک ٹھہرایا تھا وہاں ان کا کوئی مدد گا نہ ہو گا ، ارشاد ہوا ہے
unverifiedAttribution could not be verified automatically
وَرَبُّكَ يَخْلُقُ مَا يَشاءُ وَيَخْتارُ مَا كانَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ سُبْحانَ اللهِ وَتَعالى عَمَّا يُشْرِكُونَ . وَرَبُّكَ يَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُورُهُمْ وَما يُعْلِنُونَ. وَهُوَ اللهُ لا إِلهَ إِلَاّ هُوَ لَهُ الْحَمْدُ فِي الْأُولى وَالْآخِرَةِ وَلَهُ الْحُكْمُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ( 28:68-70)۔ یعنی، تیرا رب جو چاہے پیدا کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے چن لیتا ہے ، ان کواس کا اختیار نہیں یہ جو شریک ٹھہراتے ہیں خدا اس سے پاک وبرتر ہے ، اور تیرا رب ان کے چھپے اور کھلے کو جانتا ہے ، وہی اللہ ہے ، اس کے سوا کوئی الہٰ نہیں ، دنیا وآخرت میں اسی کی تعریف ہے اور اسی کے لیے حکم ( فیصلہ ) ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ پورا سیاق بتا رہا ہے کہ یہاں تمدنی اور سیاسی اقتدار کے ذکر کا کوئی موقع نہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ’’ حکم ‘‘ کا لفظ یہاں قضا اور فیصلہ کے معنی میں آیا ہے اور اس سے مراد یا تو وہ فیصلہ ہے جو دنیا میں فوق الفطری طور پر تمام اشیاء پر نافذ ہوتا ہے ، یا وہ فیصلہ جو آخرت میں بندوں کے درمیان نافذ ہو گا، مفسرین دونوں طرف گئے ہیں ، مگر اکثریت دوسری تاویل کے حق میں ہے ۔ چند رائیں یہ ہیں
’’ وَلَهُ الْحُكْمُ‘‘ يَقُولُ وَلَهُ الْقَضَاءُ بَيْنَ خَلْقِهِ (تفسیر ابن جرير،جلد 19، صفحہ 612)
quoted sourceQuoted from another author or source
أَيِ الْقَضَاءُ بَيْنَ عِبَادِهِ وَالْفَصْلُ (تفسیرالبحر المحیط، جلد 8، صفحہ 321)
other sourceWords of another person or source
القَضَاءُ بَيْنَ عِبَادِهِ (الكشاف للزمخشری، جلد3،صفحہ428)
يَحكُمُ لأَهلِ طاعَتِهِ بالمَغفِرَةِ، ولأَهلِ المَعصِيَةِ بالشَّقاوَةِ (تفسیر الخازن،جلد3، صفحہ370)
other sourceWords of another person or source
القَضاءُ بَينَ عِبادِهِ (مدارك التَّنزيل، جلد2، صفحہ655)
أي القَضاءُ النّافِذُ في كُلِّ شَيءٍ مِن غَيرِ مُشارَكَةٍ فيهِ لِغَيرِهِ تعالى (روح المعانی للآلوسی ، جلد10، ص 313)
other sourceWords of another person or source
القَضاءُ النّافِذُ في كُلِّ شَيء (تفسیر البيضاوی، جلد4، صفحہ184)
other sourceWords of another person or source
لہ الحکم سے فیصلۂ آخرت مراد لینے کی رائے کو اس لیے ترجیح حاصل ہے کہ مشہور صحابی مفسر حضرت عبد اللہ بن عباس سے یہی منقول ہے
وعن ابن عَبّاس أي لهُ الحُكمُ بينَ عبادِهِ تعالى، فيَحكُمُ لأهلِ طاعتِهِ بالمغفِرَةِ والفَضل، ولأهلِ مَعصيتِهِ بالشَّقاءِ والوَيل (روح المعانی للآلوسی، جلد10، صفحہ 313)۔ یعنی، عبد اللہ بن عباس نے فرمایا کہ لہ الحکم کا مطلب یہ ہے کہ اللہ ہی کو اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کا حق ہے ۔ وہ اپنے فرمانبردار بندوں کے لیے مغفرت اور انعام کا فیصلہ کرتا ہے اور نا فرمانوں کے لیے بد بختی اور ہلاکت کا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
دوسری آیت سورہ زمر کی ہے، اور اس میں لہ الملککا لفظ آیا ہے، اس کا ترجمہ کتاب میں’’اقتدارِ حکومت‘‘کیا گیا ہے ۔ سورہ کے شروع میں ان’’اولیاء‘‘کی عبادت پر تنقید ہے، جن کی مشرکین یہ سمجھ کر عبادت کرتے تھے کہ وہ ان کو خدا کا مقرب بنا دیں گے، اور اس عقیدہ کی تردید کی گئی ہے کہ خدا کی کوئی اولاد ہے، جس کا زمین وآسمان کے اختیارات میں کوئی دخل ہے۔ اس کے بعد ارشاد ہے
unverifiedAttribution could not be verified automatically
خَلَقَ السَّماواتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ يُكَوِّرُ اللَّيْلَ عَلَى النَّهارِ وَيُكَوِّرُ النَّهارَ عَلَى اللَّيْلِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ يَجْرِي لِأَجَلٍ مُسَمًّى أَلا هُوَ الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ ۔ خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ واحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْها زَوْجَها وَأَنْزَلَ لَكُمْ مِنَ الْأَنْعامِ ثَمانِيَةَ أَزْواجٍ يَخْلُقُكُمْ فِي بُطُونِ أُمَّهاتِكُمْ خَلْقاً مِنْ بَعْدِ خَلْقٍ فِي ظُلُماتٍ ثَلاثٍ ذلِكُمُ اللهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ لا إِلهَ إِلَاّ هُوَ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ (39:5-6)۔ یعنی، اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ، وہ رات کو دن پرلپیٹتا ہے اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے ۔ اس نے سورج اور چاند کو مسخر کر دیا ہے ، ہر ایک اپنی مدت مقررہ تک چل رہا ہے ۔ آگاہ ، وہ زبردست ہے بخشنے والا ہے ۔ اس نے ایک جان سے تمہاری پیدائش کی ابتدا کی ، پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا ، اور تمہارے لیے مویشیوں کے آٹھ جوڑے اتارے ، وہی تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹ میں بتدریج تین اندھیروں میں بناتا ہے ۔ یہی اللہ تمہارا رب ہے اسی کا ہے اقتدار ، اس کے سوا کوئی الہٰ نہیں ، پھر تم کہاں پھرے جاتے ہو۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
یہ الفاظ بتا رہے ہیں کہ یہاں ملک (اقتدار ) سے مراد وہ اقتدار ہے جو سورج اور چاند کو گردش دے رہا ہے ، جو خلق اور تدبیر کا مالک ہے، نہ کہ سیاسی اور تمدنی اقتدار ۔ چنانچہ مفسرین نے یہی مفہوم لیا ہے ۔ میں امام رازی کے الفاظ نقل کروں گا
