Maulana Wahiduddin Khan
37 min left
0:00

← Shatm-e-Rasool Ka Masla
Shatm-e-Rasool Ka Masla

اسلام مغربی لٹریچر میں

Urdu · 37 min

ڈاکٹر ہٹی(Plilip K. Hitti)عربی زبان اور تاریخ کے مشہور ماہر ہو نے کی حیثیت سے مغربی دنیا میں مشرق قریب کے مسائل پر سند سمجھے جاتے ہیں۔ انھوں نے عرب اور اسلام کے موضوعات پر متعدد کتابیں لکھی ہیں اور انسائیکلو پیڈیا کے مقالہ نگار ہیں۔ ان کی کتابیں یورپ اورا یشیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ ہو تی رہی ہیں۔ وہ مختلف یونیورسٹیوں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ اور اس وقت پرنسٹن یونیورسٹی (نیوجرسی) میں سامی ادب کے پروفیسر ہیں۔

other sourceWords of another person or source

اسلام اور مغرب(Islam and the West)ڈاکٹر ہٹی کی کتاب ہے جو 1962ء میں امریکا سے شائع ہو ئی ہے۔ اس کتاب کے 190صفحات ہیں اور اس کا موضوع عیسائی دنیا اور اسلام کے تمدنی تعلقات کی تاریخ ہے جس میںبازنطینی سلطنت کے وقت سے لے کراب تک مختلف قسم کے اتار چڑھاؤ پائے جاتے رہے ہیں۔ موصوف نے ترجموں کی مدد سے نہیں بلکہ اصل مآخذ سے براہ راست استفادہ کر کے یہ کتاب تیار کی ہے۔

کتاب کے دو حصے ہیں ۔ پہلے حصے کے ابتدائی تین ابواب میں اسلام کا بالترتیب مذہب، ریاست اور کلچر کی حیثیت سے تعارف ہے۔ چوتھا باب ہے — ’’اسلام مغربی لٹریچر میں‘‘۔ پانچویں اور چھٹے باب میں بالترتیب مشرق کا مغرب پر اور مغرب کا مشرق پر نفوذ و اثر دکھایا گیا ہے۔ ساتویں باب میں اس تحریک کا مختصر تعارف ہے جو اسلام اور مغربی تہذیب کے درمیان مطابقت پیدا کرنے کے لیے مختلف اسلامی ممالک میں جاری ہے۔ کتاب کے دوسرے حصے میں قرآن اور دوسری قدیم کتابوں سے اسلام اور اسلامی تاریخ اور اسلامی شخصیتوں کے بارے میں اقتباسات نقل کیے گئے ہیں۔ یہ اقتباسات کل 29ہیں۔

ذیل میں کتاب کے چوتھے باب (Islam in Western Literture)کا ترجمہ دیا جارہا ہے، اس معذرت کے ساتھ کہ نقل کفر کفر نباشد۔

قرون وسطیٰ کے مغربی لٹریچر میں پیغمبر اسلام کو عام طور پر جعل ساز اور جھوٹے رسول کی حیثیت سے متعارف کرایا جا تا تھا۔ قرآن ان کی ایک بناوٹی کتاب اور اسلام ایک نفس پرستانہ طریق حیات تھا، دنیا میں بھی اور دوسری زندگی میں بھی۔ اس زمانے میں مذہب، اسلام اور عیسائیت دونوں کے درمیان دشمنی کی سب سے بڑی وجہ تھی۔ دونوں طرف یہ دعویٰ کیا جاتا تھا کہ ان ہی کا مذہب تمام صداقتوں کا واحد خزانہ ہے۔ مگر سیاسی اور فوجی تصادم، نظریاتی تصادم سے بھی زیادہ سخت ثابت ہوا۔

محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ڈیڑھ صدی تک ان کے پیرو پہلے مدینہ، پھر دمشق اور اس کے بعد بغداد سے نکل کر بازنطینی سلطنت کو روندتے رہے۔ یہاں تک کہ بڑھتے ہوئے مسیحیت کے مشرقی دارالسلطنت کے دروازے تک پہنچ گئے۔ قسطنطنیہ کے سقوط(1453ء)کے بعد چار صدیوں میں مسلم سلجوق اور عثمانی ترک اپنی ہمسایہ مسیحی طاقتوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن گئے۔ 711ء سے شروع ہو کر تقریباً آٹھ سو برس میں مسلمان اسپین کے ایک حصہ پر قابض ہو چکے تھے اور انھوں نے فرانس تک پر دھاوا بول دیا تھا۔ سسلی دو صدیوں تک ان کے قبضہ میں رہا۔ اور اٹلی کے خلاف ایک فوجی اڈے کاکام کرتا رہا۔ بارہویں اور تیرہویں صدی کے دوران میں مغربی اقوام مسلمانوں کی زمین پر صلیبی جنگ لڑتی رہیں۔ ان صلیبی لڑائیوں کی یا دآئندہ نسلوںمیں باقی رہی۔

زرتشت، بدھزم اور دوسرے کم ترقی یافتہ مذاہب کی کبھی اس طرح سے نفرت اور تحقیر نہیں کی گئی، جیسا کہ اسلام کے ساتھ پیش آیا۔ وہ قرون وسطیٰ کے مغرب کے لیے کو ئی خطرہ نہیں تھے۔ اور نہ انھوں نے مقابل میں آنے کی کبھی کو شش کی۔ اس لیے یہ بنیادی طور پر خوف، دشمنی اور تعصب تھا جس نے اسلام کے بارے میں مغرب کے نقطۂ نظر کو متاثر کیا۔ اسلام کا عقیدہ ایک دشمن عقیدہ تھا۔ اس لیے وہ غلط نہ ہو جب بھی شبہ کی نظر سے دیکھا جانا لازمی تھا۔

پھر زبان کا روک بھی تھامسیحیت اور دنیائے اسلام کے درمیان سیاسی اور فوجی تصادم کے چھ سو سال تک یورپ قرآن کی باقاعدہ مطالعہ کی سہولت سے محروم رہا۔ اس پوری مدت میں لاطینی زبان کا کو ئی عالم یورپ میں ایسا نہیں ملتا جو عربی زبان پر بھی عبور رکھتا ہو۔ قرآن کی زبان سے اس کامل بے خبری نے قرآن کے بارے میں غلط تعارف کو پھیلنے کا موقع دے دیا۔

قرون وسطیٰ اور اس کے بعد کی مسیحیت نے جس تحریری یا زبانی ذرائع سے اسلام کے بارے میں اپنا تصور قائم کیا، وہ وہی تھا جو صلیبی جنگوں کے دوران میں وجود میں آئے یا ان ممالک کی معرفت ملے جن سے اسلام کی لڑائی پیش آچکی تھی۔ مسیحی علماء اور پادریوں نے اسی کے ذریعہ اسلام کی تصویر بنائی۔ اسلام کی اس یورپی تصویر اور اس کی حقیقی اسلامی تصویر میں کوئی مشابہت محض اتفاق ہے۔

شام کے مشہور عیسائی عالم سینٹ جان آف دمشق(749ء)کو باز نطینی روایات کا بانی کہا جاسکتا ہے۔ جان نوجوانی کی عمر میں بنو امیہ کے دربار میں حا ضر ہوا۔ وہ عربی، سریانی اور یونانی زبانیں جانتا تھا اور اپنے زمانہ کے اہل علم میں ممتاز درجہ رکھتا تھا۔ اس نے اپنی کتاب میں اسلام کا تعارف ایک بت پرستانہ مذہب کی حیثیت سے کیاہے جس میں ایک جھوٹے رسول کی پرستش ہو تی ہے ۔ اس کے بیان مطابق محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آرین راہب کی سر پرستی میں بائبل کی مدد سے اپنے اصول وضع کیے۔ یہ اسلام کے متعلق عیسائیت کے قدیم اور عام تصور کی ایک مثال تھی۔ چنانچہ ڈانتے(وفات 1321ء) نے اپنی مشہور کتاب میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نویں جہنم کے سپرد کردیا جو تفرقہ پر دازوں اور رسواکن اعمال کرنے والوں کے لیے مخصوص ہے(نعوذبا للہ)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

