Maulana Wahiduddin Khan
22 min left
0:00

← Tabeer Ki Ghalati
Tabeer Ki Ghalati

خط و کتابت مولانا صدرالدین اصلاحی

Urdu · 22 min

اس سلسلے میں سب سے پہلے مولانا صدرالدین صاحب اصلاحی کا نام آتا ہے۔ موصول امیر جماعت اور پوری مجلس شوریٰ کے متفقہ فیصلہ کے تحت خاص طور پر میری تحریر کا جواب تیار کرنے کے لیے مامور کیے گئے تھے۔ اور ان سے کہا گیا تھا، کہ اگر وہ ضرورت سمجھیں تو چار مہینے کا اپنا پورا وقت دے کر اس کا مکمل اور مفصل جواب لکھیں۔ اس فیصلے کے مطابق، میں نے 22 اپریل 1962ء کی صبح کو اپنی تحریر کی ایک نقل رام پور میں مولانا صدر الدین صاحب کے حوالے کر دی۔

جولائی 1962ء کی 29 تاریخ تھی، دن کے گیارہ بجے میں رام پور میں جماعت اسلامی ہند کے مرکزی کتب خانہ میں بیٹھا ہوا مطالعہ میں مشغول تھاکہ پیچھے سے آواز آئی— ’’اپنی امانت‘‘۔ دیکھا تو جناب افضل حسین خاں صاحب (ناظم درس گاہ) کھڑے تھے۔ انہوں نے ایک لفافہ میری طرف بڑھا دیا۔ یہ وہی لفافہ تھا جس کے لیے میں پچھلے چند مہینوں سے سراپا انتظار بنا ہوا تھا۔ اس میں مولانا صدر الدین صاحب کی وہ تحریر تھی جو انہوں نے مجلس شوریٰ کے فیصلے کے مطابق میری تحریر کے جواب میں مرتب کی تھی۔ اور اسی کے ساتھ امیر جماعت مولانا ابواللیث صاحب کا ایک چھوٹا سا خط حسب ذیل مضمون پر مشتمل تھا

مولانا صدر الدین صاحب کا مضمون ارسال خدمت ہے۔ براہ عنایت اسے مطالعہ فرمانے کے بعد مطلع فرمائیں کہ اصولی طور پر آپ کہاں تک اس سے اتفاق کرتے ہیں۔ آپ کے تاثرات معلوم ہونے کے بعد اگر ضرورت محسوس ہوئی تو زبانی بات چیت کے لیے یا تو میں خود رام پور حاضر ہوں گا یا آپ کو دہلی آنے کی تکلیف دوں گا خدا کرے یہ مضمون آپ کی تشفی کا موجب ثابت ہو اور ہم اور آپ بدستور ایک دوسرے کی رفاقت میں اپنا سفر جاری رکھ سکیں۔‘‘

لفافہ کھول کر میں نے مولانا صدر الدین صاحب کے جواب کی سرخی دیکھی۔ لکھا ہوا تھا ’’تعبیر کی غلطی کا ایک اجمالی جائزہ‘‘ جی چاہا کہ فوراً پڑھنا شروع کر دوں ۔ مگر مجھے اپنا وہ عہد یاد آیا جو میں نے اپنے خدا سے کیا تھا۔ میں فوراً اٹھا،کتابیں الماری میں رکھیں، کمرہ بند کیا اور قریب کی مسجد میں جا کر وضو کیا۔ دو رکعت نما ز پڑھی اس کے بعد بہتے ہوئے آنسوؤں کے ساتھ دعا کی

’’خدایا! جو کچھ تیرے نزدیک حق ہے، اس کو مجھ پر واضح کر دے، میں پناہ مانگتا ہوں کہ اپنی عقل کے پیچھے بھٹکتا رہوں، یقینا ًایک روز ایسا آنے والا ہے، جب تیرے فرشتے، ایسے فرشتے جن کو میں لوٹانھیں سکتا، میرے پاس آئیں گے اور مجھ کو پکڑ کر تیرے پاس حاضر کر دیں گے، خدایا اس روز تو مجھ سے جو کچھ چاہے گا وہ مجھ کو آج ہی بتا دے، پردہ اٹھنے کے بعد میں جو کچھ دیکھوں گا وہ آج ہی مجھے دکھا دے‘‘۔

