← Shatm-e-Rasool Ka MaslaShatm-e-Rasool Ka Masla
شتم رسول کا مسئلہ
Urdu · 8 min
شتمِ رسول کا مسئلہ
عام طور پر مسلمانوں کا یہ خیال ہے کہ شتمِ رسول کی سزا اسلامی شریعت میں قتل ہے۔ اگر اِن لوگوں سے اِس کا حوالہ طلب کیجیے اور یہ پوچھيے کہ اِس کا ثبوت کیا ہے، تو وہ فوراً فقہ کا حوالہ دیں گے۔وہ کہیں گے کہ اسلامی فقہ میں متفقہ طورپر یہ حکم بتایا گیا ہے کہ شتمِ رسول کا ارتکاب کرنے والے شخص کو بطور حد قتل کیا جائے گا (یقتل حَدًّا) ۔
اِس قسم کا حوالہ اپنے آپ میں ایک بے بنیاد حوالہ ہے۔ کیوں کہ حد کا قانون (capital punishment) کی حیثیت رکھتا ہے، اور اِس قسم کا قانون براہِ راست طورپر، قرآن اور حدیث سے نکلے گا، نہ کہ بعد کوبنائی جانے والی فقہ سے۔ یہ ایک مسلّم بات ہے کہ اسلام میں مستند ماخذ (authentic source) کی حیثیت صرف قرآن اور حدیث کو حاصل ہے، کوئی تیسرا ماخذ اِس معاملے میں مستند ماخذ نہیں۔جہاں تک فقہ کا تعلق ہے، فقہ، علماء کے قیاس اور استنباط پر مبنی ہے، اور علماء کا قیاس اور استنباط اپنے آپ میں کسی قانون کا مستند ماخذ نہیں بن سکتا۔
فقہ کی کتابوں میں شتمِ رسول کے مسئلے پر بحثیں موجود ہیں۔ اِس کے علاوہ، اِس موضوع پر مستقل کتابیں بھی لکھی گئی ہیں۔ اُن میں سے چند کتابوں کے نام یہ ہیں
1 ۔ تقی الدین احمد بن تیمیہ (وفات1328 ء) الصارم المسلول علیٰ شاتم الرسول
other sourceWords of another person or source
2 ۔ تقی الدین ابو الحسن علی السّبکی (وفات1355 ء) السیف المسلول علی مَن سبّ الرسول
other sourceWords of another person or source
3 ۔ ابنِ عابدین الشامی (وفات 1836 ء) تنبیہ الوُلاۃ والحُکّام علی أحکام شاتم خیر الأنام أو أحد أصحابہ الکرام
other sourceWords of another person or source
شاتمِ رسول کی سزا کے معاملے میں عام طورپر مسلمان بہت زیادہ حساس ہیں، لیکن اِس موضوع پر جو کتابیں لکھی گئی ہیں، اُن میں کوئی حقیقی حوالہ موجود نہیں۔
اِس سلسلے میں پہلا سوال یہ ہے کہ قرآن کی وہ کون سی آیت ہے جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ شاتمِ رسول کو قتل کردو۔ جیسا کہ معلوم ہے، قرآن میں ایک سو چودہ سورتیں ہیں، اور آیتوں کی تعداد چھ ہزار سے زیادہ ہے۔ مگر کسی بھی سورہ، یا کسی بھی آیت میں یہ حکم بیان نہیں کیاگیا ہے کہ— جو شخص رسول کو شتم کرے، اس کو قتل کردو۔
