یہ اپنے خیالات کے سلسلے میں جماعت کے اوپر کے افراد سے میری انفرادی گفتگوؤں کی مختصر روداد ہے جو پورے دو سال تک جاری رہی۔ اس کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ اس قسم کی گفتگوؤں سے کوئی بات بننے والی نہیں ہے۔ اب میں نے طے کیا کہ اس سلسلے میں جماعت کا آخری اور انتہائی جواب معلوم کروں۔ چنانچہ میں نے اپنی تحریرکی ایک نقل امیر جماعت اسلامی ہند مولانا ابواللیث صاحب کو اپنے خط مورخہ یکم اپریل 1962ء کے ساتھ روانہ کر دی۔ خط کا مضمون حسب ذیل تھا۔
’’اس خط کے ساتھ اپنی تحریری کی ایک نقل روانہ کر رہا ہوں، یہ تحریر آپ کے پاس روانہ کرنے کی غرض یہ ہے کہ جماعت اسلامی کے ذمہ دار اعلیٰ کی حیثیت سے میں آپ کے سامنے اپنے وہ خیالات رکھ دوں جنہوں نے مجھ کو جماعت کے بارے میں شدید بے اطمینانی میں مبتلا کر دیا ہے میں ان امورکے سلسلے میں آپ کا واضح جواب معلوم کرنا چاہتا ہوں، تاکہ جماعت سے اپنے تعلق کے بارے میں کوئی آخری رائے قائم کر سکوں۔
آپ کے اس جواب کی نوعیت کیا ہو۔ اس کے بارے میں میری کوئی تجویز نہیں ہے۔ آپ خود سے کوئی جواب دیں۔ یا مجلس شوریٰ یا جماعت کے علما سے مشورہ کر کے مجھے آگاہ فرمائیں۔ بہرحال آپ کی طرف سے جو جواب مجھے ملے گا ۔ میں اس کو جماعت کا جواب سمجھوں گا۔ اور اس کی روشنی میں یہ فیصلہ کروں گا کہ اب مجھے اپنے بارے میں کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔‘‘
اس کے دو ہفتہ بعد دہلی میں مجلس شوریٰ کا سالانہ اجلاس شروع ہوا۔ اس موقع پر امیر جماعت نے ارکان شوریٰ کو میری تحریر دیکھنے کے لیے دی۔ اور پھر 19 اپریل کو دن کی دو نشستوں میں کئی گھنٹے اس پر غور کیا گیا۔ چوں کہ مجھے ان نشستوں سے اٹھا دیا گیا تھا، اس لیے مجھے نہیں معلوم کہ اس میںکیا کیا باتیں ہوئیں۔ البتہ آخر میں امیر جماعت نے مجھے اجلاس میں بلاکر بتایا کہ ہم سب لوگوں کو متفقہ طور پر یہ خیال ہے کہ آپ کی تحریر پر پوری سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ مگر اس کا جواب جلدی میں نہیں دیا جا سکتا اس میں کافی وقت لگے گا۔ چنانچہ مولانا صدر الدین صاحب کو اس کے لیے متعین کیاگیا ہے کہ وہ اس کا مفصل جواب تیار کریں۔ بعد کو اس کے لیے چار مہینے کی مدت مقرر ہوئی اور یہ طے ہوا کہ مولانا صدر الدین صاحب اپنا تحریری جواب تیار کر کے اگست کے آخر تک ضرور بھیج دیں۔
اس کے علاوہ امیر جماعت اور شوریٰ کے ارکان نے یہ بھی خواہش ظاہر کی کہ تحریر کی ایک ایک نقل مولانا ابوالاعلیٰ مودودی اور مولانا جلیل احسن ندوی کی خدمت میں بھی روانہ کی جائے اور اس کے متعلق ان لوگوں کی رائیں معلوم کی جائیں، مولانا مودودی کی اہمیت اس لحاظ سے ہے کہ جماعت اسلامی جس فکر کی بنیاد پر اٹھی ہے، اس فکر کے پیدا کرنے والے دراصل وہی ہیں اور مولانا جلیل احسن ندوی کی اہمیت اس اعتبار سے ہے کہ وہ جماعت کے حلقہ میں اس حیثیت سے ایک نمایاں شخص ہیں کہ انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ قرآن کے مطالعہ میں صرف کیا ہے۔ اور آج بھی قرآن کے استاد کی حیثیت سے ان کے بہترین اوقات کا مصرف یہی کتاب ہے، اس لیے اس سلسلے میں ان کی رائے بہت اہمیت رکھتی ہے۔ اب میں تینوں صاحبان کی روداد الگ الگ بیان کروں گا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