Maulana Wahiduddin Khan
18 min left
0:00

← Taaruf-e-Islam
Taaruf-e-Islam

آخرت

Urdu · 18 min

آخرت میں آدمی کو جو بدلہ دیا جائے گا، وہ دنیا میں اس کے عمل ہی کا اخروی پہلو ہوگا۔ اس لیے عمل اور بدلہ دونوں ایک دوسرے کے انتہائی مطابق ہوں گے۔ ایک شخص سونا جمع کیے ہوئے ہے اور اللہ کا حصہ اللہ کے راستے میں نہیں دیتا، تو وہ سونا گویا آگ کا انگارہ ہے۔

موت کے بعد یہ سونا آگ کی صورت اختیار کر کے آدمی کے ساتھ چپک جائے گا۔ سورۃ توبہ۔ حدیث میں اس قسم کی بہت سی مثالیں دی گئی ہیں کہ آدمی کا عمل اور اس کے اخروی نتائج کس طرح ایک دوسرے کے مطابق ہوں گے۔ معراج کے سفر سے متعلق جو روایات ہیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آسمانی سفر میں آپ کو جو چیزیں دکھائی گئیں، ان میں وہ عالمِ مثال بھی تھا جہاں انسان کے دنیاوی اعمال اپنی اخروی صورت میں دکھائی دیتے ہیں۔

یہاں ایک طرف آپ کو اچھے اعمال کی اخروی صورتیں دکھائی گئیں۔ مثلاً ایک جگہ آپ نے دیکھا کہ کچھ لوگ کھیتی کاٹ رہے ہیں۔ وہ جتنی کھیتی کاٹتے ہیں، اتنی ہی ان کی کھیتی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرشتے سے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں؟

آپ کو بتایا گیا کہ یہ خدا کی راہ میں جہاد کرنے والے لوگ ہیں۔ اسی طرح آپ کو تفصیل کے ساتھ برے اعمال کی اخروی صورتیں بھی دکھائی گئیں۔ آپ نے دیکھا کہ کچھ لوگ ہیں جن کے سر پتھروں سے کچلے جا رہے ہیں۔ آپ نے پوچھا: یہ کون لوگ ہیں؟

آپ نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ فرشتے نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کی سرگردانی ان کو نماز کے لیے اٹھنے نہ دیتی تھی۔ اسی طرح آپ نے کچھ لوگ دیکھے جن کے کپڑوں میں بہت سے پیوند لگے ہوئے تھے، اور وہ جانوروں کی طرح گھاس چر رہے تھے۔ اور وہ جانوروں کی طرح گھاس چر رہے تھے۔

آپ نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ فرشتے نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرتے تھے۔ پھر آپ نے ایک شخص کو دیکھا، وہ لکڑیوں کا گٹھا جمع کر کے اٹھانے کی کوشش کرتا ہے، اور جب وہ گٹھا اس سے نہیں اٹھتا تو وہ اس میں کچھ اور لکڑیاں بڑھا لیتا ہے۔ آپ نے پوچھا: یہ کون ہے؟

فرشتے نے بتایا کہ یہ وہ شخص ہے جس پر ذمہ داریوں اور امانتوں کا اتنا بوجھ تھا کہ وہ اٹھا نہ سکتا تھا، مگر وہ ان کو کم کرنے کے بجائے اور زیادہ ذمہ داریوں کا بوجھ اپنے اوپر ڈال لیتا تھا۔ پھر آپ نے دیکھا کہ کچھ لوگ ہیں جن کی زبانیں اور ہونٹ قینچیوں سے کاٹے جا رہے ہیں۔ آپ نے پوچھا: یہ کون لوگ ہیں؟ فرشتے نے بتایا کہ یہ وہ مقرر ہیں جو بے روک ٹوک زبان چلاتے تھے اور غیر ذمہ دارانہ باتیں کہہ کر فتنہ برپا کرتے تھے۔

ایک جگہ آپ نے دیکھا کہ ایک پتھر میں چھوٹا سا سوراخ ہوا، اور اس میں سے ایک بڑا سا بیل نکل آیا۔ اس کے بعد وہ بیل دوبارہ اسی سوراخ میں جانے کی کوشش کرنے لگا، مگر کوشش کے باوجود وہ دوبارہ اس کے اندر نہ جا سکا۔ آپ نے پوچھا: یہ کیا معاملہ ہے؟ فرشتے نے بتایا کہ یہ اس آدمی کی مثال ہے جو بے پرواہی کے ساتھ ایک فتنے کی بات کہہ دیتا ہے۔