میں نے عہد کیا تھا کہ جب صدر الدین صاحب کا تبصرہ مجھے ملے گا تو پہلے میں دو رکعت نماز پڑھ کر خدا سے دعا کروں گا، اور پھر ا س کا مطالعہ کروں گا۔ چنانچہ اس عہد پر عمل کر لینے کے بعد اب میں نے اصل تحریر پڑھنی شروع کی، اور اس کو پہلی فرصت میں ختم کرڈالا۔ اس کے بعداس کو بار بار پڑھا۔ اس پر نوٹ تیار کیے، اس میں جو حوالے تھے ان کو نکال کر دیکھا یہاں تک کہ تحریر ملنے کے چوتھے دن یعنی2اگست کو میرے ذہن نے فیصلہ کر دیا کہ یہ تحریر نہایت ناقص ہے، اپنے خیالات پر میرا یقین بڑھ گیا۔ اور میں نے خدا کا شکر ادا کیا کہ اس تبصرہ کے ذریعہ اس نے میرے ذہن کی مزید صفائی اور میرے خیالات کی مزید وضاحت کا انتظام فرمایا ہے۔

اس کے بعد 10 اگست کو بذریعہ خط میں نے امیر جماعت کو مطلع کیا کہ مولانا صدر الدین صاحب کے جواب سے میرے اصل نقطۂ نظر میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، اس کے جواب میں ان کا خط مؤرخہ13 اگست 1962ء ملا جو امیر جماعت کی خط و کتابت میں شامل ہے، اس خط کے مطابق میں نے مولانا صدر الدین صاحب کی تحریر کے بارے میں اپنے خیالات کا ایک خلاصہ امیر جماعت کے پاس بھیج دیا، یہ تبصرہ امیر جماعت کی وساطت سے مولانا صدر الدین صاحب کے علم میں بھی آ چکا تھا۔ مگر اس کے باوجود وہ اپنے جواب کی صحت پر مصر تھے اور میری بات کو بدستور غلط سمجھ رہے تھے۔ اس لیے میں نے چاہا کہ میں ان کے جواب پر اپنا مفصل تبصرہ ان کی خدمت میں روانہ کروں اور اس کے بعد وہ اپنے ان دلائل سے مجھے مطلع فرمائیں جن کی بنا پر وہ میرے جواب کو قابل رد سمجھتے ہیں، اس طرح دونوں کے لیے زیادہ تفصیل کے ساتھ ایک دوسرے کے نقطہ نظر پر غور کرنے کا موقع مل سکتا تھا۔

چنانچہ میں نے امیر جماعت کو لکھا کہ اگر مولانا صدر الدین صاحب میرے جواب پر تبصرہ کرنے کے لیے آمادہ ہوں تو میں ان کی تحریر کے بارے میں اپنا مفصل جواب لکھ کر روانہ کر دوں، میری درخواست پر امیر جماعت نے مولانا صدرالدین صاحب کو خط لکھ کر دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ وحید الدین خاں نے اپنے مختصر تاثرات میں اس سے پہلے جو طرز اختیار کیا تھا، اگر ان کے مفصل جواب کا طرز وہی رہتا ہے تو اس پر وہ تبصرہ کرنے سے معذور ہوں گے۔ (یہ مختصر تاثرات امیر جماعت کی خط و کتابت میں شامل ہیں)

unverifiedAttribution could not be verified automatically

یہ اطلاع مجھے امیر جماعت کے خط مورخہ13 اکتوبر 1962ء کے ذریعہ ملی۔ چنانچہ اس کے حوالہ سے میں نے مولانا صدر الدین صاحب کے نام حسب خط روانہ کیا

اعظم گڑھ20 اکتوبر 1962 ء

محترمی! سلام مسنون

آپ کی تحریر کے جواب میں جو دوسری تحریر میں نے مرتب کی ہے، اس کی مکمل نقل بھیجنے کے سلسلے میں میں نے امیر جماعت کو لکھا تھا کہ میں چاہتا ہوں کہ جب میں اس کی نقل بھیجوں تو اس کو پڑھنے کے بعد آپ اپنے تاثرات سے بھی ضرور مجھے مطلع فرمائیں، اس سلسلے میں مجھے امیر جماعت کا ایک خط موصول ہوا جس میں وہ لکھتے ہیں

