← Tabeer Ki GhalatiTabeer Ki Ghalati
دین کا صحیح تصور
Urdu · 10 min
’’تعبیر کی غلطی‘‘ پر ایک اجمالی نظر— مولانا صدر الدین اصلاحی
مولانا صدر الدین اصلاحی کے جواب پر تبصرہ
قبول حق کی رکاوٹیں۔
اس سلسلے میں عرض ہے کہ اب میری تحریر اپنے ترتیب اور استدلال کے لحاظ سے کافی بدل گئی ہے، اور آپ کا جو جواب ہے وہ میری تحریر کی اس شکل پر ہے جو دس مہینے پہلے اپریل 1962ء میں تھی۔ اس لیے اگر اپنی بدلی ہوئی تحریر کے ساتھ میں آپ کا یہ جواب شائع کروں تو وہ اصل تحریر کے ساتھ بے جوڑ سا معلوم ہو گا۔ اور بہت سے مقامات پر آپ کے نقطہ نظر سے ناکافی اور غیر ضروری بھی نظر آئے گا۔ اس لیے میں چاہتا ہوں کہ آپ اپنے جواب میں ضروری ترمیمات کر کے اس کو میری موجودہ تحریر کے مطابق کر دیں۔
براہ کرم اس تجویز کے بارے میں اپنے اتفاق سے مطلع فرمائیں، تاکہ میں اپنی تحریر موجودہ شکل میں مکمل طور پر آپ کی خدمت میں بھیج دوں اور اس کو سامنے رکھ کر آپ اپنا جواب مرتب فرما دیں۔
خادم وحید الدین
رامپور 12 جنوری 1963ء
مکرمی زید مجدکم
و علیکم السلام و رحمۃ اللہ۔ گرامی نامہ ملا۔ آپ نے شکایت فرمائی ہے کہ آپ کے گزشتہ خط کا میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ حالانکہ یہ شکایت مجھے آپ سے ہے، میں نے تو اپنے خط میں آپ کی اس فرمائش کے بارے میں کہ آپ کے تبصرے پر پھر تبصرہ کرنے کا وعدہ کروں، واضح جواب دے دیا تھا۔ یعنی یہ کہ اس کی کوئی افادیت نہیں دکھائی دیتی۔ اس لیے اس طرح کا کوئی وعدہ کرنے سے قاصر ہوں۔ اس کے بعد میں نے آپ سے بعض گزارشیں کی تھیں۔ مگر آپ نے ان کے بارے میں نہ صرف یہ کہ کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا بلکہ سرے سے کچھ فرمایا ہی نہیں، اور اگر کچھ فرمایا تو یہ کہ میں نے یہ گزارشیں آپ کے سامنے رکھیں کیوں۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
رہی آپ کی حالیہ تجویز، جسے آپ نے تازہ خط میں تحریر فرمایا ہے، تو اس کے سلسلے میں یہ عرض ہے کہ اگر آپ اپنامضمون شائع کر دینا چاہتے ہیں تو اس کا آپ کو اختیار ہے، جیسا مناسب سمجھیں کریں۔ مگر جہاں تک میری تحریر کا تعلق ہے اسے نہ شائع فرمائیں۔ یہ تحریر میں نے صرف آپ کے غور و خوض کے لیے لکھی تھی، نہ کہ عام لوگوں کے پڑھنے کے لیے، یہی وجہ ہے کہ اس میں جگہ جگہ نہایت اہم استدلالات کی طرف صرف اشارہ کر کے چھوڑ دیا تھا۔ اس توقع پر کہ آپ ان کی تفصیل خود سمجھ لیں گے۔ ظاہر ہے کہ عوام سے اس طرح کی کوئی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔ غرض میں نے اس تحریر کو اشاعت کا تصور سامنے رکھ کر لکھا ہی نہیں تھا۔ اس لیے آپ اس کو شائع فرمانے کا قصد نہ کریں۔ جب آپ کا مضمون چھپ جائے گا اس وقت جماعت اس مسئلے پر غور کرے گی کہ آیا اس کے جواب میں اسے بھی کوئی چیز پریس میں لانی چاہیے یا نہیں، جیسا کچھ مناسب سمجھا جائے گا، اس کے مطابق عمل کیا جائے گا۔
صدر الدین
اعظم گڑھ 19 جنوری 1963ء
محترمی مولانا صدر الدین صاحب سلام مسنون
آپ کا خط مورخہ 12 جنوری ملا۔ آپ نے لکھا ہے کہ میں آپ کا جواب اپنی تحریر کے ساتھ شائع نہ کروں، اس کے جواب میں میں آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ 1951ء میں مولانا ابواللیث صاحب امیر جماعت اسلامی ہند نے مولانا حسین احمد مدنی مرحوم سے خط و کتابت کی تھی، اس سلسلے میں مولانا مرحوم نے امیر جماعت کے خط کے جواب میں جماعت اسلامی کے خلاف ایک تفصیلی تحریر روانہ کی تھی۔ بعد کو یہ تحریر مولانا اعزاز علی صاحب مرحوم نے ’’مکتوب ہدایت‘‘ کے نام سے شائع کر دی۔ اس وقت مولانا ابواللیث صاحب نے رسالہ زندگی میں اس پر ’’شکوہ‘‘ کا اظہار کیا کہ یہ تحریر تنہا کیوں شائع کر دی گئی، اور اس کے ساتھ مولانا ابو اللیث صاحب کا جواب کیوں شامل نہیں کیا گیا۔ (زندگی جون ، جولائی، اگست 1951ء ، صفحہ 88)۔
