← Taaruf-e-IslamTaaruf-e-Islam
روزہ
Urdu · 7 min
سورہ بقرہ رکوع 23 میں رمضان کے روزوں کا بیان ہے، روزے کے احکام بتاتے ہوئے درمیان میں ارشاد ہوا ہے: "اور جب میرے بندے تجھ سے میرے بارے میں سوال کریں تو میں نزدیک ہوں، پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں؛ پس چاہیے کہ وہ میری پکار کا جواب دیں اور مجھ پر ایمان رکھیں، امید ہے کہ وہ بھلائی کو پا لیں گے۔ " سورہ بقرہ، آیت 186۔ گویا خدا سے پانے کے لیے بندے کو بھی خدا کو کچھ دینا ہے؛ روزہ اسی دینے کے عمل کی ایک علامت ہے۔ روزے میں آدمی خدا کی خاطر اپنا کھانا پانی چھوڑ دیتا ہے، جو آدمی کی آخری، سب سے بڑی ضرورت ہے۔
یہ اس بات کا ایک سبق ہے کہ دنیا کی زندگی میں آدمی کو جو کچھ اپنے رب کے سامنے پیش کرنا ہے، اس کا سلسلہ ناگزیر ضروریات تک پہنچتا ہے۔ روزہ یہ پیغام دیتا ہے کہ آدمی خود بھوکا رہ کر اپنی متاع کو خدا کے حضور نذر کر دے۔ روزہ عمل کا خاتمہ نہیں، بلکہ عمل کا آغاز ہے۔ روزے دار کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنی آمدنی کا ایک حصہ اللہ کے لیے وقف کر دے؛ اس کو اپنے بیوی بچوں کی امنگوں میں کمی کر کے دین کے تقاضے پورے کرنا ہیں۔
حتیٰ کہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کو اپنی زندگی یہاں تک مختصر کرنی پڑے کہ بہت سی ضروری چیزوں سے اس کے لیے فاقہ کرنے کی نوبت آ جائے۔ اگر آدمی یہ چاہتا ہے کہ اس کو وہ سب کچھ ملے جو خدا کے پاس ہے، تو اس کو بھی وہ سب کچھ دینا پڑے گا جو اس کے پاس ہے۔ سب کچھ دے کر ہی سب کچھ ملتا ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ جس طرح رمضان کے مہینے میں خدا روزے کے لیے پکارتا ہے، اسی طرح سال بھر اس کی پکار بلند ہوتی رہتی ہے۔
آدمی کے سامنے ناجائز کمائی کی صورتیں آتی ہیں؛ اس وقت خدا پکارتا ہے کہ اے میرے بندے! ناجائز کمائی کو چھوڑ کر جائز کمائی پر قناعت کر۔ کسی بھائی کے خلاف اس کے اندر غصے کی آگ بھڑکتی ہے؛ اس وقت خدا پکارتا ہے کہ میرے بندے! تو اس کو معاف کر دے۔
حق کو ماننے میں مفاد یا عزتِ نفس کا سوال رکاوٹ بنتا ہے؛ اس وقت خدا پکارتا ہے کہ میرے بندے! تو کسی مصلحت کی پرواہ کیے بغیر حق کو مان لے۔ اسی طرح زندگی کے ہر موقع پر خدا اپنے بندوں کو پکارتا ہے۔ اب جو شخص ان مواقع پر وحی کرے جو اس کا خدا اس سے چاہتا ہے، تو اس نے خدا کی پکار پر لبیک کہا۔
اسی کو قرآن میں تقویٰ کہا گیا ہے، سورہ بقرہ، آیت 183۔ روزے کا عمل اللہ کو بڑا بنانے: سورہ بقرہ، آیت 185 کی ایک علامت ہے۔ اللہ کے حکم سے آدمی اپنے ایک ایسے تقاضے پر پابندی لگا دیتا ہے جو اس کی زندگی کا سب سے زیادہ ضروری تقاضا ہے۔ یہ عمل کی زبان میں اس بات کا عہد ہے کہ آدمی اللہ کو اپنا کبیر اور اپنے آپ کو اس کے مقابلے میں صغیر بنائے گا۔