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى لَهُ الْمُلْكُ وَهَذَا يُفِيدُ الْحَصْرَ أَيْ لَهُ الْمُلْكُ لَا لِغَيْرِهِ، وَلَمَّا ثَبَتَ أَنَّهُ لَا مُلْكَ إِلَّا لَهُ وَجَبَ الْقَوْلُ بِأَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لِأَنَّهُ لَوْ ثَبَتَ إِلَهٌ آخَرُ، فَذَلِكَ الْإِلَهُ إِمَّا أَنْ يَكُونَ لَهُ الْمُلْكُ أَوْ لَا يَكُونُ لَهُ الْمُلْكُ، فَإِنْ كَانَ لَهُ الْمُلْكُ فَحِينَئِذٍ يَكُونُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مَالِكًا قَادِرًا وَيَجْرِي بَيْنَهُمَا التَّمَانُعُ كَمَا ثَبَتَ فِي قَوْلُهُ لَوْ كانَ فِيهِما آلِهَةٌ إِلَّا اللهُ لَفَسَدَتا (21:22) وَذَلِكَ مُحَالٌ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لِلثَّانِي شَيْءٌ مِنَ الْقُدْرَةِ وَالْمُلْكِ فَيَكُونُ نَاقِصًا وَلَا يَصْلُحُ لِلْإِلَهِيَّةِ، فَثَبَتَ أَنَّهُ لَمَّا دَلَّ الدَّلِيلُ عَلَى أنه لا ملك إلا الله، وَجَبَ أَنْ يُقَالَ لَا إِلَهَ لِلْعَالَمِينَ وَلَا مَعْبُودَ لِلْخَلْقِ أَجْمَعِينَ إِلَّا اللَّهُ الْأَحَدُ الْحَقُّ الصَّمَدُ (التفسير الكبير،جلد 26، صفحہ 425)۔ یعنی، پھر فرمایا ’’لہ الملک‘‘، اس سے حصر کا فائدہ حاصل ہوتا ہے ، یعنی اقتدار صرف اسی کا ہے ، کسی اور کا نہیں اور جب ثابت ہو گیا کہ اقتدار اس کے سوا کسی کا نہیں ہے تو یہ کہنا لازم ہو گیا کہ لا الٰہ الا ہو ، کیوں کہ اگر کوئی دوسرا الہٰ ہوتا تو یا تو وہ اقتدار کا مالک ہوتا یا اس کے پاس کوئی اقتدار نہ ہوتا ۔ پس اگر اس کے پاس اقتدار ہوتا تو مختلف اقتدار باہم ٹکرا جاتے جیسا کہ قرآن میں آیا ہے اگر ان دونوں میں اللہ کے سوا معبود ہوتے تو دونوں درہم برہم ہوجاتے (21:22)، اور یہ نا ممکن ہے۔ اور اگر دوسرے الہٰ کے پاس کوئی اقتدار نہ ہو تو وہ ناقص ہے اور اس کو الہٰ قرار دینا صحیح نہیں ہو سکتا۔ پس جب دلیل سے ثابت ہو گیا کہ اللہ کے سوا کسی کے پاس اقتدار نہیں تو یہ کہنا ضروری ہوا کہ دنیا کا اور تمام مخلوقات کا صرف ایک الہٰ اور معبود ہے، اس کے سوا کوئی اور الہٰ اور معبود نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
تیسری آیت سورہ فرقان کی ہے اور اس میں لم یکن لہ شریک فی الملک کے الفاظ آئے ہیں ۔ اس کا ترجمہ کتاب میں ’’ اقتدار حکومت میں اس کا کوئی شریک نہیں ‘‘کیا گیا ہے ۔ مگر یہاں بھی تمدنی اور سیاسی حکمرانی کا کوئی موقع نہیں ۔ آیت کا متعلقہ ٹکڑا حسب ذیل ہے
تَبارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقانَ عَلى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعالَمِينَ نَذِيراً ۔ الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ وَلَمْ يَتَّخِذْ وَلَداً وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيراً ۔ وَاتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ آلِهَةً لا يَخْلُقُونَ شَيْئاً وَهُمْ يُخْلَقُونَ وَلا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلا نَفْعاً وَلا يَمْلِكُونَ مَوْتاً وَلا حَياةً وَلا نُشُوراً (25:1-3)۔ یعنی، بڑا با برکت ہے وہ جس نے اپنے بندہ پر کتاب فرقان اتاری تاکہ وہ دنیا والوں کے لیے ڈرانے والا ہو ۔ جس کی سلطنت ہے آسمان وزمین میں اور اس نے کوئی بیٹا نہیں بنایا اور نہ سلطنت میں کوئی اس کا ساجھی ہے ۔ اس نے ہر چیز بنائی پھر اس کی تقدیر کی اور لوگوں نے اس کے علاوہ الہٰ بنا لیے ہیں جو کچھ بھی پیدا نہیں کر سکتے ، وہ خود ہی پیدا کیے گئے ہیں وہ اپنی ذات کے لیے بھی نفع یا نقصان کا اختیار نہیں رکھتے ۔ وہ نہ موت وحیات کے مالک ہیں نہ دوبارہ جی اٹھنے کے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ سیاق صاف بتا رہا ہے کہ یہاں ’’ ملک ‘‘ کو خدا کے لیے جن معنوں میں خاص کرنے کا ذکر ہے وہ سیاست اور تمدن نہیں بلکہ تخلیق ، نفع نقصان ، تقدیر اشیاء اور موت وحیات کے اختیار ات ہیں ۔ چنانچہ مفسرین نے یہی مفہوم لیا ہے ۔ میں ایک حوالہ نقل کرتا ہوں
مَا فِيهِمَا مِلْكٌ لَهُ، أَخْبَرَ هُنَا أَ نَّهُ لَهُ مُلْكُهُمَا أَيْ قَهْرُهُمَا وَقَهْرُ مَا فِيهِمَا، فَاجْتَمَعَ لَهُ الْمِلْكُ وَالْمُلْكُ لَهُمَا. وَلِمَا فيهما… وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ تَأْكِيدٌ لِقَوْلِهِ لَهُ مُلْكُ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ وَرَدٌّ عَلَى مَنْ جَعَلَ لِلهِ شَرِيكًا (البحر المحيط في التفسير،جلد 8، صفحہ 80)۔ یعنی، زمین وآسمان اور اس کی تمام چیزیں اس کی مقہور ہیں ۔ پس وہی مالک ہے اور اسی کا اقتدار سب کے اوپر ہے ۔ اس کے بعد لَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ کا فقرہ اسی پہلے فقرہ کی تاکید ہے اور ان لوگوں کی تردید ہے جنھوں نے خدا کے ساتھ شریک ٹھرائے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ان تینوں آیتوں کے علاوہ بحث کے آخر میں ہم کو مزید چار آیتیں ملتی ہیں، جن میں مصنف کے نزدیک ’’ زیادہ کھول کر ‘‘ اور ’’ زیادہ تصریح ‘‘ کے ساتھ یہ بات بیان کی گئی ہے کہ ’’ الوہیت کے مفہوم میں پادشاہی وحکمرانی کا مفہوم بھی شامل ہے ‘‘ ۔ ( صفحہ 25-26)
پہلی آیت حسب ذیل ہے
قُلِ اللَّهُمَّ مالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشاءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (3:26)۔ یعنی، کہو خدایا ! ملک کے مالک ، تو جس کو چاہتا ہے ملک دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے ملک لے لیتا ہے ۔ جس کو چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ذلیل کر دیتا ہے ۔ تیرے ہی اختیار میں ہے سب بھلائی ۔ بلا شبہ تو ہر چیز پر قادر ہے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مجھے تسلیم ہے کہ اس آیت میں ’’ ملک ‘‘ کا لفظ دنیوی اقتدار کے معنی میں آیا ہے ۔ مگر کیا محض ’’ دنیوی اقتدار ‘‘ کا لفظ کسی فقرے میں آجانا زیرِ بحث تصور کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے ۔ اس آیت سے جو بات نکلتی وہ صرف یہ ہے کہ اللہ ہی اپنے بالا تر اختیارات کے ذریعہ دنیا کی حکومت جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے چھین لیتا ہے ۔ وہ ہر چیز پرقادر ہے یہ تو ہر مسلمان کا عقیدہ ہے ۔ مگر اس سے جو چیز ثابت ہوتی ہے وہ اقتدار کا عطیۂ خداوندی ہونا ہے، نہ کہ حصول اقتدار کا امت مسلمہ کا مشن ہونا۔
دوسری آیت یہ ہے