مولانا حسین احمد صاحب کے اعتراضات اور اس کے بارے میں امیر جماعت اسلامی کے جوابات دونوں اگر ایک ساتھ ناظرین کے سامنے آتے تو ہر دو تحریروں کی روشنی میں پڑھنے والے کو زیادہ صحیح رائے پر پہنچنے میں آسانی ہوتی۔ چنانچہ اس کے بعد زندگی میں جب مولانا ابواللیث صاحب کا جوابی خط چھپا تو اس کے ساتھ مولانا حسین احمد مدنی مرحوم کی تنقیدی تحریر بھی شائع کی گئی۔ (زندگی کا مذکورہ بالا شمارہ)
اسی اصول کو اب میں اپنی تحریر کے سلسلے میں اختیار کرنا چاہتا ہوں تو آپ اس سے اختلاف کر رہے ہیں۔ آخر جو بات مولانا حسین احمد صاحب کے باب میں صحیح تھی، وہ میرے باب میں غلط کیوں ہو گئی۔
میری گزارش ہے کہ آپ اپنے خیال پر نظرثانی فرمائیں، رہی یہ بات کہ آپ کے جواب میں جگہ جگہ نہایت اہم استدلالات کی طرف صرف اشارہ ہے، تو اس کا حل یہ ہے کہ آپ اپنی تحریر میں اس حیثیت سے نظرثانی اور اضافہ فرما دیں۔ اس طرح وہ خلا پر ہو جائے گا، جو اس وقت آپ اپنے جواب میں محسوس کر رہے ہیں۔
خادم —وحید الدین
طویل انتظار کے بعد جب مولانا صدر الدین صاحب کی طرف سے میرے مذکورہ بالا خط کا کوئی جواب نہیں ملا تو میں نے جناب محمد فاروق صاحب (مقیم رامپور) کی وساطت سے انھیں یاد دہانی کرائی، اس کے جواب میں فاروق صاحب کی طرف سے ایک خط مورخہ 16 فروری 1963ء ملا جس میں حسب ذیل الفاظ درج تھے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
’’مولانا صدر الدین صاحب کو میں نے آپ کا پیغام پہنچا دیا ہے۔ مولانا کہہ رہے تھے کہ میرا موقف اب بھی وہی ہے جو پہلے تھا۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے، اس لیے انھیں جواب دینے کی چنداں ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ ہو سکتا ہے، اب وہ آپ کو لکھیں۔‘‘
اس کے ٹھیک ایک مہینہ بعد مولانا صدر الدین کی طرف سے حسب ذیل خط موصول ہوا
رام پور 16 مارچ 63ء
برادر مکرم
السلام علیکم و رحمۃ اللہ۔ جناب فاروق احمد خاں صاحب کے ذریعہ آپ کو اپنی اس رائے سے مطلع کر چکا ہوں کہ میں اپنے سابقہ خیال میں کوئی تغیرّ نہیں پیدا کر سکا ہوں۔ مگر چوں کہ آپ کی فرمائش یہ ہے کہ آپ کو میں براہ راست جواب تحریر کروں۔ اس لیے یہ عریضہ بھی ارسال خدمت ہے۔ آپ نے اپنے گرامی نامہ میں جو دلیل تحریر فرمائی تھی وہ مجھے زیرِ بحث معاملے پر منطبق دکھائی نہیں دیتی۔ اس لیے پچھلے عریضے میں میں جو کچھ لکھ چکا ہوں، اسی پر اب بھی قائم ہوں، اور میں اسے ایک مناسب فیصلہ سمجھتا ہوں۔
ویسے اگر آپ اس سلسلے میں مزید گفتگو کرنا چاہیں تو پھر مرکز سے رجوع فرما سکتے ہیں۔ کیوں کہ میں نے آپ کے مضمون پر جو تبصرہ کیا تھا ، وہ ذاتی حیثیت سے اور بطور خود نہیں کیا تھا جیسا کہ آپ کو بھی معلوم ہی ہے۔ بلکہ مرکز اور شوریٰ کی ہدایت پر کیا تھا۔ اس لیے اس بارے میں ضابطے کا فیصلہ بھی وہیں سے ہو سکتا ہے ۔ اگر آپ وہاں سے اجازت حاصل کر لیں تو پھر ظاہر ہے کہ مجھے اعتراض کا کوئی حق باقی نہ رہ جائے گا۔ البتہ اتنی بات ابھی سے واضح رہنی چاہیے کہ اگر آپ کو یہ اجازت مل گئی تو اس شکل میں بھی آپ کو میری موجودہ تحریر ہی کے شائع کرنے پر اکتفا کرنا پڑے گا۔ اسے پھر سے مرتب کرنے اور آپ کے بدلے ہوئے مضمون کے مطابق بنا دینے کی خدمت میں انجام نہ دے سکوں گا۔ امید ہے کہ آپ مع متعلقین بخیریت ہوں گے۔
والسلام صدر الدین
یہ جواب ظاہر ہے کہ میرے اطمینان کے لیے کافی نہیں تھا۔ کیوں کہ اس میں نہ تو یہ بتایا گیا تھا کہ میری ’’دلیل‘‘ جو صاحب موصوف کو ’’زیرِ بحث معاملے پرمنطبق دکھائی نہیں دیتی ’’اس کی وجہ کیا ہے، اور نہ اس کی وضاحت تھی کہ اپنے جواب کو میری موجودہ تحریر کے مطابق بنانے کے لیے وہ کیوں رضا مند نہیں ہیں۔ مگر اب میں نے مزید انھیں کوئی خط لکھنا مناسب نہ سمجھا کیوں کہ ان کے جوابات سے اب یہ بات آخری طور پر واضح ہو گئی تھی کہ اس مسئلے پر وہ مزید کچھ کہنے سننے کے لیے قطعاً راضی نہیں ہیں۔ چنانچہ اس کے بعد میں نے ان سے خط و کتابت کا سلسلہ ختم کر دیا۔