بازنطینیوں میں پہلا شخص جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا باقاعدہ ذکر کیا اور اسلام پر گفتگو کی، وہ مورخ تھیوفینس(Theophanes)ہے۔ جس کا زمانہ 758-818ہے۔ وہ ایک خانقاہ کا بانی بھی تھا۔ تھیوفین بغیر کسی حوالے کے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو’’مشرقی باشندوں کا حکمراں اور ایک بناوٹی رسول‘‘لکھتا ہے۔ ڈانتے کا ایک ہم عصر مسیحی جس نے بغداد کا سفر کیا تھا، اس نے یہ نظریہ پیش کیا کہ شیطان جب خود مشرقی ممالک میں عیسائی مذہب کی ترقی کو روک نہ سکا تو اس نے اپنی طرف سے ایک آسمانی کتاب تیار کی اور ایک ابلیس فطرت آدمی کو اپنے وسیلہ کے طور پر استعمال کیا۔ یہ آسمانی کتاب قرآن اوروہ وسیلہ محمد ہیں(نعوذبااللہ)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

عبدالمسیح بن اسحاق الکندی ایک مشرقی عیسائی تھا۔ اس کو اسپین میں ایک سیدزاد ہ مسلمان نے تحریری طور پر اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ اس واقعہ نے عرب کے عیسائی کو موقع دیا کہ وہ عیسائیت کادفاع کرے اور اسلام پر حملہ آور ہو۔ الکندی نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک شہوت پرست اور ایک قاتل کی حیثیت سے پیش کیا جن کی کتاب محض مصنوعی الہامات کا مجموعہ تھی اور جن کا مذہب دھوکے،تشدد اور نفس پرستانہ تعلیمات کی چاٹ دلا کر پھیلایا گیا(رسالات الکندی مطبوعہ قاھرہ 1912ء)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ان باتوں کے نتیجہ میں عیسائی دنیا میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کچھ ایسی فضاپیدا ہو گئی تھی کہ کوئی افسانہ خواہ کتنا ہی عجیب ہو اور اس کی کوئی اصل نہ ہو، فوراً قبول کرلیا جاتا تھا۔ قرطبہ کاایک بشپ ایولوگیس(Eulogius) جو اپنے وقت کا بہت بڑا عالم تھا، وہ لاطینی تحریر کے حوالے سے جو ایک عیسائی راہب نے تیار کی تھی، لکھتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ان کے اصحاب فرشتوں کا انتظار کر رہے تھے جو اتریں اور ان کے جسم کو اوپرلے جائیں ۔ مگر اس کے بجائے کتے آئے اور ان کے جسم کو کھا گئے اسی لیے مسلمان ہر سال بہت بڑے پیمانے پر کتوں کو ہلاک کرتے ہیں۔ ایولوگیس، اسپین کے مسلم دارالسلطنت میں رہتا تھا۔ وہ معمولی کوشش سے جان سکتا تھا کہ اس پورے افسانے میں صرف اتنی سی حقیقت ہے کہ مسلمان کتے کو ایک ناپاک جانور سمجھتے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

لاطینی زبان سے یہ کتے کا افسانہ فرانسیسی میں پہنچا۔ چنانچہ ایک قدیم فرانسیسی نظم میں کتے اور سور دونوں کو دکھایا گیا ہے کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم کو کھا رہے ہیں۔ سور کی یہ روایت عوام میں بہت مقبول ہو ئی اور قرآن میں سور کی حرمت کی بہت آسان تو جیہ بن گئی (حالانکہ سور کی حرمت آپ کی وفات سے بہت پہلے کا واقعہ ہے — دروغ گورا حافظہ نبا شد، مترجم)۔ اسی طرح یہ بھی کہا گیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کاتابوت زمین و آسمان کے درمیان فضا میں معلق ہے۔ اور لوگوں نے اس پر یقین کر لیا۔

