← Tabeer Ki GhalatiTabeer Ki Ghalati
خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی
Urdu · 67 min
مولانا جلیل احسن صاحب سے میری مراجعت کی روداد فروری 1962ء سے شروع ہوتی ہے۔ اس مہینہ کے شروع میں جب وہ رام پور تشریف لائے تھے، اور جناب عبدالحئی صاحب (ایڈیٹر الحسنات اور رکن شوریٰ) کے یہاں مقیم تھے۔ انہوں نے پہلی بار میری تحریر دیکھی۔ جب مجھے معلوم ہوا کہ مولانا نے میری تحریر دیکھ لی ہے، تو میں نے ان کی خدمت میں حاضر ہو کر ان کا تبصرہ دریافت کیا۔ انہوں نے کہا کہ زبانی گفتگو کے بجائے میں اس کے بارے میں تحریری طور پر اپنی رائے دینا چاہتا ہوں۔ البتہ مجھے آپ کی تحریر کی ایک نقل درکار ہو گی۔ میں نے کہا یہ میرے لیے اور زیادہ خوشی کی بات ہے،کیوں کہ تحریری تبصرہ کی صورت میں زیادہ تفصیل کے ساتھ آپ کی رائے حاصل ہو گی۔ اور زیادہ بہتر شکل میں اس پر غور کرنے کا موقع ملے گا۔ میں نے فوراً وعدہ کر لیا، کہ ان شاء اللہ میں جلد ہی اس کی نقل آپ کو فراہم کر دوں گا۔
اس وقت میری تحریر ان کو پڑھنے کے لیے عبدالحئی صاحب نے اپنی طرف سے دی تھی۔ اس لیے وہ خود بھی مولانا کا تبصرہ معلوم کرنے کے بہت مشتاق تھے۔ چنانچہ انہوں نے کافی کریدنے کی کوشش کی۔ مگر مولانا آخر تک نہیںکھلے۔ بڑی مشکل سے صرف ایک جملہ کہا
’’اس تحریر کو پڑھ کر میں سخت کبیدہ خاطر ہوا‘‘
اس کے بعد 10 مارچ 1962ء کی ڈاک سے میں نے تحریر کی ایک نقل مولانا جلیل احسن صاحب کے نام روانہ کر دی۔ اس کے وصول ہونے کے بعد مولانا نے لکھا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ اپنی تحریر کو مزید مکمل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس لیے جب اس کو مکمل کر چکیں تو اس کی نقل مجھے بھیجیں۔ اس وقت میں اپنی رائے دے سکوں گا۔ چنانچہ انہوں نے اپنے حسب ذیل خط کے ساتھ میرا مضمون واپس بھیج دیا۔
سرائمیر 26 مارچ 1962ء
برادر مکرم سلام علیک
آپ کا مقالہ واپس کر رہا ہوں، اور خوشی ہوئی کہ اس کا آخری مسودہ جیسا کہ آپ نے تحریر فرمایا ہے، تیار کر رہے ہیں۔ مشورۃً عرض ہے کہ آخری مسودہ تیار ہو جائے تو وہاں آپ کے پاس مولانا صدر الدین، مولانا حامد اور مولانا عروج صاحب نیز دوسرے اصحاب عربیت و تفقہ موجود ہیں، انھیں دکھائیں، ان کی تنقیدوں اور تبصروں کو ’’قبول‘‘ کریں، ایک بات جو آپ نے سوچ لی ہے اس پر اڑ نہ جائیں۔ یہ طریقہ طالب حق کا نہیں ہے۔ اس مرحلہ سے گزرنے کے بعد مجھے پڑھنے کو دیں۔ اور ظاہر ہے کہ میں طالب علم ہوں، سوالات کروں گا۔ توضیح کراؤں گا۔ دلائل کے بارے میں پوچھوں گا۔ اور یہ بھی ظاہر ہے کہ میرا طریقہ اس طریقہ کی تحریروں کے بارے میں مکاتبت کا ہے، مخاطبت اور مکالمت کا نہیں جیسا کہ میں نے عرض کیا تھا، زبانی بھی اور تحریراً بھی۔
رام پور میں کئی اصحاب سے (میری گفتگو ہوئی تھی) ان سب اصحاب کی یہ متفقہ رائے تھی کہ آپ ایک بات جب اپنے ذہن میں جما لیتے ہیں، تو پھر اس میں کسی تبدیلی کے لیے سوچنا بالکل خارج از بحث ہو جاتا ہے، بھائی خدا کرے یہ بات غلط ہو۔ میرا بھی اندیشہ غلط ہو۔ لیکن اگر بات ایسی ہے جیسی کہ سنی ہے، اور جس کا خدشہ آپ کی یہ تحریر دیکھ کر مجھے بھی لاحق ہوا ہے، تو یہ طریقہ طالبین حق کا طریقہ نہیں ہے، اس پر آپ کو سوچنا چاہیے۔‘‘
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جلیل احسن
اس کے بعد مدرستہ الاصلاح کے بحرانی حالات کی وجہ سے یہ سلسلہ کچھ دنوں کے لیے رک گیا ۔ حتیٰ کہ مولانا میرے خطوط کا جواب بھی نہ دے سکے۔ اس کے بعد جولائی 1962ء کے پہلے ہفتہ میں مولانا جلیل احسن صاحب مدرستہ الاصلاح سے سبک دوش ہو کر چند دنوں کے لیے رام پور تشریف لائے یہاں مولانا ابواللیث صاحب نے ان سے گفتگو کر کے انھیں تحریر کا جواب دینے کے لیے آمادہ کیا۔ اس کے بعد ان سے جو گفتگو ہوئی اور وہ جس منزل پر پہنچی، اس کی روداد اس خط و کتابت سے معلوم ہو گی جو اس دوران میں میرے اور موصوف کے درمیان ہوئی۔ میں نے مولانا کو لکھا کہ امیر جماعت سے معلوم ہوا کہ انہوں نے آپ سے گفتگو کی ہے۔ اور آپ میری تحریر پر تبصرہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ براہ کرم اپنی آمادگی سے مطلع فرمائیں۔ تاکہ تحریر آپ کی خدمت میں روانہ کی جا سکے۔ اس کے جواب میں حسب ذیل خط ملا
چترپور 9 جولائی 1962ء
برادر مکرم وعلیکم السلام
1۔ مولانا ابواللیث صاحب نے مجھ سے اسی طرح کہا جیسا آپ نے لکھا ہے۔
other sourceWords of another person or source
2۔ میں نے کہا مجھ سے معاملہ اس طرح ہو سکتا ہے، اور اس کی اطلاع بھی آپ کو دی ہے کہ مسودہ کو آخری شکل دے کر اس کی نقل ملے، میں پڑھوں اور پھر طالب علم کی طرح سوالات کروں توضیح مطالب چاہوں دلائل پر غور کروں اور پوچھوں ا س طرح یہ مساءلۃجو تحریر کے ذریعہ ہو گا۔ اس میں دیر لگے گی، اس طرح کی مکاتبت میں مدت کی تحدید نہ آپ کر سکتے ہیں نہ میں کر سکتا ہوں اس کے لیے بہرحال صبر درکار ہے۔ والسلام
unverifiedAttribution could not be verified automatically
جلیل احسن
اس کے جواب میں 21 جولائی کی ڈاک سے میں نے تحریر کی ایک نقل مولانا کی خدمت میں روانہ کر دی اور درخواست کی کہ براہ کرم اپنا تبصرہ اگست کے آخر تک لکھ کر بھیج دیں، اس کے بعد موصوف کا حسب ذیل خط ملا۔
چتر پور 25 جولائی 1962ء
برادر مکرم جناب وحید الدین خاں! سلام مسنون
میری شرط آپ تسلیم کریں کہ میں پوچھوں گا، اور یہ بھی شرط لازم جانیں کہ میرے یہاں تحدید وقت ناممکن ہے۔
ان دونوں باتوں کو تسلیم کیجیے تب آپ کی مرسلہ تحریر دیکھنے کے لیے اٹھاؤں گا، اگر آپ کو یہ منظور نہ ہو تو تحریر بمسرت واپس کی جائے گی۔ ان باتوں کو میں مدرستہ الاصلاح سے لکھ چکا ، لیکن آپ نے انھیں کلیتہً نظرانداز کرتے ہوئے لکھاکہ تحریر بھیج رہا ہوں، اور یہ کہ تم لازماً اگست کے آخر تک اپنا تبصرہ لکھو۔ میں عرض کرتا ہوں کہ یہ بالکل ناممکن ہے۔ مجھے اس طرح کی تبصرہ نگاری آتی تو بار بار اپنی شرط کا اعادہ کیوں کرتا۔ آخر آپ اتنے بے صبرکیوں ہو گئے؟ کیا بے صبری ’’مومن کامل‘‘ کی صفات میں سے صفت اول ہے؟