فَتَعالَى اللهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ لا إِلهَ إِلَاّ هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ (23:116)۔ یعنی، پس بزرگ ہے اللہ جو کہ بادشاہ حقیقی ہے ۔ اس کے سوا کوئی الہٰ نہیں وہ عرشِ عظیم کا مالک ہے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس آیت سے بھی جو چیز ثابت ہوتی ہے وہ صرف فو ق الفطری الوہیت ہے ۔ آیت کا آخری فقرہ صاف طور پر بتا رہا ہے کہ یہاں جس چیز کا ذکر ہے وہ عرشِ بریں کا مالک ہونا ہے، نہ کہ تخت سیاسی کا مالک ہونا ۔ سیاسی تخت یا سیاسی حکمرانی کا مسئلہ ایک الگ مسئلہ ہے۔ مگر اس آیت میں یہ مسئلہ مذکور نہیں ۔
آیت کے پہلے فقرے میں ’’ ملک ‘‘ کا لفظ ہے جس کے معنی بادشاہ کے ہوتے ہیں ۔ مگر آگے پیچھے کے تمام قرائن بتا رہے ہیں کہ یہاں یہ لفظ ’’ سیاسی بادشاہ ‘‘ کے مفہوم میں نہیں آیا ہے۔ بلکہ بادشاہ کائنات یا مالکِ کائنات کے معنی میں آیا ہے ۔ دو حوالے یہاں نقل کیے جاتے ہیں
الْمَلِكُ هُوَ الْمَالِكُ لِلْأَشْيَاءِ الَّذِي لَا يَبِيدُ وَلَا يَزُولُ مُلْكُهُ وَقُدْرَتُهُ(التفسير الكبير ، جلد23، صفحہ 300)۔یعنی، اس آیت میں ملک کا لفظ تمام اشیاء کا مالک ہونے کے معنی میں آیا ہے جس کی قدرت اور مالکیت کبھی زائل نہیں ہوتی ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
الْمَلِكُ الْحَقُّ، أَيْ الْحَقِيقُ بِالْمَالِكِيَّةِ عَلَى الْإِطْلَاقِ إِيجَادًا وَإِعْدَامًا، بَدْءًا وَإِعَادَةً، إِحْيَاءً وَإِمَاتَةً، عِقَابًا وَإِثَابَةً، وَكُلُّ مَا سِوَاهُ مَمْلُوكٌ لَهُ مَقْهُورٌ تَحْتَ مَلَكُوتِيَّتِهِ (تفسیرروح المعانی، جلد9، صفحہ 269)۔یعنی، ملک الحق کا مطلب یہ ہے کہ خدا ہی علی الا طلاق مالک ہونے کا حقدار ہے ، وہی وجود دیتا ہے اور ختم کرتا ہے ، وہی آغاز کرتا ہے اور وہی دُہراتا ہے ، وہی زندہ کرتا ہے اور وہی موت دیتا ہے ، وہی عذاب دیتا ہے اور وہی ثواب دیتا ہے ، اور اس کے سوا جو کچھ ہے سب اس کے مقہور ہیں اور اس کے اقتدار کے تحت ہیں ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ظاہر ہے کہ یہ تمام صفات فوق الفطری نوعیت کی ہیں، نہ کہ سیاسی اور تمدنی نوعیت کی ۔ اس لیے اس آیت سے یہ استدلال نہیں کیا جا سکتا کہ اس میں الہٰ کا لفظ سیاسی اور تمدنی حکمراں کے معنی میں آیا ہے ۔
تیسری آیت یہ ہے
قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ۔ مَلِكِ النَّاسِ۔ إِلهِ النَّاسِ۔ مِنْ شَرِّ الْوَسْواسِ الْخَنَّاسِ۔ الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ۔ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ (114:1-6)۔ یعنی، کہو میں پناہ لیتا ہوں لوگوں کے رب کی ،لوگوں کے بادشاہ کی، لوگوں کے الہٰ کی ، وسوسہ ڈالنے والے شیطان کے شر سے ۔ جو لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے خواہ (وسوسہ ڈالنے والا ) جن ہو یا آدمی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ تعوذ کی سورہ ہے ۔ یعنی اس میں ان جنوں اور انسانوں سے اور ان چھپے ہوئے شیاطین سے خدا کی پناہ چاہی گئی ہے، جو آدمی کے دل میں وسوسے ڈالتے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ ایسے وسوسوں سے پناہ دینے کا ’’ سیاسی اور تمدنی حکمرانی ‘‘ سے کوئی تعلق نہیں ۔ یہ تو صریح طور پر ایک ایسی ہستی کا کام ہے، جو اپنے فوق الفطری ذرائع سے جنات اور انسان پر قابو یافتہ ہو ، اور دلوں تک پر جس کی رسائی ہو۔ اس سورت میں ایک ایسی ہی ہستی کا تصور دلا کر اس سے پناہ مانگنا سکھایا گیا ہے ۔ اس میں الہٰ کے مزعومہ سیاسی پہلو کا کوئی ذکر نہیں ۔
ابن کثیر ان آیات کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں
هٰذِهِ ثَلَاثُ صِفَاتٍ مِنْ صِفَاتِ الرَّبِّ عَزَّ وَجَلَّ الرُّبُوبِيَّةُ، وَالْمُلْكُ، وَالإِلٰهِيةُ. فَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكُهُ وَإِلٰهُهُ، فَجَمِيعُ الْأَشْيَاءِ مَخْلُوقَةٌ لَهُ، مَمْلُوكَةٌ عَبِيدٌ لَهُ. فَأَمَرَ الْمُسْتَعِيذَ أَنْ يَتَعَوَّذَ بِالْمُتَّصِفِ بِهٰذِهِ الصِّفَاتِ، مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ، وَهُوَ الشَّيْطَانُ الْمُوَكَّلُ بِالْإِنْسَانِ. فَإِنَّهُ مَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ بَنِي آدَمَ إِلَّا وَلَهُ قَرِينٌ يُزَيِّنُ لَهُ الْفَوَاحِشَ، وَلَا يَأْلُوهُ جُهْدًا فِي الْخَبَالِ. وَالْمَعْصُومُ مَنْ عَصَمَهُ اللهُ (تفسير ابن كثير ،جلد8، صفحہ 539)۔یعنی، ربوبیت ، مالکیت، اور الوہیت ، اللہ تعالیٰ کی صفتوں میں سے تین صفتیں ہیں ۔ پس وہی ہر چیز کا رب اور مالک اور الہٰ ہے ۔ ہر چیز کا وہی خالق ہے سب اس کے مملوک اور اسی کے بندے ہیں ۔ پس حکم دیا کہ جو ان صفات سے متصف ہستی ہے اسی سے پناہ چاہنے والا شیطان کے مقابلے میں پناہ مانگے ۔ کیوں کہ ہر آدمی کے ساتھ ایک قرین لگا ہوا ہے جو برائیوں کو اس کی نگاہ میں مزین کرتا رہتا ہے اور اس کو تباہ کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھتا۔ اور محفوظ وہی رہ سکتا ہے جس کو اللہ محفوظ رکھے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
چوتھی آیت جو مصنف کے نزدیک تمام آیتوں میں سب سے زیادہ صریح ہے ، وہ یہ ہے
يَوْمَ هُمْ بارِزُونَ لا يَخْفى عَلَى اللهِ مِنْهُمْ شَيْءٌ لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلهِ الْواحِدِ الْقَهَّارِ (40:16)۔ یعنی، (خدا اپنے رسول بھیجتا ہے تاکہ وہ لوگوں کو قیامت کے دن سے ڈرائے ) جس دن لوگ خدا کے سامنے کھڑے ہوں گے ۔ ان کی کوئی بات خدا سے مخفی نہ رہے گی ۔ کس کی حکومت ہے اس دن ۔ صرف اللہ کی جو یکتا اور غالب ہے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس آیت میں بھی ’’ سیاسی اور تمدنی حکمرانی ‘‘ کا براہ راست کوئی ذکر نہیں ہے ۔ اس آیت کا مطلب صرف یہ ہے کہ خدا کے مقابلے میں سب کے سب عاجز اور بے بس ہیں ۔ ہر چیز دنیا میں چھپی ہوئی ہے، مگر آخرت میں بالکل نمایاں ہو جائے گی ۔ اس کی تشریح میں علامہ آلوسی نے جو الفاظ لکھے ہیں، وہ یہ ہیں
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