اِس نظریے کے حامی، قرآن کی کچھ آیتیں پیش کرتے ہیں، مگر وہ اِس مسئلے سے مکمل طورپر غیرمتعلق ہیں۔ مثال کے طورپر ابنِ تیمیہ نے اپنی کتاب ’الصارم المسلول علی شاتم الرسول، میں کچھ قرآنی آیتیں پیش کی ہیں۔ اُن میں سے ایک آیت یہ ہےالَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ (9:61) ۔یعنی جو لوگ خدا کے رسول کو ایذا پہنچاتے ہیں، ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن کی اِس آیت میں جس دردناک سزا (عَذَابٌ اَلِيْمٌ ) کا ذکر ہے، اُس سے مراد یقینی طورپر آخرت کی سزا ہے، نہ کہ موجودہ دنیا کی سزا۔ یہ ایک انتہائی غیر علمی طریقہ ہے کہ دنیا کے قتل، اور آخرت کی سزا میں فرق نہ کیا جائے۔ دنیا کی سزا انسانی عدالت کے ذریعے دی جاتی ہے، لیکن آخرت کی سزا براہِ راست خدائی فیصلے کے تحت ہوگی۔ دونوں سزاؤں کی نوعیت ایک دوسرے سے مکمل طورپر مختلف ہے۔ یہ ایک سراسر غیر علمی استدلال ہے کہ آخرت کی سزا والی ایک آیت لی جائے اور اُس سے دنیوی سزا کا حکم نکالا جائے۔
اسلامی شریعت کا دوسرا مصدر (source) سنتِ رسول ہے۔ مگر جو لوگ شاتمِ رسول کے لیے قتل کا حکم بیان کرتے ہیں، وہ پورے ذخیرۂ حدیث سے کوئی ایک حدیث بھی اِس کی تائید میں پیش نہ کرسکے۔ یہ مسئلہ اُس وقت ثابت ہوگا، جب کہ حدیث کے ذخیرے میںکوئی ایسی ر وایت ہو جس میں اِس قسم کے الفاظ موجود ہوں مَن شتم رسولکم فاقتلوہ (جو تمھارے رسول کی شتم کرے اس کو تم لوگ قتل کر دو)۔ مگر یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ اِس قسم کی کوئی روایت، حدیث کے پورے ذخیرے میں موجود نہیں، اور نہ اب تک کسی نے ایسی کوئی مستند حدیث پیش کی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ابنِ تیمیہ حدیث کے ایک بڑے عالم تھے۔ ان کے بارے میں امام محمد بن احمد الذہبی (وفات 1348 ء) نے کہا ہے كل حَدِيث لَا يعرفهُ ابْن تَيْمِية فَلَيْسَ بِحَدِيث (شذرات الذهب لابن العماد الحنبلي، جلد8، صفحہ 145)۔ یعنی کوئی حدیث جس کو ابنِ تیمیہ نہ جانتے ہوں، وہ حدیث ہی نہیں۔ مگر ابنِ تیمیہ اِس پہلوسے کوئی مستند حدیث پیش کرنے سے عاجز ثابت ہوئے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حدیث کے نام سے، انھوں نے اپنی کتاب میں صرف ایک قول نقل کیا ہے۔ اِس کے الفاظ یہ ہیں ’’ مَنْ سَبَّ نَبِيًّا فَاقْتُلُوهُ (صفحہ92)۔ یعنی جو شخص کسی نبی کو شتم کرے، اُس کو قتل کردو۔ اِس مفروضہ حدیث کے بارے میں خود ابنِ تیمیہ نے اپنی کتاب میں یہ الفاظ لکھے ہیں ’’ فَإِنْ كَانَ مَحْفُوظًا، فَهُوَ دَلِيلٌ عَلَى وُجُوبِ قَتْلِ مَنْ سَبَّ نَبِيًّا مِنَ الأَنْبِيَاءِ‘‘ (صفحہ93)۔ یعنی اگر اِس حدیث کی صحت ثابت ہوجائے، تو وہ اِس بات کے وجوب کی دلیل ہوگی کہ نبیوں میں سے کسی نبی کے شاتم کو قتل کیاجائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مذکورہ کتاب کے مصنف ابنِ تیمیہ کی وفات 1328 عیسوی میں ہوئی تھی۔ زير نظر مضمون لكھے جانے كے وقت اِس کتاب کی اشاعت پر تقریباً سات سو سال گزر چکے ہیں۔ مگر اب تک کسی عالم نے یہ نہیں بتایا کہ اِس حدیث کا ماخذ کیا ہے، اور استناد کے اعتبار سے اس کا درجہ کیا ہے۔ ایسی حالت میں یقینی طورپر کہاجاسکتا ہے کہ یہ حدیث ایک موضوع حدیث ہے، اورموضوع حدیث سے کوئی بات ثابت نہیں ہوتی۔