unverifiedAttribution could not be verified automatically
جلیل احسن
میں نے جواب میں لکھا کہ آپ خود جیسے مناسب سمجھیں اس کے مطابق تبصرہ کریں، میں بہرحال اپنے خیالات کے بارے میں آپ کا تبصرہ معلوم کرنا چاہتا ہوں اس کے بعد حسب ذیل خط موصول ہوا
چتر پور 7 اگست 1962 ء
برادر مکرم سلام مسنون
1۔ آپ کی تحریر ملی پر ابھی پڑھی نہیں ہے،
2۔ اطلاع یہ ملی ہے کہ آپ یہ تحریر شائع کرنے کے لیے بیتاب ہیں کیا یہ صحیح ہے؟
3۔ اس صورت میں میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ اعظم گڑھ چلے آئیں، اور پھر ہمارے آپ کے درمیان مراسلت ہو، ہو سکتا ہے آپ پر اپنی تعبیر کی غلطی واضح ہو جائے، جس آدمی کو اطمینان نہ رہے جماعتی فکر پر تو اس کے لیے اچھی راہ یہ ہے کہ اس سے خاموشی کے ساتھ الگ ہو جائے اور اپنے پسندیدہ طریق پر دین کا کام کرے۔ رہی یہ صورت کہ وہ اس کی اشاعت کے لیے قلم سنبھالے، قلم کو تیر و نشتر بنائے اور میثاق نکالے، یہ راہ اچھی راہ نہیں ہے۔ اور میں مخلصانہ مشورہ آپ کو دیتا ہوں کہ یہ راہ آپ ہرگز اختیار نہ کریں۔ اس کا کل نقصان آپ کو پہنچے گا۔ رہے وہ لوگ جو آپ کے عقیدہ کے مطابق صمّ ٌبکم ٌعمیٌ ہو چکے ہیں۔ وہ اپنی راہ پر چلتے رہیں گے، اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْت (28:56)۔ اگرچہ میری بتائی ہوئی راہ بہت مشکل ہے، مشکل اس وجہ سے ہے کہ آپ کا نفس آپ کو سوتے جاگتے ہر آن اکساتا ہو گا، آپ سے کہتا ہو گا کہ امر بالمعروف واجب ہے، حق بات کا اعلان و اظہار و اشاعت ضروری ہے، اگر تم ایسا نہ کرو گے، اگر تم باطل کا لباس پہننے والوں کو ننگا نہ کرو گے تو کتمان حق اور خیانت کے مجرم ہو گے اور پھر آپ کا نفس آپ کو پورے زور سے آخرت یاد دلاتا ہو گا کہ اس دن تو اپنے اس جرم کتمان حق پر خدا کے حضور کیوں کر اور کن الفاظ میں عذر خواہی کرے گا، آہ ، آہ !— اس وجہ سے میری بتائی ہوئی راہ مشکل ہے۔ پر آپ یہی راہ اختیار کیجیے، لیکن اگر یہ آپ کے لیے بالکل قابل قبول نہیں تو پھر یہ سب سے آپ تبصرے کیوں لکھوا رہے ہیں، اس صورت میں تو تحریری شائع ہونے کے بعد ہی تبصرے موزوں رہیں گے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
مجھے آپ کے جواب کا شدت سے انتظار رہے گا۔
والسلام جلیل احسن
پس نوشت مکرر عرض ہے کہ مجھے آپ کے جواب کا انتظار رہے گا، بتائیے کیا یہ اطلاع صحیح ہے؟ نیز یہ کہ میرے مشورے پر غور کیجیے اور بتائیے کہ آپ کیا کرنے جا رہے ہیں، اگر دوسری راہ پر کاربند ہونا چاہیں تو آپ اپنے قلب کو گندا ہونے سے بچا نہ سکیں گے۔ اور پھر آملنے کی راہیں بند ہو جائیں گی یہ راہ کھلی رہنی چاہیے!
رام پور ،13 اگست 1962ء
محترمی! سلام مسنون
گرامی نامہ مورخہ 7 اگست ملا، آپ نے لکھا ہے— ’’میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ اعظم گڑھ چلے آئیں اور پھر ہمارے آپ کے درمیان مراسلت ہو، ہو سکتا ہے آپ پر اپنی تعبیر کی غلطی واضح ہو جائے۔‘‘ میں آپ کے اس مشورہ کو قبول کرتا ہوں۔ چنانچہ آج ہی میں امیر جماعت کو خط لکھ رہا ہوں کہ وہ مجھے رام پور سے اعظم گڑھ جانے کی اجازت دے دیں۔ ان شاء اللہ، ان کا جواب آنے کے بعد جو صورت ہو گی اس پر عمل کروں گا، اور اس کےمطابق آپ کو مطلع کر دوں گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اب آپ سے گزارش ہے کہ اپنا کام شروع کر دیں، جب میں نے آپ کامشورہ مان لیا تو اب آپ کے اوپر میرا یہ حق ہو جاتا ہے کہ اپنے ضروری مشاغل کے سوا اپنے تمام اوقات کو میرے لیے خاص کر دیں، کیوں کہ زندگی کا کوئی اعتبار نہیں ۔ کچھ نہیں معلوم کہ کب سننے والے کا وقت ختم ہو جائے اور کب سنانے والے کا۔
اگر کوئی گستاخی ہوئی ہو تو اس کے لیے مجھے معاف فرمائیں گے۔
خادم وحیدالدین
اس دوران میں جناب عبدالحئی صاحب (اڈیٹر الحسنات)نے بطور خود ایک خط مولانا جلیل احسن صاحب کو روانہ کیا، موصول کا یہ خط تو میں نے نہیں دیکھا، البتہ اس کا جو جواب آیا وہ انہوں نے مجھے دے دیا تھا، یہ جواب حسب ذیل ہے
خط بنام عبدالحئی صاحب
چترپور ، 18 اگست 1962ء
مکرمی و محترمی! السلام علیکم و رحمۃ اللہ
1۔ میں نے 7 اگست کو جناب وحید الدین کے نام الحسنات کے پتہ پر کارڈ لکھا، سب سے پہلے آپ وہ کارڈ ان سے لے کر پڑھیں، اس کا جواب 30 اگست کو انہوں نے یہ دیا
مکرمی و محترمی! سلام مسنون
گرامی نامہ مورخہ 7 اگست ملا، آپ نے لکھا ہے ’’میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ اعظم گڑھ چلے آئیں اور پھر ہمارے آپ کے درمیان مراسلت ہو، ہو سکتا ہے آپ پر اپنی تعبیر کی غلطی واضح ہو جائے۔‘‘ میں آپ کے مشورہ کو قبول کرتا ہوں۔ چنانچہ آج ہی امیر جماعت کو خط لکھ رہا ہوں کہ وہ مجھے اعظم گڑھ جانے کی اجازت دے دیں، ان شاء اللہ، ان کا جواب آنے کے بعد جو صورت ہو گی اس پر عمل کروں گا، اور اس کے مطابق آپ کو مطلع کر دوں گا۔‘‘
یہ ہے جناب وحید صاحب کا جواب، سوا ل یہ ہے کہ میرے کارڈ میں صرف یہی مشورہ تو نہ تھا، دوسرا ایک اور اہم سوال یہ تھا کہ ہم کو اطلاع ملی تھی کہ وہ اپنے مقالہ کو جلد شائع کرنے کے لیے بہت بیتاب ہیں۔ یہی نہیں بلکہ کوئی رسالہ نکالنا چاہتے ہیں، مگر سرمایہ فراہم ہونے کی کوئی شکل نظر نہیں آتی، ظاہر ہے اس سے مجھے توحش ہو؟ میں نے پوچھا کہ کیا یہ اطلاع صحیح ہے، اور یہ کہ آپ نے ایسی حالت میں دو راہوں میں سے کونسی راہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دونوں راہوں کی میں نے نشان دہی کی اور پھر بتایا کہ آپ کونسی راہ اختیار کریں۔ بہرحال آپ پہلے وہ کارڈ لے کر پڑھیں اور پھر مطلع ہوں کہ انہوں نے کارڈ کے سب سے اہم سوال کو اپنے جواب مورخہ 13 اگست میں بالکل نظرانداز کر دیا۔ اس سے متعلق کوئی نقطہ اور شوشہ تک ان کے جواب میں نہیں ہے، آخر کیوں، کیا یہ چیز آدمی کو نیت میں شبہ کرنے کا جواز نہیں دیتی، یہ طریقہ اگر جان بوجھ کر انہوں نے اختیار کیا ہے تو اسے سیاسی بازی گری کہتے ہیں۔ اس سے انھیں بچنا چاہیے، یہ تقویٰ القلب کے منافی ہے میں آپ کی وساطت سے ان سے درخواست کرتا ہوں کہ اس اہم ترین خلش کے سلسلے میں کچھ کہیں جو بھی کہیں کہیں ضرور۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