اس کے بعد اس کے برے نتائج دیکھ کر اس کو واپس لینا چاہتا ہے، مگر واپس نہیں لے سکتا۔ اسی طرح ایک جگہ آپ نے دیکھا کہ کچھ لوگ ہیں جو خود اپنے جسم کا گوشت کاٹ کاٹ کر کھا رہے ہیں۔ آپ نے پوچھا: یہ کون لوگ ہیں؟ فرشتے نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے دوسرے بھائیوں پر طعن و طنز کرتے تھے۔

کچھ اور لوگوں کو آپ نے دیکھا، ان کے ناخن تانبے کے تھے اور اس سے اپنے منہ اور سینے نوچ رہے تھے۔ آپ نے پوچھا: یہ کون لوگ ہیں؟ فرشتے نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کے پیچھے ان کی برائیاں کرتے تھے اور ان کی عزت و آبرو پر حملہ کرتے تھے۔ کچھ لوگوں کو آپ نے دیکھا، ان کے ہونٹ اونٹوں سے ملتے جلتے تھے اور وہ آگ کھا رہے تھے۔

آپ نے پوچھا: یہ کون لوگ ہیں؟ فرشتے نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو یتیموں کا مال دنیا میں کھاتے تھے۔ پھر آپ نے دیکھا کہ کچھ لوگ ہیں جن کے پیٹ بہت بڑے ہیں اور وہ سانپوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ آنے جانے والے ان کو روندتے ہوئے گزر جاتے ہیں، مگر وہ اپنی جگہ سے ہل نہیں سکتے۔

آپ نے پوچھا: یہ کون لوگ ہیں؟ فرشتے نے بتایا کہ یہ سود کھانے والے لوگ ہیں۔ پھر کچھ لوگ دکھائی دیے جن کے ایک جانب اچھا گوشت رکھا ہوا تھا اور دوسری جانب سڑا ہوا گوشت، جس سے سخت بدبو آ رہی تھی۔ وہ اچھے گوشت کو چھوڑ کر سڑا ہوا گوشت کھا رہے تھے۔

آپ نے پوچھا: یہ کون لوگ ہیں؟ فرشتے نے بتایا کہ یہ وہ مرد اور عورتیں ہیں جنہوں نے جائز بیویوں اور شوہروں کو چھوڑ کر حرام سے اپنی خواہش پوری کی۔ جنت کا معاملہ بھی یہی ہے۔ قرآن میں جنت کو عطائے متشابہ کہا گیا ہے، یعنی ایسا انعام جو آدمی کے عمل سے ملتا جلتا ہو۔

ارشاد ہوا ہے کہ جنت میں جب کوئی پھل انہیں کھانے کے لیے دیا جائے گا تو اہل جنت کہیں گے کہ ایسے ہی پھل اس سے پہلے ہم کو دنیا میں دیے گئے تھے۔ اور ان کو دنیا کے پھلوں سے ملتے جلتے پھل دیے جائیں گے۔ سورہ بقرہ آیت 25۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آخرت کے انعامات دنیا کے عمل کے عین مطابق و مماثل ہوں گے۔

دنیا میں کسی بندے خدا کو جس عمل کی توفیق ملی ہوگی، اسی سے ملتا جلتا بدلہ جنت میں اس کے حصے میں آئے گا۔ دنیا میں آدمی کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ کسی صورتحال میں کس قسم کا جواب دیتا ہے۔ پتھر کے ساتھ کوئی صورتحال پیش آئے تو وہ اس کے جواب میں کوئی رویہ پیش نہیں کرتا۔ مگر انسان ایک احساس اور شعور رکھنے والی مخلوق ہے۔

انسان کے ساتھ جب کوئی صورتحال پیش آتی ہے تو وہ اس کے اندر ہلچل پیدا کرتی ہے۔ وہ اس کے جواب میں اپنے ہاتھ یا زبان سے کوئی ردعمل ظاہر کرتا ہے۔ اسی میں آدمی کا اصل امتحان ہے۔ ہر ایسے موقع پر خدا یہ دیکھتا ہے کہ آدمی نے اپنے فکر و عمل کی آزادی کو کس رخ پر استعمال کیا۔

اس نے گالی کے جواب میں گالی دی یا گالی کے جواب میں اس کی زبان سے دعائیں نکلیں۔ ہر صورتحال جو دنیا میں آدمی کے ساتھ پیش آتی ہے، اس کے جواب کی دو صورتیں ہوتی ہیں۔ ایک جہنمی جواب، دوسرا جنتی جواب۔ جہنمی جواب وہ ہے جو اللہ کی مرضی کے مطابق نہیں ہے، اور جنتی جواب وہ ہے جو اللہ کی مرضی کے مطابق ہے۔