اوپر کی وضاحت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ قرآن اور حدیث میں کہیں یہ مسئلہ موجودنہیں ہے کہ جو شخص تمھارے پیغمبر کا شتم کرے، اس کو قتل کردو۔ قرآن اور حدیث کا پورا ذخیرہ اِس قسم کے کسی حکم سے خالی ہے۔اب یہ سوال ہے کہ جب اُس قسم کا کوئی واقعہ پیش آئے جس کو مسلمان اپنی زبان میں ’’شتمِ رسول‘‘ کہتے ہیں، تو ایسی حالت میں مسلمانوں کا ردّ عمل کیا ہونا چاہیے۔ اِس کا جواب یہ ہے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ایسے کسی واقعے کو فکری چیلنج کے طورپر لیں، اور فکری سطح پر اس کا جواب دیں۔ اسلام میں قصاص (البقرۃ، 2:179) کا اصول ہے۔ اِس کے مطابق، یہ ہونا چاہیے کہ قول کا جواب قول سے دیا جائے، قلم کا جواب قلم سے دیا جائے، اور کتاب کا جواب کتاب سے دیا جائے۔ یہ بات پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ سے واضح طورپر معلوم ہوتی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مثلاً روایت میں آیا ہے کہ ایک مشرک قبیلے کا شعر مدینہ میں پیغمبر اسلام کے پاس آیا۔ اُس نے اپنے موقف کو اشعار کی زبان میں بیان کیا۔ واضح ہو کہ پریس کے دور سے پہلے شعر کا اسلوب اِس طرح کے معاملات میں رائج تھا۔ گویا شاعری کی حیثیت اُس وقت کے واحد میڈیا کی تھی۔ روایت میں آتا ہے کہ اُس وقت، پیغمبر اسلام نے ایک قاصد کو بھیج کر حسان بن ثابت الانصاری (وفات674ء) کو بلایا۔ جب وہ آگئے تو آپ نے حسان بن ثابت سے کہا ’’ قُم يا حسّان، فَأَجِبِ الرَّجُلَ فِيما قال‘‘ (سیرت ابن ہشام، جلد 4، صفحہ 227)۔ یعنی اے حسان اٹھو، اور اِس آدمی کا جواب دو جو اُس نے کہا ہے۔ اِس کے بعد حسان بن ثابت کھڑے ہوئے اور آنے والے شاعر کا جواب شعر کی زبان میں دیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس طرح کے متعدد واقعات پیغمبر اسلام کے زمانے میں ملتے ہیں۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص اسلام، یا پیغمبر اسلام کے خلاف کچھ کہے، تو اس کا جواب برابر کی سطح پر دیا جائے گا، یعنی قول کا جواب قول سے، اور قلم کا جواب قلم سے۔ اِس سے معلوم ہوا کہ قلم کا جواب تلوارسے دینا، اسلام کا طریقہ نہیں۔ اِس طرح کا کوئی واقعہ اہلِ اسلام کے لیے صرف ایک فکری چیلنج ہے، وہ کوئی جنگی چیلنج نہیں۔ ایسے موقع پر فریقِ مخالف سے بات کرکے اس کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ پُرامن انداز میں اس کا جواب فراہم کیا جائے گا۔ عقل کو مطمئن کرنے والا طریقہ اختیار کرتے ہوئے، اس کا مقابلہ کیا جائے گا۔ اِس طرح کے موقع پر کسی بھی حال میں تشدد کا کوئی جواز نہیں۔
Conclusion
