مسلمانوں کا پہلا کام دوسروں کو سزا دینا نہیں ہے، ان کا پہلا کام دعوت دیناہے اور اس کو اس کے تمام آداب و شرائط کے ساتھ جاری رکھتے ہو ئے اتمام حجت تک پہنچانا ہے۔ اور شرائطِ دعوت میں سب سے اہم شرط یہ ہے کہ مدعو کی ہر زیادتی اور گستاخی کو اس وقت تک یک طرفہ طور پر برداشت کیا جائے جب تک اس کی ہدایت کے بارے میںآخری مایوسی کا مرحلہ نہ آجائے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض افراد کو سزائیں بھی دی ہیں۔ مگر اس سلسلہ میں جن واقعات کا حوالہ دیا جاتا ہے، ان تمام واقعات میں سببِ قتل یا تو نقض عہد تھا یا انکارِ رسالت بعد از اتمام حجت۔ سادہ طور پر محض شتم کی بنا پر کسی ایک شخص کو بھی رسول یا اصحابِ رسول نے کبھی قتل نہیں کیا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