انہوں نے آخر میں لکھا ہے کہ کوئی گستاخی ہوئی ہو تو اس کے لیے مجھے معاف فرمائیں گے۔ اس کے جواب میں عرض ہے کہ میں نے ہمیشہ اس کو اپنی تحقیر تصورکی ہے کہ آدمی میری بات کا بطرز مستقیم جواب نہ دے، یا نظرانداز کر جائے اور اس کے جواب میں میرے سوال کا کوئی جواب نہ ہو۔ آپ جواب نہیں دینا چاہتے تو یہ کیوں نہیں لکھ سکتے کہ میں فلاں بات کا جواب نہ دوں گا۔ پھر میں سوچتا کہ مجھے متعلقہ معاملہ میں کیا کرنا چاہیے، لیکن میرے سوال کو بالکل تشنہ چھوڑنا اس کو ہمیشہ میں نیت تحقیر تصورکیا ہے۔
جناب وحید الدین خاں کو میرا سلام کہیے اور یہ کہ میرے اس کارڈ میں اگر کچھ تلخی آ گئی ہو تو واجب ہے ان پر کہ اس کا خیال نہ کریں۔ کیوں کہ یہ تلخی خود ان کی پیدا کردہ ہے۔
والسلام جلیل احسن
رامپور ،یکم ستمبر 1962ء
محترمی مولانا جلیل احسن صاحب،
عبدالحئی صاحب کے نام آپ نے خط لکھا ہے (مورخہ 18 اگست) اور ان کی وساطت سے مجھ سے یہ دریافت فرمایا ہے کہ میں آپ کی اس خلش کے بارے ضرور کچھ لکھوں جو میرے بارے میں آپ کو محسوس ہو رہی ہے، وہ یہ کہ آپ کو اطلاع ملی ہے کہ میں اپنے مضمون کو جلد شائع کرنے کے لیے بہت بیتاب ہوں۔ یہی نہیں بلکہ کوئی رسالہ نکالنا چاہتا ہوں، مگر سرمایہ فراہم ہونے کی کوئی شکل نظر نہیں آتی۔ آپ کومیرے بارے میں اس خبر سے توحش ہو رہا ہے۔
عرض ہے کہ جہاں تک مضمون کی اشاعت کا معاملہ ہے، اگر آپ کے جواب سے میرااطمینان ہو گیا تو ظاہرکہ اس کی اشاعت کا کوئی سوال نہیں، لیکن اگر بالفرض ایسا نہیں ہوا تو آپ یا کوئی دوسرا شخص غالباً مجھے یہ مشورہ نہ دے گا کہ جس چیز کو ساری تلاش و تحقیق کے بعد بالآخر میں صحیح سمجھوں اس کو لوگوں پر ظاہر نہ کروں۔
دوسری بات یہ کہ ’’میں رسالہ نکالنا چاہتا ہوں، مگر سرمایہ فراہم ہونے کی کوئی شکل نظر نہیں آتی، اس لیے رکا ہوا ہوں‘‘۔ اس کے متعلق میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ یہ بالکل جھوٹ ہے۔ کوئی شخص بھی یہ جرأت نہیں کر سکتاکہ وہ قرآن ہاتھ میں لے کر گواہی دے کہ میری زبان سے اس نے یہ بات سنی ہے۔ یہ جھوٹ جس شخص نے گھڑا ہے، یقیناً اس کو مجھے بدنام کرنے کا شوق تو ضرور تھا، مگر اس نے عقل سے کام نہیں لیا۔ کیوںکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر میں رسالہ نکالنا چاہوں تو دوسری رکاوٹیں تو میرے لیے ہو سکتی ہیں مگر سرمایہ فراہم کرنے کی رکاوٹ ہرگز نہیںہو گی۔ ان شاء اللہ العزیز۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اصل تحریر کے سلسلے میں آپ کے مراسلہ کا انتظار ہے۔
خادم وحید الدین
اس کے جواب میں مولانا جلیل احسن صاحب کی طرف سے حسب ذیل خط موصول ہوا۔
چتر پور،5 ستمبر 1962ء
برادر مکرم السلام علیکم و رحمۃ اللہ
آپ کا یکم ستمبر کا لکھا ہوا کارڈ ملا، آپ نے لکھا ہے کہ اگر میں آپ کومطمئن نہ کر سکا تو
’’آپ یا کوئی دوسرا شخص غالباً مجھے یہ مشورہ نہ دے گا کہ جس چیز کو ساری تلاش و تحقیق کے بعد بالآخر میں صحیح سمجھوں اس کو لوگوں پر ظاہر نہ کروں‘‘ ۔
نہیں، میں نے اسی صورت میں آپ کو مشورہ دیا تھا کہ آپ خاموشی کا راستہ اختیار کریں۔ جب اطمینان ختم ہو گیا تو خاموشی سے الگ ہو کر اپنے طور پر دین کا کام کریں، ورنہ کسی سے اطمینان ہو جانے کی صورت میں ایسا مشورہ دینے کے کوئی معنی نہیں۔ اور یہ جو مشورہ دیا تھا آپ سے تعلق خاطر کی بنا پر دیا تھا، اور اب بھی میرے پاس آپ کے لیے یہی مشورہ ہے ۔ ورنہ جو لوگ اس حالت کو پہنچ گئے ہیں کہ ان کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے، ان کے بارے میں مجھے کوئی اندیشہ نہ تھا، جس کی وجہ سے یہ مشورہ دینا پڑا، اس پر غور کیجیے۔
رسالہ نکالنے کی بات یوں ہی شہراعظم گڑھ میں کسی نے سنی اور برسبیل تذکرہ مجھ سے بیان کر دی۔ میرا اذعان ہے کہ اس نے آپ کو بدنام کرنے کی غرض سے گھڑا نہیں ہے، تاہم اب میرا فراض ہے کہ تحقیق کے بعد میں اسے بتاؤں کہ یہ بات غلط ہے، اور اب کہیں یہ بات برسبیل تذکرہ بھی زبان پر نہ آئے آپ عبدالحئی صاحب کو میری یہ بات سنا دیں اور یہ کہ خط میں اس چیز کے ذکر سے قلب پر جو چیز ارتسام پذیر ہوئی اسے بالکل نکال دیں، کھرچ دیں اور کہیں کسی سے اس کا ذکر نہ کریں۔
برادرم ابوظفر! آپ میرے پاس درس میں بیٹھے ہیں، میرے پاس بیٹھ کر آپ نے ٹھیک اندازہ کر لیا ہو گا کہ میرے پاس نہ علم ہے، نہ فکر ہے، جب آپ مولانا صدر الدین اور دوسرے اصحاب علم سے مطمئن نہ ہوئے، تو مجھ غریب کے پاس سے آپ کو یہ چیزکیوں کر مل سکتی ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ حصول اطمینان کے بہت سے شرائط ہیں۔ جن میں سے کچھ کا تعلق طالب سے ہے اور کچھ کا مطلوب سے، میرے بارے میں یہ جان لیجیے کہ میرے پاس علم نہیں ہے، اگر ہے تو بس اتنا کہ طلبہ کوکتابیں، کچھ کتابیں پڑھا لیتا ہوں۔ مجھے طالب علم جانئے اور مجھے میری جگہ رکھ کر معاملہ لیجئے، خدا سے میرے لیے دعا کیجیے، جس طرح میں آپ کے لیے دعا کرتا ہوں۔ کیا پتہ کس وقت کی دعا کس کے حق میں نافع ہو جائے۔
آپ مجھ سے پوچھئے کہ مجھے کیوں یقین ہے کہ وحید صاحب کی اس صورت میں سخت پکڑ ہوگی۔
والسلام جلیل احسن
اس کے بعد موصول کی طرف سے حسب ذیل سوالنامہ موصول ہوا ۔
چتر پور، 6 ستمبر 1962ء
برادر مکرم! السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
سورہ حدید آیت 25 کے بارے میں آپ نے جو کچھ سمجھا ہو، اس سے مستفید فرمائیں ۔ سوالات حسب ذیل ہیں
1۔ ’’بینات‘‘ سے کیا مراد ہے؟
2۔ ’’الکتاب‘‘ کا مطلب کیا ہے؟
3۔ ’’میزان‘‘ کے یہاں کیا معنی ہیں؟
4 ۔ ’’قام ب ‘‘کا ترجمہ کیا ہو گا؟
باب الحماسہ میں ایک شعر آیا ہے، إِذًا لَقَامَ بِنَصْرِي مَعْشَرٌ خُشُن یہ قیام بالنصر کیا ہے؟
other sourceWords of another person or source
5 ۔ ’’الناس‘‘ سے سارے انسان مراد ہیں یا کوئی خاص گروہ؟
6 ۔ ’’قسط‘‘ کا مفہوم کیا ہے؟
7 ۔ ’’لیقوم‘‘ میں لام کیسا ہے؟
8 ۔ اس کے بعد ’’انزال حدید‘‘ کا ذکر کیوں آیا ہے؟
9 ۔ ’’ولیعلم‘‘ کا عطف کس پر ہے؟