إنما اختُصَّ المُلكُ بهِ تعالى لأنَّهُ وحدَهُ يَقدِرُ على مُجازاةِ كُلِّ نَفسٍ بما كَسَبَت، ولَهُ العَدلُ التّامُّ فلا يَظلِمُ أحَدًا، ولَهُ التّصرُّفُ فلا يُشغِلُهُ شأنٌ عن شأنٍ، فيُسرِعُ الحِسابَ (تفسير روح المعانی ، جلد12، صفحہ 312)۔ یعنی، اقتدار کو اللہ تعالیٰ کے لیے اس واسطے خاص کیا کیوں کہ وہی یہ قدرت رکھتا ہے کہ ہر ایک کے کیے کا اسے بدلہ دے اور اسی کا انصاف مکمل انصاف ہے ۔ پس وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا اور وہی متصر ف ہے ۔ اس کو ایک کام دوسرے کام سے نہیں روکتا اور وہ جلد حساب کرنے والا ہے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اوپر کے تجزیہ سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ الہٰ کا لفظ دراصل اس ہستی کے لیے ہے جو انسان کے اشتیاق اور احتیاج کے جذبات کا مرکز ہو ۔ یہ مفہوم یقیناً تقاضا کرتا ہے کہ اسی کو صحیح معنوں میں الہٰ سمجھا جائے جو اقتدار کا مالک ہو۔ مگر یہ اقتدار اصلاً فوق الفطری معنوں میں ہے ۔ کیوں کہ جن توقعات کی بنا پر آدمی کسی کو الہٰ بناتا ہے ان توقعات کو پورا کرنے کے لیے فوق الفطری اقتدار ہی کی ضرورت ہے اس کا قانونی اور سیاسی اقتدار سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں ۔ البتہ جیسا کہ آگے آرہا ہے ، اس اتخاذ الہٰ کے بہت سے تقاضے ہیں جو الہٰ بنانے والے کے اپنے حالات کی نسبت سے پیدا ہوتے ہیں ۔ اس میں لازمی طور پر یہ تقاضا بھی شامل ہے کہ جو لوگ خدا پر ایمان لائیں وہ اپنے اجتماعی امور کو خدا کی مرضی کے مطابق بنائیں اور اپنے کسی معاملہ میں اس سے بغاوت کا رویہ اختیار نہ کریں ۔
—2—
اس کے بعد’’رب‘‘کی اصطلاح ہے ۔ لغت کی حد تک اس کتاب میں اس کی بالکل صحیح تشریح کی گئی ہے ۔ مگر اس کے آگے جب قرآن کا تصور رب متعین کرتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گاڑی چلتے چلتے پٹری سے اتر گئی ۔ اس کو پڑھتے ہوئے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ذہن اس کو اپنے مخصوص سانچہ میں ڈھالنا چاہتا ہے ۔ اب چونکہ اصل قرآنی مفہوم میں اس کی گنجائش نہیں تھی ، اس لیے یہاں بھی کچھ ویسی ہی صورت بن گئی، جس کی مثال الہٰ کے باب میں ہم اوپر لکھ چکے ہیں ۔
بحث کا آغاز ان سطروں سے ہوتا ہے
’’ اس لفظ کا مادہ ’’ر ب ‘‘ ہے جس کا ابتدائی واساسی مفہوم پرورش ہے ۔ پھر اسی سے تصرف ، خبر گیری ، اصلاحِ حال ، اور اتمام وتکمیل کا مفہوم پیدا ہو ۔ پھر اسی بنیاد پر فوقیت ، سیادت ، مالکیت اور آقائی کے مفہومات اس میں پیدا ہو گئے ‘‘۔
یہاں تک بات بالکل صحیح ہے ۔ کیوں کہ رَب یَرُب کا اصل مفہوم پرورش ہے اسی لیے رب کا ترجمہ ’’ پروردگار ‘‘ کیا جاتا ہے ۔ مگر جس طرح ہر لفظ میں ایسا ہوتا ہے کہ اصل مفہوم کے تقاضے کے تحت بہت سے معانی پیدا ہوتے ہیں ۔ اسی طرح لفظ رب اپنے اصل مفہوم کے اعتبار سے جن جن پہلوؤں کا تقاضا کرتا ہے، وہ سب اس میں شامل ہوتے چلے گئے ہیں ۔ اس لفظ کا حقیقی مفہوم تو ایک ہی ہے، مگر اس کے استعمالی مفہوم بہت سے بن گئے ہیں { FR 8659 }۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
مگر ’’ رب ‘‘ کی اس تشریح میں زیرِ بحث ذہن کو تسکین نہیں ملی۔ کیوں کہ اس طرح سیادت اور حکمرانی کا تصور محض اس کا ایک ایسا تقاضا بن رہا تھا جو لفظ کے اصل مفہوم میں شامل نہیں ہے۔ جب کہ یہ ذہن اس تصور کو اس کا براہِ راست مفہوم ثابت کرنا چاہتا ہے ۔ چنانچہ ایک صفحہ کے بعد بات بدل گئی ۔ جو چیز پہلے رب کا ’’ اساسی مفہوم ‘‘ تھی، وہ اس کا صرف ایک ’’مفہوم ‘‘ قرار پائی۔ لکھتے ہیں
’’ غلطی سے رب کے مفہوم کو محض پروردگار کے مفہوم تک محدود کر کے رکھ دیا گیا ہے اور ربوبیت کی تعریف میں یہ فقرہ چل پڑا ہے کہ ’’هو إنشاءُ الشَّيءِ حالًا فحالًا إلى حَدِّ التَّمامِ‘‘( ایک چیز کو درجہ بدرجہ ترقی دے کر پایۂ کمال کو پہنچا نا)۔
other sourceWords of another person or source
حالانکہ یہ اس لفظ کے وسیع معانی میں سے صرف ایک معنی ہے ۔اس کی پوری وسعتوں کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لفظ حسب ذیل مفہومات پر حاوی ہے
1۔ پرورش کرنے والا، ضروریات بہم پہنچانے والا ، تربیت اور نشوونما دینے والا۔
2۔ کفیل ، خبر گیراں ، دیکھ بھال اور اصلاحِ حال کا ذمہ دار۔
3۔ وہ جو مرکزی حیثیت رکھتا ہو ، جس پر متفرق اشخاص مجتمع ہوتے ہوں ۔
4۔ سیدِ مُطاع ، سردارِذی اقتدار ، جس کا حکم چلے ، جس کی فوقیت وبالا دستی تسلیم کی جائے ، جس کو تصرف کے اختیارات ہوں ۔
5۔ مالک، آقا۔ ‘‘ (صفحات28-29)
یہ ’’ رب‘‘ کی تشریح میں اس کتاب کے پہلے انحراف کی مثال تھی، جس کے ذریعہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ رب کا سیاسی مفہوم محض اس کا ایک عملی تقاضا نہیں، بلکہ وہ لفظ کے متعدد براہِ راست مفہومات میں سے ایک براہ راست مفہوم ہے ۔ اور بعینہ وہی حیثیت رکھتا ہے جو اس کے دوسرے کسی مفہوم کی حیثیت ہو سکتی ہے ۔
اس سلسلے میں کتاب کے اندر نہایت تفصیل سے قرآن میں مذکور اقوام کی گمراہی کا جائزہ لیا گیا ہے اور اس کے بعد سب کے بارے میں مشترک نتیجۂ تحقیق کو ’’ قرآن کی دعوت ‘‘ کے عنوان سے ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے
’’ گمراہ قوموں کے تخیلات کی یہ تحقیق جو پچھلے صفحات میں کی گئی ہے ، اس حقیقت کو بالکل بے نقاب کر دیتی ہے کہ قدیم ترین زمانہ سے لے کر زمانۂ نزول قرآن تک جتنی قوموں کا ذکر قرآن نے ظالم ، فاسد العقیدہ اور بد راہ ہونے کی حیثیت سے کیا ہے ، ان میں سے کوئی بھی خدا کی ہستی کی منکر نہ تھی ، نہ کسی کو اللہ کے مطلقاً رب اور الہٰ ہونے سے انکار تھا ، البتہ ان سب کی اصل گمراہی اور مشترک گمراہی یہ تھی کہ انھوں نے ربوبیت کے ان پانچ مفہومات کو جو ہم ابتداء میں لغت اور قرآن کی شہادتوں سے متعین کر چکے ہیں ، دو حصوں میں تقسیم کر دیا تھا ۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
رب کا یہ مفہوم کہ وہ فوق الفطری طور پر مخلوقات کی پرورش ، خبر گیری ، حاجت روائی اور نگہبانی کا کفیل ہوتا ہے ، ان کی نگاہ میں ایک الگ نوعیت رکھتا تھا ۔ اور اس مفہوم کے اعتبار سے وہ اگرچہ رب اعلیٰ تو اللہ ہی کو مانتے تھے مگر اس کے ساتھ فرشتوں اوردیوتاؤں کو ، جنوں اور غیرمرئی قوتوں کو،ستاروں اور سیاروں کو انبیاء اوراولیاء اور روحانی پیشواؤں کوبھی ربوبیت میں شریک ٹھہراتے تھے۔