بارہویں اور تیرہویں صدی میں صلیبی جنگوں کے ذریعہ اسلام کو مغلوب کرنے کی کوشش جب ناکام ہو گئی تو مسیحی حلقہ میں ایک نیا رجحان ابھرا— اسلام کو تبلیغ و تحریص کے ذریعہ تباہ کیا جائے۔ بے دخلی کی کوشش کی جگہ عقیدہ کی تبلیغ نے لے لی۔ مشنری تحریک وجود میں آئی۔ کارملی رہبانوں کا حلقہ (Carmelite Friar Order)ایک صلیبی ہی نے (1154ء)ماونٹ کارمل پر قائم کیا تھا۔ اس صلیبی کا نام (Berthold)ہے۔ اس جماعت کے لوگ سفید چغہ پہنتے تھے، اسی لیے ان کو سفید پوش رہبان (White Friars)کہا جاتا ہے۔ (مترجم) فرانسس بیکن نے اس کی پیروی کی۔ 1219ء میں سینٹ فرانسس آف اسیسی قاہرہ گئے اور فرانسس کن مشنری سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ مگر اس دور کی سب سے بڑی مشنری تحریک ایک اسپینی تحریک تھی، جو ریمنڈلل(Raymond Lull)نے شروع کی جس کا زمانہ 1232-1315ءہے۔ لل نے روحانی صلیبی جنگ(Spiritual Crusades) کے لیے بہت دانشمندانہ نقشے بنائے جس کا مقصد مسلمانوں کو عیسائی بنانا تھا۔ بحث و مناظرہ اور استدلال کے ذریعہ کامیاب ہونے کے بارے میں اس کایقین آ خر وقت تک قائم رہا۔ اس کی تیاری کے لیے اس نے عربی پڑھی اور اپنی خانقاہ میں اس کا درس دینا شروع کیا جو اس نے مرامر(Miramar)میں قائم کی تھی۔ اس کی عربی زبان اور اسلام سے اس کی واقفیت اس زمانہ میں اپنی مثال نہیں رکھتی تھی۔ مگر ٹیونس میں اس کی مشنری سرگرمیاں ناکام ہو گئیں۔ توحید پرست مسلمانوں کے ذہن میں تثلیت کا عیسائی عقیدہ بٹھانے کی کوشش اتنی فضول تھی کہ بالآخر اس نے اسلام پر حملہ کرنا شروع کیا۔ وہ گلیوں میں نکل کر چلاتا پھرتا تھا— ’’عیسائیوں کا عقیدہ صحیح ہے اور مسلمانوں کا عقیدہ غلط ہے۔‘‘ٹیوسن میں ایک مشتعل مجمع نے اس پر حملہ کیا اور پتھر مارنے شروع کیے۔یہاں تک کہ وہ ہلاک ہو گیا۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

عیسائیت اور اسلام میں زبان کا روک پہلی بار اس وقت ٹوٹا جب فرانس میں قرآن کا ترجمہ لاطینی زبان میں کیا گیا۔ یہ بیرونی زبان میں قرآن کا پہلا ترجمہ ہے۔ یہ ترجمہ تخمیناً 1141ء میں کیا گیاتھا اور اس کے کرنے والے تین عیسائی اور ایک عرب باشندہ تھا۔ اس ترجمہ ٔ قرآن کے ساتھ ایک ضمیمہ اس عنوان کے ساتھ لگاہوا تھا— ’’مسلمانوں کے عقائد کی تردید‘‘اس کے بعد 1649میں فرنچ مستشرق سیورڈوریر(Sieur du Ryer)نے اس ترجمہ کی مدد سے قرآن کو فرانسیسی زبان میں منتقل کیا۔ یہ شخص اسکندریہ میں فرانسیسی قونصل رہ چکا تھا۔ پھر اسی سال سیورڈور یر نے براہِ راست عربی زبان سے فرانسیسی زبان میں قرآن کا ترجمہ کیا۔ اور اس کے بعد اس کو محمد کا قرآن (The Alcoran of Mahomet)کے نام سے انگریزی میں منتقل کیا گیا۔ اس ترجمہ کی اشاعت کا مقصد مترجم کے الفاظ میں’’ان تمام لوگوں کو مطمئن کرنا تھا جو ترکی کے کھو کھلے مذہب(Turkish Vanities)کے جاننے کے خواہش مند تھے۔ لفظMahometخود محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بگڑی ہو ئی صورت ہے۔ آکسفرڈ انگلش ڈکشنری میں اس کی اٹھارہ شکلیں بتائی گئی ہیں۔ اسی طرحMahoundکی سترہ شکلیںMohammadکی پانچMuhammadکو لے کر ایک ہی نام کی 41 مختلف شکلیں ۔(مصنف نے یہاںMaumetکو شمار نہیں کیا جس کی سب سے زیادہ شکلیں آکسفرڈ ڈکشنری میں بتائی گئی ہیں اور ان کو شامل کر نے کے بعد ناموں کی یہ فہرست ستر سے بھی زیادہ تک پہنچ جا تی ہے— مترجم)۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