آپ کی آسانی کے لیے سوالات قائم کر دیے ہیں تاکہ وضاحت سے اس کا مفہوم آپ درج کر سکیں نیز آخری ٹکڑا کیوں آیا ہے؟
دوسری آیت سورہ بقرہ کی آیت نمبر 129 ہے۔ اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے چار کام کیے گئے۔
Qur'anQuotes the Qur'an
سوال یہ ہے کہ یہ چار کام ہیں یا تین۔ مطلب یہ کہ آپ کے نزدیک تلاوت آیات، تعلیم کتاب اور تعلیم حکمت سے کیا مراد ہے، اور تزکیہ الگ سے کوئی چیز ہے یا انھیں تینوں کا ثمرہ ہے۔ اگر اسے کوئی نبی کی بعثت کا مقصد قرار دے تو آپ کو اس پر اعتراض ہے؟ اگر ہے تو آپ کے نزدیک صحیح تعبیر کیوں کر ہو گی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ فرمائیں کہ مترجمین ُُ’’لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ‘‘کا ترجمہ یوں کرتے ہیں ’’تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو، یا لوگوں پر گواہ بنو‘‘۔ مجھے جو اشکال ہے، وہ یہ کہ لوگوں کے اوپر گواہ بننے کا مطلب کیا ہے؟ یا تو لوگوں کا گواہ ہو گا، یا لوگوں کے خلاف گواہ ہو گا، پہلی شکل میں عربی میں ’’ل ‘‘ آتا ہے اور دوسری صورت میں ’’علیٰ‘‘ آتا ہے اور یہاں ’’علیٰ‘‘ ہی ہے۔ اگر یہ بات صحیح ہے تو ترجمہ یہ ہو گا کہ ہم نے تم کو امت وسط بنایا تاکہ تم لوگوں کے خلاف گواہ بنو اور رسول تمہارے خلاف گواہ بنے، یہ مفہوم تو عجیب بن گیا، آپ اس ترجمے پر واضح گفتگو کریں۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
والسلام جلیل احسن
رام پور ،11 ستمبر 1962ء
محترمی مولانا جلیل احسن صاحب سلام مسنون
گرامی نامہ مورخہ 6 ستمبر ملا۔ عرض ہے کہ آپ کے سوالات بے حد مختصر ہیں ہو سکتا ہے کہ آپ ان سوالات یا ان آیات کے حوالے سے میرے نقطہ نظر کی تردید کر رہے ہوں۔ مگر یہ آپ کے خط میں بالکل واضح نہیں ہے۔ اس کے بجائے خط میں مجرد قسم کے چند چھوٹے چھوٹے سوالات ہیں۔ اگر آپ اپنا پورا مدعا تحریر فرما دیتے تو مجھے غور و فکر کا اور اس کے مطابق تفصیلی جواب کا زیادہ موقع مل سکتا تھا۔ موجودہ صورت میں آپ کے سوالات نہایت تشنہ اور اصل مسئلہ کی نسبت سے غیر واضح ہیں۔ اس لیے قدرتی طور پر ان سوالات کے پیش نظر میں جو جو اب دوں گا، وہ بھی آپ کو تشنہ اور غیر واضح نظر آئے گا۔ کیوں کہ یہ ظاہر ہے کہ آپ نے جتنا سوال کیا ہے، میں اتنے ہی کا جواب دے سکتا ہوں، نہ کہ ان باتوں کا جو ابھی آپ کے ذہن میں ہیں، اور آپ نے سوالات کے ساتھ انھیں بیان نہیں فرمایا۔
آئندہ کے لیے گزارش ہے کہ آپ براہ کرم زیرِ بحث مسئلہ سے تعلق کو واضح کرتے ہوئے اپنے سوالات ارسال فرمائیں تاکہ اصل مسئلہ کے بارے میں آپ کے نقطہ نظر کو سمجھنے اور اس کے مطابق اپنا جواب روانہ کرنے میں مجھے آسانی ہو۔
ذیل میں آپ کے سوالات کا جواب درج کرتا ہوں۔
سورہ الحدید آیت 29
1۔ ’’بینات‘‘ سے مراد میرے نزدیک وہی ہے جس کو علامہ آلوسی اور دوسرے مفسرین نے لکھا ہے یعنی جج و معجزات۔
2۔ ’’کتاب‘‘ سے مراد ’’وحی‘‘ ہے جیسا کہ کشاف نے لکھا ہے۔
3۔ ’’میزان‘‘ کی تشریح میں خازن نے لکھا ہے یعنی العدل ای وامرنا بالعدل
other sourceWords of another person or source
4۔ ’’لیقوم الناس بالقسط‘‘ کا ترجمہ جیسا کہ مترجمین نے کیا ہے، یہ ہو گا
تاکہ لوگ قسط پر قائم رہیں۔
تاعمل کنند مرد ماں بانصاف (شاہ ولی اللہ صاحب )
لیتعاملوا بینھم بالعدل (خازن)
5۔ مذکورہ شعر میں قیام بالنصر کا مطلب مصیبت کے وقت مدد کے لیے پہنچنا ہے دوسرے لفظوں میں مدافعت۔
6۔ ’’الناس‘‘ سے مراد عام انسان ہیں، بظاہر تخصیص کا کوئی قرینہ یہاں نظر نہیں آتا۔
7۔ ’’قسط‘‘ کا مطلب انصاف ہے امام رازی کے الفاظ میں وَهُوَ أَنْ تُعْطِيَ قِسْطَ غَيْرِكَ كَمَا تَأْخُذُ قِسْطَ نَفْسِكَ(تفسیر کبیر، جلد 8 ، صفحہ101)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
8۔ ’’لیقوم‘‘ میں لام غایت کی ہے، یہی سمجھ میں آتا ہے۔
9۔ ’’انزال حدید‘‘ کے ذکر کی وجہ اس کے بعد کے الفاظ پر غورکرنے سے سمجھ میں آتی ہے، یعنی وقت قتال اس سے ’’قوت‘‘ ملتی ہے اور اسی طرح دوسری ضرورتوںمیں وہ انسان کا بہترین مددگار ہے۔
10۔ ’’ولیعلم‘‘ کا عطف جلالین میں لیقوم الناس پر بتایا ہے، انزال حدید پر بھی اس کا عطف مان سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں ایک فقرہ محذوف ماننا ہو گا، یعنی لِيَسْتَعْمِلُهُ وَلِيَعْلَمَ اللّٰهُ…(ابوالسعود، حاشیہ تفسیر کبیر، جلد 8 ، صفحہ 81)میرے خیال سے دونوں ہی لیے جا سکتے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
11۔ ’’آخری ٹکڑا کیوں آیا ہے‘‘ یہ اس مطلوب الٰہی کا اظہار ہے کہ جب نبی اور اس کے مخالفین میں کشمکش ہو تو اہلِ ایمان کا فرض ہے کہ وہ دشمنانِ رسول کے مقابلے میں رسول کا ساتھ دیں۔
سورہ البقرۃ آیت 129
1۔ جب قرآن نے چار الگ الگ الفاظ استعمال کیے ہیں تو غالب قرینہ یہی ہے کہ اس سے چار مختلف کام مراد ہوں۔
2۔ ان چاروں الفاظ کی تشریح میں علامہ آلوسی نے جو کچھ لکھا ہے، اس سے مجھے اتفاق ہے، (روح المعانی، جلد 1 ، صفحہ 386-87)۔
other sourceWords of another person or source
3۔ اگر کوئی شخص اس کو نبی کی بعثت کا مقصد قرار دے تو مجھے اس پر اعتراض نہیں ہے۔
لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ (2:143)
شَھِدَ بِصِلَۃِ لَامٍ وَشَھِدَ بِصِلَۃِ عَلٰیمیں جو فرق آپ نے بتایا ہے وہ عمومی استعمال کے لحاظ سے صحیح ہے مگر حصر درست نہیں۔ علیٰ کا صلہ کبھی مجرد شہادت کے موقع پر بھی استعمال ہوتا ہے، خواہ وہ خلاف ہویا موافق (شَهِدَ فُلَانٌ عَلَى فُلَانٍ بِحَقٍّ، فَهُوَ شَاهِدٌ، لسان العرب) اگر شہد علیٰ میں اس عموم کو تسلیم کر لیا جائے تو اردو مترجمین نے جو ترجمے کیے ہیں ان پر وہ اعتراض واقع نہیں ہوتا جس کا آپ نے اپنے خط میں ذکر فرمایا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
خادم وحید الدین
اس کے بعد موصوف کا دوسرا سوال نامہ ملا۔ یہ سوال نامہ بھی مجرد قسم کے سوالات پر مشتمل تھا، اور اس میں میری اس درخواست کا کوئی لحاظ نہیں کیا گیا تھاکہ ’’زیرِ بحث مسئلہ سے تعلق کو واضح کرتے ہوئے اپنے سوالات ارسال فرمائیں۔‘‘ سوال نامہ کی نقل حسب ذیل ہے