دوسرے لفظوں میں، ایک جواب وہ ہے جو شیطانی اخلاقیات کے مطابق ہو۔ ایسے لوگ جہنم کے مستحق قرار پائیں گے۔ دوسرا جواب وہ ہے جو خدائی اخلاقیات کے مطابق ہو۔ ایسے لوگ جنت کے لطیف ماحول میں بسائے جائیں گے۔

شیطانی اخلاقیات یہ ہے کہ جب کوئی ناخوشگوار صورتحال پیش آئے تو آدمی بے خوف ہو کر جوابی کارروائی کرنے لگے۔ وہ نفرت کا جواب نفرت سے دے اور غصے کے مقابلے میں غصے کا تحفہ پیش کرے۔ اس کے برعکس خدائی اخلاقیات یہ ہے کہ آدمی اللہ سے ڈرے۔ وہ وقتی جذبات سے اوپر اٹھ کر سوچے اور نفرت اور محبت کی نفسیات سے بلند ہو کر معاملہ کرے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے میرے رب نے یہ حکم دیا ہے کہ جو مجھ سے کٹے، اس سے جڑوں۔ جو مجھ سے کٹے، میں اس سے جڑوں۔ جو مجھ کو محروم کر دے، میں اس کو دوں۔ جو مجھ پر ظلم کرے، میں اس کو معاف کر دوں۔

وَأَنْ أَصِلُ مَنْ قَطَعَنِي وَأُعْطِي مَنْ حَرْمَنِي وَأَعْفُ مَنْ ظَلَمَنِي۔ اس طرح کے مختلف احکام ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن سے یہ مطلوب ہے کہ وہ لوگوں کے سلوک سے بالاتر ہو کر ان کے ساتھ معاملہ کرے۔ وہ منفی نفسیات کے مواقع پر مثبت نفسیات ظاہر کرے۔ لوگوں کے درمیان زندگی گزارتے ہوئے بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ناخوشگوار واقعات پیش آتے ہیں اور آدمی کے اندر مخالفانہ جذبات پیدا ہوتے ہیں۔

ایسے مواقع پر مومن کو یہ کرنا ہے کہ مخالفانہ جذبات کو اندر ہی اندر دبا لے اور تلخی کے باوجود دوسروں کے ساتھ بہتر جذبات کے ساتھ پیش آئے۔ جنت ایک نہایت لطیف اور پاکیزہ مقام ہے جو اللہ خصوصی اہتمام کے ساتھ اپنے نیک بندوں کے لیے بنائے گا۔ عن جابر قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إن أهل الجنة يأكلون فيها ويشربون ولا يتفلون ولا يبولون ولا يتغوّطون ولا يمتحنون. قالوا فما بال الطعام؟

قال: جشاء ورشح كرشح المسك يلهمون التسبيح والتحميد كما تلهمون النفس. مسلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت کے لوگ کھائیں گے اور پیئیں گے مگر وہ نہ تھوکیں گے اور نہ پیشاب کریں گے اور نہ پاخانہ کریں گے۔ لوگوں نے پوچھا: پھر کھانے کا کیا ہوگا؟ فرمایا: ڈکار اور پسینہ نکلے گا جو مشک کی طرح خوشبودار ہوگا۔

ان کی حمد اور تسبیح اسی طرح الہام کی جائے گی جس طرح تم سانس لیتے ہو۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت ایک ایسی دنیا ہے جہاں میل اور کثافت بھی خوشبو کی صورت میں خارج ہوتی ہے۔ پھر ایسی دنیا میں وہ لوگ کیوں کر داخل ہوں گے جو اپنی کثافت کو صرف کثافت کی صورت میں خارج کرنا جانتے ہوں؟ بغض، نفرت، حسد، انتقام اور کبر و ظلم یہ سب انسان کی نفسیات کا میل کچیل ہے۔

