Maulana Wahiduddin Khan
8 min left
0:00

← Taaruf-e-Islam
Taaruf-e-Islam

اسلامی معاشرہ

Urdu · 8 min

سماج کیا ہے؟ بہت سے آدمیوں کا مل جل کر رہنا۔ جب بہت سے آدمی مل کر ایک ساتھ رہیں تو ان کے درمیان طرح طرح کے تعلقات قائم ہوتے ہیں۔ کوئی کسی کا رشتہ دار ہوتا ہے، کوئی کسی کا پڑوسی۔

کوئی کسی کا ہم قوم ہوتا ہے، کوئی کسی کا ہم وطن۔ کوئی تاجر ہوتا ہے اور کوئی گاہک۔ کوئی مالکِ مکان ہوتا ہے اور کوئی کرایہ دار۔ اس طرح کے مختلف تعلقات کی بنا پر لوگوں کے درمیان بار بار معاملات پیش آتے ہیں۔

ان معاملات کے دوران کبھی کسی سے نفرت کے اسباب پیدا ہو جاتے ہیں اور کسی سے محبت کے۔ کسی سے کچھ لینا ہوتا ہے اور کسی کو کچھ دینا۔ کسی سے اختلاف ہوتا ہے اور کسی سے اتفاق۔ کوئی اپنا بن جاتا ہے اور کوئی غیر دکھائی دیتا ہے۔

یہی چیز ہے جو لوگوں کے درمیان سماجی تعلقات پیدا کرتی ہے۔ اور یہ سوال سامنے آتا ہے کہ کیا کیا جائے اور کیا نہ کیا جائے۔ بہت سے پتھر ایک ساتھ پڑے ہوں تو ان میں باہمی تعلقات قائم نہیں ہوتے۔ اس لیے ان کے درمیان مذکورہ قسم کے مسائل بھی پیدا نہیں ہوتے۔

مگر جب بہت سے انسان ایک ساتھ مل کر رہیں تو ان میں باہمی تعلقات قائم ہوتے ہیں۔ اور اس بنا پر ان کے درمیان طرح طرح کے مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں۔ ایسے مواقع پر اسلام کی تعلیم کیا ہے؟ مسلمان جب ایک سماج کی صورت میں مل کر رہیں تو وہ آپس میں کس طرح رہیں اور معاملات میں ایک دوسرے کے ساتھ کس قسم کا سلوک کریں؟

اس کی وضاحت کے لیے چند حدیثیں ملاحظہ فرمائیں۔ عن أنس رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: "لا يؤمن أحدكم حتى يحب لأخيه ما يحب لنفسه" متفق علیہ بیان۔ تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک اس کا یہ حال نہ ہو جائے کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کرے جو وہ خود اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ عن أبي هريرة رضی اللہ عنه قال: "قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم: كل المسلم على المسلم حرام دمه وماله وعرضه" مسلم بیان۔

ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کی تین چیزیں حرام ہیں: اس کا خون، اس کا مال، اور اس کی آبرو۔ عن عبدالله بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنه عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: "المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويديه" متفق علیہ۔ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور جس کے ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں۔ عن النعمان بن بشیر رضی اللہ عنه قال: "قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم: مثل المؤمنين في توادهم وتراحمهم وتعاطفهم مثل الجسد إذا اشتكى منه عضو تداعى له سائر الجسد بالسهر والحمى" متفق علیہ۔

مسلمانوں کی مثال آپس کی محبت اور آپس کی رحم دلی اور آپس کی مہربانی کے معاملے میں ایسی ہے جیسے ایک جسم۔ جب جسم کے کسی عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو سارا جسم مل کر جاگتا ہے اور سارا جسم بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ عن ابن عمر رضی اللہ عنہ أن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم قال: "المسلم أخو المسلم لا يظلمه ولا يسلمه من كان في حاجة أخيه كان الله في حاجته ومن فرج عن مسلم قربة فرج الله عنه بها قربة من قرب يوم القيامة ومن ستر مسلما ستره الله يوم القيامة" متفق علیہ۔ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، نہ وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اس کو بے یار و مددگار چھوڑتا۔