یہی تکبیر ہے جو زبان سے اللہ اکبر کی صورت میں نکلتی ہے، اور عمل سے اپنی انا کو ختم کر دینے کی صورت میں۔ آدمی کی پوری زندگی اس بات کا امتحان ہے کہ وہ کس کو بڑا بناتا ہے: خدا کو یا اپنے آپ کو؟ اپنے کو بڑا بنانے والے کے اندر گھمنڈ کی نفسیات پرورش پاتی ہیں، اور خدا کو بڑا بنانے والے کے اندر تواضع کی نفسیات۔ جو شخص خدا کو اپنا بڑا بنائے، اس کے اندر سے انانیت ختم ہو جاتی ہے؛ اس کی پوری ہستی خدا کے آگے جھک جاتی ہے۔
خدا کی عظمت کا تصور اس کے اوپر اتنا چھا جاتا ہے کہ اپنی ہستی اس کو بالکل بے قیمت دکھائی دینے لگتی ہے۔ ایسے شخص سے جب کسی کا معاملہ پڑتا ہے تو وہ عبد کی طرح اس سے معاملہ کرتا ہے، نہ کہ معبود کی طرح۔ وہ خدا کے بندوں کے مقابلے میں سرکشی نہیں دکھاتا؛ وہ بندوں سے معاملہ کرتے ہوئے گھمنڈ کا مظاہرہ نہیں کرتا۔ اس کو دولت یا عہدہ یا حیثیت کا کوئی حصہ مل جائے تو وہ اپنے کو دوسروں سے بڑا نہیں سمجھتا۔
اللہ کو اپنا بڑا بنانا اللہ کے سامنے ذکر اور عبادت کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے، اور بندوں کے سامنے تواضع اور بے نفسی کی صورت میں۔ روزہ ایک ایسا تجربہ ہے جو بالآخر افطار تک پہنچاتا ہے۔ بھوک کا لمبا وقفہ گزار کر آدمی اپنے آپ کو کھانے اور پانی سے سیراب کرتا ہے۔ اس طرح وہ خدا کی نعمتوں کے بارے میں اپنے اندر شکر کے احساس، سورہ بقرہ، آیت 185 کو جگاتا ہے۔
وہ عمل کی زبان میں اپنے آپ کو بتاتا ہے کہ خدا کی وہ عنایات کتنی بڑی ہیں جو روزانہ اس کو خدا کی طرف سے ملتی رہتی ہیں۔ روزے کے مہینے میں قرآن کا اتارنا اس بات کا ایک اشارہ ہے کہ قرآن بھی تمہارے لیے ایک خدائی افطار کا انتظام ہے۔ تم ہدایت کے معاملے میں بھوکے تھے؛ خدا نے اپنی نعمتِ ہدایت سے تم کو سیراب کیا۔ اللہ نے انسان کو پیدا کیا، اس کو بہترین صلاحیتیں عطا کیں، دنیا میں اعلیٰ ترین انتظام کر کے یہاں اس کو بسایا، اس کے لیے ایک ابدی جنت بنائی، اور اپنی کتاب کے ذریعے پیشگی بتا دیا کہ اس جنت تک پہنچنے کا راستہ کیا ہے۔
جس خدا کے اتنے احسانات ہوں، اس کے ساتھ آدمی کا تعلق ایسا ہونا چاہیے کہ اس کا تصور اس کی روح کو سرشار کر دے۔ اس کی یاد آتے ہی قلب و دماغ شکر کے سجدے میں گر پڑے، زبان پر اس کی احسان مندی کے نغمے جاری ہوں، اس کی اندرونی ہستی اس کے احسانات کے اعتراف سے بھر جائے۔ اس کی عملی زندگی ایسی گزرے گویا کہ وہ خدا کے انعام و احسان کی بارش میں نہائی ہوئی ہو۔ تقویٰ اور تکبیر اور تشکر کا یہ ثبوت جو بندے کو دینا ہے، وہ بہت بڑی قیمت مانگتا ہے۔
وہ اپنے نفس اور مفادات کی قربانی ہے۔ اس پر آدمی اسی وقت قائم رہ سکتا ہے جبکہ اس کا ایمان اس کے لیے حقیقی معنوں میں یقین و اعتماد کے ہم معنی بن گیا ہو۔