جو لوگ اپنے میل کچیل کو صرف میل کچیل کی صورت میں ظاہر کرنا جانتے ہوں، وہ جنت میں بسائے جانے کے قابل نہیں۔ جنت خدا کے ان بندوں کی کالونی ہے جو اپنے اندر کے میل کو بھی پاک پاکی کی صورت میں خارج کرتے ہیں۔ جنت میں وہ لوگ بسائے جائیں گے جو نفرت کے مواقع پر محبت کریں، جو انتقام کے مواقع پر معاف کر دیں، جو حسد اور بغض کے مواقع پر خیر خواہی کا ثبوت دیں، جو کبر کے مواقع پر خاکساری دکھائیں اور ظلم کے مواقع پر انصاف کا رویہ اختیار کریں۔ یہ گویا اپنے میل اور کثافت کی خوشبو کی صورت میں ظاہر کرنا ہے۔

انہی خصوصیات والے لوگ جنت کی کالونیوں میں بسائے جائیں گے۔ دنیا کو اس ڈھنگ پر بنایا گیا ہے کہ یہاں بار بار آدمی کو ناخوشگوار صورتحال سے سابقہ پیش آئے۔ یہ موجودہ دنیا کے دارالامتحان ہونے کا تقاضا ہے۔ ان ناخوشگوار مواقع پر جو شخص مثبت ردعمل کا اظہار کرے گا، وہ جنت کا مستحق بنا۔

اور جو منفی جذبات کا شکار ہو جائے، اس نے اگلی زندگی میں اپنے لیے جنت کا استحقاق کھو دیا۔ جنت کی فضاؤں میں بسنے کے قابل وہ لوگ ہیں جن کا یہ حال ہو کہ ان کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آئے تو وہ مایوس نہ ہوں بلکہ صبر کا طریقہ اختیار کریں۔ کسی سے ان کو تکلیف پہنچے تو اس کے حق میں دعائیں دیں۔ کسی سے معاملہ پڑے تو انصاف کے مطابق اس کے حقوق ادا کریں۔

کوئی تنقید کرے تو اس کو برا مانے بغیر ٹھنڈے دل سے سنیں۔ کسی سے خواہ کتنی ہی شکایت ہو، اس کے بارے میں عدل کا رویہ نہ چھوڑیں۔ جب بھی کسی سے معاملہ پڑے تو دوسرے شخص کو ان سے بہتر سلوک کا تجربہ ہو۔ حتیٰ کہ دوسروں کے ناخوشگوار رویے سے اپنے سینے میں اگر نفرت و عداوت کے جذبات پیدا ہوں، تب بھی اس کو پی جائیں اور اپنے مخالفانہ جذبے کو خیر خواہی اور انصاف کی صورت میں ظاہر کریں۔

وہ دنیا کی زندگی میں خدا کا ایسا پھول بن جائیں جو اپنی کثافت کو بھی خوشبو کی صورت میں ظاہر کرتا ہے۔ ایسی پاک زندگی گزارنے کی توفیق ان لوگوں کو ملتی ہے جو اللہ کو اس طرح یاد کرنے لگیں جس طرح کوئی آدمی سانس لیتا ہے۔ وہ اللہ کو اس طرح پالیں کہ وہ ان کی روح کے اندر تیر جائے۔ وہ ان کے دل کی دھڑکنوں میں شامل ہو جائے۔

وہ اللہ کے خوف و محبت میں نہا اٹھیں۔ وہ مواقع جب کہ آدمی کے اندر سرکشی کی آگ بھڑکتی ہے، اس وقت مومن کو تواضع کے ساتھ جھک جانا ہے۔ جب نفرت کے جذبات امڈتے ہیں، اس وقت اس کو محبت کا رویہ اختیار کرنا ہے۔ جب بدخواہی کی نفسیات ابھرتی ہے، اس وقت اس کو خیر خواہی کا ثبوت دینا ہے۔

جب بد دعا کے کلمات زبان سے نکلتے ہیں، اس وقت اس کو دعا کے کلمات اپنی زبان سے ادا کرنا ہے۔ جب حقوق کو دبانے کا خیال آنے لگتا ہے، اس وقت حقوق کو پورے انصاف کے ساتھ لوٹانا ہے۔ جب حق کا اعتراف کرنے میں اپنا وقار گرتا ہوا نظر آتا ہے، اس وقت وقار کا خیال چھوڑ کر حق کا اعتراف کر لینا ہے۔ جب کسی کے خلاف جوابی کارروائی کا ذہن ابھرتا ہے، اس وقت جوابی کارروائی سے اپنے کو روک کر مخالف کے ساتھ وہی کرنا ہے جو خیر خواہی اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہو۔