’’جواب کے سلسلے میں مولانا صدر الدین صاحب سے میں نے معلوم کیا تھا وہ فرماتے ہیں کہ اگر ان کی تحریر کا جواب پڑھنے کے بعد میں نے محسوس کیا کہ اس پر تبصرہ کرنا افادیت کا حامل ہو گا تو ان شاء اللہ تبصرہ کروں گا، لیکن اگر یہ جواب اس طرز کا ہوا جس طرز کا مختصر جواب وحید الدین خاں صاحب پہلے دے چکے ہیں، تو ایسے جواب پر کسی تبصرے سے مجھے معذور سمجھا جائے۔ان کی یہ بات معقول ہے، آپ اس سلسلے میں جو فیصلہ فرمائیں اس سے براہ راست ان کو مطلع کر دیں۔‘‘

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مجھے افسوس ہے کہ میں امیر جماعت کی اس رائے سے اتفاق نہیں کر سکتا کہ آپ کی یہ’’بات معقول ہے‘‘۔ آخر میری مختصر تحریر میں وہ کون سا طرز تھا، جس کی بنا پر آپ اسے جواب دینے کے قابل نہیں سمجھتے، میں نے اس میں لفاظی نہیں کی ہے،بلکہ قطعی حقیقتیں پیش کی ہیں جن کے بارے میں آپ کو بہرحال کوئی نہ کوئی رائے دینی چاہیے۔ مثال کے طور پر اقیموالدین کی آیت کے سلسلے میں میں نے لکھا تھا کہ یہاں الدین سے مراد کل دین نہیں بلکہ اصل دین ہے اور اس کے لیے واضح قرائن موجود ہیں، چنانچہ مفسرین نے بالاتفاق یہی مراد لیا ہے، اس کے جواب میں آپ نے لکھا

unverifiedAttribution could not be verified automatically

’’مفسرین کرام کا یہ خیال اگرچہ اپنی جگہ بالکل صحیح ہے کہ آیت کا اصل مدعا یہی ہے، مگر اس کے باوجود آیت کے منشا سے یہ مسئلہ بالکل خارج بھی نہیں ہے کہ اصل دین کے بعد تفصیلی پیروی کس شریعت کی جائے گی، بلکہ الذی اسم موصول خاص لا کر اللہ تعالیٰ نے اس سوال کے جواب کی طرف بھی اشارہ کر دیا ہے۔ چنانچہ جن علما کی نظر اس طرف جا سکی ہے انہوں نے ساتھ کے ساتھ اس حقیقت کی بھی وضاحت کر دی ہے کہ — اقامت دین کے اس حکم میں شریعت کے تفصیلی احکام بھی داخل ہیں اور پورے کے پورے داخل ہیں۔‘‘

اس سلسلے میں آپ نے جلالین کے دو شارحین کا حوالہ اپنے اس دعوے کی تائید میں پیش کیا ہے کہ وہ اَنْ اَقِيْمُوا الدِّيْنَ کے اس حکم میں تمام کی تمام شریعت کو داخل مانتے ہیں، مگر جب میں نے اصل کتاب کی طرف رجوع کیا تو معلوم ہوا کہ آپ کے دونوں حوالے بالکل غلط ہیں۔ چنانچہ میں نے اپنے جواب میں دونوں شرحوں کی پوری متعلقہ عبارت نقل کر دی اور دکھایا کہ آپ کے اس دعوے کی حقیقت صرف یہ ہے ان دونوں حضرات نے جو بات الَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ کے فقرہ کے بارے میں کہی تھی، وہ بالکل غلط طور پر آپ نے اَنْ اَقِيْمُوا الدِّيْنَ کے فقرے کے ساتھ جوڑ دی، حالانکہ دوسرا فقرہ جس کے بارے میں اصل بحث ہے، اس کے متعلق جلالین کے اصل متن اور اس کی دونوں شرحوں میں یہ صراحت موجود ہے کہ اس میں عموم مراد نہیں۔