اوپر جو بحث کی گئی، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اسلام مکمل طورپر ایک امن پسند مذہب ہے، حتی کہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ تاریخ میں اسلام پہلا رلیجس سسٹم تھا جس نے امن کی ایک مکمل آئڈیالوجی پیش کی، اور پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اختیار کرتے ہوئے حقیقی معنوں میں ایک پُرامن انقلاب برپا کیا۔
اِس معاملے میں اسلامی تعلیمات کا خلاصہ ایک واقعے سے معلوم ہوتاہے ۔ پیغمبر اسلام نے اپنے ساتھیوں سے کہا قَدِمْتُمْ خَيْرَ مَقْدَمٍ مِنَ الْجِهَادِ الْأَصْغَرِ إِلَى الْجِهَادِ الْأَكْبَرِقَالُوا وَمَا الْجِهَادُ الْأَكْبَرُ؟ قَالَ مُجَاهَدَةُ الْعَبْدِ هَوَاهُ (الزہد الکبیر للبیہقی، حدیث نمبر 373)۔ یعنی تمھارا استقبال ہےچھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف ۔ لوگوں نے کہا بڑا جہاد کیا ہے، آپ نے کہا بندے کا اپنی نفسانی خواہش سے جہاد کرنا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جہادِ اکبر اور جہادِ اصغر سے کیا مراد ہے۔جہادِ اصغر سے مراد ہے عارضی جہاد (temporary jihad) اور جہادِ اکبرسےمستقل جہاد (permanent jihad)مراد ہے۔ مستقل جہاد وہ ہے جو مومن کی زندگی میں ہر روز جاری رہتا ہے۔ موجودہ امتحان کی دنیا میں مومن کو بااصول طریقِ زندگی پر قائم رہنا ہے۔ کسی بھی قسم کے ٹمپٹیشن (temptation) اور پرووکیشن (provocation)سے اپنے آپ کو بچاتے ہوئے، اسلام کے اصولوں پر قائم رہنا، یہ ایک مسلسل عمل ہے، اِس لیے اس کو جہادِ اکبر کہا گیا۔
جہاں تک جہادِ اصغر کا تعلق ہے، وہ دراصل دفاعی جہاد کا دوسرا نام ہے۔ دفاعی جہاد استثنائی طورپر کبھی اتفاقاً پیش آتا ہے، وہ اسلامی زندگی کا کوئی مستقل حصہ نہیں۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اوّل کا زمانہ ہے ۔ آپ کی نبوت کا آغاز 12 فروری 610 عیسوی کو مکہ میں ہوا، اور 8جون 632 عیسوی کو مدینہ میں آپ کی وفات ہوئی۔ اِس اعتبار سے آپ کی پیغمبرانہ مدت مسیحی کیلنڈر کے مطابق، 22 سال تین مہینہ ہوتی ہے۔ اِس پوری مدت میں صرف چار لڑائیاں پیش آئیں— غزوۂ بدر (2 ہجری)، غزوۂ اُحد (3 ہجری)، غزوۂ خیبر (7 ہجری)، غزوۂ حنین (8 ہجری)۔ اِن چاروں مواقع پر جو لڑائیاں ہوئیں، اُن میں سے ہر لڑائی صرف آدھے دن تک جاری رہی، یعنی مجموعی طو ر پریہ لڑائیاں صرف دو دن کی تھیں۔
دن کے حساب سے اگر شمار کیا جائے، تو پیغمبر اسلام کی نبوت کے کُل ایّام تقریباً آٹھ ہزار ایک سو تیس (8130)ہوتے ہیں۔ اِس لمبی مدت میں پیغمبراور آپ کے صحابہ آٹھ ہزار ایک سو اٹھائیس دن تک پُرامن جدوجہد میں مشغول رہے، اور صرف دو دن بطور دفاع مسلّح جدوجہد میں حصہ لیا۔ اِس بنا پر یہ کہنا صحیح ہوگا کہ
''In Islam, peace is the rule, and war is a rare exception.''