اگر آپ ٹرک پر سوار ہوں تو سڑک پر دوڑتا ہوا ٹرک آپ کو زبردست جھٹکے دے گا۔ اس کے برعکس جب آپ ایک اچھی کار پر بیٹھتے ہیں تو تیز دوڑتے ہوئے بھی کار آپ کو جھٹکے نہیں دیتی۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ کار کے پہیے کے ساتھ اچھی قسم کی سپرنگ لگی ہوئی ہوتی ہے۔ اس کی وجہ سے کار اپنے تمام جھٹکوں کو اپنے پہیے پر لے لیتی ہے۔

وہ جھٹکے کو مسافر تک پہنچنے نہیں دیتی۔ اس کے برعکس ٹرک کی سپرنگ بہت معمولی ہوتی ہے۔ اس لیے اس کے جھٹکے مسافر تک پہنچتے رہتے ہیں۔ اللہ سے بے خوف آدمی ٹرک کی مانند ہے۔

وہ اپنے اندر کے نفسیاتی جھٹکوں کو برداشت نہیں کرتا۔ وہ ان کو دوسروں کی طرف منتقل کر دیتا ہے۔ اس کے برعکس اللہ سے ڈرنے والا آدمی کار کی مانند ہوتا ہے۔ وہ تمام جھٹکوں کو اپنے اوپر لے لیتا ہے۔

ان کو دوسرے انسان تک منتقل ہونے نہیں دیتا۔ اسی کا نام صبر ہے۔ صبر یہ ہے کہ لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے جو ناخوشگواریاں پیش آئیں، ان کو آدمی اپنے اندر ہی اندر سہ لے۔ ان کے اثرات دوسروں تک پہنچنے نہ دے۔

ناخوشگواری کے جھٹکوں کو اپنے اوپر لے کر دوسروں کی طرف خوشگواری کو منتقل کرے۔ یہی وہ صلاحیت ہے جو آدمی کو جنت میں آباد کیے جانے کے قابل بناتی ہے۔ جنت وہ لطیف مقام ہے جہاں کثافت بھی بمشکل خوشبو ظاہر ہوگی۔ ایسی لطیف آبادی میں رہنے کا مستحق صرف وہ شخص قرار پا۔

ایسی لطیف آبادی میں رہنے کا مستحق صرف وہ شخص قرار دیا جائے گا جس نے دنیا کی زندگی میں یہ ثبوت دیا ہو کہ وہ اپنی نفسیاتی کثافت کو خوشبو کی صورت میں خارج کر سکتا ہے۔ کثافت کو خوشبو کی صورت میں ظاہر کرنا موجودہ دنیا میں نفسیاتی اعتبار سے ہوتا ہے۔ آخرت میں یہی واقعہ اللہ کے حکم کے تحت مادی صورت میں پیش آئے گا۔ ایک حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ یہ آدمی کے اپنے اعمال ہیں جو آخرت میں اس کو لوٹائے جائیں گے۔

إنما هي أعمالكم ترد إليكم دنیا میں آدمی کے اخلاقی اعمال آخرت میں مادی نتائج کی صورت میں اختیار کر لیں گے۔ دنیا میں آدمی کے اخلاقی اعمال آخرت میں مادی نتائج کی صورت اختیار کر لیں گے۔ ہر واقعہ جو دنیا میں پیش آتا ہے، اس میں آدمی کے لیے دو قسم کے جواب کا امکان رہتا ہے۔ اسی سے فیصلہ ہوتا ہے کہ کون جنتی ہے اور کون جہنمی۔

کوئی حق بات سامنے آتی ہے، اب ایک شخص اس کا اعتراف کر لیتا ہے اور دوسرا شخص انکار کرتا ہے۔ کوئی معاملہ پڑتا ہے، اس میں ایک شخص انصاف پر قائم رہتا ہے اور دوسرا ظلم پر اتر آتا ہے۔ کوئی ناموافق صورتحال پیش آتی ہے، اب ایک شخص تواضع کا انداز اختیار کرتا ہے اور دوسرا شخص سرکشی کرنے لگتا ہے۔ کوئی باہمی قضیہ ابھرتا ہے، اب ایک شخص محبت اور خیر خواہی کا رویہ اپناتا ہے اور دوسرا شخص نفرت اور انتقام کا۔

یہ دونوں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ردعمل ہیں اور یہی آخرت کی زندگی میں آدمی کے انجام کی تشکیل کر رہے ہیں۔ ہمارے اخلاقی اعمال جب مادی صورت اختیار کر لیں تو انہی میں سے ایک صورت کا نام جنت ہوتا ہے اور دوسری صورت کا نام جہنم۔ نوٹ: خلاصہ تقریر بمقام نمباہیڑہ، راجستھان، یکم فروری 1980۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.