اب ظاہر ہے کہ آپ کے لیے دو ہی راہ ہے، یا تو آپ اعتراف کریں کہ آپ سے حوالہ دینے میں غلطی ہوئی، یا یہ ثابت کریں کہ ان شرحوں کے بارے میں جو بات میں کہہ رہا ہوں وہ صحیح نہیں، ایسی سنگین بات کے سلسلے میں آپ کی خاموشی حیرت انگیز ہے۔ اگر ایسی باتیں بھی آپ کے نزدیک ناقابل جواب ہیں تو میں نہیں سمجھتا کہ وہ کون سی بات ہو گی جس کا جواب دینا آپ ضروری سمجھیں گے۔

میری مختصر تحریر میں جو طرز ہے وہ یہی ہے کہ مجھے دلیل کی بنیاد پر آپ کی باتیں غلط معلوم ہوئیں اور ان کو میں نے بے لاگ طور پر ظاہر کر دیا، اب اگر یہ طرز آپ کے نزدیک مناسب نہیں ہے تو اس کا دوسرا بدل یہی ہے کہ میں بے دلیل آپ کی باتیں مان لوں، لیکن اگر میں ایسا کر سکتا تو اس بحث و مباحثہ کی ضرورت ہی کیوں پیش آتی۔

میں دوبارہ آپ سے گزارش کروں گا کہ آپ اپنے مذکورہ بالا فیصلہ کو واپس لے لیں اور مجھے اپنی اس آمادگی سے مطلع فرمائیں کہ آپ میرے جواب کو پڑھنے کے بعد اس کے بارے میں اپنے تاثرات سے مجھے مطلع فرمائیں گے تاکہ اس کی مکمل نقل آپ کی خدمت میں بھیجی جا سکے۔

خادم وحید الدین

رام پور 12 نومبر 1962ء

برادر مکرم!

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ۔ آپ کا کارڈ کافی دن ہوئے ملا تھا، جواب میں بڑی تاخیر ہو گئی جس کے لیے معذرت خواہ ہوں۔

آپ کی فرمائش کے باوجود میں اپنے نظریے میں کوئی تبدیلی نہیں کر سکا ہوں اور میں نے اس سلسلے میں امیر جماعت کو جو کچھ لکھا تھا اسے اب بھی پوری طرح معقول ہی سمجھتا ہوں۔

جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے، آپ کو بھی اعتراف کرنا چاہیے کہ میں نے زیرِ بحث مسئلہ کے بارے میں اپنے خیالات اور دلائل پوری وضاحت سے پیش کر دیے ہیں۔ اس لیے مزید رد و قدح کی کوئی سعی کچھ مفید نہ ہو گی، میں اپنے پیش کردہ خیالات اور دلائل پر اب بھی اسی طرح مطمئن ہوں جیسا کہ پہلے تھا، لیکن آپ کو ان کے اندر کوئی خاص وزن محسوس نہیں ہوتا تو قدرتی طور پر بات ختم ہو جانی چاہیے۔ میرے علم و فہم کی جو رسائی تھی اس کا نتیجہ آپ کے سامنے آچکا ہے، اس میں کوئی بات آپ کے کام کی ہو تو اچھی بات ہے، ورنہ اسے نظرانداز کر ۔

پچھلے دنوں یہ معلوم کر کے مجھے بڑا افسوس ہوا کہ میرے نام کا ایک خط جو امیر جماعت نے مجھے بھیجا تھا اور آپ کی دوسری تحریر کے ساتھ میں نے لفافے کے اندر رکھ چھوڑا تھا آپ کے پاس پہنچ گیا ہے اور یہ صورت حال غالباً اس وجہ سے پیدا ہو گئی کہ میں آپ کی تحریر واپس کرتے وقت لفافے کے اندر سے وہ خط نکالنا بھول گیا تھا۔ اس سلسلے میں آپ کو شاید اس بات کا خیال نہیں رہا کہ کسی غیر کے خط کو لے کر رکھ لینا کوئی صحیح بات نہیں۔ چہ جائیکہ اس کو پڑھ بھی لیا جائے، اور پھر متعلقہ شخص کو نہ واپس کیا جائے نہ اس کی اطلاع دی جائے۔ بہرحال اب میری گزارش یہ ہے کہ اس خط کو برائے کرم اب بھی واپس دے دیجیے۔