اور رب کایہ مفہوم کہ وہ امرونہی کامختار ، اقتدار اعلیٰ کا مالک ،ہدایت ورہنمائی کامنبع، قانون کا ماخذ، مملکت کارئیس اور اجتماع کامرکزہوتا ہے ، ان کے نزدیک بالکل ہی ایک دوسری حیثیت رکھتا تھا اور اس مفہوم کے اعتبار سے وہ یا تو اللہ کے بجائے صرف انسانوں ہی کو رب مانتے تھے یا نظری طور پر اللہ کے رب ماننے کے باوجود عملاً انسانوں کی اخلاقی وتمدنی اور سیاسی ربوبیت کے آگے سر اطاعت خم کیے رہتے تھے ۔ اسی گمراہی کودور کرنے کے لیے ابتدا سے انبیاء علیہم السلام آتے رہے ہیں اور اسی کے لیے آخر کار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی۔ ان سب کی دعوت یہ تھی کہ ان تمام مفہومات کے اعتبار سے رب ایک ہی ہے اور وہ اللہ جل شانہ ہے ۔ ربوبیت ناقابلِ تقسیم ہے ، اس کا کوئی جزء کسی معنی میں بھی کسی دوسرے کو حاصل نہیں ہے ۔ کائنات کا نظام ایک کامل مرکزی نظام ہے جس کو ایک ہی خدا نے پیدا کیا، جس پرایک ہی خدا فرماں روائی کر رہا ہے جس کے سارے اختیارات واقتدارات کا مالک ایک ہی خدا ہے نہ اس نظام کے پیدا کرنے میں کسی دوسرے کا کچھ دخل ہے ، نہ اس کی تدبیر وانتظام میں کوئی شریک ہے ، اور نہ اس کی فرماں روائی میں کوئی حصہ دار ہے ۔ مرکزی اقتدار کا مالک ہونے کی حیثیت سے وہی اکیلا خدا تمہارا فوق الفطری رب بھی ہے اور اخلاقی وتمدنی اور سیاسی رب بھی ۔ وہی تمہارا معبود ہے ۔ وہی تمہارے سجدوں اور رکوعوں کا مرجع ہے ۔ وہی تمہاری دعاوں کا ملجاو ماویٰ ہے ، وہی تمہارے توکل واعتماد کا سہارا ہے ، وہی تمہاری ضرورتوں کا کفیل ہے ، اور اسی طرح وہی بادشاہ ہے ، وہی مالک الملک ہے ، وہی شارع وقانون ساز اور وہی امرونہی کا مختار بھی ہے ، ربوبیت کی یہ دونوں حیثیتیں ، جن کو جاہلیت کی وجہ سے تم نے ایک دوسرے سے الگ کیا ہے حقیقت میں خدائی کا لازمہ اور خدا کے خدا ہونے کا خاصہ ہیں ۔ انھیں نہ ایک دوسرے سے منفک کیا جاسکتاہے ، اور نہ ان میں سے کسی حیثیت میں بھی مخلوقات کو خدا کا شریک ٹھہرانا درست ہے۔‘‘ (صفحات 63-64)
unverifiedAttribution could not be verified automatically
یہاں ربوبیت کے ناقابل تقسیم ہونے کی بات جو کہی گئی ہے وہ بجائے خود صحیح ہے۔ مگر اس کی تشریح میں وہی غلطی کی گئی ہے، جو اس سے پہلے ہم الہٰ کی بحث میں دیکھ چکے ہیں ۔ قرآن میں ربوبیت کا ناقابل تقسیم ہونا اصلاً جس حیثیت سے بیان کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ کائنات کا پروردگا ر صرف ایک ہے ۔ پروردگاری کے اس کام میں کوئی بھی اس کا شریک نہیں ۔ وہ ان معنوں میں نہیں ہے کہ ’’ فوق الفطری ربوبیت ‘‘ اور ’’ تمدنی وسیاسی ربوبیت ‘‘ دونوں ایک وحدت کے اجزاء ہیںجنھیں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مثال کے طور پر ایک آیت لیجئے، جس کا اس کتاب کے ا ندر اس ضمن میں حوالہ دیا گیا ہے ( صفحہ 66)
وَاللهُ خَلَقَكُمْ مِنْ تُرابٍ …. يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهارِ وَيُولِجُ النَّهارَ فِي اللَّيْلِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ يَجْرِي لِأَجَلٍ مُسَمًّى ذلِكُمُ اللهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مَا يَمْلِكُونَ مِنْ قِطْمِيرٍ ۔ إِنْ تَدْعُوهُمْ لا يَسْمَعُوا دُعاءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجابُوا لَكُمْ وَيَوْمَ الْقِيامَةِ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ وَلا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ (35:11-14)۔ یعنی، اللہ نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ..... وہ رات کو دن میں پرو دیتا ہے اور دن کو رات میں ، اس نے چاند اور سورج کو ایسے ضابطہ کا پابند بنایا ہے کہ ہر ایک اپنے مقررہ وقت تک چلا جا رہا ہے۔ یہی اللہ تمہارا رب ہے پادشاہی اسی کی ہے۔ اس کے سوا جن دوسری ہستیوں کو تم پکارتے ہو اُن کے ہاتھ میں ایک ذرہ کا اختیار بھی نہیں ہے ، تم پکارو تو وہ تمہاری پکار سُن نہیں سکتے ، اور سُن بھی لیں تو تمہاری درخواست کا جواب دینا ان کے بس میں نہیں۔ تم جو انھیں شریک خدا بناتے ہو اس کی تردید وہ خود قیامت کے دن کریں گے ۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ خدا کو چھوڑ کر تم جن معبودوں کو پکارتے ہو وہ ذرہ برابر طاقت نہیں رکھتے ۔ حتیٰ کہ وہ تمہاری ’’ پکار ‘‘ کو سن بھی نہیں سکتے ۔ اس لیے تم اپنا رب اس کو بناؤ جس کی قوت اور تسخیر کا مظاہرہ رات دن ہوتا رہتا ہے ۔ یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ یہاں جس ربوبیت کے ناقابل تقسیم ہونے کا ذکر ہے وہ فوق الفطری ربوبیت ہے ۔ یہاں ان ہستیوں کے مقابلے میں اللہ کے رب حقیقی ہونے کا اعلان ہے جن کو انسان عالم اسباب پر متصرف سمجھ کر اپنی حاجتوں کے لیے انھیں ’’ پکارتا ‘‘ ہے ۔ اس لیے ظاہر ہے کہ اثبات میں بھی اسی نوعیت کی ربوبیت ماننی ہو گی جس نوعیت کی ربوبیت کی نفی کی گئی ہے یہاں میں تفسیر کے دو حوالے نقل کروں گا جس سے اس کی مزید وضاحت ہوتی ہے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
’’ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مَا يَمْلِكُوْنَ مِنْ قِطْمِيْرٍ ‘‘ ويكونُ ذلك مُقَرِّرًا لِما قَبْلَهُ مِن التَّفرُّدِ بالإلهيَّةِ والرُّبوبيَّةِ، واستِدلالًا عليه، إذ حاصِلُهُ جميعُ المُلكِ والتَّصرُّفِ في المَبدَإِ والمُنتهى لَهُ تعالى، وليسَ لِغيرِهِ سبحانهُ منهُ شيءٌ‘‘ (تفسير روح المعانی، جلد11، صفحہ 354)۔ یعنی، ’’اس کے سوا جن دوسری ہستیوں کو تم پکارتے ہو اُن کے ہاتھ میں ایک ذرہ کا اختیار بھی نہیں ہے‘‘یہ فقرہ اللہ کے الہٰ واحد ہونے اور ربوبیت اس کے لیے خاص ہونے کے لیے پچھلے جملہ کی تقریر اور اس کی دلیل ہے ، کیوں کہ اس کا حاصل یہ ہے کہ اقتدار اور تصرف تمام کا تمام شروع سے آخر تک اسی کے لیے ہے اور اس میں خدا کے سوا کسی اور کا کوئی حصہ نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ فقرہ اللہ کے الہٰ واحد ہونے اور ربوبیت اس کے لیے خاص ہونے کے لیے پچھلے جملہ کی تقریر اور اس کی دلیل ہے ، کیوں کہ اس کا حاصل یہ ہے کہ اقتدار اور تصرف تمام کا تمام شروع سے آخر تک اسی کے لیے ہے اور اس میں خدا کے سوا کسی اور کا کوئی حصہ نہیں ۔
