Maulana Wahiduddin Khan
14 min left
0:00

← Shatm-e-Rasool Ka Masla
Shatm-e-Rasool Ka Masla

ابتدائیہ

Urdu · 14 min

آغازِ کلام

عمر بن عبدالعزیز(61-101ھ) بنو امیہ کے دور کے ایک صالح اور راشد مسلم حکمراں تھے۔ ان کے زمانے میں اسلام کی بہت اشاعت ہوئی ۔ لوگ کثرت سے اپنے مذہب کو چھوڑ کر اسلام میں داخل ہونے لگے۔ عمر بن عبدالعزیز نے عمومی حکم جاری کر دیا کہ جو شخص اسلام قبول کرے، اس کے اوپر سے جزیہ کی رقم فوراً ساقط کردی جائے۔ اس کے نتیجے میں سرکاری بیت المال کی آمدنی کم ہو گئی۔

یہ اقتصادی نقصان دیکھ کر ایک عامل (گورنر)نے عمربن عبدالعزیز سے کہا کہ جزیہ کی رقم ساقط کرنے کی وجہ سے لوگ جوق درجوق اسلام قبول کر رہے ہیں۔ اس طرح تو ہمارا بیت المال خالی ہوجائے گا۔ عمر بن عبدالعزیز نے کہا کہ تمہارا بُرا ہو، اللہ نے محمد کو ہدایت دینے والا بنا کر بھیجا ہے،اس نے آپ کو محصّلِ بنا کر نہیں بھیجا فَإِنَّ اللهَ بَعَثَ مُحَمَّدًا دَاعِيًاوَلَمْ يَبْعَثْهُ جَابِيًا (الطبقات الکبریٰ، جلد5، صفحہ384)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

عمر بن عبدالعزیزکے زمانہ میں ایسے مسلمان بہت تھوڑے ہوں گے جو پیغمبر ٍ اسلام کو محصّلِ (Tax-collector) سمجھتے ہوں۔ مگر موجودہ زمانے میں تو بظاہرتمام مسلمان اسی سوچ کے ہو چکے ہیں۔ موجودہ مسلمانوں کے حالات بتاتے ہیں کہ اصاغر سے لے کر اکابر تک تمام مسلمان دعوت کے شعور سے خالی ہیں۔ عمر بن عبدالعزیز کے قول میں جو شعور دعوت تھا وہ شعور دعوت موجودہ زمانے کے مسلمانوں، کم از کم ان کے معلوم وممتاز افراد میں سے کسی میں بھی نہیں پایا جاتا۔

موجودہ زمانہ کے لکھنے اور بولنے والے مسلمانوں کے پاس مسلمان کی حیثیت کو بتانے کے لیے جو الفاظ ہیں، وہ کیا ہیں۔ وہ ہیںخدائی فوجدار، محتسب کائنات، خلیفة اللہ فی الارض، وغیرہ۔ اس قسم کے تمام الفاظ بلاشبہ لغویت کی حد تک غیر اسلامی ہیں۔قرآن میں پیغمبر کو خطاب کر تے ہو ئے کہا گیا تھا کہ تم صرف نصیحت کر نے والے ہو، تم لوگوں کے اوپر داروغہ نہیں ہوإِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِّرٌ۔لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِرٍ (88:21-22)۔مگر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے عملاً اس آیت کو الٹ دیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ہمارا کام صرف نصیحت اور وعظ کہنا نہیں ہے، بلکہ داروغہ بن کر لوگوں کے اوپر حکمرانی کرنا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہی موجودہ مسلمانوں کا سب سے بڑا نفسیاتی مسئلہ ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان اس شعور سے خالی ہو گئے ہیں کہ وہ داعی ہیں اور دوسری قومیں ان کے لیے مدعو کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس کے بجائے وہ اپنے آپ کو زمین پر خدا کا سیاسی نائب سمجھتے ہیں۔ حالانکہ صحیح بات یہ ہے کہ وہ زمین پر خدا کے گواہ ہیںلِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ(2:143)۔ ان کا کام یہ ہے کہ خدا کے تخلیقی منصوبہ سے لوگوں کو آگاہ کریں۔ انھیں خود حق پر قائم ہو نا ہے، اور لوگوں کے درمیان حق کی پیغام رسائی کرنا ہے۔ اس کے سوا جو امور ہیں، ان سب کو انہیں اللہ کے خانہ میں ڈال دینا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