قرآن کا یہ گمنام ترجمہ الکزنڈرروس(Alexander Ross) کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔

اسپین میں نام نہاد مورس(Moors)کے زوال کے بعد عثمانی ترک، دشمن مذہب (اسلام1546h ) کے علم بردار نظر آرہے تھے۔ مارٹن لو تھر نے پہلے یہ خیالکیاکہ ترکوںکو مسیحیت کے گناہوں کی پاداش میں خدا کا بھیجا ہوا عذاب سمجھ کر گوارا کرنا چاہیے۔ مگر1529ءمیں جب ترک وائنا کے دروازوں تک پہنچ گئے تو اس نے اپنے ذہن کو بدل دیا اور یہ تبلیغ کی کہ ان کافروں کے خلاف جنگ کرنے کی ضرورت ہے۔

قرآن کا پہلا انگریزی ترجمہ براہِ راست عربی زبان سے 1734میں کیا گیا، اور اس کا مترجم جارج سیل (George Sale)تھا۔ سیل عیسائی علوم کی ترقی کے انجمن کا ایک رکن تھا اور اس نے شامی علماءکی مدد سے عربی زبان سیکھی تھی۔ سیل کا ترجمہ انگریزی دنیا میں ڈیڑھ صدی تک چھایا رہا۔

سترہویں صدی میں ایک نیا سنگ میل پیدا ہوا جب آکسفرڈیونیورسٹی نے عربی کی تعلیم کے لیے ایک نشست اپنے یہاں مخصوص کی۔ اور ایڈورڈپکاک(Edward Pocock) کو1632میں اس منصب پر مقرر کیا۔ پکاک چھ سال تک شام میں پادری کی حیثیت سے رہ چکا تھا اور عربی میں دستگاہ اور اسلام کی براہ راست معلومات حاصل کر چکا تھا۔ آکسفرڈ میں عربی شعبہ کے کھلنے سے یورپی عربی داں پیدا ہو نے کا دروازہ کھل گیا۔ پکاک خود غالباً اپنی صدی کا سب سے بڑا یورپی عربی داں تھا۔ اس نے متعدد کتابیں تصنیف یا ایڈٹ کیں۔ اس نے اپنے قارئین کو یقین دلایا کہ معلّق تابوت کا افسانہ مسلمانوں کے لیے ایک مضحکہ خیز بات ہے جس کو وہ صرف عیسائیوں کی ایجاد سمجھتے ہیں۔ اس نے مزید اس مروجہ کہانی کو چیلنج کیاکہ اسلام کے بانی نے ایک سفید کبوتر کو تربیت دے رکھا تھا۔ تاکہ وہ ان کے کندھے پر بیٹھا رہے اور کان کے اندر پڑے ہوئے دانے کو چگنے کے لیے کان میں چونچ مارتا رہے۔ اس سے وہ اپنے متبعین کو یہ یقین دلانا چاہتے تھے کہ کبوتر کے ذریعہ سے روح القدوس ان کو الہام کر رہا ہے۔ یہ افسانہ اس قدر مشہور ہوا کہ وہ انگریزی ادب میں شامل ہو گیا۔ چنانچہ شکسپئیر کے ایک کردار کی زبان سے ہم سنتے ہیں 

"We Mahomet inspired by a dove,

Thou with an angle art inspired then."