وَالْإِشَارَةُ بِقَوْلِهِ ذلِكُمُ إِلَى الْفَاعِلِ لِهَذِهِ الْأَفْعَالِ وَهُوَ اللهُ سُبْحَانَهُ، واسم الْإِشَارَةِ مُبْتَدَأٌ، وَخَبَرُهُ اللهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ أَيْ هَذَا الَّذِي مِنْ صَنْعَتِهِ مَا تَقَدَّمَ هُوَ الْخَالِقُ الْمُقَدِّرُ، وَالْقَادِرُ الْمُقْتَدِرُ الْمَالِكُ لِلْعَالَمِ، وَالْمُتَصَرِّفُ فِيهِ، وَيَجُوزُ أَنْ يَكُونَ قَوْلُهُ لَهُ الْمُلْكُ جُمْلَةً مُسْتَقِلَّةً فِي مُقَابَلَةِ قَوْلِهِوَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مَا يَمْلِكُونَ مِنْ قِطْمِيرٍ أَيْ لَا يَقْدِرُونَ عَلَيْهِ وَلَا عَلَى خَلْقِهِ (فتح القدير للشوكانی ،جلد4، صفحہ393-394)۔ یعنی، ذالکم کا اشارہ مذکورہ بالا افعال کے فاعل کی طرف ہے جو کہ اللہ تعالیٰ ہے ۔ اور ذالکم ترکیب میں مبتدا ہے اور اس کی خبر ہے اللہ ربکم لہ الملک۔ یعنی یہ خدا جس کی تمام صنعتیں ہیں ، وہی خالق ہے، مقدر ہے ، قادر ہے ، مقتدر ہے ، عالم کا مالک ہے اور سب پر اسی کا تصرف ہے ۔ اور دوسری ترکیب یہ ہو سکتی ہے کہ لہ الملک اگلے فقرے کے مقابلے میں مستقل جملہ ہو ۔ ایسی صورت میں مطلب یہ ہو گا کہ خدا کے سوا جن کو تم پکارتے ہو، وہ موجودات پر یا ان کی تخلیق پر کوئی قدرت نہیں رکھتے ۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
زیرِِ بحث کتاب کے مذکورہ طویل اقتباس میں قدیم ترین زمانہ سے لے کر زمانۂ نزولِ قرآن تک گمراہ قوموں کی جس ’’ اصل اور مشترک گمراہی ‘‘ کا ذکر ہے ، اس کو ثابت کرنے کے لیے کتاب میں ’’ ربوبیت کے باب میں گمراہ قوموں کے تخیلات ‘‘ کے عنوان کے تحت نہایت تفصیل کے ساتھ ان کا جائزہ لیا گیا ہے ۔ اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ سب کی سب ربوبیت کے بارے میں مذکورہ بالا دو قسم کی گمراہی میں مبتلا تھیں ۔ ایک فوق الفطری ربوبیت میں دوسروں کو شریک کرنا۔ دوسرے ، اخلاقی وتمدنی وسیاسی ربوبیت، دوسروں کو دینا ۔ مگر اس لمبی بحث کے باوجود جو کچھ ثابت ہوا وہ صرف ربوبیت کا پہلا مفہوم ہے ۔ ربوبیت کا دوسرا مفہوم کسی آیت سے نہیں نکلتا ۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بیشتر ایسی آیتوں سے استدلال کیا گیا ہے، جن میں لفظ ’’ رب ‘‘ سرے سے موجود ہی نہیں ۔ مثلاً قوم نوح کے سلسلے میں یہ آیت نقل کی گئی ہے
إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ . فَاتَّقُوا اللهَ وَأَطِيعُونِ (26:107-108)۔ یعنی، میں تمہارے لیے رسول امین ہوں پس خدا سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
کتاب کی تشریح کے مطابق اس آیت میں اخلاق ، معاشرت ، تمدن ، سیاست اور تمام معاملات زندگی میں خدا کو رب یعنی حاکم اور مقتدر اعلیٰ قرار دینے کا ذکر ہے ۔ مگر قطع نظر اس کے کہ یہاں یہ بات نہیں کہی گئی ہے ، جس فقرے میں سرے سے رب کا لفظ ہی موجود نہ ہو اس سے ربوبیت کے کسی مفہوم پر کیسے استدلال کیا جا سکتا ہے ۔
بعض قوموں کے سلسلے میں ایسی آیات بھی پیش کی گئی ہیں جن میں رب کا لفظ موجود ہے۔ مگر ان سے مصنف کا مدعا ثابت نہ ہو سکا۔کیوں کہ ان آیات میں رب کا لفظ ’’ سیاسی اور تمدنی ربوبیت ‘‘ کے معنی میں نہیں ہے ۔ مثلاً قوم عاد کی گمراہیوں کے سلسلے میں حسب ذیل آیت پیش کی گئی ہے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
وَتِلْكَ عادٌ جَحَدُوا بِآياتِ رَبِّهِمْ (11:59)۔
اس کے بعد آیت میں حسب ذیل فقرہ ہے
وَعَصَوْا رُسُلَهُ وَاتَّبَعُوا أَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ (11:59)۔ یعنی، اور اس کے رسولوں کو نہ مانا اور ہر جبار دشمنِ حق کی پیروی کی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس فقرہ میں بھی جبابرہ کے اتباع سے مراد یہ نہیں ہے کہ انھوں نے’’سیاسی اور تمدنی معاملات میں ان کی اطاعت کی‘‘۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آیاتِ الٰہی کے ذریعہ رسول کے منجانب اللہ ہونے کی جو تصدیق مل رہی تھی ، اس سے انھوں نے ہدایت نہیں پکڑی ۔ بلکہ وقت کے سرکش لیڈروں کا ساتھ دیتے ہوئے اس کا انکار کیا جو رسول کی رسالت کو جھٹلا رہے تھے ۔
اس فقرے کا ترجمہ کتاب ’’ قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں ‘‘ میں کیا گیا ہے— ’’ اور یہ عاد ہیں جنھوں نے اپنے رب کے احکام ماننے سے انکار کر دیا ‘‘۔ ( صفحہ 35) آیت کا لفظ ’’حکم‘‘کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ مگر’’آیت‘‘کے اصل معنی نشانی کے ہیں اور یہاں یہی مراد ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ رسول کو پہچاننے کے لیے انھیں جو نشانیاں دی گئی تھیں ۔ اس سے انھوں نے بصیرت حاصل نہیں کی اور اس کی تکذیب کی ۔ یہاں ’’ سیاسی اور تمدنی ربوبیت ‘‘ کا کوئی ذکر نہیں ۔ علامہ آلوسی بغدادی لکھتے ہیں
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
’’جَحَدُوا بِآياتِ رَبِّهِمْ ‘‘أي كَفَروا بِآياتِ رَبِّهِمُ الَّتي أَيَّدَ بِها رَسولَهُ الدّاعي إليه، ودَلَّ بِها على صِدقِهِ، وأنكَرُوها، فقالوا يَا هُودُ مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَة (روح المعانی، جلد6، صفحہ 284)۔یعنی، ’’آیات کا انکار کیا ‘‘— یعنی ان نشانیوں کا انکار کیا جو ان کے رسول کو رسالت کی پہچان کے لیے دی گئی تھیں ۔ اور اس بات پر دلالت کرتی تھیں کہ رسول اپنے دعوے میں سچا ہے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مگر اتنی بات سے اس ذہن کو تسکین نہیں ہو سکتی تھی ۔ کیوں کہ وہ تو اقتدار اور حکمرانی کے معاملہ کو متعدد مفہومات میں سے صرف ایک مفہوم نہیں بلکہ اسی کو اصل مفہوم قرار دینا چاہتا ہے۔ چنانچہ یہ بحث اپنے آخری نتیجے تک پہنچتے پہنچتے ایک اور موڑ مڑگئی ۔ بحث کے آخر میں قرآن کی دعوت ‘‘ کے عنوان سے بہت سی آیتیں نقل کرنے کے بعد آخر میں لکھتے ہیں