دعوت مومن کی شخصیت کی کلیدہے۔ یہی وہ شعور ہے جو دوسری قوموں کے ساتھ مسلمانوں کے تعلق کی تشکیل کرتا ہے۔ یہی ان کے تمام خارجی رویہ کو متعین کرتا ہے۔ چونکہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے دعوت کے شعور کو کھودیا ہے، اس لیے ان کا پورا خارجی رویہ بگڑ کر رہ گیا ہے۔ وہ اسلام کے نام پر ایسی حرکتیں کر تے ہیں جن کا اسلام سے قطعاً کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

موجودہ زمانہ کے مسلمان نہ صرف یہ کہ دعوت کاکام نہیں کر رہے ہیں، بلکہ وہ مسلسل طور پر دعوت کو قتل کرنے میں مشغول ہیں۔ دوسری قوموں کو سیاسی حریف سمجھنا، ان کے مقابلہ میں احتجاجی اور مطالباتی مہم چلانا، ایسے جھگڑے کھڑے کرنا جس کے نتیجہ میں داعی اور مدعو کے درمیان تعلقات خراب ہو جائیں ۔ اس طرح کی تمام سرگرمیاں دعوت کی فضا کو بگاڑتی ہیں۔ وہ دعوت و نصیحت کی قاتل ہیں۔ مگر ساری دنیا کے مسلمان ہر روز انہیں دعوت کُش سرگرمیوں میں مشغول رہتے ہیں۔ اصاغر تو درکنار، ان کے اکابر بھی یہ سوچ نہیں پاتے کہ ایسا کر کے وہ اپنے خلاف خدا کے غضب کو بھڑکارہے ہیں۔

انہیں دعوت کُش سرگرمیوں میں سے ایک سر گرمی وہ ہے جو’’شتم رسول‘‘کے خلاف مسلمان ہر جگہ جاری کیے ہوئے ہیں۔ اور جس کا ایک نمایاں مظاہرہ سلمان رشدی کی کتاب(شیطانی آیات) کی اشاعت کے بعد 1989میں سامنے آیا ہے۔اينٹي رشدي ایجی ٹیشن بلاشبہ لغویت کی حد تک غیر اسلامی تھا۔ اس کے باوجود وہ مسلمانوں کے اصاغر و اکابر کے درمیان اس لیے جاری رہا کہ دعوتی شعور سے محرومی کی بنا پر انھوں نے وہ کسوٹی کھودی تھی جس پر جانچ کروہ معلوم کر سکیں کہ ان کی کون سی روش اسلام کے مطابق ہے،اور کو ن سی روش اسلام کے مطابق نہیں ۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

مسلمانوں کے اوپر اپنے عقیدہ کے اعتبار سے لازم ہے کہ وہ داعی اور مدعو کی اصطلاحوں میں سوچیں ۔ وہ اپنی انفرادی اور قومی سرگرمیوں کی تشکیل میں دعوت کو اصل معیار بنائیں۔ وہ دعوت کی مصلحت کو تمام دوسری مصلحتوں پر مقدم رکھیں۔ وہ ہر نقصان کو گوارہ کر لیں، مگر دعوت کانقصان کسی قیمت پر گوارانہ کریں ۔ مسلمانوں کے اس داعیانہ منصب کا لازمی تقاضہ ہے کہ وہ ہر گز کسی ایسی سرگرمی میں مبتلا نہ ہوں جو دعوت کے مزاج کے خلاف ہو، یا دعوت کے امکانات کو برباد کر نے والی ہو۔

اگر مسلمانوں نے ایسا نہیں کیا تو یقینی طور پر وہ خدا کے یہاں مجرم قرار پائیں گے، خواہ انھوں نے اپنے دعوت کُش جلوس کا نام شوکت اسلام جلوس رکھ لیا ہو، اور خواہ اس کی قیادت کے لیے ان کے تمام اعاظم واکابر اکٹھا ہو گئے ہوں۔

موجودہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ کوئی شخص یا گروہ اگر ذرا بھی ان کے خلاف ِمزاج بات کرے تو وہ فوراً مشتعل ہو کر اس سے لڑنے لگتے ہیں— کوئی ان کی مسجد کی دیوار پر رنگ ڈال دے۔ ان کی نماز کے وقت کوئی گھنٹہ بجادے۔کسی کا جلوس ان کے محلہ کی سڑک سے گزر جائے۔ کوئی ایسا نعرہ لگادے جو ان کے قومی وقار کے خلاف ہو۔ کوئی شخص ایک قابل اعتراض بیان اخبار میں چھاپ دے۔ اس قسم کی کوئی ادنی اشتعال انگیزی بھی انھیں مشتعل کردینے کے لیے کافی ہو تی ہے۔ اس کے بعد وہ اتنا بے خود ہوجاتے ہیں کہ یہ بھی نہیں سوچتے کہ جو لڑائی وہ چھیڑ رہے ہیں اس میں دوسرا فریق چھری ثابت ہوگا اور وہ خود خربوزہ کی مثال بن کر رہ جائیں گے۔

ناگوار باتوں پر مشتعل ہوجانے کی اس فہرست میں سب سے زیادہ نمایاں چیز وہ ہے جس کو ’’ناموس ِرسول پر حملہ‘‘ یا ’’رسول کی شان میں گستاخی‘‘جیسے جذباتی الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے۔ اس نوعیت کی اگر کوئی افواہ بھی پھیل جائے تو اس کے بعد مسلمان اس طرح بھڑک کر آپے سے باہر ہو جاتے ہیں کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسلام تو درکنار عقل وہوش سے بھی ان کا دور کا کوئی تعلق نہیں۔

مسلمانوں کا یہ لغو مزاج صرف اس لیے ہے کہ انھوں نے دعوت کا شعور کھودیا ہے۔ دوسری اقوام کو وہ صرف اپنا قومی رقیب اور دنیوی حریف سمجھتے ہیں ۔ اس لیے ہر بات کو فوراً قومی وقار کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔ اگر ان کے اندر داعیانہ شعور زندہ ہوتو وہ دوسری اقوام کو اپنا مدعو سمجھیں گے۔ اس کے بعد دوسری اقوام سے انھیں نفرت کے بجائے خیر خواہی پیدا ہو جائے گی۔ دوسروں کی طرف سے پیش آنے والی ناگواریوں پر وہ اسی طرح صبر اور اعراض کا طریقہ اختیار کریں گے جیسا کہ رسول اور اصحاب رسول نے اختیار کیا۔

موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ ان کے اندر دعوتی شعور پیدا کیا جائے۔ ان کے اندر یہ احساس بیدار کیا جائے کہ وہ داعی ہیں اور دوسری قومیں ان کے لیے مدعو کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اسی سے ان کی جھوٹی جذباتیت ختم ہو گی۔ اسی سے ان کے اندر یہ حکمت آئے گی کہ وہ ناگوار باتوں سے اعراض کریں اور اشتعال انگیز باتوں پر مشتعل نہ ہوں، دعوتی شعور ان کے اندر صبر، حکمت، بصیرت اور بلند فکری جیسی صفات پیدا کر ے گا۔ اور بلاشبہ یہی وہ صفات ہیں جو کسی آدمی کے لیے دنیا کی کامیابی کا بھی زینہ ہیں اور آخرت کی کامیابی کا زینہ بھی۔

زیر نظر کتاب میں اس مسئلہ کا مطالعہ سلمان رشدی کے واقعہ کے ذیل میں کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس موضوع پر علمی اور صحت مند بحث کا آغاز ثابت ہو۔

وحید الدین

27 جون1989

زيرِ نظر اشاعت ميں اس موضوع سے متعلق مولانا وحيد الدين خاں صاحب كے ان تمام مضامين كو شامل كيا گيا هے جو اس كتاب كا حصه نهيں تھے۔

ناشر

8مئي 2024

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content