برادر مکرم! سلام و رحمت
آپ کا گرامی نامہ مورخہ 9 ستمبر، مجھے 17 کو ملا۔
آپ نے میرے عریضہ مورخہ 6 ستمبر کے ساتھ میرے احساس کے مطابق انصاف نہیں کیا۔ میں نے شروع میں عرض کر دیا تھا کہ (سورہ) حدید(آیت نمبر) 25 کے بارے میں جو کچھ آپ نے سمجھا ہو اس سے مستفید فرمائیں، پھر میں نے سوالات قائم کیے اور آخر میں لکھا کہ آپ کی آسانی کے لیے یہ سوالات قائم کر دیے ہیں تاکہ وضاحت سے آپ اس کامفہوم درج کر سکیں، لیکن آپ نے ان سوالات کو اصل قرار دے کر ان کے جوابات رقم فرمائے، آیت کی تفسیر نہیں لکھی (کس قدر عجیب بات ہے کہ مولانا خود تو سوالات پر اکتفا کر رہے ہیں اور مجھ سے تفسیر کامطالبہ کر رہے ہیں، مرتب)۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
خیران جوابات سے جو سوالات ابھرتے ہیں وہ اور کچھ نئے سوالات ارسال خدمت ہیں۔
1۔ بینات سے آپ کے نزدیک جج اور معجزات مراد ہیں، جج سے مراد دلائل رسالت ، دلائل توحید اور دلال معاد یا کچھ اور؟ میرے مطالعہ کے مطابق اہلِ تفسیر جج سے دلائل ثلاثہ ہی مراد لیتے ہیں، لیکن متعین طور پر اس کے لیے حوالہ ذہن میں نہیں ہے۔
2۔ اگر جج سے مراد وہ حصہ وحی ہو جو دلائل سہ گانہ پرمشتمل ہے تو کتاب سے وحی کے بقیہ کل حصے۔ احکام و قصص وغیرہ مراد ہوں گے یا کوئی خاص حصہ؟
3۔ میزان سے آپ کے نزدیک عدل مراد ہے اور آپ نے مفہوم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا إِی أَمْرَنَا بِالْعَدْلِاس کا مطلب میں یہ سمجھتا ہوں ’’ہم نے رسولوں کو حکم دیا کہ تم لوگ عدل کرنا کسی کے ساتھ ناانصافی نہ کرنا، کیا آپ کا مدعا یہی ہے یا کچھ اور؟
4۔ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ کا ترجمہ ’’تاکہ لوگ قسط پر قائم رہیں‘‘ سمجھ میں نہیں آتا ہے۔ کسی چیز پر قائم رہنے کے لیے عربی میں صلہ علیٰ آتا ہے با نہیں آتا۔ ’’قام بالامر‘‘ کا ترجمہ تولاہ سے کرتے ہیں اور تولیٰ کے معنی کسی چیز پر قائم رہنے کے آتے ہیں یا کچھ اور؟ ذرا نصوص معاجم دیکھیے، یہاںتو دیکھنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔
5۔ سورہ بقرہ آیت 129کے ذیل میں حسب تشریح آلوسی وہ چار کام کیا ہیں، اب تو آپ اعظم گڑھ آ گئے آلوسی تو شبلی منزل کے سوا اور کہیں نہیں ملے گی، اب آپ حسب تشریح قرآن، نہ کہ آلوسی ان چاروں کاموں کی تعین فرمائیے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
6۔ شہد کے ذیل میں لسان کی عبارت ’’شَهِدَ فُلانٌ عَلَى فُلانٍ بِحَقٍّ‘‘کا مطلب سمجھ میں نہیں آیا، کیا سیاق و سباق میں ا س کا مفہوم درج ہوا ہے، کیا مطلب ہے لکھئے۔
7۔ وکذالک (بقرہ ، آیت 143) میں واو کا عطف کس پر ہے؟ ذالک کا مشار الیہ کیا ہے۔
8۔ وسْط کے معنی درمیان اور وَسَط’‘ کے معنی کسی چیز کا بالکل بیچ کا حصہ، سوال یہ ہے کہ اس کے معنی بہترین کیسے بن گئے، کیا آپ کے میز کے بالکل بیچوں بیچ حصہ کی لکڑی اور حصول کے مقابلے میں بہتر ہے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ خیر کا لفظ چھوڑ کر وسط کیوں؟
9۔ شہداء کی جمع ہے، شاہد کی یا شہید کی، شہید کے کتنے معنی لغت عرب میں آتے ہیںاور شاہد کے کتنے؟
10۔ جعلناکم میں کم کا مخاطب کون ہے؟
جلیل احسن
اعظم گڑھ، 5 اکتوبر 1962ء
محترمی! سلام مسنون
گرامی نامہ مورخہ 8 ستمبر (نقل) وصول ہوا۔ عرض یہ ہے کہ اس سے پہلے آپ نے زیرِ بحث مسئلہ پر اپنی رائے دینے کی جو شرط رکھی تھی کہ آپ ’’سوالات‘‘ کریں گے، تو اس کامطلب میں یہ سمجھا تھاکہ میں نے جو تحریر آپ کے پاس بھیجی ہے آپ اس کے استدلال اور استنتاج کے بارے میں کچھ سوالات کریں گے اور اس کے بعد اصل مسئلہ پر اپنی رائے دیں گے، مگر آپ کا 6 ستمبر کا پہلا سوالنامہ جب ملا تو میں نے محسوس کیاکہ یہ اس سے بالکل مختلف چیز ہے، اس میں چند بالکل مجرد قسم کے سوالات تھے۔ جیسے امتحان کے پرچوں میں طالب علموں سے کیے جاتے ہیں، ان سوالات کااصل بحث سے کیاتعلق ہے، اس کے متعلق آپ نے کچھ نہیں بتایا تھا، مجھے سوال کا یہ انداز پسند نہیں آیا، مگر اس کے باوجود میں نے آپ کے پاس خاطر سے ایسا کیا کہ آپ نے جو سوالات کیے تھے، ان کاجواب لکھ کر آپ کی خدمت میں روانہ کر دیا۔
اب یہ دوسرا سوالنامہ جو آیا ہے، وہ بھی بعینہٖ اسی قسم کا ہے، میں اب بھی شاید اپنے کو اس کے لیے تیار کر لیتا کہ میرے نقطہ نظر سے یہ طریقہ ناموزوں یا غیر متعلق سہی، بہرحال آپ جو کچھ پوچھتے جائیں اس کا جواب روانہ کرتا رہوں۔ مگر پہلے سوال نامہ کا جواب بھیجنے کے بعد مجھے امیر جماعت کے اپنے ہاتھ کا لکھا ہوا ایک خط اتفاق سے دستیاب ہو گیا جو انہوںنے ایک مرکزی شخصیت کے نام لکھا تھا، اس خط میں آپ سے میری خط و کتابت کے بارے میں یہ الفاظ درج تھے
unverifiedAttribution could not be verified automatically
’’مولانا جلیل احسن نے بھی (وحید الدین خاں سے) مراسلت شروع کر دی ہے، لیکن مجھے اول تو یہ امید نہیں کہ خاں صاحب ان کے طرز یا طریق مراسلت کی تاب لاسکیں گے،.....بہرحال میں نے جلیل احسن صاحب کو لکھ دیا ہے کہ جو کچھ ان کو پڑھانا لکھانا ہے جلد اس سے فارغ ہو جائیں،.....‘‘
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس اقتباس کا آخری فقرہ میرے لیے سخت تکلیف دہ ثابت ہوا۔ اس کو سامنے رکھ کر جب آپ کے ’’سوالات‘‘ کو دیکھتا ہوں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ واقعی مجھ کو ’’پڑھایا لکھایا‘‘ جارہا ہے۔ میں افسوس کے ساتھ عرض کروں گا کہ براہ کرم یہ پڑھانے لکھانے کا انداز چھوڑ کر اصل مسئلہ کے بارے میں جو آپ کا نقطۂ نظر ہو، اور اس سے متعلق جو دلیل آپ رکھتے ہوں، اس سے مجھے مطلع فرمائیں تاکہ اس کی روشنی میںزیرِ بحث مسئلہ پر غور کیا جا سکے۔
خادم وحید الدین
میرے اس خط میں چونکہ مولانا ابواللیث صاحب کے ایک خط کا حوالہ تھا، اس لیے اس کے بعد مولانا جلیل احسن صاحب نے مولانا موصوف کو خط لکھ کراس کے بارے میں دریافت کیا، چنانچہ مولانا ابواللیث صاحب کی طرف سے میرے نام حسب ذیل خط موصول ہوا
دہلی، 2 اکتوبر 1962ء
برادر عزیز! السلام علیکم