جو شخص اپنے بھائی کی حاجت پوری کرے گا تو اللہ اس کی حاجت پوری کرے گا۔ جو شخص کسی مسلمان کی تکلیف دور کرے گا تو اللہ قیامت کے دن اس کی تکلیف دور کرے گا۔ جو شخص کسی مسلمان کو ڈھانکے گا تو اللہ قیامت کے دن اس کو ڈھانکے گا۔ عن عياض بن حمار رضی اللہ عنہ قال: "قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم: إن الله تعالى أوحى إلي أن تواضعوا حتى لا يبغي أحد على أحد ولا يفخر أحد على أحد" مسلم۔

اللہ نے میری طرف وحی کی ہے کہ تم لوگ تواضع اختیار کرو۔ کوئی شخص کسی کے اوپر زیادتی نہ کرے۔ کوئی شخص کسی کے اوپر فخر نہ کرے۔ عن أبي موسى رضی اللہ عنه قال: "قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم: المؤمن للمؤمن كالبنيان يشد بعضه بعضا وشبك بين أصابعه" متفق علیہ۔

ایک مومن کی مثال دوسرے مومن کے لیے آپ ایسی ہے جیسے عمارت۔ عمارت کی ایک اینٹ دوسرے اینٹ کو مضبوط کرتی ہے۔ عمارت کی ایک اینٹ دوسری اینٹ کو مضبوط کرتی ہے۔ اسی طرح سب مسلمان باہم جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ان ارشادات کی روشنی میں اسلامی سماج کی جو تصویر بنتی ہے وہ یہ ہے کہ مسلمان دوسرے مسلمانوں کے درمیان اس طرح رہتا ہے کہ وہ ان کو غیر نہیں سمجھتا بلکہ اپنا ہی ایک حصہ سمجھتا ہے۔ دوسروں کے کسی رویے سے جب اس کو خوشی محسوس ہوتی ہے تو وہ جان لیتا ہے کہ دوسرے کس بات سے خوش ہوں گے۔ اس لیے وہ خود بھی دوسروں کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرنے لگتا ہے۔ اسی طرح جب کسی ایک کا رویہ اس کے لیے تکلیف کا باعث ہوتا ہے تو اس کو معلوم ہو جاتا ہے کہ دوسرے کس چیز سے تکلیف محسوس کریں گے اور وہ اس کا سخت اہتمام کرتا ہے کہ دوسروں کو اس کی ذات سے اس قسم کے سلوک کا تجربہ نہ ہونے پائے۔

حتیٰ کہ ایک مسلم آبادی ایک واحد جسم کی مانند ہو جاتی ہے۔ جسم کے ایک حصے میں تکلیف ہو تو ناممکن ہے کہ بقیہ جسم اس کے لیے تڑپ نہ اٹھے۔ اسی طرح ایک مسلمان کی تکلیف سارے مسلمانوں کی تکلیف بن جاتی ہے۔ اور لوگوں کو اس وقت تک چین نہیں آتا جب تک وہ اپنے بھائی کی تکلیف دور نہ کر دیں۔

مسلمان کا سماج ایک ایسا سماج ہے کہ جب بھی ایک شخص کا دوسرے سے واسطہ پڑتا ہے تو وہ اس کے اندر محبت اور رحم دلی اور مہربانی پاتا ہے۔ ہر ایک دوسرے کی حاجت برآری کے لیے اس طرح تیار رہتا ہے جیسے کہ وہ اس کا اپنا مسئلہ ہو۔ کوئی دوسرے مسلمان کو ننگا یا بے گھر دیکھتا ہے تو اس کو محسوس ہوتا ہے جیسے وہ خود ننگا اور بے گھر ہو گیا ہو۔ کسی کو برداشت نہیں ہوتا کہ وہ دوسرے بھائی کو بے سہارا چھوڑ دے۔

ایک کو دوسرے سے ظلم اور گھمنڈ کے بجائے تواضع اور انصاف ملتا ہے۔ کوئی کسی کے اوپر فخر نہیں کرتا۔ کوئی کسی کے اوپر حسد نہیں کرتا۔ بلکہ ہر ایک دوسرے کا خیر خواہ ہوتا ہے۔

ہر ایک دوسرے کا ساتھی بن جاتا ہے۔ مسلمان ایک۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.