← Shatm-e-Rasool Ka MaslaShatm-e-Rasool Ka Masla
خدائی حفاظت
Urdu · 10 min
قرآن میں بار بار مخالفوں کے تمسخر اور استہزاء کا ذکر ہے۔ مگر کہیں بھی یہ حکم نہیں دیا گیا کہ جب بھی کسی کو استہزاء کرتے ہوئے پاؤتو فوراًاس کو پکڑ کر قتل کر ڈالو۔ اس کے بر عکس، قرآن کی تعلیم یہ ہے کہ تم اپنی ساری توجہ دعوت و تبلیغ کے کام پر مرتکز رکھو، اور استہزاء کرنے والوں کو سزا دینے کے معاملہ کو اللہ پر چھوڑ دو
فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ۔ اِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ۔ الَّذِينَ يَجْعَلُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ۔ وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ۔ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُنْ مِنَ السَّاجِدِينَ۔ وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ (15:94-99)۔يعني، پس جس چیز کا تم کو حکم ملا ہے اس کو کھول کر سنادو۔اور مشرکوں سے اعراض کرو۔ ہم تمہاری طرف سے مذاق اڑانے والوں کے لیے کافی ہیں۔ جو اللہ کے ساتھ دوسرے معبودوں کو شریک کر تے ہیں ۔پس عنقریب وہ جان لیں گے۔ اور ہم جانتے ہیں کہ جو کچھ وہ کہتے ہیں اس سے تمہارا دل تنگ ہو تا ہے۔ پس تم اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو۔ اور سجدہ کرنے والوں میں سے بنو۔ اور اپنے رب کی عبادت کرو۔ یہاں تک کہ تمہارے پاس یقینی بات آجائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ان آیات کے تحت مفسرین نے جو لکھا ہے، اس کا خلاصہ ، ابن کثیر کے الفاظ میں ، یہ ہے کہ تمہارے رب کی طرف سے جو کچھ تمہارے اوپر اتارا گیا ہے، اس کو لوگوں تک پہنچادو۔ اور مشرکین کی طرف متوجہ نہ ہو جو تم کو آیاتِ الٰہی کی تبلیغ سے روک دینا چاہتے ہیں ۔ تم ان سے نہ ڈرو۔ کیونکہ اللہ ان کی طرف سے تمہارے لیے کافی ہے۔ اور تم کو ان سے محفوظ رکھنے والا ہے بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ، وَلَا تَلْتَفِتْ إِلَى الْمُشْرِكِينَ الَّذِينَ يُرِيدُونَ أَنْ يَصُدُّوكَ عَنْ آيَاتِ اللهِ وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ وَلَا تَخَفْهُمْ فَإِنَّ اللهَ كَافِيكَ إِيَّاهُمْ وَحَافِظُكَ مِنْهُمْ (تفسیر ابن کثیر، جلد4، صفحہ473)۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
قرآن سے واضح طور پر معلوم ہو تا ہے کہ اس طرح کے معاملات میں داعی کا طریقہ اعراض ہے ، نہ کہ جواب اور مقابلہ۔ داعی کو چاہیے کہ وہ اپنی ساری تو جہ صرف پیغام رسانی کے کام پر لگائے رہے۔ مدعو کی طرف سے استہزاء اور ایذارسانی کا ردّعمل سامنے آئے تو ہر گز وہ اس سے براہ راست نہ الجھے۔ وہ ایسے لوگوں کے معاملہ کو تمام تر اللہ کے اوپر چھوڑ دے۔ قرآن کے مطابق، دعوت دینا داعی کا کام ہے اور مستہزئین سے نمٹنا اللہ کا کام۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن کی مذکورہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے فرمایا ہے کہ مستہزئین کے مقابلہ میں ہم تمہاری طرف سے کافی ہیں إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ(15:95) ۔اس خدائی ضمانت کا کو ئی وقتی یا محدود مطلب نہیں لیا جا سکتا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ایک ابدی پیغمبر تھے، اس لیے ضمانت کا یہ وعدہ بھی ابدی وعدہ ہے۔ یعنی اس کا تعلق اسلام کے زمانۂ اول سے بھی ہے جب کہ آپ اپنے وجود مقدس کے ساتھ دنیا میں موجود تھے۔ اور بعد کے زمانہ سے بھی جب کہ آپ اپنے پیغام حق کے ساتھ دنیا میں موجود ہیں۔ اور اہل عالم کو مسلسل اپنی دعوت پہنچارہے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
استہزاءکرنے والا کسی کا استہزاء کیوں کرتا ہے۔ وہ اس لیے ایسا کرتا ہے کہ زیر استہزاء شخصیت لوگوں کی نظر میں حقیر ہو کر رہ جائے۔ وہ لوگوں کو اس قابل نظر نہ آئے وہ اس کو اہمیت دیں اور اس کے پیغام پر غور کریں ۔ یہی مقصد قدیم زمانہ میں پیغمبر کے مستہزئین کا تھا۔ اور یہی بعد کے زمانہ کے مستہزئین کا ہے۔
اس اعتبار سے استہزاء کا جواب یہ نہیں ہے کہ مستہزی شخص کو قتل کر دیا جائے۔ اس کا زیادہ حقیقی اور زیادہ کار گر جواب یہ ہے کہ جس شخصیت کا استہزاء کیا جارہا ہے، اس کو اتنا بلند اور اتنا مسلّم الثبوت بنا دیا جائے کہ استہزاء کرنے والوں کااستہزاء اس پر اثر اندازہی نہ ہو۔
اگر کوئی شخص ہمالیہ پہاڑ کو ایک چھوٹا ٹیلہ کہہ کر مذاق اڑائے تو یہ مذاق اس کے اوپر چسپاں نہیں ہو گا۔ کیونکہ ہمالیہ کی غیر معمولی عظمت خود ہی اس مذاق کی تردید ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص ہاتھی کو چیونٹی کہہ کر اس کی ہنسی اڑائے تو یہ ہنسی بھی ہاتھی کے اوپر چسپاں نہ ہو گی۔ کیونکہ ہاتھی کا غیرمعمولی ڈیل ڈول اپنے آپ اس ہنسی کو بے معنی ثابت کر رہا ہے، اس قسم کا تمسخراتنا بے معنی ہے کہ اس کی تردید کرنے کی ضرورت نہیں ۔ وہ اپنی تردید آپ ہے۔
پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسی قسم کا معاملہ زیادہ بڑے پیمانے پر کیا گیا ہے۔ آپ کے ساتھ ایسے غیر معمولی نوعیت کے تاریخی حالات جمع کیے گئے ہیں کہ آپ کی شخصی عظمت عالمی سطح پر ایک مسلّمہ واقعہ بن چکی ہے۔ آپ اب کوئی متنازعہ شخصیت نہیں ہیں۔ بلکہ ایک ایسی شخصیت ہیں جس کی بڑائی کا اعتراف کرنے پر ہر آدمی مجبور ہو، خواہ و ہ آپ پر عقیدہ رکھتا ہو یا عقیدہ نہ رکھتا ہو۔
چنانچہ موجودہ زمانہ میں غیر مسلم مصنفین نے کثرت سے ایسی کتابیں لکھی ہیں جن میں آپ کی غیر معمولی عظمت کا اعتراف کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر ٹامس کارلائل نے آپ کو تمام پیغمبروں کا ہیروں قرار دیا ہے۔ مائیکل ہارٹ نے دنیا کے سو بڑے انسانوں کی فہرست بنائی تو اس میں آپ کو نمبرایک پر رکھا(دیکھیے، زیر نظر کتاب کا صفحہ 52)۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسے مقامِ عظمت پر فائز کر دیا ہے کہ اب کسی مستہزی کا استہزاء خود مستہزی کو لوگوں کی نظر میں حقیر بنادے، اس کا استہزاء کسی بھی درجہ میں آپ کے اوپر چسپاں نہ ہو۔ اس فیصلہ الٰہی کی پیشگی خبر خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو دے دی تھی۔
روایات میں آتا ہے کہ مکہ کے قریش آپ کو مذمّم (مذمّت کیا ہوا، ملامت زدہ) کہتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خلاف کو ئی براہ راست کاروائی نہیں کی۔ اس کے بجائے آپ نے فرمایا کہ قریش کی اس ایذارسانی پر مجھے تعجب ہے ۔ وہ مجھے گالی دیتے ہیں اور مجھ کو مذمّم کہتے ہیں۔ حالانکہ میں محمد ہوں أَلَا تَعْجَبُونَ لِمَا يَصْرِفُ اللهُ عَنِّي مِنْ أَذَى قُرَيْشٍ، يَسُبُّونَ وَيَهْجُونَ مُذَمَّمًا، وَأَنَا مُحَمَّدٌ (سیرت ابن ہشام ، جلد1، صفحہ 356)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یعنی کائنات ارض و سماء کے مالک نے میرے لیے مقدر کر دیا ہے کہ عالمی تاریخ میں مجھ کو محمد (تعریف کیا ہوا)کی حیثیت سے جگہ ملے۔ ایسی حالت میں ان کے جھوٹے سب وشتم کی کیا حقیقت۔
اسی خدائی ضمانت کا یہ کرشمہ ہے کہ سلمان رشدی کی کتاب کی اعلیٰ طباعت اور اس کی زبردست پبلیسٹی کے باوجود ساری دنیا میں کو ئی ایک شخص نہیں جو اس بے ہو دہ کتاب کو پڑھ کر متاثر ہو ا ہو یا اس کی رائے پیغمبر اسلام کے بارے میںخراب ہو جائے۔ اس کتاب کی اشاعت کے بعد عالمی اخبارات میں قارئین کے بے شمار خطوط چھپے ہیں ۔ مگر کسی ایک شخص نے یہ بات نہیں لکھی کہ اس کتاب نے میری نظر میں پیغمبر اسلام کی تصویر بگاڑدی۔ میری نگاہ میں ان کا جو تقدس پہلے تھا، وہ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد باقی نہ رہا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کتاب نے خود مصنف کی تصویر کو بگاڑ ا ہے، نہ کہ پیغمبر اسلام کی تصویر کو۔