Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Taaruf-e-Islam
Taaruf-e-Islam

Hajj.

Urdu · 7 min

حج۔ حج کیا ہے؟ یہ اللہ کے لیے سفر کرنا ہے، اپنا وقت اور مال خرچ کر کے ان مقامات پر پہنچنا ہے جن سے اللہ اور اس کے سچے بندوں کی یادگاریں وابستہ ہیں۔ حج کے تمام مراسم اس بات کا ایک عملی اظہار ہیں کہ آدمی اللہ کے لیے دوڑ رہا ہے۔

اس نے اپنی زندگی اللہ کے گرد گھما رکھی ہے۔ وہ اللہ کے دوستوں کا دوست اور اللہ کے دشمنوں کا دشمن ہے۔ میدان حشر میں اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کی حالت کو آج ہی اس نے اپنے اوپر طاری کر لیا ہے۔ وہ سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور سب سے زیادہ اللہ کی یاد کرنے والا ہے۔

وہ اسلام کو ایک عالمی حقیقت بنانے اور اس کو بین الاقوامی سطح پر رواج دینے کے لیے بے قرار ہے۔ حج بظاہر ایک عبادت ہے، مگر دراصل وہ ایک آدمی کی پوری مومنانہ زندگی کی تصویر اور آخری سانس تک کے لیے ایک اقرار نامہ ہے۔ آدمی اس لیے جیتا ہے کہ وہ خدا کے لیے حج کرے، اور اس لیے حج کرتا ہے کہ وہ اپنے رب کے لیے جیے۔ حج اس کی موت کی تعبیر بھی ہے اور اس کی زندگی کی بھی۔

حج گویا حق تعالیٰ کی زیارت ہے۔ وہ دنیا کی زندگی میں اپنے رب سے قریب ہونے کی انتہائی شکل ہے۔ دوسری عبادتیں اگر اللہ کی یاد ہیں تو حج خود اللہ تعالیٰ تک پہنچ جانا ہے۔ کعبے کے سامنے کھڑا ہو کر آدمی محسوس کرتا ہے گویا وہ خود ربِ کعبے کے سامنے کھڑا ہوا ہے۔

طواف اس حقیقت کا مظہر ہے کہ بندہ اپنے رب کو پا کر پروانہ وار اس کے گرد گھوم رہا ہے۔ جب وہ ملتظم کو پکڑ کر دعا کرتا ہے تو اس کو محسوس ہوتا ہے گویا اسے اپنے آقا کا دامن ہاتھ آ گیا ہے جس سے وہ بے تابانہ لپٹ گیا ہے اور اپنی ساری بات اس سے کہہ دینا چاہتا ہے۔ حج کی یہ خصوصیت اس لیے ہے کہ اس کے ادا کرنے کی جگہ ایک ایسا مقام ہے جہاں تجلیات الہی کا نزول ہوتا ہے، جس کو خدا پرستانہ زندگی کے عظیم داعی سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے دعوت و عمل کا مرکز بنایا تھا۔ جہاں اسلام کی پوری تاریخ ثبت ہے، جس کے ہر طرف اس مثالی اسلامی قافلے کے نشانات پھیلے ہوئے ہیں، جو خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی میں چھٹی صدی عیسوی میں ظہور میں آیا تھا۔

جہاں خدا کے دین کو پہلی بار ایک تاریخی واقعہ بنایا گیا۔ ان چیزوں نے حرم کے پورے علاقے کو ایک خصوصی اہمیت دے دی ہے۔ وہاں اسلام کے حق میں ایک خاص طرح کا تاریخی اور نفسیاتی ماحول بن گیا ہے۔ جو شخص بھی وہاں جاتا ہے، وہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔

وہ خدا کے رزق سے ایک ایسا حصہ لے کر لوٹتا ہے جو اس کی بقیہ پوری زندگی میں اس کی دینی توانائی کا ذریعہ بنا رہے۔ حج کو اسلامی عبادات میں ہمیشہ ایک غیر معمولی اہمیت حاصل رہی ہے۔ ایک حدیث میں اس کو افضل عبادت کہا گیا ہے۔ وہ تمام عبادات کا مجموعہ ہے اور تمام عبادات میں زندگی پیدا کرتا ہے۔