آپ نے اپنی دوسری مختصر تحریر اس وعدے کے ساتھ واپس لے لی تھی کہ اسے پھر سے مرتب کر کے بھیج دیں گے، اس وعدے کو پورا کیے جانے کا انتظار ہے۔

والسلام صدرالدین

اعظم گڑھ15 نومبر 1962ء

محترمی! مولانا صدر الدین صاحب سلام مسنون

آپ کا خط مورخہ 12 نومبر 1962ء ملا، آپ نے لکھا ہے

’’میں نے زیرِ بحث مسئلے کے بارے میں اپنے خیالات اور دلائل پوری وضاحت سے پیش کر دیے ہیں، اس لیے مزید رد وقدح کی کوئی سعی مفید نہ ہو گی۔‘‘

میں افسوس کے ساتھ عرض کروں گا کہ یہ اس اصل بات کا جواب نہیں ہے۔ جس کے لیے میں نے آپ کو خط لکھنے کی ضرورت محسوس کی تھی۔ میں نے دراصل آپ کی اس بات کے متعلق دریافت کیا تھا ، جو اس سے پہلے مجھے امیر جماعت کی وساطت سے پہنچی تھی، مگر اس کا جواب دینے کے بجائے آپ نے یہ کیا کہ اپنا موقف بدل کر دوسری بات کہہ دی۔

مسئلہ یہ تھاکہ میں نے چاہا تھا کہ آپ کی تحریر کے بارے میں میرا جو تبصرہ ہے آپ دوبارہ اس پر اظہار خیال فرمائیں۔ اس کے جواب میں مجھے امیر جماعت کا خط مورخہ 13 اکتوبر ملا جس میں مجھے اطلاع دی گئی تھی کہ آپ کے نزدیک میرے تبصرہ کا ’’طرز‘‘ مناسب نہیں ہے، اس لیے آپ اس کا جواب نہیں دے سکتے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اپنا 20اکتوبر کا خط میں نے اسی سلسلے میں آپ کی خدمت میں روانہ کیا تھا اور اس میں مثال کے طور پر اپنے تبصرہ کے ایک حصے کو یاد دلاتے ہوئے آپ سے دریافت کیا تھا کہ مجھے بتائیں کہ اس میں وہ کون سا ’’طرز‘‘ ہے، جس نے میری اس تحریر کو آپ کے لیے ناقابل التفات بنا دیا ہے۔

اس کے جواب میں آپ کو چاہیے تھا کہ میرے تبصرہ کے محولہ ٹکڑے کاتجزیہ کرکے بتاتے کہ دیکھو اس کے ’’طرز‘‘ میں فلاں غلطی پائی جاتی ہے، اس لیے میں اس پر اظہار خیال کرنے سے معذور ہوں۔ اس کے بجائے آپ نے ایک اور بات فرما دی۔ یہ کہ ’’آپ کو جو کچھ کہنا تھا کہہ چکے ہیں اب مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔‘‘

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ اپنے اس خط میں اصل مسئلہ کے بارے میں تو آپ نے ایک لفظ نہیں لکھا، البتہ امیر جماعت کے خط کے سلسلے میں ایک قانونی نکتہ نکال کر اس کے بارے میں سات سطریں لکھ ڈالیں، حالانکہ آپ کا یہ اعتراض بالکل ایسا ہی ہے جیسے کسی شخص سے مجھے یہ شکایت ہو کہ وہ میرے بارے میں نامناسب رویہ اختیار کر رہا ہے، مگر وہ اسے تسلیم نہ کرتا ہو۔ اس کے بعد اتفاق سے متعلقہ مسئلہ پر اس کی ایک دستخط شدہ تحریر مجھ تک پہنچ جائے، اور اس کو پیش کر کے میں کہوں کہ دیکھو یہ خود تمہاری تحریر میرے دعوے کا ثبوت فراہم کر رہی ہے، اس کے جواب میں وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرنے یا اصل بات کا جواب دینے کے بجائے یہ کہنا شروع کر دے کہ ’’میری ایک نجی تحریر تمہیں پڑھنے کا کیا حق تھا۔‘‘ کاش آپ جانتے کہ اس طرح کی باتیں ہمیشہ آدمی کی اپنی کمزوری کا اعتراف ہوتی ہیں، وہ دوسرے کی تغلیط نہیں کرتیں۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