شکسپیئر سے بہت پہلے جان لڈ گیٹ اس کبوتر کا رنگ تک جانتا تھا۔ اس کے بیان کے مطابق کبوتر کا رنگ دودھیا سفید تھا۔ پھر یہ یقین یہاں تک بڑھا کہ اٹھارہویں صدی کے ایک کبوتروں کے ماہر نے ایک خاص قسم کے کبوتر کا نام مومت (Maumet) رکھ دیا جو دراصل لفظ محمد کی بگڑی ہوئی شکل تھی۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ کبوتر عیسائیوں کے یہاں تو روح القدس کی علامت ضرور ہے (لوقا22:3)۔ مگر اسلام میں اس کی کوئی اصل نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اسی طرح مومٹ (Maumet)کا لفظ بت کے معنی میں استعمال ہو نے لگا۔ وہ شخص جس نے کعبہ میں سیکڑوں بتوں کو توڑا، جس کے پیرو فخر کرتے ہیں کہ وہی صرف حقیقۃً توحید پرست ہیں اور کسی قسم کے بت یا مورتی کو تسلیم نہیں کرتے ، وہی شخص مغربی من گھڑت كهانيوں میں ایک خدا اور ایک بت بن گیا۔ قرون وسطیٰ کی انگریزی روایات میں مہون(Mahoun)بار بار پرستش کا ایک مظہر قرار دیا گیا ہے۔ یہ مان لیا گیا تھا کہ ترکوں اور مسلمانوں کے یہاں اس کی پو جا ہو تی تھی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مومٹ کی طرح قرآن بھی الکرون(Alkaron)کے نام سے مسلمانوں کا ایک بت قرار پایا۔ مغربیوں کو یقین دلایا گیا کہ مسلمان اپنے بتوں کے آگے عبادتی رسوم منعقد کر تے ہیں جن میں لوبان جالایا جاتا ہے اور نرسنگھا پھونکا جاتا ہے۔ اسی طرح سورج(Apollo)ان کا دوسرا دیوتا تھا۔ ایک فرانسیسی مصنف کے بیان کے مطابق 778ء میں شارلی مین کی فوجوں سے مسلمانوں کو’’ شکست‘‘ ہوئی تو انھوں نے اپنا غصہ سورج دیوتا پر نکالا اور اس پر پل پڑے۔ ایلزبتھ کے دور کا ایک اور نامور مصنف فرانسس بیکن(Francis Bacon)محمد کو عطائی (Mountebank) قرار دیتا ہے۔ اس نے اپنے مقالہ ’’ ہمت و استقلال‘‘ (Boldness)میں نقل کیا ہے

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

’’محمد نے لوگوں کو یقین دلایا کہ وہ ایک پہاڑی کو بلائیں گے اور وہ ان کے پاس چلی آئے گی۔ لوگ جمع ہوئے۔ محمد نے پہاڑی کو اپنے پاس آنے کے لیے کہا۔وہ بار بار پکارتے رہے اور جب پہاڑی اپنی جگہ کھڑی رہی تو وہ ذرا بھی نہیں شرمائے۔ بلکہ انھوں نے کہا— ’’اگر پہاڑی محمد کے پاس نہیں آسکتی تو محمد تو پہاڑی تک جاسکتے ہیں‘‘۔

opposing viewA view stated in order to be argued against

Works of Francis Bacon, Vol. II, London 1929, p 279

مگر حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں اس واقعہ کی کوئی اصل موجود نہیں ہے۔ تاہم قرون وسطیٰ کے تمام مصنفین نے اس خلاف اسلام انداز کو نہیں اپنایا تھا۔ صلیبی دور کا ایک بشپ ، ولیمآف ٹریپولی (William of Tripoli) ،جس کی پیدائش شام میں ہوئی تھی۔ اس نے 1270میں ایک رسالہ لکھا جس میں اگرچہ محمد کو وہ جھوٹے رسول کی حیثیت سے تسلیم کرتا ہے۔ مگر آپ کے حالات میں دشنام طرازی اور افسانوی حصے کو بہت کم کرکے پیش کیا ہے۔ اسی طرح1679میں ایک انگلش پادری لانس لاٹ اڈیسن(Lancelot Addison)نے ایک کتاب لکھی جس میں اس نے ان من گھڑت اجزاء کو الگ کر نے کی کوشش کی جو محمد کے نام کے ساتھ وابستہ ہو گئے تھے۔ بعض مواقع پر اس نے پہلے کسی واقعہ کو افسانوی تصویر کو نقل کیا ہے اور اس کے بعد تاریخی حقیقت کو بیان کیا ہے۔ اڈیسن کے ایک ہم عصرہمفری پرائیڈکس(Humphrey Prideaux)نے آپ کی مکمل سوانح حیات لکھی جس میں کبوتر کے قصہ کو اور اسی طرح دوسری بہت سی کہانیوں کو یہ کہہ کر رد کردیا کہ ان کو صحیح ماننے کے لیے کوئی واقعی بنیاد موجود نہیں ہے۔ تاہم اس سوانح حیات کا مقصد صرف یہ ثابت کرنا تھا کہ اسلام ایک مکارانہ مذہب(Fraudulent Religion)کا معیاری نمونہ ہے۔ یہ سوانح عمری ایک صدی تک مغربی حلقوں میں مستند سمجھی جاتی تھی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