تاہم اس کی جو کچھ اہمیت ہے، وہ اس کی حقیقی روح کے اعتبار سے ہے، نہ کہ محض ظاہری رسوم و آداب کے اعتبار سے۔ دوسرے لفظوں میں، حج صرف اس کا نام نہیں ہے۔ دوسرے لفظوں میں، حج صرف اس کا نام نہیں ہے کہ آدمی دیار حرم میں جائے اور کچھ مخصوص مراسم دہرا کر واپس لوٹ آئے۔ بلکہ حج ان کیفیات کے حصول کا نام ہے جن کے لیے یہ فریضہ مقرر کیا گیا ہے۔

کھانا بلاشبہ آدمی کو طاقت دیتا ہے، مگر کھانا اسی شخص کے لیے طاقت ہے جو اس کو قاعدے کے مطابق اپنے پیٹ میں ڈالے۔ اگر کوئی شخص اس کو محض دیکھے یا اپنے سر پر الٹ لے تو اس کے لیے انتہائی قیمتی غذا بھی بالکل بے فائدہ ثابت ہوگی۔ اسی طرح حج کا حقیقی فائدہ بھی اس شخص کو ملے گا جو حج کو اس طرح کرے جیسا کہ اس کو کرنا چاہیے۔ حج کی حقیقت کے بارے میں قرآن میں ارشاد ہوا ہے: «الحج أشهر معلومات، فمن فرض فيهن الحج فلا رفث ولا فسوق ولا جدال في الحج، وما تفعلوا من خير يعلمه الله، وتزودوا فإن خير الزاد التقوى، واتقون يا أولي الألباب» سورہ بقرہ، آیت 197۔

حج کے مہینے معلوم ہیں۔ جو شخص ان میں حج کو اپنے اوپر مقرر کرے تو حج میں نہ فحاشی ہے، نہ بے حکمی، اور نہ جھگڑا۔ اور تم جو بھلائی کرو گے، اللہ اس کو جان لے گا۔ حج کے مہینے معلوم ہیں۔

جو شخص ان میں حج کو اپنے اوپر مقرر کرے تو حج میں نہ فحاشی ہے، نہ بے حکمی، اور نہ جھگڑا۔ اور تم جو بھلائی کرو گے، اللہ اس کو جان لے گا۔ اور زادِ راہ لے لیا کرو۔ سب سے بہتر زادِ راہ تقویٰ ہے۔

اے عقل والو! مجھ سے ڈرو۔ رفث کے معنی ہی فحش کلامی کرنا ہے۔ فسق کا لفظ تقریباً اسی مفہوم میں آتا ہے جس کے لیے اردو میں کہتے ہیں: اس نے انسانیت کا جامہ اتار پھینکا۔

جدال کے معنی ہیں ایک دوسرے سے جھگڑا کرنا۔ یہ تینوں الفاظ اس برائی کے لیے استعمال ہوتے ہیں جو عام طور پر زبان سے سرزد ہوتی ہے۔ جب مختلف لوگ اکٹھا ہوتے ہیں تو کوئی ہوس پرست آدمی فحش باتیں کر کے سنجیدہ ماحول کو بگاڑ دیتا ہے۔ کبھی کوئی عام عادت کے خلاف بات پیش آتی ہے اور آدمی اپنا ظاہری لبادہ اتار کر ناحق باتیں کرنا شروع کر دیتا ہے۔

کبھی کسی سے کوئی تکلیف پہنچ جاتی ہے اور آدمی برداشت نہ کرتے ہوئے اس سے جھگڑنے لگتا ہے۔ حج کا اجتماع اسی قسم کی تمام برائیوں سے بچنے کی ایک تربیت ہے۔ ایک ایسا مقام جس سے تقدس اور احترام کی یادیں وابستہ ہیں۔ وہاں لے جا کر آدمی کو خصوصی طور پر اس کی مشق کرائی جاتی ہے کہ وہ اجتماعی ماحول میں رہتے ہوئے ان برائیوں سے بچنے کی کوشش کرے۔

وہ اپنے آپ کو فواحش اور سطحی دلچسپی سے پاک رکھے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.