’’ ان آیات کے سلسلے سے صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ قرآن ربوبیت کو بالکل حاکمیت اور سلطانی ( sovereignty) کا ہم معنی قرار دیتا ہے اور رب کا یہ تصور ہمارے سامنے پیش کرتا ہے کہ وہ کائنات کا سلطانِ مطلق اور لا شریک مالک وحاکم ہے — اسی حیثیت سے وہ ہمارا اور تمام جہان کا پروردگار ، مربی اور حاجت روا ہے ، اسی حیثیت سے وہ ہمارا کفیل ، خبر گیراں ، مختار کار ، اور معتمد علیہ ہے ، اسی حیثیت سے اس کی وفاداری وہ قدرتی بنیاد ہے جس پر ہماری اجتماعی زندگی کی عمارت صحیح طور پر قائم ہوتی ہے اور اس کی مرکزی شخصیت سے وابستگی تمام متفرق افراد اور گروہوں کے درمیان ایک امت کا رشتہ پیدا کرتی ہے ، اسی حیثیت سے وہ ہماری اور تمام مخلوقات کی بندگی ، اطاعت اور پرستش کا مستحق ہے ، اسی حیثیت سے وہ ہمارا اور ہر چیز کا مالک، آقا اور فرمانروا ہے ‘‘۔ (صفحات 68-69)
گویا رب کا لفظ اپنی پہلی تشریح کے مطابق یہ معنی رکھتا تھا کہ اس کا اصل مفہوم پرورش ہے مگر پرورش کے تقاضے کے تحت اس میں کئی اور مفہومات پیدا ہوتے ہیں ۔ اس کا تقاضا ہے کہ جو پرورش کرے وہ بالا تر اقتدار کاحامل ہو ۔ کیوں کہ پرورش کے لیے زمین وآسمان میں جس تصرف کی ضرورت ہے وہ اس کے بغیر نہیں ہو سکتا، نیز جس کی پرورش کی جائے ، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے پروردگا ر کی فرمانبرداری کرے ۔ کیوں کہ ایسا نہ کرنا انتہائی نا شکری اور نمک حرامی ہے ۔ مگر آخری تشریح کے مطابق بات یہ بن گئی کہ رب کا لفظ حاکم اور سلطان کے ہم معنی ہے ۔ اور حاکمیت اور سلطانی کا تقاضا ہے کہ وہی مربی ہو، وہی مختار کار ہو، اسی کی وفاداری کی جائے ، اسی کی پرستش ہو، وہی ہمارا مالک وآقا قرار پائے۔ اس طرح بات بالکل الٹ گئی۔ پہلی صورت میں پرورش کے تقاضے کے تحت دیگر مفہومات نکل رہے تھے ۔ اور آخری صورت میں اقتدار کے تقاضے کے تحت تمام مفہومات نکلنے لگے۔
رب کے لفظ کو ’’ بالکل حاکمیت اور سلطانی کے ہم معنی ‘‘ قرار دینے کے لیے کتاب میں سولہ آیتیں نقل کی گئی ہیں ۔ ( صفحات68-69) ان میں سے کچھ آیتیں ایسی ہیں جن کا حوالہ دوسری اصطلاحات کے سلسلے میں بھی دیا گیا ہے اور وہاں ہم نے ان پر گفتگو کی ہے ۔ یہاں میں ان میں سے چند خاص آیتوں پر گفتگو کروں گا جس سے واضح ہو گا کہ ان حوالوں سے وہ مخصوص انقلابی مفہوم ثابت نہیں ہوتا جو موصوف ثابت کرنا چاہتے ہیں ۔
پہلی آیت جو اس سلسلے میں نقل کی گئی ہے ، وہ یہ ہے
اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ يُغْشِي الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهٗ حَثِيْثًا ۙ وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍۢ بِاَمْرِهٖ ۭاَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ ۭ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ (7:54)۔ یعنی، حقیقت میں تمہارا رب تو اللہ ہے جس نے آسمان وزمین کو چھ دن میں پیدا کیا اور پھر اپنے تختِ سلطنت پر جلوہ افروز ہو گیا ، جو دن کو رات کا لباس اُڑھاتا ہے اور پھر رات کے تعاقب میں دن تیزی کے ساتھ دوڑتا آتا ہے ، سورج اور چاند اور تارے سب کے سب جس کے تابع فرمان ہیں ، سنو، خلق اسی کی ہے اور فرماں روائی بھی اسی کی بڑا بابرکت ہے وہ کائنات کا رب۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
اس آیت میں غالباً — اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ کے فقرے سے یہ سمجھا گیا ہے کہ اس میں ’’سیاسی ربوبیت‘‘ کا ذکر ہے ۔ یعنی فقرے کا مطلب یہ ہے کہ خلق اس کی ہے تو قانونی اور سیاسی حکمرانی بھی لوگوں کے اوپر اسی کی نافذ ہونی چاہیے ۔
اس بات کے الگ سے مطلوب ہونے میں مجھے کوئی شبہ نہیں ۔ مگر اس جملہ کا مطلب یہ نہیں ہے ۔ پوری آیت پر غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ کے ٹکڑے میں جو بات کہی گئی ہے وہ وہی ہے جو اس سے متصل اوپر کے الفاظ میں کہی گئی تھی ۔ خَلَقَ السَّماواتِ وَالْأَرْضَ الخ سے ’’ خلق ‘‘ کا ذکر تھا اور اس کے بعد ’’مُسَخَّراتٍ بِأَمْرِهِ‘‘ میں ’’امر‘‘ کا ۔ اسی کو بعد کے فقرے میں اللہ سے مختص کرتے ہوئے فرمایا أَلا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ۔ یعنی، زمین وآسمان اور اس کی تمام چیزوں کو خدا ہی نے پیدا کیا ہے اور سب پر براہِ راست اسی کا کنٹرول ہے ۔ اس لیے تم اسی سے ’’خوف اور امید ‘‘ رکھو اور صرف اسی سے ’’ دعا ‘‘ مانگو (الاعراف،7:55-56)۔ یہی مفہوم مفسرین نے لیا ہے ۔ میں ایک حوالہ یہاں نقل کروں گا
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
’’والشَّمسُ والقَمَرُ والنُّجومُ مُسخَّراتٌ بِأمرِهِ‘‘، أي خَلَقَهُنَّ حالَ كَونِهِنَّ مُسخَّراتٍ بِقَضائِهِ وتَصرِيفِهِ. أَلَا لَهُ الخَلقُ والأمرُ، فإنَّهُ المُوجِدُ للكُلِّ والمُتصرِّفُ فيهِ على الإطلاقِ ( تفسير أبی السعود،3، صفحہ 232)۔یعنی، ’’ سورج ، چاند ، ستارے ، سب اسی کے امر کے تحت مسخر ہیں ‘‘۔ یعنی انھیں اس طرح پیدا کیا ہے کہ اسی کا فیصلہ ان کے اوپر نافذ ہوتا ہے ،اور وہی انھیں گردش دے رہا ہے۔ ’’ خلق اسی کی ہے اور امر اسی کا ‘‘۔ کیوں کہ وہی سب کو وجود دینے والا ہے اور کلی طور پر اسی کا تصرف سب کے اوپر ہے‘‘ ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ایک اور آیت یہ ہے
فَلِلهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّماواتِ وَرَبِّ الْأَرْضِ رَبِّ الْعالَمِينَ ۔ وَلَهُ الْكِبْرِياءُ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (45:36-37)۔ یعنی، پس ساری تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو زمین وآسمان اور تمام کائنات کا رب ہے ، کبریائی اسی کی ہے آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی ، اور وہ سب پر غالب اور حکیم ودانا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس آیت میں غالباً رَبِّ السمواتِ وَرَبِّ الأرْضِ سے دونوں قسم کی ربوبیتوں کا مفہوم اخذ کیا گیا ہے ۔ یعنی اس کا مطلب یہ سمجھا گیا کہ آسمانوں میں فوق الفطری اقتدار بھی اسی کا ہے اور زمین میں قانونی اور سیاسی اقتدار بھی اسی کا ۔ مگر یہ ایک بے دلیل بات ہے ۔ کیوں کہ آس پاس اس مفہوم کے لیے کوئی قرینہ نہیں ہے اور بغیر کسی واضح قرینہ کے محض لفظ ’’کبریاء‘‘ سے سیاسی اقتدار کا مفہوم نکالا نہیں جا سکتا۔ کبریا کے معنی عظمت اور بڑائی کے ہیں اور قرآن میں اس طرح کے الفاظ زمین وآسمان میں اللہ تعالیٰ کے فوق الفطری اقتدار اور بالا تری کو بتانے کے لیے آتے ہیں اور وہی یہاں بھی مراد ہیں ۔ حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
