یہ باتیں کیوں میرے لیے غیر تسلی بخش ثابت ہوئیں، اس کا اندازہ آپ بآسانی کر سکیں گے اگر میں ان میں سے بعض کا یہاں مختصر ذکر کر دوں۔
1۔ اس سلسلے میں میری گفتگو کا آغاز 1959ء میں ایک مرکزی شخصیت سے ہوا جو جماعت میں اوپر کے محدود ترین افراد میں سے ایک سمجھے جاتے ہیں، ان سے عرصہ دراز تک باتیں ہوتی رہیں مگر وہ کوئی فیصلہ کن بات مجھے نہ بتا سکے، انھیں خود بھی بہت سے معاملات میں جماعت سے شکایت تھی مگر میری فکری الجھن کو دور کرنے میں انہوں نے میری کوئی خاص رہنمائی نہیں کی، ایک بار میں ’’اظہار دین‘‘ والی آیت کے بارے میں ان سے گفتگو کر رہا تھا۔ میں نے کہا کہ آپ لوگ اس سے رسول کا اور رسول کی تبعیت میں امت مسلمہ کا نصب العین اخذ کرتے ہیں۔ اگر فی الواقع اس آیت میں وہ مخصوص مشن بتایا گیا ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے سلسلۂ وحی و رسالت جاری کیا تھا تو یہ الفاظ قرآن میں صرف آخری رسول کا مشن بتانے کے لیے کیوں ملتے ہیں۔ دیگر انبیاء کے مقصد بعثت کو ظاہر کرنے کے لیے بھی قرآن میں اس قسم کے الفاظ کیوں نہیں ہیں۔ انہوں نے جواب .دیا— ’’ممکن ہے آخری رسول کے بعد مقصد رسالت بدل کر اظہار دین کر دیا گیا ہو‘‘ اوکماقال ۔
2۔ ایک اور بزرگ جو جماعت میں انتہائی چوٹی کی حیثیت رکھتے ہیں، ان سے باربار گفتگو ہوئی مگر وہ ہمیشہ مجھ کو یہی سمجھاتے رہے کہ تم جو کچھ سوچ رہے ہو اس میں اور جماعت کے فکر میں کوئی خاص فرق نہیں ہے، دونوں تقریباً ایک ہی ہیں۔ یہ گفتگوئیں جون 1960ء سے لے کر ستمبر 1961ء تک رامپور، دہلی اور اعظم گڑھ میں ہوئیں حتیٰ کہ جولائی 1960ء میں جب مجلس شوریٰ نے مجھے رسالہ زندگی کی ادارت کے لیے نامزد کیا، اور میں نے صرف اس بنیاد پر اس کو قبول کرنے سے معذوری ظاہرکی کہ جماعت کی فکر سے مختلف فکر رکھتے ہوئے میں اپنے لیے اس کو صحیح نہیں سمجھتا تھا کہ جماعت کے آرگن میں اڈیٹر کی ذمہ داری قبول کر لوں۔ اس وقت بھی موصوف نے مجھ کو یہی باور کرانے کی کوشش کی کہ یہ محض تمہارا شدت احساس ہے کہ تم کو اپنے خیالات جماعت کی فکر سے مختلف نظر آتے ہیں، حالانکہ دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ ان کا مشورہ تھا کہ میں اس وہم کو اپنے اندر سے نکال دوں اور ’’زندگی‘‘ کی ادارت قبول کر لوں۔
اس قسم کے اور بھی بعض افراد ہیں جنہوں نے مجھ کو یہ باورکرانے کی کوشش کی کہ یہ محض لفظی فرق ہے، ورنہ حقیقتاً دونوں باتوں میں کوئی فرق نہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