Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Shatm-e-Rasool Ka Masla
Shatm-e-Rasool Ka Masla

سامان تضحیک

Urdu · 6 min

انگلینڈ میں قدیم زمانہ سے ایک قانون ہے جو مذہبی بے حرمتی (Blasphemy) سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ قانون سترہویں صدی میں بنایا گیا۔ عیسائیت (انیگلیسکن چرچ کی تشریح کے مطابق) انگلینڈ کا سر کاری مذہب ہے۔ اس قانون سازی کی وجہ ، بنیادی طور پر، یہ تھی کہ یہ سمجھا گیا کہ مذہب پر حملہ لازمی طور پر خود ریاست پر حملہ ہے

"An attack on religion is neccessarily an attack on the state." (Encyclopaedia Britannica, Vol 2, p. 75)

other sourceWords of another person or source

موجودہ حالت میںاس قانون کا تعلق صرف عیسائی مذہب سے ہے۔ برطانیہ کے مسلمان (زیادہ صحیح الفاظ میں ، برطانیہ میں مقیم کچھ ہندوستانی مسلمان)وہاںیہ مہم چلارہے ہیں کہ مذکورہ قانون میں وسعت پیدا کرکے اس کو مسلم مذہب تک وسیع کیا جائے ، تا کہ اس کے تحت سلمان رشدی کی کتاب کے خلاف عدالت میں مقدمہ چلایا جاسکے۔

میرے نزدیک یہ مطالبہ بالکل لغو ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف جھوٹی لیڈری ہے، ورنہ خود مطالبہ کرنے والے بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ موجودہ حالات میں اس طرح کے قوانین کا عملی طور پر مطلق کوئی فائدہ نہیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ یہ انتہائی سطحیت بھی ہے۔ مسلم ملکوں میں اسلام یا اسلامی شخصیتوں کی بے حرمتی کے خلاف قوانین موجود ہیں۔ کیا مسلمان اس کے لیے راضی ہوں گے کہ ان قوانین کو عیسائیت، ہندوازم اور یہودیت تک وسیع کیاجائے۔ خواہ اس کے تحت دوسرے مذاہب کے لوگوں کو موقع ملے کہ وہ مسلمانوںکے خلاف مقدمات قائم کرسکیں کہ انھوں نے ان کے مذہب کی بے حرمتی کی ہے۔ مسلمان جو حق اپنے ملک میں دوسروں کو نہیں دے سکتے ۔ اس حق کو دوسروں کے ملک میں اپنے لیے مانگنا بلاشبہ صرف سطحی لیڈری ہے، اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔

اس احمقانہ مہم نے اسلام کے خلاف بے حرمتی کا تحفظ تو نہیں کیا۔ البتہ اس نے اسلام کی بے حرمتی کے اسباب ضرور فراہم کردیے ہیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ برطانیہ کے کچھ نام نہاد مسلم لیڈروں نے حکومت برطانیہ کوخط لکھ کر مطالبہ کیاتھا کہ حکومت مذکورہ قانون کو اسلام کی بے حرمتی تک وسیع کرے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس کے جواب میں برطانیہ کے ہوم آفس کے منسٹر آف اسٹیٹ مسٹر جان پیٹن (John Patten)نے انھیں ایک خط بھیجا ہے۔ یہ خط ٹائمس آف انڈیا (6جولائی1989) کے آخری صفحہ پر چھپا ہے۔

یہ رپورٹ جو پی ٹی آئی نے لندن سے روانہ کی ہے، اس میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ کے مسلم لیڈروں کے نام ایک خط میں مسٹر پٹن نے کہا کہ قانونی ميكانزم مذہب اور انفرادی عقیدہ کے معاملات سے نمٹنے کے لیے غیر موزوں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خود عیسائی مذہب اب اس قانون پر اعتماد نہیں کرتا ۔ عیسائی لوگ اس پر یقین رکھتے ہیں کہ ان کے مذہب کی اپنی طاقت اس قسم کے حملوں کے مقابلہ میں بچاؤ کابہترین ذریعہ ہے

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

In a letter to prominent British Muslim Leaders, Mr. Patten said "Legal mechanisms were inappropriate for dealing with matters of faith and individual beliefs. Indeed, the Christian faith no longer relies on it, preferring to recognise that the strength of their own belief is the best armour (p.10).

other sourceWords of another person or source

برطانیہ کے عیسائی ہوم سکریٹری کے الفاظ مسلمانوں کے اوپر گہرا طنز ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا مذہب اتنا طاقتور ہے کہ بے حرمتی کے خلاف قانون کے ہوتے ہوئے بھی ہم اس کے استعمال کی ضرورت نہیں سمجھتے ۔ دوسری طرف تمہارا یہ حال ہے کہ تم سمجھتے ہو کہ تمہارے مذہب کی حرمت اسی وقت محفوظ رہ سکتی ہے جب کہ اس کی پشت پر قانون اپنا ڈنڈا لیے ہوئے اس کی چوکیداری کر رہا ہو۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content