Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Tabeer Ki Ghalati
Tabeer Ki Ghalati

گفتگو اور خط و کتابت

Urdu · 4 min

جماعت اسلامی سے پندرہ سال متعلق رہنے کے بعد 1962ء کے آخر میں میں نے اس سے استعفیٰ دے دیا۔ 15 اکتوبر 1962ء کو میں نے اپنا استعفیٰ روانہ کیا تھا جو چھ مہینے بعد قَیِّم جماعت کے خط مورخہ 25 اپریل 1963ء کے مطابق منظور کر لیا گیا۔ یہ علاحدگی اچانک عمل میں نہیں آئی بلکہ اس کے پیچھے کشمکش کی ایک لمبی تاریخ ہے۔ جہاں تک ان فکری اسباب کا تعلق ہے جو مجھ کو اس انتہائی فیصلے تک لے گئے ان کا مطالعہ آپ اگلے صفحات میں کریں گے، یہاںمیں گفتگو اور خط و کتابت کی وہ روداد مختصر طور پر درج کرنا چاہتا ہوں جو اس فیصلہ سے پہلے تقریباً چار سال تک جاری رہی تاکہ آپ اصل واقعہ کے پورے پس منظر کو سمجھ سکیں۔

میں تقسیم ہند کے بعد نومبر 1947ء میں جماعت اسلامی کی تحریک سے متاثر ہوا اور تقریباً دس سال تک یکسوئی کے ساتھ اس سے مل کر کام کرتا رہا۔ یہ وقت تھا جب کہ اس کے بہت سے دیگر افراد کی طرح میں یہ سمجھتا تھا کہ مجھ کو آخری صداقت کا علم ہو گیا ہے۔ اس زمانے میں میں زیادہ تر جماعت کے عملی کاموں میں مشغول رہا، اور جماعت کے مخصوص لٹریچر کے علاوہ دیگر چیزوں کے مطالعے کی طرف بہت کم توجہ د ے سکا۔ اس کے بعد ایک ایسا وقت آیا جب بعض اسباب نے مجھے یکسوئی کے ساتھ مطالعے کے مواقع فراہم کر دیے۔ خاص طور پر دو سال کابیشتر وقت میں نے قرآن کو پڑھنے اور اس کے مطالب پر غور و فکر کرنے پر صرف کیا، اس وقت پہلی بار میں نے محسوس کیا کہ اس فکر پر میرا یقین متزلزل ہو رہاہے، قرآن کے مطالعے کے دوران میں شدت سے مجھ پر یہ احساس طاری ہوا کہ قرآن میرے اس تصور دین کی تصدیق نہیں کررہا ہے، جس کو میں اب تک اسلام کا صحیح ترین تصور سمجھ رہا تھا۔

خوش قسمتی سے اس زمانے میں جماعت اسلامی کے شعبۂ تصنیف و تالیف سے متعلق ہونے کی وجہ سے میں جماعت کے مرکزی دفتر (رام پور) میں مقیم تھا، اور اسی کے ساتھ چوں کہ میں اس کی مرکزی مجلس شوریٰ کا رکن تھا، اس لیے جماعت کے انتہائی منتخب افراد سے ملنے جلنے کے مواقع بھی مجھے حاصل تھے، چنانچہ میں نے اپنی ذہنی کشمکش کے سلسلے میں تحریک کے اوپر کے افراد اور مرکزی شخصیتوں سے تبادلۂ خیال شروع کیا، مگر طویل مدّت کے غور و فکر اور بحث و گفتگو کے بعد بالآخر میں اس نتیجے پر پہنچا ہوںکہ اس فکر کی طرف سے زبانی یا تحریری طور پر اب تک جتنے بھی دلائل دیے گئے ہیں ان میں سے کوئی ایک بھی—کم از کم میرے علم و فہم کی حد تک— ان سوالات کو رفع نہیں کرتا جس نے مجھے موجودہ حالت تک پہنچایا ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.