آج مولانا جلیل احسن صاحب کا ایک خط موصول ہوا ہے، جس سے یہ معلوم ہوا ہے کہ آپ نے میرے خط کا حوالہ دیتے ہوئے ان سے یہ خواہش کی ہے کہ پڑھانے لکھانے کا انداز چھوڑ کروہ اصل مسئلہ کے بارے میں اپنا نقطۂ نظر آپ کو لکھ دیں۔ یہ تو انہوں نے نہیں لکھا ہے کہ وہ ایسا کر سکیں یا نہیں، لیکن میرااندازہ ہے کہ وہ مسئلہ زیرِبحث کی تحقیق کے لیے اپنے طریق مراسلت ہی کو مفید سمجھتے ہیں اور اسی کے لیے وہ اصرار کریں گے۔ اس لیے اگر واقعی آپ مسئلہ کی تحقیق میں ان کے خیالات سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیںتو آپ کو ان کے ساتھ مراسلت کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے، رہی پڑھانے لکھانے والی بات جس کی وجہ سے آپ ان کے ساتھ مراسلت سے کچھ بددل سے ہو گئے ہیں تو مجھے امید ہے کہ کل میں نے آپ کے تازہ خط کے جواب میں جو تحریر بھیجی ہے اس سے ان شاء اللہ اس لفظ کے بارے میں آپ کی غلط فہمی دور ہو گئی ہو گی۔ (یہ خط امیر جماعت کی خط و کتابت میں شامل ہے)
مولانا جلیل (احسن صاحب نے اپنے خط میں ایک بات یہ بھی لکھی ہے کہ انہوں نے جو سوالات آپ کے پاس بھیجے ہیں وہ قطعاً غیر متعلق نہیں ہیں،نہ پہلے سوال نامہ کے اور نہ دوسرے کے، تاہم ان کا متعلق ہونا واضح نہ ہو تو اس بارے میں آپ ان سے دریافت کر سکتے ہیں۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
جواب بنام مولانا ابواللیث صاحب
اعظم گڑھ ،24 اکتوبر 1962ء
محترمی سلام مسنون
گرامی نامہ مورخہ 20 اکتوبر 1962ء ملا۔ مولانا جلیل احسن صاحب کے طریق مراسلت کے سلسلے میں ’’پڑھانے لکھا نے‘‘کا لفظ جو آپ کے خط میں آیا ہے وہی میری بددلی کی اصل وجہ نہیں ہے میرا اعتراض دراصل یہ ہے کہ وہ بالکل مجرد قسم کے سوالات کر رہے ہیں، حالانکہ جب میں نے ایک مسئلہ واضح شکل میں ان کے سامنے رکھا ہے، تو ان کو اس مخصوص مسئلہ سے متعلق سوالات کرنے چاہئیں۔ اس سلسلے میں آپ لکھتے ہیں
’’مولانا جلیل احسن نے لکھا ہے کہ انہوں نے جو سوالات آپ کے پاس بھیجے ہیں وہ قطعاً غیر متعلق نہیں ہیں نہ پہلے سوال نامہ کے اور نہ دوسرے کے، تاہم ان کامتعلق ہونا واضح نہ ہو تو اس بارے میں آپ ان سے دریافت کر سکتے ہیں۔‘‘
other sourceWords of another person or source
عرض ہے کہ جو کچھ ان کے اپنے ذہن میں ہے، اس کے لحاظ سے ان کا یہ جواب صحیح ہو گا، مگر میرے سامنے تو صرف ان کا سوال نامہ ہے، اور جہاں تک سوال نامہ کا تعلق ہے، اس میں قطعاً یہ نہیں بتایا گیا کہ ان سوالات کا اصل مسئلہ سے کیاتعلق ہے۔ میرا دعویٰ یہ نہیں ہے کہ ان کے سوالات ان کے اپنے نزدیک بھی میرے مسئلہ سے متعلق نہیں ہوں گے۔ میرا کہنا صرف یہ ہے کہ انہوں نے اپنے سوال نامہ میں اس تعلق کاکوئی ذکر نہیں کیا ہے، اور ظاہر ہے کہ جوکچھ ان کے ذہن میں ہے، اس کو معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ میرے پاس نہیں۔ اگر وہ اصل مسئلہ سے تعلق کو واضح کرتے ہوئے سوالات کریں تو میں ان شاء اللہ آخر وقت تک ان سے مراسلت کروں گا۔ مگر ایسے سوالات جن کا زیرِ بحث مسئلہ سے متعلق ہونا اپنے ذہن میں رکھا گیا ہو اور سوال نامہ میں اس تعلق کو بالکل واضح نہ کیا گیا ہو، میں ان کو اپنے لیے لاحاصل سمجھتا ہوں اور ایسے مجرد سوال و جواب میں دلچسپی لینے سے اپنے کو معذور پاتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ کوئی بھی تیسرا شخص اس معاملے میں جلیل احسن صاحب کو حق بجانب قرار نہیں دے سکتا۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
براہ کرم آپ انھیں لکھ دیں کہ وہ اصل مسئلہ سے تعلق کو واضح کرتے ہوئے سوالات روانہ فرمائیں تاکہ یہ سلسلہ جاری رہ سکے اور ان پرنصح اور تبلیغ حق کی جو ذمے داری آتی ہے ، وہ ادا ہو جائے اور میں بھی ان کے خیالات کی روشنی میں اپنے معاملہ پر غور کر سکوں۔
خادم وحید الدین
اسی دوران میں مولانا جلیل احسن صاحب کی طرف سے حسب ذیل خط ملا۔
other sourceWords of another person or source
چترپور، 16 ستمبر 1962ء
برادرم السلام علیکم و رحمۃ اللہ
1۔ میں نے تو لکھ دیا تھا کہ میں سوالات کروں گا۔ اب بھی میں اپنے طریق مراسلت پر مصر ہوں، ہر شخص سے مراسلت کے طریقے جدا ہوتے ہیں، میں نے آپ کی تحریر پڑھ کر اندازہ کیا تھا کہ اس پر میں کیوںکر گفتگو کروں گا۔ جو چیز اتنے طنطنے کے ساتھ پیش کی جا رہی ہے، اس پرزبانی گفتگو قطعاً نامناسب ہے۔ اورجن لوگوں نے آپ سے گفتگو کی انہوں نے اچھا نہیں کیا۔ اس لیے جب یہ سوال آیا آپ کے بعض احباب کی طرف سے اور بعد میں آپ کی طرف سے تو میں نے کہہ دیا کہ تحریری گفتگو ہی مناسب ہو گی۔
2۔ پھر امیر جماعت نے فرمایا، اس کا بھی جواب یہی کہ مراسلت کے ذریعہ ہی کچھ ہو سکتا ہے، اور اس میں بھی وہ یہ چاہتے تھے کہ بس دوچار گھنٹے میں کچھ لکھ دیا جائے۔ چنانچہ میرے طریق مراسلت پر انہوں نے کہا، اچھا اب مدرسہ کھلے گا۔ پڑھائی لکھائی ہو گی۔ یہ تو بہت دیر طلب بات ہے اور ادھر وحید صاحب کی بے تابی گویا نکلے ہے دم شمشیر کا۔ پھر انہوں نے دہلی سے تحریراً یہی فرمایا کب تک پڑھائی لکھائی ہوتی رہے گی، یہ دراصل میرے اوپر طنز ہے، لیکن جب آدمی الفاظ کے پس منظر سے واقف نہ ہو تو الفاظ اسی طرح فتنے بنتے ہیں۔ (پڑھانے لکھانے والے فقرہ کی تشریح جو یہاں مولانا جلیل احسن صاحب نے کی ہے ، وہ اس سے مختلف ہے جو مولانا ابواللیث صاحب نے کی ہے) ۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
خلاصہ یہ کہ میں اپنے طریق مراسلت پرمصر ہوں۔ اوروہ طریقہ جو دوسروں نے اختیار کیا وہ آپ کے لیے مضر اور ان کے لیے لاحاصل ہیں۔ آپ جانتے ہیں میں پڑھانے لکھانے ہی کا کام کرتا ہوں یہ پڑھانے لکھانے کا انداز کیوں کر چھوڑوں، اس سے آپ کے فکر رفیع اور علم کبیر کے احساس کو چوٹ لگتی ہے تو افسوس ہے۔ زیرِ بحث مسئلہ پر غورکرنے اور کرانے کا بالخصوص آپ کے لیے میرے پاس یہی راستہ ہے جسے آپ نے پڑھانے لکھانے کا نام دیا ہے، اور جسے آپ پسند نہیں کرتے تو چشم ما روشن دل ماشاد! اس سے پہلے آپ میرے ’’پڑھانے لکھانے‘‘ پر تو متوحش نہیں ہوتے تھے، اب کیا سب کچھ آپ پڑھ لکھ گئے؟
جلیل احسن