زیادہ رواداری کا نقطہ نظر اٹھارہویں صدی میں پیدا ہوا۔ اس زمانہ میں مغرب کے عربی دانوں نے اسلام کے متعلق زیادہ قابل اعتماد ذرائع کا ترجمہ کیا۔ سیاح اور تاجر زیادہ اچھے تاثرات لے کر لوٹے اور سفیروں اور مشنری کے عہدیداروں نے بھی اضافۂ معلومات میں حصہ لیا۔ مثال کے طور پرجارج سینڈیز(George Sandys)جس نے قسطنطنیہ، مصر اور فلسطین کی زیارت کی تھی، وہ 1615ء میں اپنے سفر کی رواداد لکھتے ہوئے مسلمانوں کی بہت سی چیزوں کے ساتھ زکوٰۃ کی تعریف کرتا ہے جو عیسائیوں اور یہودی غرباءکو بھی دی جاتی تھی۔ تاہم زیادہ تر مثالوں میں لوگ ذاتی تحقیق سے زیادہ روایتی معلومات ہی پر اکتفا کرتے رہے۔ حتیٰ کہ متخصصین پروفیسروں تک کا یہ حال تھا کہ پیدائشی طور پر سنی سنائی روایات کو دہرادیا کرتے تھے۔1784 میں پکاک کا جانشین جوزف وائٹ (Joseph White) اپنے مشہور بيمپٹن لکچرز(Bampton Lectures)میں مسیحیت کی حمایت کرتے ہوئے جب اسلام پرآیا تو محمد کے لیے اس کے پاس جو لفظ تھا وہی عام روایتی لفظ تھا یعنی مکار اور فریبی (imposter)۔ اسی طرح بعد کے ممتاز علماء مثلاً ولیم میور(اڈنبرا یونیورسٹی )ڈایسا مارگولیتھ (آکسفرڈ) ہنری لامنز (بیروت یونیورسٹی) کے یہاں بھی قدیم رجحانات کے آثار ملتے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مقالہ نگاروں اور مورخوں کے ہاتھوں میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم، قرآن اور اسلام کا معاملہ اس سے بہتر رہا ہے جو پہلے مذہبی علماء ، ناول نگاروں اور شاعروں کے ہاتھوں میں اس کا حشر ہوا تھا۔ اس سلسلے میں پہلا قابل ذکر نام سائمن آکلے(Simon Ockley) کا ہے ، وہ کیمبرج یونیورسٹی میں عربی کا پروفیسر تھا۔ اس نے مسلمانوں کی تاریخ پر دو جلدوں میں ایک کتاب لکھی ہے۔ اگر چہ کیمبرج کا یہ عالم بھی مکار (Imposter)کو محمد کے ہم لفظ کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ اور اسلام اور تو ہمات اس کے یہاں مرادف الفاظ ہیں۔ مگر مخصوصتاریخی واقعات کے بیان میں اس نے راست گوئی سے کام لیا ہے۔ شام کی فتح کاحال بتاتے ہوئے، مثال کے طور پر ، وہ بازنطینیوں کی غارت گری اور دغا بازی کا مقابلہ ابو بکر کی شجاعت اور ان کے اعلیٰ رویہ سے کرتا ہے، جن کو خلیفہ کی ہدایت تھی کہ کسی عورت یا بچہ کو قتل نہ کریں ۔ کھجور کے درخت نہ کاٹیں اور نہ کھیت کو نقصان پہنچائیں۔آکلے کی اس کتاب نے مستند درجہ حاصل کیا اور گبن کے ظہور سے پہلے تک وہ عرب تاریخ پر بنیادی ماخذ سمجھی جاتی رہی۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اڈورڈگبن (Edward Gibbon)جو جدید انگریزی تاریخ کا بانی ہے، اس نے اپنی مشہور کتاب ’’ سلطنت روما کا زوال‘‘ کی پانچویں جلد کے پچاسویں باب کو موضوع کے لیے مخصوص کیا ہے۔ اپنے اعتراف کے مطابق وہ ’’ مشرقی زبانوں سے مکمل طور پر ناواقف‘‘ تھا۔ اس لیے قدرتی طور پر اس کا ماخذ وہی کتابیں تھیں جو اس سے پہلے یورپ میں لکھی گئی تھیں اور اس بنا پراس کی ترجمانی بھی واقعہ کے مطابق نہ ہوسکی۔ تاہم اس نے بہت سی روایات کو غلط قرار دیا مثلاً اس نے کہا کہ مکار نبی کا لقب ایک خطر ناک اور ناقابل اعتبار (Perilous and Slippery)چیز ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