آپ کی یہ روش میرے لیے سخت حیرت انگیز ہے کہ میں نے اپنے مختصر تبصرہ میں نہایت واضح قسم کی قطعی باتیں آپ کے سامنے رکھی تھیں، مگر آپ نے ان کا کوئی جواب نہیں دیا، اور اصل مسئلہ پر خاموش رہ کر دوسری دوسری باتیں کہنا شروع کر دیں۔ کیا آپ کا ضمیر اس پر مطمئن ہے کہ اس طرح کا رویہ اختیار کر کے واقعی آپ خدا اور خلق خدا کے سامنے بری الذمہ ہو گئے ہیں۔ کاش آپ یہ سوچتے کہ یہ ایسا مسئلہ نہیں ہے جس کو اپنے ذہن میں ٹال کر آپ یہ سمجھیں کہ وہ حقیقت میں بھی ٹل گیا۔ وہ بہرحال آپ کی طرف لوٹے گا، پھر کیا اس وقت بھی آپ خاموش رہیں گے۔

خادم وحید الدین

مولانا صدر الدین صاحب کی طرف سے میرے اس خط کا کوئی جواب نہیں آیا۔ چنانچہ میں نے جلال الدین انصر صاحب (مقیم رامپور) کے نام ایک خط میں اس کی شکایت کی۔ جس کے جواب میں انصر صاحب کا ایک خط مورخہ 11 دسمبر 1962ء مجھے ملا جس میں حسب ذیل الفاظ درج تھے

’’مولانا صدر الدین صاحب کو میں نے آپ کا پیغام پہنچا دیا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ آپ کا پچھلا خط جواب طلب نہیں تھا، اس لیے انہوں نے جواب نہیں دیا ہے، البتہ آپ سے انہوں نے دو چیزیں طلب کی تھیں لیکن وہ آپ نے نہیں بھیجیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

دو چیزوں سے مراد ایک تو مولانا ابو اللیث صاحب کا خط بنام مولانا صدر الدین صاحب دوسرا مولانا صدر الدین صاحب کے جواب پر میرا مفصل تبصرہ، جس کو میں نے اس لیے نہیں بھیجا کہ مولانا صدر الدین صاحب میری اس شرط کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھے کہ اس کو دیکھنے کے بعد وہ اس کے بارے میں اپنے تبصرہ سے مجھے مطلع کریں گے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اس جواب کے بعد میں نے سمجھ لیا کہ اب وہ میرے تبصرہ پر دوبارہ تبصرہ کرنے کے لیے راضی نہیں ہیں، دوسرے لفظوں میں یہ کہ دوطرفہ افہام و تفہیم کا مرحلہ ختم ہو گیا۔ اب مجھے خود یہ فیصلہ کرنا ہے کہ مجھے کیا کرنا چاہیے۔

اس کے بعد میں کچھ دن اس مسئلہ پر غور کرتا رہا۔ بالآخر جس نتیجے پر پہنچا وہ یہ تھا کہ اب غالباً مجھے اپنی کتاب شائع کرنی پڑے گی، چنانچہ مولانا صدر الدین صاحب کو میں نے حسب ذیل خط روانہ کیا۔

اعظم گڑھ 6 جنوری 1963ء

محترمی! سلام مسنون

عرصہ ہوا میں نے آپ کے نام ایک خط روانہ کیا تھا جس کا کوئی جواب نہیں آیا، بہرحال اب میں سوچ رہا ہوں کہ اپنی تحریر کو کتابی صورت میں شائع کروں، اس کے ساتھ آپ کا جواب اور ا س کے متعلق اپنا مفصل تبصرہ بھی شامل کرنے کا ارادہ ہے تاکہ ناظرین کے سامنے دونوں موقف آ جائے اور وہ دونوں کو دیکھ کر صحیح نقطۂ نظر تک پہنچ سکیں۔ اس ترتیب کے مطابق کتاب کی فہرست حسب ذیل ہو گی

پس منظر

تعبیر کی غلطی

نتائج

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content