فَلِلهِ الْحَمْدُ رَبِّ السمواتِ وَرَبِّ الأرْضِ أَيِ الْمَالِكِ لَهُمَا وَمَا فِيهِمَا؛ وَلِهَذَا قَالَ رَبِّ الْعَالَمِينَ .ثُمَّ قَالَ وَلَهُ الْكِبْرِيَاءُ فِي السمواتِ وَالأرْضِ قَالَ مُجَاهِدٌ يَعْنِي السُّلْطَانَ. أَيْ هُوَ الْعَظِيمُ الْمُمَجَّدُ، الَّذِي كَلُّ شَيْءٍ خَاضِعٌ لَدَيْهِ فَقِيرٌ إِلَيْه ( تفسير ابن كثير ، جلد 7، صفحہ 273)۔’’ ساری حمد اللہ ہی کے لیے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے ‘‘ یعنی وہی زمین وآسمان کا اور ان کے درمیان تمام چیزوں کا مالک ہے ، اور ’’ اسی کی کبریائی ہے آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی ‘‘ اس کی تشریح مجاہد نے یہ کی ہے کہ اسی کا اقتدار ہے یعنی وہی بڑائی اور بزرگی والا ہے جس کے آگے ہر چیز پست ہے اور اس کی محتاج ہے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
شو کانی لکھتے ہیں
وَلَهُ الْكِبْرِياءُ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ أَيِ الْجَلَالُ وَالْعَظَمَةُ وَالسُّلْطَانُ، وَخَصَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ لِظُهُورِ ذَلِكَ فِيهِمَا وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ أَيِ الْعَزِيزُ فِي سُلْطَانِهِ. فَلَا يُغَالِبُهُ مُغَالِبٌ، الْحَكِيمُ فِي كُلِّ أَفْعَالِهِ وَأَقْوَالِهِ وَجَمِيعِ أَقْضِيَتِهِ (فتح القدير للشوكانی، جلد 5، صفحہ 14)۔ ’’ زمین وآسمان میں بڑائی اسی کی ہے ‘‘—یعنی جلال وعظمت اور اقتدار اسی کا ہے ۔ اور آسمان وزمین کا خاص طور پر اس لیے ذکر کیا کہ ان میں اس کی ان صفات کا ظہور ہوا ہے ‘‘ ۔ وہی عزیز وحکیم ‘‘ ہے، یعنی اس کا اقتدار سب سے بڑھ کر ہے اس پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ وہ اپنے اقوام وافعال اوراپنے تمام فیصلوں میں حکیم ہے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ایک آیت یہ ہے
إِنَّ هذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً واحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ ۔ وَتَقَطَّعُوا أَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ كُلٌّ إِلَيْنا راجِعُونَ (21:92-93)۔ یعنی، حقیقت میں تمھاری یہ امت ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں ، لہٰذا تم میری ہی بندگی کرو۔ لوگوں نے اس کار ربوبیت اور اس معاملہ بندگی کو آپس میں خود ہی تقسیم کر لیا ہے مگر ان سب کو بہر حال ہماری طرف ہی پلٹ کر آنا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اوپرمیں نے آیت کا جو ترجمہ دیا ہے وہ زیرِ بحث کتاب کا ترجمہ ہے ۔ اوراسی ترجمہ میں یہ بات چھپی ہوئی ہے کہ یہ آیت کس طرح مصنف کے نزدیک ربوبیت کے سیاسی مفہوم کی ماخذ بن گئی ہے ۔ ’’ اس کا رربوبیت کو آپس میں خود ہی تقسیم کر لیا ‘‘ کا ترجمہ بتاتا ہے کہ تَقَطَّعُوْٓا اَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ کا مطلب غالباً یہ لیا گیا ہے کہ ربوبیت اپنے تمام فوق الفطری اور سیاسی وتمدنی مفہومات کے ساتھ خدا کے لیے خاص تھی ۔ مگر لوگوں نے کچھ خدا کو دیا اور کچھ آپس میں تقسیم کر لیا۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
مگر یہاں اس قسم کے کسی نظریہ کا کوئی ذکر نہیں ہے ۔ تَقَطَّعُوْٓا اَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ کا ترجمہ یہ ہے کہ — ’’انھوں نے ٹکڑے کر لیا اپنے معاملہ کو اپنے درمیان ‘‘ امۃ واحدۃ کا لفظ بتا رہا ہے کہ یہاں جس تقطع کا ذکر ہے وہ اسی امر(امۃ واحدۃ )میں تقطع ہے، نہ کہ کسی اور چیز میں۔
اس آیت سے پہلے ’’ رجال وحی ‘‘ کا ذکر ہے ( الانبیاء، 21:8) اور اس سلسلے میں ایک درجن سے زیادہ انبیاء کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ سب ’’امتِ واحد ‘‘ ہیں۔ یعنی ایک ایسا گروہ جو بنیادی طورپر ایک دین لے کر آیا اور ایک دین پر قائم رہا ۔ مگر اس کے بعد ان کے متبعین نے اس وحدت کو باقی نہیں رکھا ۔ ہم نے تو ایک ہی بنیادی دین سب کو دیا تھا۔ مگر لوگوں نے خود اختلاف ڈال کر اس کے ٹکڑے کر لیے اور الگ الگ مذہبی فرقے بن کر ایک دوسرے سے لڑنے لگے اور اصل دین کو چھوڑ دیا۔
شو کانی لکھتے ہیں
إِنَّ هذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً واحِدَةً وَالْأُمَّةُ الدِّينُ كَمَا قال ابن قتيبة، ومنه إِنَّا وَجَدْنا آباءَنا عَلى أُمَّةٍ أَيْ عَلَى دِينٍ، كَأَنَّهُ قَالَ إِنَّ هَذَا دِينُكُمْ دِينٌ وَاحِدٌ لَا خِلَافَ بَيْنَ الْأُمَمِ الْمُخْتَلِفَةِ فِي التَّوْحِيدِ، — وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ خَاصَّةً لَا تَعْبُدُوا غَيْرِي كَائِنًا مَا كَانَ وَتَقَطَّعُوا أَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ أَيْ تَفَرَّقُوا فِرَقًا فِي الدِّينِ حَتَّى صَارَ كَالْقِطَعِ الْمُتَفَرِّقَةِ. وَقَالَ الْأَخْفَشُ اخْتَلَفُوا فِيهِ، وَهُوَ كَالْقَوْلِ الْأَوَّلِ( فتح القدير للشوكانی، جلد3، صفحہ 502)۔یعنی، امت کا لفظ یہاں دین کے معنی میں ہے۔ گویا فرمایا کہ تمہارا یہ دین ایک ہی دین ہے مختلف امتوں کے درمیان توحید میں کوئی اختلاف نہیں ’’ میں تمہارا رب ہوں لہٰذا میری ہی عبادت کرو ‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ عبادت کو میرے لیے خالص کر دو اور کسی بھی دوسری چیز کی عبادت نہ کرو ۔ (تَقَطَّعوا أَمْرَهُم بَيْنَهُم)کے فقرے کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے دین میں فرقے کر ڈالے یہاں تک کہ دین ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ اخفش نے کہا ہے کہ انھوں نے دین میں اختلاف کیا ۔ اور یہ پہلے قول کے مطابق ہے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically