17فروری1989کے اخبارات میں یہ سنسنی خیز خبر تھی کہ ایران کے آیت اللہ خمینی نے مسلمانوں سے کہا ہے کہ وہ ’’ شیطانی آیات‘‘ کے مصنف سلمان رشدی کو قتل کردیں ۔ اسی کے ساتھ ایرانی حکومت نے اعلان کیا کہ وہ قاتل کو اس کے معاوضہ میں بڑا انعام ادا کرے گی۔ قومی آواز (20فروری1989) کے مطابق، مولانا ابوالحسن علی ندوی نے امام خمینی کی تائید کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ امام خمینی اس اعلان میں حق بجانب ہیں۔ اسلام میں پیغمبر اسلام کی توہین کے مجرم کی سزا یہی ہے کہ اس کو قتل کردیا جائے۔
سلمان رشدی نے اگر پیغمبر اسلام کی توہین کی تھی تو میرے نزدیک امام خمینی اور مولانا ندوی جیسے لوگ اسلامی قانون کی تو ہین کر رہے ہیں۔ کیوںکہ اس طرح کسی کو قتل کروانا ہر گز اسلام کا طریقہ نہیں۔
اسلام میں ہر قانونی سزاعدالتی معاملہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ کوئی شخص اگر ایسا جرم کرتا ہے جو اسلامی شریعت میں قابل سزا ہے تو کسی شخص یا اشخاص کو ہر گز یہ حق نہیں کہ وہ بطور خود اس پر سزا کا نفاذ کرنے لگے۔ ایسی حالت میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ مجرم کو پکڑا جائے اور عدالتی کاروائی کے بعد قاضی کے فیصلہ کے مطابق اس کو سزا دی جائے جو شریعت میں ایسے مجرم کے لیے مقرر ہے۔
دوسری بات یہ کہ سلمان رشدی برطانیہ کا باشندہ ہے۔ اس پر برطانیہ کے قوانین نافذ ہوتے ہیں، نہ کہ ایران یا پاکستان کے۔ انعام دے کر یا جذباتی اپیل کر کے اس طرح ایک غیر ملکی کو مروانا گویا انٹرنیشنل بدامنی کو جواز فراہم کرنا ہے۔ اسلام بلاشبہ اس سے بَری ہے۔
سلمان رشدی کی کتاب نے تو اسلام کو کوئی حقیقی نقصان نہیں پہنچایا تھا۔ مگر شیعہ اور سنّی علماء جو کچھ کررہے ہیں وہ بلاشبہ اسلام کو زبردست نقصان پہنچانے کا سبب بنا ہے۔ اس نے اسلام کے دعوتی امکانات کو ناقابل تلافی حد تک بر باد کر دیا ہے۔ ان حضرات نے اپنی حرکتوں سے دنیا کو یہ بتایا ہے کہ اسلام وحشت و بربریت کا مذہب ہے ۔ اور جس مذہب کی تصویر وحشت و بربریت کی تصویر بنادی جائے، اس کو کون اپنے لیے پسند کر سکتا ہے۔
اسلام میں دعوت کی مصلحت ہر دوسری مصلحت پر مقدم ہے۔ دعوت کی مصلحت اہم ترین مصلحت کی حیثیت رکھتی ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ وہ بار بار ایسے اقدامات کرتے ہیں جس سے انہیں ذاتی طور پر قیادتی فائدہ تو ضرور ملتا ہے، مگر اسلام کے دعوتی امکانات برباد ہو کر رہ جاتے ہیں۔ یہ بلاشبہ سب سے بڑا المیہ ہے جس سے اسلام کی جدید تاریخ دو چار ہے۔ (شائع شدہ ہفت روزہ نئی دنیا، 3-9مارچ1989)
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