اعظم گڑھ، 25 اکتوبر 1962ء
محترمی سلام مسنون
آپ کا خط مورخہ 16 ستمبر 1962ء ملا۔ مجھے شکایت ہے کہ آپ کا انداز کچھ ان لوگوں کا سا ہو گیا ہے جو اپنے آپ کو بالکل نہیں دیکھتے، البتہ دوسرا شخص انھیں سر تا پا غلط نظر آتا ہے۔
1۔ آپ کو میری تحریر پہلی بار فروری 1962ء کے پہلے ہفتے میں رام پور میں عبدالحئی صاحب کی معرفت ملی تھی۔ اس وقت اس کو دیکھنے کے بعد عبدالحئی صاحب سے آپ نے یہ جملہ کہا تھاکہ اس تحریر کو پڑھ کر میں سخت کبیدہ خاطر ہوا۔ مگر میرے دریافت کرنے کے باوجود آپ نے اپنی اس کبیدگی کی تفصیل نہیں بتائی۔
اس کے بعد مارچ 1962ء کے دوسرے ہفتہ میں میں نے دوبارہ تحریر کی ایک نقل آپ کے نام مدرستہ الاصلاح کے پتہ پر روانہ کی، اس وقت بھی آپ نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ بلکہ یہ غیر متعلق عذر کر کے اس کو واپس کر دیا کہ یہ تحریر کا ’’آخری مسودہ‘‘ نہیں ہے۔ پھر تیسری بار میں نے 21 جولائی 1962ء کو چترپور کے پتہ پر آپ کے نام تحریر بھیجی۔ مگر ابھی تک اصل مسئلہ کے بارے میں ایک جملہ بھی آپ کی طرف سے مجھے موصول نہیں ہوا۔
اس طرح آپ سے سلسلہ چھڑے ہوئے پورے 9 مہینے ہو گئے، مگر کس قدر حیرت کی بات ہے کہ اتنے دنوں سے آپ اپنے خطوط میں یہ ثابت کرنے کی تو پیہم کوشش کر رہے ہیں کہ میرا طریقہ ’’طالبین حق کا طریقہ‘‘ نہیں ہے، میں ’’بے صبر‘‘ ہوں، مجھے اپنے بارے میں ’’مومن کامل‘‘ ہونے کی غلط فہمی ہے۔ میں تحریر شائع کرنے کے لیے ’’بیتاب‘‘ ہوں، میرا ’’نفس‘‘ مجھ پر حاوی ہو گیا ہے، میں ’’سیاسی بازی گری‘‘ کر رہا ہوں، میری نیت میں شبہ ہے، میں آپ کی ’’تحقیر‘‘ کا مرتکب ہوا ہوں، مجھے اپنے بارے میں ’’فکر رفیع اور علم کبیر‘‘ کا گمان ہے، وغیرہ۔ مگر اصل مسئلہ جس کے بارے میں آپ سے میں نے رجوع کیا ہے، اس کے متعلق اس پوری مدت میں ایک فقرہ بھی آپ نے نہیں لکھا۔ تاکہ اس کے بارے میں میری غلطی مجھ پر واضح ہوتی۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
2۔ آپ نے فرمایا تھا کہ میں تمہارے ’’طویل مقالہ‘‘ کو پڑھ کر سوالات کروں گا، توضیح مدعا کا طالب ہوں گا، دلائل پر گفتگو کروں گا۔ میں اس کے لیے بالکل راضی تھا، مگر جب ایک شخص واضح طور پر ایک بات کسی کے سامنے رکھ رہا ہو اور وہ اس پرتبصرہ کرنے کے لیے مندرجہ بالا شرط پیش کرے تو ہر شخص اس کا مطلب یہی سمجھے گا کہ مدعی کے دلائل کے بارے میں سوالات ہوں گے۔ اس کے استنتاج کی کمزوریاں واضح کی جائیں گی۔ مگر جب آپ کا سوال نامہ آیا تو میں نے دیکھا کہ اس میں بالکل مجرد قسم کے سوالات ہیں جن میں اصل مسئلہ نفیاً یا اثباتاً بالکل کوئی تعلق ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔ اب جو میں نے اس طریق مراسلت کے غیرمتعلق اور نامناسب ہونے کا ذکر کیا تو آپ کا یہ خط مورخہ 16 ستمبر موصول ہوا ہے جس میں گویا یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ آپ تو صحیح ترین شکل میں مجھے سمجھانے کے لیے پوری طرح آمادہ ہیں، مگرمیں خود ہی سمجھنا نہیں چاہتا۔
3 ۔عبدالحئی صاحب کے نام خط میں آپ نے لکھا تھا کہ میں نے آپ کی ’’تحقیر‘‘ کی ہے، حالاں کہ یہ بالکل غلط ہے، میرے جس خط کے بارے میں آپ نے یہ بات لکھی تھی، مجھے یقین ہے کہ کوئی بھی تیسرا شخص اس کو دیکھنے کے بعد آپ کی رائے سے اتفاق نہیں کر سکتا۔ دوسری طرف آپ کے طنز و تحقیر کا یہ عالم ہے کہ اگر میں اس کے اقتباسات یہاں نقل کروں تو خط بھر جائے۔ ذرا اپنے ان جملوں پر غور کیجیے
’’آخر آپ اتنے بے صبرے کیوں ہو گئے، کیا بے صبری ’’مومن کامل‘‘ کی صفات میں سے صفت اول ہے‘‘ (خط مورخہ 25 جولائی 62 ء)
other sourceWords of another person or source
آپ جانتے ہیں میں ’’پڑھانے لکھانے ‘‘ ہی کا کام کرتا ہوں۔ یہ انداز کیوں کر چھوڑوں اس سے آپ کے فکر رفیع اور علم کبیر کے احساس کو چوٹ لگتی ہے، تو افسوس ہے۔ (خط مورخہ 6 ستمبر 62ء)
’’آپ کا نفس (نہ کہ ضمیر) آپ کو سوتے جاگتے ہر آن اکساتا ہو گا۔ آپ سے کہتا ہو گا کہ امر بالمعروف واجب ہے، حق بات کا اعلان و اظہار و اشاعت ضروری ہے ۔ اگر تم ایسا نہ کرو گے، اگر تم باطل کا لباس پہننے والوں کو ننگا نہ کرو گے۔ توکتمان حق اور خیانت کے مجرم ہو گے۔ اور پھر آپ کا نفس (نہ کہ ضمیر) آپ کو پورے زور سے آخرت یاد دلاتا ہو گا کہ اس دن تو اپنے اس جرم کتمان حق پر خدا کے حضور کیوں کر اور کن الفاظ میں عذر خواہی کرے گا، آہ ، آہ‘‘ ۔ (خط مورخہ 7 اگست 62ء)
میں درخواست کروں گا کہ براہ کرم آپ ان باتوں پر غور فرمائیں، اور سوچیں کہ کیا یہی وہ رویہ ہے جو آپ کے لیے مناسب ہے۔
خادم وحید الدین
چتر پور، 7 نومبر 1962ء
محترمی السلام علیکم و رحمۃ اللہ
اگر سارا قصورمیرا ہے، تو مجھے معافی مانگنی چاہیے ۔ اور اگر آپ کا ہے تو آپ کو۔ اس کا فیصلہ کون کرے کہ ہم میں سے کون قصور وار ہے۔ اس دنیا میںتو ہوتانہیں۔
باقی یہ بات اپنے نقشہ کے مطابق لکھی تھی کہ آپ کی طویل تحریر پڑھ کر پہلے سوالات کروں گا چنانچہ اسی کے مطابق عمل کیا، ابھی دوسرا سوال نامہ گیا تھاکہ یہ حال ہوا، سوالات ختم ہوتے تو باقی دونوں اجزا پر گفتگو ہوتی۔ اگر میں نے آپ سے یہ سوال کیا ہوتا کہ آپ کے سر میں کتنے بال ہیں یا اعظم گڑھ کے بند میں ریت اور مٹی کا تناسب کیا ہے۔ تو بلاشبہ یہ آپ کی تحریر کے موضوع سے بالکل غیر متعلق بات ہوتی لیکن آپ اطمینان رکھیں کہ آپ کے سوا دوسرا کوئی شخص جس نے آپ کی تحریرپڑھ لی ہو، میرے سوالات کو غیر متعلق قرار نہ دے گا۔
میرے کسی سابق کارڈ میں ’’بے صبری‘‘ کی بات ٹھیک ہی آئی تھی، آپ نے اپنا وعدہ ارسال نقل مکتوب مولاناابواللیث صاحب ، باوجود گزارش پورا نہیں کیا۔
والسلام جلیل احسن
اعظم گڑھ، 12 نومبر 1962ء
محترمی سلام مسنون
گرامی نامہ مورخہ 7 نومبر 1962ء ملا۔ مولانا ابواللیث صاحب کے خط کی مکمل نقل میں نے انھیں بھیج دی ہے اگر آپ پورا خط دیکھنے کی ضرورت محسوس کرتے ہوں تو دہلی خط لکھ کر اسے حاصل کر سکتے ہیں۔
