← Shahadat ummate muslima ka missionShahadat ummate muslima ka mission
سنتِ یہود کی پیروی
Urdu · 10 min
حدیث میں بتایا گیا ہے کہ امتِ محمدی بعد کے زمانے میں ضرور یہود کی کامل اتباع کرے گی۔ لَتَتَّبِعُنَّ سَنَنَ مَن كَانَ قَبْلَكُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ وَزِرَاعًا بِزِرَاعٍ، حَتَّى لَوْ دَخَلُوا جُحْرَ دَبٍّ تَبِعْتُمُوهُمْ. قلنا: یا رسول اللہ، اليهود والنصارى؟ قال: فمن؟
صحیح البخاری، حدیث نمبر 7320۔ یہ سادہ طور پر یہود کے اتباع کا مسئلہ نہیں ہے، یہ دراصل ایک قانونِ فطرت کا معاملہ ہے جس کو قرآن میں طولِ امد کے نتیجے میں قصاوت کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ وَلَا يَكُونُوا كَالَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلُ فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْأَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَكَثِيرٌ مِنْهُمْ فَاسِقُونَ. سورہ نمبر 57، آیت 16۔
یعنی لمبی مدت گزرنے کی بنا پر بعد کی نسلوں میں زوال آنا، اور زوال کی بنا پر ان کے اندر مختلف قسم کے بگاڑ کا پیدا ہو جانا۔ سنتِ یہود کی پیروی کی سب سے زیادہ سنگین صورت وہ ہے جو شہادت یعنی witness کے معاملے میں واقع ہوئی۔ یہود کو اللہ نے اپنے دین کا گواہ یعنی witness بنایا تھا، اس کا ذکر بائبل میں ان الفاظ میں آیا ہے: "خداوند فرماتا ہے: تم میرے گواہ ہو، اور میرا خادم بھی جسے میں نے منتخب کیا، تاکہ تم جانو اور مجھ پر ایمان لاؤ، اور سمجھو کہ میں وہی ہوں۔ مجھ سے پہلے کوئی خدا نہ ہوا، اور میرے بعد بھی کوئی نہ ہوگا۔
" یسعیاہ 43، آیت 10۔ You are my witnesses, declares the Lord, and my servant whom I have chosen, so that you may know and believe me and understand that I am He. Before me, no god was formed, nor will there be one after me. ایسعیاہ 43، آیت 10۔
یہود پر بعد کے زمانے میں جب زوال آیا تو انہوں نے خدا کے دین کی گواہی کی اس ذمہ داری کو عملاً چھوڑ دیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ زوال یافتہ نفسیات کی بنا پر ان کے اندر قومی ذہن پیدا ہو گیا۔ ان کے اندر وہ نفسیات پیدا ہو گئی جس کو یہود کی تاریخ میں یہودی احساسِ برتری یعنی Jewish supremacism کہا جاتا ہے۔ چنانچہ ان کی دلچسپی تمام تر اپنی قوم تک محدود ہو گئی، وہ دوسرے انسانوں کے خیرخواہ نہ رہے، بلکہ دوسروں کو عمومی طور پر انہوں نے اپنا دشمن سمجھ لیا، کیونکہ وہ قومِ یہود کی خود ساختہ برتری کے نظریے کو تسلیم نہیں کرتے تھے۔
اس بنا پر انہوں نے دینِ خداوندی کی گواہی کے کام کو چھوڑ دیا، اور اس کے بجائے دوسرے قومی کاموں میں مشغول ہو گئے۔ مگر اسی کے ساتھ خود پسندی یعنی self-righteousness کے جذبے کی بنا پر یہ ظاہر کرتے رہے کہ وہ اب بھی اپنے پیغمبر موسیٰ کے بتائے ہوئے دین پر قائم ہیں۔ یہود کے اس معاملے کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُونَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ فَنَبَذُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ وَاِشْتَرَوْا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُونَ، لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوَّى يُحِبُّونَ أَن يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا، فَلَا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِنَ الْعَذَابِ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ. سورہ نمبر 3، آیات 187 تا 88۔
ترجمہ: جب اللہ نے اہلِ کتاب سے عہد لیا کہ تم خدا کی کتاب کو پوری طرح لوگوں کے لیے ظاہر کرو گے اور اس کو نہیں چھپاؤ گے، مگر انہوں نے اس کو پسِ پشت ڈال دیا اور اس کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالا۔ کیسی بری چیز ہے جس کو وہ خرید رہے ہیں! جو لوگ اپنے اس عمل پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ جو کام انہوں نے نہیں کیے اس پر ان کی تعریف ہو، ان کو عذاب سے بری نہ سمجھو۔ ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
دورِ جدید کے مسلمانوں کا مطالعہ بتاتا ہے کہ وہ اس معاملے میں کامل طور پر یہود کے متبع بن چکے تھے۔ دورِ جدید کے مسلمانوں کا مطالعہ بتاتا ہے کہ وہ اس معاملے میں کامل طور پر یہود کے متبع بن چکے ہیں۔ انہوں نے دعوتِ الی اللہ کے کام کو عملاً چھوڑ دیا ہے، اس کے بجائے وہ دوسرے قومی کام انجام دے رہے ہیں، لیکن ان کاموں کو وہ غلط طور پر دعوت کا کام بتاتے ہیں۔ انہوں نے شہادت کے تصور کو بدل کر جانی قربانی یعنی martyrdom کے معنی میں لے لیا۔
وہ قومی سیاست یعنی communal politics میں مشغول ہیں۔ اس خود ساختہ عمل میں جب ان کے کچھ لوگ مارے جاتے ہیں تو وہ ان کو بطور خود شہید اور شہداء کا ٹائٹل دے کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ دعوت اور شہادت کا مطلوب کام انجام دے رہے ہیں۔ انسان کوئی کام نفسیاتی محرک کے تحت کرتا ہے، دعوتِ الی اللہ کا کام کرنے کے لیے دوسروں کے ساتھ خیرخواہی کی سپرٹ ضروری ہے، مگر دورِ زوال میں مسلم برتری یعنی مسلم supremacism کا ذہن جو مسلمانوں میں آیا، اس کے نتیجے میں وہ دوسری قوموں کو کمتر اور اپنا حریف سمجھنے لگے۔ اس نفسیات کا نتیجہ یہ ہوا کہ دوسری قوموں کے لیے خیرخواہی کا جذبہ ان کے اندر باقی نہ رہا۔
موجودہ زمانے کے مسلمان عام طور پر اسی قومی نفسیات کے شکار ہیں۔ یہی سب سے بڑی وجہ ہے جس نے ان سے دعوتِ الی اللہ کا جذبہ چھین لیا ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمان بظاہر اپنی سرگرمیوں کو نظامِ مصطفیٰ کا نام دیتے ہیں، لیکن وہ جو کچھ کر رہے ہیں اس کا نظامِ مصطفیٰ سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ طریقہ عین اسی طریقے کی اتباع ہے جس کو قرآن میں زوال یافتہ یہود کی طرف منسوب کیا گیا ہے، یعنی يُحِبُّونَ أَن يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا سورہ نمبر 3، آیت 188۔
قرآن کے یہ الفاظ موجودہ زمانے کے مسلمانوں پر پوری طرح صادق آ رہے ہیں۔ وہ اپنی قومی سرگرمیوں پر دعوت اور شہادت کا ٹائٹل لینا چاہتے ہیں، مگر اللہ کے قانون کے مطابق ایسا کبھی ہونے والا نہیں۔ اس قسم کی روش بلاشبہ قابلِ مواخذہ ہے، نہ کہ قابلِ انعام۔