فرانس میں والٹیر (Voltaire)پیدا ہوا جو بحیثیت مورخ زیادہ محتاط تھا مگر بحیثیت المیہ نگار (Tragedian) محتاط نہیں تھا۔ اپنی تاریخی کتاب 1756 میں وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر رواداری کے ساتھ کرتا ہے۔ وہ محمد کا مقابلہ کرامویل (Cromwell)سے کرتا ہے۔ وہ ان کے کارناموں کو انگلینڈ کے نجات ہندہ (کرامویل) سے بہت زیادہ عظیم قرار دیتا ہے مگر اپنے المیہ (Tragedy)ناٹک1742ءمیں وہ محمد کو قرون وسطیٰ کے لباس میں مکار، ظالم، اور عیاش بنا کر پیش کرتا ہے۔ اگرچہ یہ بھی حقیقت ہے کہ والٹر کا اسلام پر حملہ ، عمومی طور پر اس کے مخالف مذہب ہو نے کا نتیجہ تھا۔ والٹر کا انحصار انگریزی مآخذ پر تھا۔ خاص طور پر سیل کا ترجمہ قرآن کیوں کہ وہ انگلینڈ میں رہا تھا ور انگریزی زبان سیکھی تھی۔

والٹیر سے زیادہ جرمن شاعر گوئٹے(1749-1832)وہ شخص تھا جو جدید اسپرٹ اور نئے بین الاقوامی نقطۂ نظر کا پیغامبر بنا۔ گوئٹے نے اپنی زندگی میں محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی حالات پر ایک نظم شروع کی مگر وہ اس کو مکمل نہ کر سکا۔ گوئٹے یہ یقین کرنے کے لیے تیار نہ تھا کہ عربی پیغمبر ایک مکار شخص تھا۔ سعدی کی گلستان کے جرمن ترجمے نے خاص طور پر گوئٹے کو بہت متاثر کیا۔ 1812میں حافظ کے کلام کاجرمن زبان میں ترجمہ ہوا تو گوئٹے کو اس میں حکمت، تقدس اور سلامتی نظر آئی جو اس کے خیال میں مغرب کو خاص طور پر درکار تھی۔

اسلامی کلچر کے بارے میں مغربی علماء کا بدلا ہوا نقطہ نظر جس کا آغاز انگریز اور فرانسیسی پروفیسروں نے کیا تھا اور جرمن اور دوسرے ادیبوں اور شاعروں نے جس کو تقویت دی تھی ، وہ انیسویں صدی کے وسط تک بالکل واضح ہوگیا۔ کار لائل کا محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو پیغمبرانہ ہیرو کے کردار کے لیے منتخب کرنا، بیک وقت نئے رجحان کی طرف اشارہ تھا۔ اور اس میں اضافہ کرنے والا بھی تھا۔ کارلائل کی کتاب میں مشکل سے کوئی ناخوشگوار فقرہ ہوگا۔ درحقیقت یہ کتاب اس لیے قابلِ تنقید ہوسکتی ہے کہ وہ غیر تنقیدی ہے۔ ’’ محمد ایک سازشی مکارہیں، وہ جھوٹ کامجسم ہیں۔ ان کا مذہب محض عطائی نسخوں کا مجموعہ ہے‘‘— اس قسم کی باتیں کارلائل کو گوارا نہیں تھیں۔ اس کا ہیرو (محمد) واقعی ایک انسان تھا، سچا انسان۔(۱)

unverifiedAttribution could not be verified automatically
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content