آپ نے لکھا ہے کہ آپ نے پہلے ہی مجھے یہ بات بتا دی تھی کہ آپ ’’سوالات‘‘ کریں گے، اور اب اسی ’’نقشہ‘‘ کے مطابق عمل کر رہے ہیں۔ مگر میں افسوس کے ساتھ کہنا چاہتاہوں کہ اس سے پہلے آپ نے جو کچھ لکھا تھا اس سے میں ہرگز یہ نہیں سمجھا تھاکہ آپ اس قسم کے عجیب و غریب سوالات کریں گے، جیسے کہ آپ نے کیے ہیں۔ اس سلسلے میں آپ کا سب سے پہلا خط جو مجھے موصول ہوا وہ 15 مارچ 1962ء کا ہے۔ یہ خط آپ نے مدرستہ الاصلاح (سرائمیر) سے لکھاتھا۔ اس کے الفاظ یہ ہیں
’’آدمی اتنے طویل مقالے کو پڑھے گا۔ پھر آپ سے سوالات کرے گا۔ توضیح مدعا کا طالب ہو گا دلائل پر گفتگو کرے گا۔‘‘
آپ کے ان الفاظ کا مطلب میں یہی سمجھا تھا کہ ایک بات جو میں نے آپ کے سامنے رکھی ہے چوں کہ آپ کو اس سے اتفاق نہیں ہے اور آپ اس کو غلط سمجھ رہے ہیں، اس لیے آپ مراسلت کے ذریعہ اس معاملہ میں میری غلطی کو مجھ پر ظاہر فرمانے کی کوشش کریں گے، اور اس کی شکل یہ ہو گی کہ میں نے اپنی تحریر میں جو کچھ پیش کیا ہے، حسب ضرورت مجھ سے اس کی مزید توضیح کرائیں گے، میرے دلائل پر کلام کریں گے اور میری باتوں پرتنقیدی سوالات کر کے میرے استنباط و استنتاج کے بارے میں میری غلطی مجھ پرواضح کریں گے۔
اسی تصورکے تحت میں نے آپ کے اس طریق تبصرہ سے اتفاق کر لیا تھا۔ مگر اس سلسلے میں جب آپ کا خط مورخہ 6 ستمبر 1962ء ملا تو میں نے دیکھا کہ وہ اس سے مختلف ہے جو آپ کے پچھلے الفاظ سے میں نے سمجھا تھا۔ آپ کے اس خط میں میرے مدعا اور میرے دلائل پر کوئی گفتگو نہیں تھی۔ بلکہ اس میں مجرد قسم کے سوالات تھے جن کے بارے میں یہ کچھ نہیں بتایا گیا تھاکہ ان کااصل مسئلہ سے کیاتعلق ہے، وہ میری کس دلیل پرتنقید ہے۔ اورمیری وہ کون سی بات ہے جس کے بارے میں یہ سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ اورکیوں پیدا ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسے سوالات کو میں غیر متعلق نہ کہوں تو اور کیا کہوں۔
آپ لکھتے ہیں کہ ’’اگر میں نے آپ سے یہ سوال کیا ہوتا کہ آپ کے سر میں کتنے بال ہیں۔ یااعظم گڑھ کے بند میں ریت اور مٹی کا تناسب کیا ہے تو بلاشبہ یہ آپ کی تحریر کے موضوع سے بالکل غیر متعلق بات ہوتی ۔ ‘‘ میں عرض کروں گا کہ غیر متعلق سوال کی یہی ایک صورت نہیں ہے، یہ بھی غیر متعلق سوال ہی کی ایک قسم ہے کہ میں آپ سے کہوں کہ جماعت اسلامی نے اسلامی مشن کا جو تصور پیش کیا ہے، وہ قرآن سے ثابت نہیں ہوتا، اور جن جن آیتوں سے اس مشن کے حق میں استدلال کیا جاتا ہے، ان پر گفتگو کر کے بتاؤں کہ کیوں میرے نزدیک یہ آیتیں اس تصورِ مشن کا ماخذ نہیں بنتیں۔ اس کے جواب میں آپ میرے دعوے یا دلیل پرکچھ کہے بغیر بس اس قسم کے مجرد سوالات کرنا شروع کر دیں ’’بتاؤ فلاں آیت میں ’’لیقوم میں لام کیسا ہے‘‘ اور فلاں جگہ ’’وکذالک میں واو کا عطف کس پر ہے‘‘ تو ان کو بھی سوال کے الفاظ کی حد تک اصل مسئلے سے غیرمتعلق کہا جائے گا۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
آپ کی یہ روش میرے لیے سخت حیرت انگیز ہے کہ پچھلے 9 مہینے سے جب سے کہ میرا مسئلہ آپ کے سامنے آیا ہے، آپ اصل مسئلے کے بارے میں مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں ، اور صرف غیر متعلق باتوں میں وقت ضائع کر رہے ہیں۔ اس معاملے میں آپ کی یہ روش صرف میرے ساتھ نہیں ہے بلکہ جیسا کہ رامپورمیں جلال الدین انصر صاحب اور عبدالحئی صاحب نے مجھے بتایا تھا، ان لوگوںنے بہت چاہا کہ آپ میری تحریر کے بارے میں اپنا خیال انھیں بتائیں اور میرے استدلال پر گفتگو کریں مگر بار بار کی کوشش کے باوجود آپ قطعاً اس کے لیے تیار نہیں ہوئے، اب میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس میں آپ کے کیا مصالح پوشیدہ ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
خادم وحید الدین
چتر پور، 21 نومبر 1962ء
محترمی سلام مسنون
آپ کا 12 نومبر کا لکھا ہوا گرامی نامہ ملا۔
1۔ آپ نے خود ہی وعدہ فرمایا تھا کہ اگر تو چاہے تو مولانا ابواللیث صاحب کے خط کی مکمل نقل بھیج سکتا ہوں۔ یاد ہے یہ وعدہ؟
2۔ اس کے بعد میں نے آپ سے نقل مانگی تو اس کے جواب میں آپ نے خاموشی اختیار کر لی۔ کارڈ میں ایک لفظ بھی اس کے بارے میں نہیں۔ تب میں نے دوبارہ یاد دلایا۔
3۔ تو اس کے جواب میں آپ اس کارڈ میں تحریر فرماتے ہیں کہ اس کی مکمل نقل میں نے مولانا ابواللیث صاحب کو بھیج دی ہے، اگر آپ پورا خط دیکھنے کی ضرورت محسوس کرتے ہوں تو دہلی خط لکھ کر اسے حاصل کر سکتے ہیں — اسی کومیں ’’تقویٰ‘‘ سے تعبیر کرتا ہوں تو آپ چڑ جاتے ہیں۔ اہل تقویٰ کو اپنے اس طرح کے متقیانہ عمل پر غور کرنا چاہیے۔
ہاں میرے بھائی سوالات، پھر توضیح مدعااوردلائل پر گفتگو، ترتیب کے ساتھ، اب اگر میرے سوالات آپ کے تصور اور فہم سے مختلف ہو گئے تومیرا کیا قصور۔ کیا میں اپنے سوالات آپ سے استصواب کر کے مرتب کرتا۔ آپ اطمینان رکھیں، میرے سوالات مجرد سوالات نہیں ہیں۔
’’پڑھائی لکھائی‘‘ کے بغیر آدمی کو کچھ نہیں آتا!
والسلام جلیل احسن
اعظم گڑھ، 24 نومبر 1962ء
محترمی سلام مسنون
آپ کا خط مورخہ21 نومبرملا۔ مجھے افسوس ہے کہ اب آپ ایسی سطح پر اتر آئے ہیں جس کے بعد میرے لیے صرف یہی صورت ہے کہ میں اس کے جواب میں خاموشی اختیار کر لوں۔ آخری گزارش یہ ہے کہ میری جو تحریر آپ کے پاس ہے اس کو واپس بھیج دیں۔
والسلام وحید الدین
اس کے جواب میں مجھے مولانا جلیل احسن صاحب کا حسب ذیل خط موصول ہوا اور اس کے بعد 22 دسمبر کومیری تحریر واپس مل گئی۔
چتر پور ،یکم دسمبر 1962ء
برادرمکرم حفظکم اللہ السلام و علیکم و رحمۃ اللہ
آپ کا کارڈ مورخہ24 نومبر، مجھے 29 نومبر کو ملا۔ آپ نے صاف صاف ’’جواب جاہلاں باشد خموشی‘‘ تحریر فرمایا۔ صاف صاف لیکن اگر کوئی ان الفاظ کو آپ کے کارڈ میں تلاش کرے تو نہ پا سکے گا۔ دیکھیے اتنے بلیغ اسلوب میں میں کہاں لکھ سکتا ہوں، اور اتنی ’’اشرف و اعلیٰ سطح‘‘ تک میری پہنچ کیوں کر ہو سکتی ہے۔
بدم گفتی و خورسندم، عفاک اللہ، نکوگفتی!
آپ کی تحریر جس کی واپسی کا آپ نے مطالبہ فرمایا، پنجشنبہ کو ان شاء اللہ رجسٹرڈ ارسال خدمت کروں گا۔
پس نوشت کچھ بعید نہیں کہ سوال ناموں کاسلسلہ پھر شروع ہو۔ کشف ہی تو ہے، غلط ہو سکتا ہے۔